شدید بیماری میں اُمید کی تلاش
26/05/2026
تین چیزیں جو آپ کو یوایل نبی کے متعلق جاننی چاہئیں
09/06/2026
شدید بیماری میں اُمید کی تلاش
26/05/2026
تین چیزیں جو آپ کو یوایل نبی کے متعلق جاننی چاہئیں
09/06/2026

مَیں نااُمیدی  کا مقابلہ کیسے کروں؟  

اگر اُمید جینے کی آرزو کا نام ہے، تو نااُمیدی سب کچھ ختم ہو جانے کی تمنا ہے۔جس طرح  ایلیاہ نبی جھاؤ کے ایک پیڑ کے نیچے افسردہ حالت میں بیٹھا تھا(۱۔سلاطین ۱۹: ۱- ۱۰)،ایوب نبی اپنے جنم دِن پر لعنت کرتا  ہے (ایوب ۳ باب)، اور پولُس رسول  مصیبت سے اِس قدر پست ہو گیا  کہ اُسے  اپنی  زندگی سے بھی ہاتھ دھونا  پڑا  (۲۔کرنتھیوں ۱: ۸)،  اِسی طرح وہ ایمان دار جو ’’زندہ اُمید ‘‘ کے لئے نئے سِرے سے پیدا ہوئے ہیں، وہ بھی شدید اذیت کے لمحات میں خود کو بے بس محسوس کرسکتے ہیں۔ 

جیسے زبور نویس  پکارتا ہے کہ :

’’تیری سب موجیں اور لہریں ،

مجھ پر سے گُذر گئیں‘‘ (زبور ۴۲: ۷)۔ 

ایوب نوحہ کرتا ہے کہ ’’میری جان تباہ ہو گئی، میرے دِن ہو چکے‘‘ (ایوب ۱۷: ۱)۔ یہ محض شاعرانہ جذبات  نہیں بلکہ اُس تلخ حقیقت کی عکاسی ہے جہاں مصائب یا دُکھ  ہماری برداشت  سے تجاوز کر جاتے ہیں۔ 

نااُمیدی کا حملہ محض اُنہی لوگوں تک محدود نہیں جنہیں ہم عموماً اِس کا موزوں ہدف تصور کرتے ہیں،یعنی وہ جو فطرتاً افسردہ رہتے،  نامطمئن یا جو کم فہم سمجھے جاتے  ہیں۔ بلکہ چارلس سپرجن، مارٹن لائیڈجونز اور جان بنیان جیسے پختہ ایمان کے حامِل مقدسین بھی اپنی زندگی میں  شدید ذہنی کرب اور اذیت کے اَدوارسے گزرے ہیں۔ اِس لئےنااُمیدی کی کیفیت اِنسانی مزاج یا   روحانی پختگی کی بنیاد پر امتیاز کرتے ہوئے حملہ آور نہیں  ہوتی۔

نااُمیدی میں مبتلا شخص محض ایک چیز کا آرزومند ہوتا  ہے، اور وہ  ہے اِس کیفیت سے رہائی۔ اِس کشمکش کی ماہیت ہی کچھ ایسی ہے  کہ اِنسان پر شکست اور بے معنی زندگی کا ایسا طاقت ور وہم  طاری ہو جاتا ہے کہ اُسے نہ کوئی حل دِکھائی دیتا ہے اور نہ ہی فرار کا راستہ۔ زبورنویس اِس حالت کو یوں بیان کرتا ہے کہ: 

’’مَیں گہرے پانی میں آپڑا ہوں،

جہاں سیلاب میرے سَر پر سے گُذرتے ہیں‘‘ (زبور ۶۹: ۲)۔ 

ایک تلاطم خیز سمندر میں ہاتھ پاؤں مارنے کی طرح،  یہ کیفیت اِس قدر ہولناک محسوس ہوتی ہے کہ گویا ہم سب کی نظروں کے سامنے ڈوب رہے ہیں، مگر بچاؤ کا کوئی وسیلہ میسر نہیں ۔

نااُمیدی چاہے بتدریج  غالب آئے یا  یک لخت دِل و دماغ کو بے بسی کے آخری کنارے تک دھکیل دے، یہ اِیمان دار کی اُمید کی حقیقت کو مسخ  کر دیتی اور اُس کے بدن، دماغ  اور رُوح کی قوت کو کمزور کر دیتی ہے۔ پس بحالی کا عمل ہمارے فہم اور ہمت کی دوبارہ درُستی پر منحصر ہے، ایسا تب ہی ممکن ہے جب ہم  اپنی کمزوری میں خود کو مسیح کے سپرد کریں، اور فرماں برداری، صبر اور اُمید کے ’چھوٹے‘ اقدام کے ذریعے سے اپنے ایمان کو بروئے کار لائیں، تاکہ نااُمیدی کا تسلسل ٹوٹ سکے۔  

وَسوسوں  کے سلسلے کو توڑنا  

جان بنیان کی تصنیف ’’The Pilgrim’s Progress‘‘ میں ایک کرسچن نامی  شخص جب دیویاس کے قلعے میں قید تھا تو وہاں کی تاریکی کوئی وہم نہیں، بلکہ ایک ٹھوس اور دم گھونٹ دینے والی حقیقت تھی۔اسی طرح، جب ہم سنگین حالات کے حصار میں ہوتے ہیں، تو نااُمیدی ہمیں انہی تلخ حقائق کے گرد لامتناہی طور پر گھومنے پر مجبور کر تی اور مسیح میں ہماری اُمید کو دھندلا کر دیتی ہے۔ مگر یاد رہے کہ اُس کرسچن نامی شخص  کو  اُس قلعے سے  اِس لئے رہائی نہیں ملی کہ وہاں اندھیرا ختم ہو گیا تھا،، بلکہ اِس لئے کہ اُسے اپنی جیب میں موجود وعدے  کی کُنجی کا استعمال کرنا  بروقت  یاد آگیا تھا۔ 

یہاں ضرورت اِس امر کی ہے کہ خدا کا کلام باقاعدگی سے ہمارے سوچوں کے تسلسل میں حائل ہوتا رہےاور اُنہیں ایک نئی صورت میں ڈھالتا رہے۔ جب کبھی آپ خود کو تنہا محسوس کریں تو خدا کے اُس وعدے کو یاد کریں کہ وہ آپ کو کبھی نہیں چھوڑے گا اور نہ آپ سے دست بردار ہو گاجب وسوسوں کی گہرائے خُدا کی پہنچ سے دُور لگت  تو یاد رکھیں کہ وہ خود پاتال تک  اُترگیا۔ جب  دُعا  کے لئے الفاظ نہ ملیں تو یاد رکھیں کہ  روح القدس خودآہیں بھر بھر کرآپ کی شفاعت کرتا ہے ۔

اپنے بدن کی نگہداشت 

جب ایلیاہ نبی شدید تھکن  میں مبتلا تھا تو خدا نے اُسے خوراک، آرام اور اپنی موجودگی کا احساس عطا کیا۔ ہمیں  بطورِ انسان محدود صلاحیتوں کے کے ساتھ خلق کیا گیا ہے، اور جب یہ ختم ہونے لگتی ہیں تو ہمیں بحالی کی ضرورت ہوتی ہے۔ پس انکساری کا تقاضا ہے کہ ہم روزانہ ورزش کریں، اپنے آرام  کا خیال رکھیں، اپنے بدن کو مناسب خوراک سے سیر کریں، دھوپ سے مستفید ہوں، طبی امداد حاصل کریں، اور ذِمے داریوں کے بوجھ تلے خود کو کچلنے کی بجائے اپنے آرام کو ترجیح دیں۔ اگرچہ اپنی جسمانی ضروریات کا خیال رکھنا بظاہر معمولی یا لاحاصل  معلوم ہو سکتا ہے، مگریہ اپنی بشری حدود کا احترام کرنے اور خدا کی پروردگاری پر بھروسا کرنے کا  ایک مؤثر طریقہ ہے۔ 

خود  مر کزیت سے  خدمت کی طرف

 بقا کی جبلت کی طرح، نااُمیدی  متاثرہ شخص کے ہر حصے کو نگل لیتی ہے، اور اُسے اپنی ذات تک محدود  رہنے اور تنہائی اختیار کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ خود بینی کی اِس عادت کو ختم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ دوسروں کے ساتھ وقت گزاریں، اُن کا خیال رکھیں اور اُنہیں اپنی موجودگی کا احساس دلائیں۔  دوسروں کو اپنی زندگی میں شامل کرنا نہ صرف محبت کے حصول کے لئے ضروری ہے بلکہ گفتگو اور توجہ کے ذریعےسے محبت بانٹنے کے لئے بھی نہایت مفید ہے۔ دوسروں کا خیال رکھنے اور چھوٹے چھوٹے کاموں کے ذریعے سے اُنہیں ترجیح دینے سے آپ اپنی خود پرستی پر قابو پا سکتے ہیں۔ اِس لئے اپنے گردونواح کے لوگوں کے لئے دُعا کریں، اُن کی حوصلہ افزائی کریں ، اپنی گفتگو کا مرکز دوسروں کو بنائیں۔ یہ وہ  تمام اقدام  ہیں جو خدا اور پڑوسی کی جانب آپ کے رجحان کو دوبارہ درُست کر دیتے ہیں۔ 

معمول کی قید سے آزادی  

جب نااُمیدی ہمیں زندگی کی بنیادی ضروریات تک محدود کر دے، تو آئیے اِنہی بنیادی کاموں کو اپنے بچاؤ کا ذریعہ سمجھ کر اپنائیں۔ روزمرہ کے معمولات چاہے کتنے ہی چھوٹے کیوں نہ ہوں، مگر زِندگی میں نظم وضبط کا باعث بنتے ہیں۔ صبح سویرے بستر سے اُٹھنا، کپڑے دھونا، یا گھاس کاٹنے جیسے سادہ کام بھی ہماری زندگی کو معمول پر لانے اور  اپنے مقصد کا احساس دِلانے کے لئے ہمارا سہارا بن جاتے ہیں۔ اگرچہ ایسی کاوشیں مشینی محسوس ہوتی ہیں، مگر یہی معمولی کام  ہمیں اپنی اُمید کے حصول کے لئے تیار کرتے ہیں۔ اِنہی چھوٹی چھوٹی باتوں میں دیانت داری (لوقا ۱۶: ۱۰)ہماری قابلیت کو بحال کرتی، اور ہماری زندگی کے مقصد کی تصدیق کرتی ہے، اور یوں عام دکھائی دینے والے کام بھی ہمارے بچاؤ کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ 

تسکین ِ تخلیق    

جب خوف کے سائے گہرے ہونے لگیں، تو خدا کی عظمت اور حاکمیت کے سامنے اپنی بے مائیگی کو یاد کرنا،  سکون کا باعث بنتا ہے ۔ خدا  تمام کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے، جن میں ہم بھی شامل ہیں۔ جب خدا نے ایوب کے سامنے اپنی حاکمیت اور قدرت کا اظہار کیا یعنی  آسمان پر ستاروں کے جھرمٹ(جبار، بناتُ النّعش) سے لے کر سمندر کی گہرائیوں تک، تو اُس کی نااُمیدی عبادت میں بدل گئی۔تخلیق کی خوب صورت یعنی فطرت کے نظاروں میں چہل قدمی کرنا ، ستاروں تلے لیٹنا، پودے لگانا یا جانوروں کی دیکھ بھال کرنا وغیرہ ہماری تسلی کا باعث بنتی ، اور ہمارے   دیکھنے کی صلاحیت کو درُست کرتی ہے۔ ہمارا  خالق خدا ، اسی عالمِ فطرت  کے ذریعے سے خود ہماری نگہبانی کرتا ہے۔ 

صبر کے ساتھ استقامت 

جب تاریکی برقرار رہے اور سکون میسر نہ آئے، تو یاد رکھیں کہ دُکھ سے اُمید تک کا سفر ’استقامت‘ کا تقاضا کرتا ہے۔  یعنی صبرآزما وقت توکل اور بھروسے کا متقاضی ہے۔ایسی کشمکش اور تناؤ میں جینا آسان نہیں، مگر ہماری کمزوری اور احتیاج ہی وہ بنیادی شرائط ہیں جس کے ذریعے سے ہم مسیح پر مکمل انحصار کرنا سیکھتے ہیں۔ اُس نے ہمیں نہ صرف اپنی فتح اور قیامت  کی قدرت میں شامل ہونے کے لئے بلایا، بلکہ اپنے دُکھوں میں بھی  شریک کیا (فلپیوں ۳: ۱۰)۔ اِس لئے اِیمان کے اِن ڈگمگاتے قدموں کے ساتھ چلتے رہیں، کیوں یہی وہ ’نیک کام‘ ہیں جو خدا نے اِس خاص وقت میں آپ کے لئے تیار کئے ہیں۔ 

تاریکی کے خوف سے ہراساں نہ ہوں۔  اگرچہ ایسے حالات  لامتناہی محسوس ہوتے ہیں مگر حقیقت  میں یہ محض ’تھوڑی عرصے‘ کی بات ہے جب تک کہ ’’خدا جو ہر طرح کے فضل کا چشمہ ہے، جس نے تم کو مسیح میں اپنے ابدی جلال کے لئے بلایاتمہارے تھوڑی مُدت تک دُکھ اُٹھانے کے بعد آپ ہی تمہیں کامِل اور قائم اور مضبوط کرے گا‘‘ (۱۔ پطرس ۵: ۱۰)۔شاید آپ کو لگتا ہو کہ تاریکی کا سایہ مزیدگہرا ہو جائےگا، مگر وہ ایمان دار ایسا دعویٰ نہیں کر سکتے جنہیں خدا نے تاریکی کے قبضے سے چھڑا کر اپنے عزیزبیٹے کی بادشاہی میں داخل کیا ہے (کلسیوں۱: ۱۳)۔

یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔