
مَیں نااُمیدی کا مقابلہ کیسے کروں؟
08/06/2026
تین چیزیں جو آپ کو عبرانیوں کے خط کے بارے میں جاننی چاہئیں
11/06/2026تین چیزیں جو آپ کو یوایل نبی کے متعلق جاننی چاہئیں
اکثر لوگ یوایل نبی کی کتاب کی اِس عظیم پیش گوئی سے واقف ہیں، جو یوایل ۲: ۲۸- ۲۹ میں درج ہے، جہاں خدا فرماتا ہے کہ وہ ہر فردِ بشر پر اپنی روح نازِل کرے گا، اور خدا کی جماعت کے سب لوگ نبوت کریں گے۔ تاہم ، اِن آیات کے حقیقی مفہوم کو اِس کتاب کے مجموعی پیغام سے الگ کر کے نہیں سمجھا جا سکتا۔ پس، اِس مختصر مضمون میں یوایل نبی کی کتاب کے متعلق تین ایسے حقائق بیان کئے گئے ہیں جن کا جاننا آپ کے لئے لازِم ہے تاکہ آپ اِس کے پیغام کو درُست طور پر سمجھ سکیں۔
۱۔ یوایل کی کتاب کا سنِ تصنیف غیر یقینی ہے۔
پہلی حقیقت کے مطابق،اگرچہ نبوتی کُتب کا تاریخی پس منظر اُن کے پیغام کے لئے نہایت اہمیت کا حامل ہوتا ہے،مگر یوایل کے صحیفے کا حتمی سنِ تصنیف غیر یقینی ہے۔ اِس کتاب میں ہیکل کی سرگرمیوں کا ذکر ملتا ہے، جس سے مُراد یہ یا تو اسیری سے قبل کی ’سلیمانی ہیکل‘ (جو ۵۸۶ق م میں مسمار ہوئی) ہو سکتی ہے، یا وہ ہیکل جو اسیری سے واپسی کے بعد (۵۱۶ق م ) تعمیر کی گئی۔ متن میں کسی بادشاہ کا ذکر نہیں ملتا، اور نہ ہی اسرائیل یا یہوداہ کے کسی بڑے دُشمن کا نام لیا گیا ہے۔ علماء نے اِس کی تاریخِ تصنیف کے متعلق مختلف آرا ء پیش کیں، مگر کسی ایک تاریخ پر اتفاقِ رائے قائم نہیں ہو سکی۔ بلاشبہ، کتاب میں اسیری سے قبل کے مناظر کی عکاسی کی گئی ہے ، جو پہلی ہیکل کی تباہی کے واقعات سے متعلق ہیں، جیسے نظر کی قربانیاں خداوند کے گھر سے موقوف ہو گئیں (یوایل ۱: ۹)، شمالی لشکر کی جانب سے خطرہ (یوایل ۲: ۲۰)، اور مستقبل میں مخلصی کا بیان (یوایل ۲: ۲۳- ۲۹)۔ بعض ماہرین کے مطابق اِس کی تاریخِ تصنیف کا تعین اِس لئے بھی دشوار ہے، کیوں کہ اِس کتاب کو بطورِ ’’طریقہِ عبادت‘‘ قومی آفات کے دوران میں پڑھا جاتا تھا۔
۲۔ ٹڈیوں کی وبا ، اِس کتاب کا اہم واقع ہے۔
دوسری حقیقت جس کا جاننا آپ کے لئے ضروری ہے وہ اِس صحیفے کا پس منظر ہے، جو براہِ راست اِس کے پیغام سے مربوط ہے۔ اِس کتاب کا اہم واقع ٹڈیوں کی وبا ہےجس نے مُلک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ پہلا باب اجتماعی ماتم کے لئے ایک بلاوہ ہے، کیوں کہ ٹڈیوں کی وبا اِس قدر تباہ کن تھی کہ اِس سے قبل کہیں ایسی مثال نہیں ملتی ۔ یوایل ۱:۴ میں اِس وبا کی ہولناکی بیان کی گئی ہے، جہاں ٹڈیوں کے غول نے ہر قابلِ خورد شے کو نیست و نابود کر دیا تھا۔ اِنہیں نتائج کی بنا پر مختلف گروہ کے لوگوں کو ماتم و گریہ و زاری کے لئے بلایا گیا: اَے مَے نوشی کرنے والو نئی مَے کے لئے چلاؤ، کیوں کہ وہ تمہارے منہ سے چھن گئی (یوایل ۱: ۵- ۷)، خدمت گزار کاہنوں ماتم کرو، کیوں کہ خداوند کے گھر سے قربانیاں موقوف ہو گئیں (یوایل ۱: ۸- ۱۰)، اور اَے کسانو خجالت اُٹھاؤ، کیوں کہ میدان کے کھیت برباد ہو گئے (یوایل ۱: ۸- ۱۰)۔ مزیدبرآں، کاہنوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ گریہ و زاری اور روزوں کے ساتھ ایک باضابطہ عبادت میں خدا کے لوگوں کی قیادت کریں(یوایل ۱: ۱۳- ۱۴)۔
ٹڈیوں کی وبا درحقیقت خداوند کے دِن کا بیان ہے، یعنی نافرمان فرزندوں کے لئے عدالت کا دِن، اور خدا کی جانب رجوع کرنے والوں کے لئے وہ برکت کا دِن ہو گا۔اِس لئےٹڈیوں کی وبا اُس آنے والی عدالت کا پیش خیمہ ہے جس کا تذکرہ پہلی بار یوایل ۱: ۱۵ میں ملتا ہے،
’’ اُس روز پر افسوس!
کیوں کہ خداوند کا روز نزدیک ہے۔ ‘‘
یوایل ۱: ۱۶- ۲۰ میں اِس دِن کی ہلاکت کے متعلق بیان کیا گیا ہے، اُس کے ساتھ ہی ہم یوایل ۲: ۱- ۲ میں خداوند کے دِن کی پیش آگاہی کے لئے نرسنگا پھونکنے کے بارے میں پڑھتے ہیں۔اِس دِن کی کیفیت پر زَور دیتے ہوئے اِسے ’’اندھیرے اور تاریکی کارو ز‘‘ اور ’’ابرِ سیاہ اور ظلمات کا روز ‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ یہ تاریکی پہاڑوں پر صبحِ صادِق کی طرح پھیل جائے گئی، جو ایک ایسے بڑے اور طاقت ور لشکر کی طرف اشارہ کرتی ہے، جو جنگ کے لئے صف آراء ہیں، جس کے جنگی مردوں کو روکا نہیں جا سکتا۔ اِس لشکر کے روبرو لوگ تھرتھراتے ہیں، کیوں کہ یہ کوئی دُنیاوی لشکر نہیں، بلکہ خداوند کا لشکر ہے۔ جب خداوند اپنے لشکر کے سامنے للکارتا ہے، تو زمین و آسمان کانپتے اور تھرتھراتے ہیں، سورج اور چاند تاریک ہو جاتے ہیں (یوایل ۲: ۱۰- ۱۱)۔ کون اُس کی برداشت کر سکتا ہے، کیوں کہ ’’خداوند کا روزِ عظیم نہایت خوف ناک ہے‘‘ (یوایل ۲: ۱۱)۔
یوایل کی کتاب میں خداوند کا دِن محض ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ ایک ایسا اُخروی واقعہ ہے جو تاریخ کو اختتام تک پہنچا دیتا ہے۔یوایل نبی خداوند کے دِن، آنے والی عدالت کی ہولناکی بیان کرتے ہوئے لوگوں کو توبہ کے لئے بلاتا ہے (یوایل ۲: ۱۵- ۱۷)۔ وہ اُن سے وعدہ کرتا ہے کہ ٹڈیوں کی وبا کے برعکس، خدااُنہیں دُنیاوی نعمتیں عطا کرے گا (۲: ۲۱- ۲۷)، ساتھ ہی روحانی بھی، جو روح القدس کے نزول سے حاصل ہوں گی (یوایل ۲: ۲۸- ۳۲)۔
۳۔ عیدِ پِنتِکُست اور پطرس رسول کا اقتباسِ یوایل
تیسری حقیقت جس کا جاننا آپ کے لئے ضروری ہے، اُس کے مطابق اعمال ۲: ۱۷- ۲۱ میں عیدِ پِنتِکُست کے واقعات کی وضاحت کے لئے، پطرس رسول نے یوایل ۲: ۱۷- ۲۱ کا اقتباس پیش کیا۔ وہ روحانی نعمتیں جن کی پیش گوئی یوایل نبی کی معرفت کی گئی ، اُس وقت پوری ہوئیں جب خدا نے اپنا رُوح ہر فردِ بشر پر نازِل کیا ،اور جو کوئی خداوند کا نام لے گا وہ نجات پائے گا ۔
مزید برآں، کلامِ الہیٰ کا نبوتی کام وسعت اختیار کر کے معاشرے کے تمام طبقوں، بشمول غیر اقوام تک پھیل گیا، اور وہ سب روح القدس سے بھر گئے اور غیر زبانیں بولنے لگے جس طرح روح نے اُنہیں بولنے کی طاقت بخشی (اعمال ۲: ۴)۔ اُس وقت خداوند کے دُشمنوں کی آخری عدالت (یوایل ۳: ۱- ۸)، اور خدا کے لوگوں کی کامِل بحالی (یوایل ۳: ۱۷- ۲۱) کی بجائے ، عصرِ حاضر میں خداوند کی نجات کے مقاصد دُنیا بھر میں یسوع مسیح کی خوشخبری کی منادی کے ذریعے سے تکمیل کو پہنچ رہے ہیں۔ نتیجتاً، ہم نے یسوع مسیح میں اپنی نجات کے بیعانے کا تجربہ بھی کر لیا ہے۔ اب ہم اپنی نجات کی اُس کاملیت کے منتظر ہیں، جب ہمارا مُنجی اِس دُنیا میں اپنی دوسری آمد کے موقع پر آئے گا اور خدا کے دُشمنوں کی حتمی عدالت اور اپنے لوگوں کی مکمل بحالی کے ذریعے سے ’’خداوند کے دِن‘‘ کی تکمیل فرمائے گا۔ اُس وقت ہم ابدیت میں مسیح کی کامِل حضوری اور اُن بے شمار روحانی و جسمانی نعمتوں کا تجربہ کریں گے جو محض اُس کی حضوری سے حاصل ہوتی ہیں۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔


