عشائے ربانی فضل کا وسیلہ کیوں ہے؟
12/02/2026
بپتسمہ کیوں ضروری ہے؟
19/02/2026
عشائے ربانی فضل کا وسیلہ کیوں ہے؟
12/02/2026
بپتسمہ کیوں ضروری ہے؟
19/02/2026

مسیحی شاگردیت کیا ہے؟

ہمارے نئے عہدنامے میں ” شاگرد “کے لیے اِستعمال ہونے والا لفظ یونانی زبان سے آیا ہے جس کا مطلب ہے ’’سیکھنے والا‘‘ یا ’’پیروی کرنے والا‘‘۔ لہٰذا جب ہم یہ سوال کرتے ہیں کہ مسیحی شاگردیت کیا ہے، تو دراصل ہم یہ دریافت کرتے ہیں کہ یسوع سے سیکھنے اور اُس کی پیروی کرنے کا کیا مطلب ہے۔ اِسی مناسبت سے مَیں مسیحی شاگردیت کی چند بنیادی خصوصیات کو اِختصار کے ساتھ بیان کرنا چاہتا ہوں۔

اِبتدا ہی میں ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ اِنجیل کی منادی اور شاگردیت کے درمیان جو عام طور پر  جامد تفریق کی جاتی ہے وہ بائبلی جانچ پڑتال پر قائم نہیں رہتی۔ نہ ہماری زندگیوں میں اور نہ ہی بائبل میں یہ کوئی لازمی ترتیب پائی جاتی ہے کہ پہلے منادی ہو اور اُس کے بعد شاگردیت۔ اکثر اوقات اِن دونوں کے مابین امتیاز کی لکیریں دُھندلا جاتی ہیں۔

مثال کے طور پر ہم یسوع   کے اِرشادِ اعظم  (متی 19:28-20)  کو محض اِنجیل کی منادی تک محدود کر کے سمجھنے کی غلطی کر سکتے ہیں۔  لیکن یسوع نے کیا فرمایا؟ ’’پس تم جا کر سب قوموں کو شاگرد بناؤ ‘‘۔خداوند نے ہمیں صرف یہ حکم نہیں دیا کہ لوگوں کو اِیمان لانے کی دعوت دیں اور پھر اُنہیں وہیں چھوڑ دیں۔ بے شک ہمیں اِنجیل کی منادی کرنا ضروری ہے،  تاہم   اِرشادِ اعظم کا تقاضا یہ ہے کہ ہم محض نئے اِیمان لانے والوں تک محدود نہ رہیں بلکہ حقیقی شاگرد تیار کریں۔ 

جب یہ غلط فہمی دُور ہو جائے تو ہم مسیحی شاگردیت کو سمجھنے کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ آیئے سادہ اَلفاظ میں اِس اِصطلاح کی وضاحت کریں:   مسیحی شاگردیت کا مطلب ہے کہ زندگی کو یسوع کے ساتھ رفاقت میں بسر کرنا، جو خود زِندگی ہے (یوحنا 6:14)۔  اِس تعریف سے تین بنیادی خصوصیات نمایاں ہوتی ہیں: 

1۔ مسیحی شاگردیت ایک طرزِ زندگی ہے، نہ کہ محض ایک وقتی فیصلہ یا  کمزورعہد

موجودہ زمانے میں جب نام نہاد ’’طرزِ زندگی کے برانڈز‘‘  کا بازار ہمارے اِرد گرد گرم ہے، یسوع ہمیں مسیحی شاگردیت کے طرزِ زندگی کو سمجھنے کی طرف بلاتا ہے۔  اگر  اِس  کو ایک ہی جملے میں  بیان کیا جائے تو شاگردیت  ”صلیب اُٹھانے“  کا نام ہے ۔  لہٰذا شاگردیت آسان نہیں۔ جب یسوع ہمیں اپنی پیروی کے لیے بلاتا ہے تو وہ ہمیں پُکار کر کہتا ہے کہ اپنی پرانی سوچ، پرانے طرزِ زندگی اور پرانے عقائد کو ترک کر دو۔  صرف خدا کے فضل ہی سے ہم اپنی سابقہ زندگی کو مصلوب کرتے اور صلیب اُٹھانے کے اُس اِلٰہی بلاوے کے تابع ہو جاتے ہیں: ” اور اُس نے سب سے کہا اگر کوئی میرے پیچھے آنا چاہے تو اپنی خُودی سے اِنکار کرے اور ہر روز اپنی صلِیب اُٹھائے اور میرے پیچھے ہولے۔ “(لوقا 23:9)۔ 

یسوع کے اَلفاظ میں ’’طرزِ زندگی‘‘  کا پہلو بالکل واضح ہے۔ اپنی پرانی روِشوں کو مار دینا  اور ہر روز مسیح کے ساتھ چلنے کا عہد کرنا ،  یہی حقیقی زندگی کی راہ ہے۔  مسیحی شاگردیت کا آغاز یسوع کے اُس بلاوے سے ہوتا ہے جو ہمیں اپنی پیروی کے لیے پُکارتا ہے۔  اُس کے بعد ہم نئی زندگی سے لطف اندوز ہوتے ہیں  جو  ہر اُس  بات کی روزانہ موت کے ساتھ وابستہ ہے جو ماضی کا حصہ تھی۔  

2۔ مسیحی شاگردیت کا مطلب ہے  اِیمان میں زندگی  بسر کرنا 

یسوع کے ساتھ رفاقت میں زندگی بسر کرنے کا مطلب یہی ہے کہ  ہم خدا کے مُردوں میں سے  جی اُٹھے بیٹے پر اِیمان لانے کے وسیلے سے زندگی بسر کریں۔ یسوع کے صلیب اُٹھانے کے بلاوے کی بازگشت  میں  پولس مسیح کے ساتھ ہماری یگانگت کو یوں بیان کرتا ہے:  ” کیوں کہ تم مر گئے اور تمہاری زِندگی مسیح کے ساتھ خُدا میں پوشِیدہ ہے “(کلسیوں 3:3)۔ 

اِیمان   ایک اِلٰہی تحفہ ہے  (اِفسیوں 8:2-10)   اِسی لیے یسوع کی شاگردیت کا آغاز اور اُس کا تسلسل بھی صرف خدا کے فضل سے اِیمان کے وسیلہ ہوتا ہے۔  شاگرد کی اصل زندگی کا سہارا اِیمان ہی ہے، جیسا کہ لکھا ہے:  ” اور بغَیر اِیمان کے اُس کو پسند آنا نامِمکِن ہے۔ اِس لِئے کہ خُدا کے پاس آنے والے کو اِیمان لانا چاہئے کہ وہ مَوجُود ہے اور اپنے طالِبوں کو بدلہ دیتا ہے۔ “(عبرانیوں 6:11)۔ 

3۔  مسیحی شاگردیت کا نتیجہ اَبدی زندگی ہے، جو اِس موجودہ زمانہ میں بھی حاصل ہے اور آنے والے جہان میں بھی۔

یسوع  کی خوش خبری کو پھیلانے کی دعوت  ہمارے لئے زندگی کی فراوانی ہے (یوحنا 10:10)۔  شاگرد اِس موجودہ جہان میں ہی اَبدی زندگی کا تجربہ کرتا ہے (یوحنا 24:5)۔  اور ساتھ ساتھ اُس اَبدی زندگی کی تکمیل کا اِنتظار بھی کرتا ہے جو آنے والے جہان میں ظاہر ہوگی (متی 19:28)۔  اَبدی زندگی کی موجودہ مسرت اور آئندہ اُمید اِسی باعث ممکن ہے کہ ہم اِیمان کے وسیلہ اُس کے ساتھ متحد ہیں جو ’’راہ، حق اور زندگی‘‘ ہے (یوحنا6:14)۔ اب سوال یہ ہے کہ خدا ہماری شاگردیت میں  کس طرح سے ہماری مدد کرتا ہے؟ 

اِس کا جواب ہمیں ویسٹ منسٹر   مختصر کیٹی کیزم کے سوال و جواب نمبر 88 میں ملتا ہے،  جہاں    ”فضل کے وسائل“  کا ذِکر ہے۔  یعنی  خدا کا کلام،  مقدس رسومات اور دُعا۔  اِنہیں فضل کے وسائل اِس لئے کہا جاتا ہے  کیوں کہ  یہ سب وہ وسائل ہیں جن کو خدا  ایک خاص مقصد کے لئے اِستعمال کرتا ہے۔، یعنی جب ہم اُس کی پیروی کرتے ہیں تو ہمیں یسوع کی شبیہ پر ڈھالنے کے لیے (رومیوں 29:8)۔

عملی طور پر دیکھا جائے تو اِن میں سے ہر وسیلہ مسیحی شاگردیت کے لیے نہایت ضروری ہے۔  سب سے پہلے، یسوع کا شاگرد خدا کے کلام سے محبت رکھے گا۔  وہ اِس کو پڑھنے، اِس کا مطالعہ کرنے اور اِس کی منادی کو سُننے میں مسرت پائے گا۔   بائبل اُس کے لئے عظیم ترین اِختیار ہوگی اور اُس کی ساری زندگی اُسی کی تعلیم کے تابع ہوگی۔

ثانیاً، یسوع کا شاگرد بپتسمہ اور خداوند کی عشائے ربانی کی رسومات میں  ضرورشریک ہوگا۔  مسیح نے یہ اپنی کلیسیا کو  یہ رسومات اُس کی رُوحانی نشونما کے لیے عطا کی ہیں۔   بپتسمہ ہماری شاگردیت میں شمولیت کی علامت ہے،  جبکہ عشائے ربانی ہمیں راہ میں آسمانی تقویت فراہم کرتی ہے۔  شاگرد اِن رسومات پر بطورِ خود کوئی بھروسا نہیں رکھتا،  بلکہ اِیمان کے وسیلہ سے، جب وہ اِنہیں دِیگر مسیحیوں کے ساتھ رفاقت میں دُرُست طور پر اِستعمال کرتا ہے، تو مسیح میں خدا کے فضل کو رُوح کے وسیلہ  حاصل کرتا ہے۔ 

تیسری بات یہ ہے کہ یسوع کا شاگرد ُعا کرتا ہے۔  جس طرح نئے اِیمان لانے والے پولس رسُول کے بارے میں کہا گیا ،  اُسی طرح ہر سچے شاگرد کے بارے میں بھی کہا جائے گا کہ ”دیکھ وہ دُعا کر رہا ہے “ (اعمال 11:9)۔  دُعا میں شاگرد اپنے آسمانی باپ کے ساتھ گہری رفاقت  سے  لطف  اندوز ہوتاہے،   بیٹے کی شفاعت  اور رُوح القدس کی قدرت کے وسیلے سے۔

مسیحی شاگردیت خدا کے فضل کے اِنتخاب سے شروع ہوتی ہے اور اِبتدا سے اِنتہا تک تثلیث کی قدرت سے قائم رہتی ہے،  اِسی لیے شاگرد کی زندگی نہایت پُرجوش اور معنی خیز ہے۔  کیا یسوع سے بہتر کوئی  اُستاد ہو سکتا ہے؟  کیا ابدی زندگی سے بڑھ کر کوئی  تحفہ ہو سکتا  ہے؟    کیا اُن فضل کے وسائل سے بہتر کوئی اِنتظام ہو سکتا ہے جو خدا نے ہمیں بخشے ہیں؟  مسیحی شاگردیت دراصل وہی زندگی ہے جسے گناہ سے برباد دُنیا میں حقیقی طور پر  بسر کیا جانا چاہیے۔  لہٰذا جب ہم یسوع کی پیروی کرتے ہیں تو   ” اپنی اُمِید کے اِقرار کو مضبُوطی سے تھامے رہیں کیوں کہ جِس نے وعدہ کِیا ہے وہ سَچّا ہے “   (عبرانیوں 23:10)۔ 

یہ مضمون کتاب مقدس کی ہر کتاب میں سے جاننے کے لئے تین اہم نکات کا مجموعہ ہے۔

یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔