خاندان  میں شاگردیت
12/02/2026
مسیحی شاگردیت کیا ہے؟
17/02/2026
خاندان  میں شاگردیت
12/02/2026
مسیحی شاگردیت کیا ہے؟
17/02/2026

عشائے ربانی فضل کا وسیلہ کیوں ہے؟

حالیہ برسوں میں کلیسیا کو ’’اِنجیل   کے اُصولوں پر استوار‘‘ بنانے کی تحریک کے تحت کتابوں اور وسائل کی کثرت سامنے آئی ہے۔  ہمیں  دعوت دی گئی ہے کہ ہم اِنجیل  کی رُوح سے سرشار  والدین  بنیں،  اِنجیل پر مبنی منادی کریں اور اِنجیل مرکوز معاشروں کی صورت میں زندگی بسر کریں۔  یہ سب اپنی جگہ دُرُست اور مناسب ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کلیسیا صلیب کو، یعنی خداوند یسوع کی کفّارہ بخش موت کو   کس طرح اپنی خدمت کے مرکز میں رکھ سکتی ہے؟   شکر ہے کہ خادموں کو اپنے سروں کو کھجانے یا نئی جدّتوں کے بارے میں سوچنے کی ضرورت نہیں، کیوں کہ خداوند یسوع نے بذاتِ خود  اِس تعلق سے واضح ہدایات عطا  کر رکھی  ہیں۔

اپنی گرفتاری اور مصلوبیت سے قبل شاگردوں کے ساتھ آخری نشست کے دروان   ” اُس نے روٹی لی اور شُکر کر کے توڑی اور یہ کہہ کر اُن کو دی کہ یہ میرا بدن ہے جو تمہارے واسطے دِیا جاتا ہے۔ میری یادگارِی کے لِئے یہی کِیا کرو “(لوقا 19:22)۔ ”  میری یادگارِی کے لِئے یہی کِیا کرو“۔   خداوند کی عشائے ربانی  ، جو روٹی اور مَے پر مشتمل ایک سادہ کھانا ہے،  کلیسیا کی عبادت کا بنیادی حصّہ ہے، جب وہ اپنے نجات دِہندہ کی موت کو یاد کرتی اور مناتی ہے۔ 

یہاں ہم عَشائے ربّانی کی ایک برکت کو پہلے ہی دیکھ سکتے ہیں  یہ ہمیں یاد دِلاتی ہے کہ یسوع کا بدن توڑا گیا تاکہ ہمارا کبھی نہ  توڑاجائے، اور اُس کا خون اِس لئے بہایا گیا تاکہ ہمارا خون محفوظ رہے۔  موت کی لعنت اُس پر نازل ہوئی، اور اِسی سبب سے زندگی کی برکات اُس کے  لوگوں کو بخشی گئیں۔  یہ حقیقت واضح کرتی ہے کہ عشائے ربانی منانا کسی طور پر گلگتا کے مقام  پر دی جانے والی اُس ایک   ہی بار اور ہمیشہ کے لئے مکمل قربانی میں اِضافہ کرنا یا اُسے جاری رکھنا نہیں ہے۔  یسوع کی یہ پکار   ”تمام ہوا“  صدیوں سے گونج رہی ہے اور اِس  کا اِعلان عشائے ربانی کے وسیلہ سے کیا جاتا ہے ۔ 

یوں عشائے ربانی  ایک طرح سے ظاہری کلام کی  حیثیت رکھتی ہے۔   یہ کوئی ایسی نئی حقیقت پیش نہیں کرتی جو ہمیں کتابِ مقدّس سے پہلے ہی معلوم نہ ہو،  بلکہ یہ ہماری آنکھوں، ہاتھوں، ہونٹوں اور لبوں کے ذریعے اُسی خوش خبری کی منادی، تصویری صورت میں کرتی ہے۔  جب مَیں یہ تحریر لکھ رہا ہوں تو میری دو برس کی بیٹی ابھی پارک سے واپس آ کر لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ میرے کمرے میں داخل ہوئی ہے؛ مَیں اُسے یہ کہہ سکتا ہوں: مَیں تم سے محبت کرتا ہوں۔ اور پھر مَیں اُسے اپنی گود میں اُٹھا کر، بھرپور طور  سے گلے لگا سکتا اور اُس کے گال پر بوسہ دے سکتا ہوں۔  یہ سوچنے کی بات ہے کہ گلے لگانے اور بوسہ دینے کا مفہوم کیا ہے؟  ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ کسی بھی  نئی معلومات کا اِضافہ نہیں ہے، مگر یہ اُن اَلفاظ کو جو مَیں نے کہے ہیں تقویت اور تصدیق بخشتے ہیں۔  بالکل اِسی طرح عَشائے ربّانی بھی ہے۔ یہ خدا کے فضل کا وہ تحفہ ہے جو ہمارے لئے صلیب کے پیغام کی تصدیق کرتا ہے۔  جیسا کہ ہائیڈل برگ کیٹی کیزم کے سوال و جواب نمبر 75 میں  بیان کیا گیا ہے:    ’’ جس طرح مَیں اپنی آنکھوں سے یقینی طور پر دیکھتا ہوں کہ خداوند کی روٹی میرے لئے توڑی جاتی ہے اور پیالہ میرے ساتھ بانٹا جاتا ہے، اُسی طرح مجھے یہ بھی یقین ہے کہ اُس کا بدن میرے لئے صلیب پر پیش کیا گیا اور توڑا گیا، اور اُس کا خون میرے لئے بہایا گیا ‘‘۔ 

  عَشائے ربّانی ہمارے لئے خدا کے فضل کا عظیم تحفہ ہے جو صلیب کے پیغام کی تصدیق کرتا ہے۔ لیکن جب ہم یہ سمجھنے کی جستجو کرتے ہیں کہ عَشائے ربّانی کس طرح فضل کا وسیلہ ہے، تو مزید بھی کچھ کہا جا سکتا ہے۔ عشائے ربّانی محض ایک ظاہری  نمونہ نہیں ہے۔ آخرکار، خادِم صرف آگے کھڑا ہو کر ایک  توڑی جانے والی روٹی اور مَے کے پیالے کی طرف اِشارہ ہی نہیں کرتا ،  نہیں، بلکہ ہم اُن عناصر کو لیتے اور کھاتے ہیں، اور یوں اُنہیں اپنے جسم میں شامل کرتے ہیں۔ باہر سے دیکھنے پر یہ  محض ایک عام  سےکھانے کا اِشتراک دِکھائی دیتا ہے۔  لیکن درحقیقت، عشائے ربّانی کو ایک ضیافت کے طور پر سمجھنا ہمیں اِس بات کو جاننے میں مدد دیتا ہے کہ کلیسیا کے لئے یہ فضل کا وسیلہ کیوں ہے:  عشائے ربّانی ایک رُوحانی خوراک ہے، جہاں ہم خود مسیح کو قبول کرتے ہیں۔ ہماری غذا محض مسیح کے ساتھ نہیں بلکہ خود مسیح ہی ہے۔ 

ہر اِیمان دار کے پاس گویا دو ”زندگیاں “  ہیں۔  لیکن ایک جسمانی بدن، جسے خدا اپنی شفقت سے جسمانی خوراک کے ذریعے مضبوط کرتا ہے۔  ممکن ہے کہ آپ نے آج کچھ روٹی کھائی ہو یا شاید مَے کا ایک پیالہ پیا ہو، اور یہ دونوں چیزیں آپ کے بدن کو قوت بخشتی ہیں۔  پھر ایک رُوحانی زندگی بھی ہے۔  جب ہم اِیمان دار ہونے کے ناتے عشائے ربانی لیتے ہیں تو ہم رُوحانی طور پر  تقویت حاصل کرتے ہیں۔ اگرچہ روٹی اور مَے اپنی ہی ماہیت میں روٹی اور مَے ہی رہتی ہیں اور مسیح کے بدن اور خون میں تبدیل نہیں ہوتیں،   تو بھی پولس اِس ضیافت کو مسیح کے بدن اور خون میں  ”شراکت “قرار دیتا ہے۔   پرانی انگریزی تراجم میں ”شراکت “ کے بجائے ”شراکت داری “یا ”رفاقت “ کے معنوں میں(Holy Communion)کا ترجمہ” پاک شراکت “کیا گیا ہے۔  اور اِسی سبب  سےعشائے ربانی کا دُوسرا عام نام”  پاک شراکت“ رائج ہوا۔ 1۔کرنتھیوں 16:10 اِس  کا مرکزی حوالہ ہے  ” وہ بَرکَت کا پیالہ جِس پر ہم بَرکَت چاہتے ہیں کیا مسیح کے خُون کی شِراکت نہِیں؟ وہ روٹی جِسے ہم توڑتے ہیں کیا مسیح کے بدن کی شِراکت نہِیں؟ “ ۔  

یقیناً اِس میں ایک  بھید پوشیدہ ہے۔ لیکن کسی نہ کسی طور پر رُوح القدس کی عجیب قدرت کے وسیلہ سے جب ہم عام روٹی اور مَے کھاتے اور پیتے ہیں تو اِیمان کے باعث ہم مسیح کو قبول کرتے ہیں اور اُس کے ساتھ اپنی شراکت میں تقویت پاتے ہیں۔  یہ محض فضل کی یاد دِہانی نہیں،  بلکہ فضل کی ایک نئی بخشش ہے۔ ہم خالی ہاتھ آتے ہیں، کوئی کلیسیا روٹی اور مَے کے لئے قیمت وُصول نہیں کرتی، اور ہم  دوبارہ مسیح کو پاتے ہیں، جیسے ہم عبادت کے دوران کلام کی منادی میں اُسے پا چکے ہوتے ہیں۔ یہ فہم ہمارے نقطۂ نظر کو نہایت باریک انداز میں بدل دیتا ہے۔   عشائے ربانی سب سے پہلے وہ وقت ہوتا ہے جب مسیح دوبارہ فضل کے ساتھ ہماری طرف آتا ہے،  اِس سے پہلے کہ ہم اپنی طرف سے اُس کی یاد کو شایستگی سے تازہ کرنے کی کوشش کریں۔ اصل سمت آسمان سے زمین کی طرف ہے، نہ کہ زمین سے آسمان کی طرف۔ یہ فضل کی ایک اور جنبش ہے۔

یہ مضمون کتاب مقدس کی ہر کتاب میں سے جاننے کے لئے تین اہم نکات کا مجموعہ ہے۔

یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔