
مَیں اپنے نافرمان بچے کے ساتھ کس طرح پیش آؤں؟
09/04/2026مسیحی زندگی
خدا زِندگی کا بخشنے والا ہے۔ کتابِ مقدس کے اِبتدائی صفحات اُس کی زندگی بخشنے والی قدرت کے مظاہر بیان کرتے ہیں، بالخصوص جہاں ہم دیکھتے ہیں کہ اُس نے آدم کے نتھنوں میں زِندگی کا دم پھونکا (پیدایش 7:2)۔ خدا نے آدم اور حوّا کو اِس لئے پیدا کیا کہ وہ اُس کے ساتھ رفاقت اور اُس کی مہربان حکمرانی کے تابع رہ کر کامل زِندگی کا تجربہ کریں۔ لیکن شیطان نے آدم اور حوّا کو آزمایا، اور اُس آزمایش کا نتیجہ بنی نوع اِنسان گراوٹ بنا، جس نے خدا کی راست تخلیق میں گناہ اور موت کو داخل کر دیا (رومیوں 12:5)۔
آدم اور حوّا کے گناہ کے بعد اُن کی برہنگی کو ڈھانپنے کے لئے خدا نے جو جانوروں کی کھالیں فراہم کیں، اِس میں ایک ایسی حقیقت منکشف ہوتی ہے جو پوری کتابِ مقدس میں واضح طور پر دِکھائی دیتی ہے کہ : گناہ کے باعث ضائع ہونے والی برکت کی بحالی قربانی کے بغیر ممکن نہیں۔ عہدِ عتیق کے مقدسین خدا کے اُن وعدوں پر بھروسا رکھتے تھے جن میں اُس نے ایک کامل نجات دِہندہ کے آنے کا اِعلان کیا تھا، اور وہ اُن قربانیوں کو باقاعدگی سے گزرانتے تھے جو خدا نے مقرر کی تھیں۔ یہ قربانیاں دراصل اُس کامل قربانی کی پیشگی صورت تھیں جو خدا نے اپنے ہی بیٹے میں پوری کرنی تھی۔
اگرچہ بنی اِسرائیل خدا کے عہد پر قائم رہنے میں ناکام رہی، تو بھی خدا اپنی وفاداری پر قائم رہا۔ خدا کے مقررہ وقت پر، تثلیث کے دُوسرے اقنوم یعنی یسوع مسیح نے اِنسانی جسم اِختیار کیا، کنواری سے پیدا ہوا، اور اُسی زمین پر قدم ر کھا جسے اُس نے خود خلق کیا تھا۔ اپنی زمینی خدمت کے دوران یسوع نے اپنی شناخت کو واضح کیا کہ وہ خود زندگی ہے اور وہ اِس لئے زمین پر آیا تاکہ اپنی جان خدا کے لوگوں کے لئے قربان کرے (یوحنا 6:14؛ 11:10)۔ یسوع زندگی کی راہوں میں سے محض ایک راہ نہیں، بلکہ وہ واحد راہ ہے جو زندگی کی طرف لے جاتی ہے، اور باقی تمام راہیں موت کی طرف جاتی ہیں۔ صرف اُس پر اِیمان لا کر کہ وہی خدا کی راست باز ی کےتقاضوں کو پورا کرنے والی کامل اور آخری قربانی ہے، ہم زندگی پا سکتے ہیں (یوحنا 31:20)۔
جب ہم مسیح پر یہ اِیمان رکھتے ہیں کہ صرف وہی واحد نجات دِہندہ ہے تو ہم رُوحانی موت سے نکل کر زندگی میں داخل ہو جاتے ہیں (یوحنا 24:5)۔ اب ہم مسیح کے ساتھ متحد ہو گئے ہیں۔ ہم مسیح میں ہیں۔ اور یوں مسیحی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔
پس مسیحی زندگی یہ نہیں کہ ہم اپنی کوششوں اور اپنی طاقت سے اَخلاقی زِندگی گزارنے کی جستجو کریں۔ مسیحی زندگی محض کلیسیا میں باقاعدہ حاضر ہونے، اچھا اِنسان کہلانے، یا بائبل کا علم حاصل کرنے سے پیدا نہیں ہوتی، بلکہ مسیحی زندگی درحقیقت جی اُٹھے مسیح کی وہی زندگی ہے جو رُوح القدس کے وسیلہ سے ہم میں عمل کرتی ، ہمیں مسیح کے جلال اور عظمت کو دیکھنے اور اُس کی عبادت کرنے کے قابل بناتی ہے، اور ہمیں اُس کے نقشِ قدم پر چلنے کی قوت عطا کرتی ہے تاکہ ہم خدائے ثالوث سے محبت میں بڑھتے جائیں اور دُوسروں کے لئے بھی محبت میں کامل ہوں۔
یہی مسیحی زندگی ہے۔ ایسی زندگی جس میں خدا اپنی حاکمانہ قدرت سے اپنے لوگوں کو موت سے زِندگی کی طرف کھینچ لاتا اور اُنہیں نیا دِل عطا کرتا ہے تاکہ وہ مسیحِ مصلوب اور جی اُٹھے یسوع کو گنہگاروں کے لئے واحد اُمید کے طور پر قبول کریں، اور اُس کے ساتھ رفاقت میں رہ کر اُس کے قریب ہوتے جائیں اور اُس کی شبیہ میں ڈھلتے جائیں ، تاکہ اُس کے جلالی فضل کی حمدو تعریف ہو (اِفسیوں 6:1)۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔


