
رومن کیتھولک کلیسیائی و کہانتی علم النجات کی ترقی
11/08/2026سولہویں صدی میں علم النجات کی اِصلاح
سولہویں صد ی میں نجات کے بائبلی عقیدہ کی دوبارہ دریافت ایک ہی وقت میں نہیں ہوئی ۔ آغاز میں ، ابتدائی مُصلحین نے "تصدیق/ راستباز ٹھہرانے ” کے لفظ کا بائبلی مفہوم دوبارہ دریافت کیا ۔اُنہوں نے سمجھا کہ اِس کا مطلب ” راستباز قرار دینا ” ہے نہ کہ ” راستباز بنا دینا ” ۔اس سے وُہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ راستباز ٹھہرائے جانے کا ذریعہ بپتسمہ نہیں بلکہ صرف ایمان ہے ۔دوسرے لفظوں میں ، پہلی بات جو مصلحین نے دریافت کی وُہ یہ تھی کہ قرون وسطیٰ کی کلیسیا انسان کے بڑے مسئلہ کے حل کو بگاڑ چکی تھی ۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ، جب اُنہوں نے کلام ِ مقدس کا مطالعہ کیا اور اُس کی تعلیم کا رومن کیتھولک کلیسیا کی تعلیم سے موازنہ کیا ، تو اُنہوں نے دریافت کیا کہ روم(رومن کیتھولک کلیسیا) نے اس مسئلہ کے حل کے بارے میں غلط فہم و فراست سے کام لیا کیونکہ وُہ اِس مسئلہ کی حقیقت سے ہی ناواقف تھے ۔روم (رومن کیتھولک کلیسیا) کے عقیدہ علم ِ النجات یا نجات کا عقیدہ ( مسئلہ کا حل)،نے یہ صُورت اِس لیے اِختیار کی کیونکہ وُہ آدم کے گُناہ کے نتیجہ کو اِسی طرح سے سمجھتے تھے ۔جیسا کہ ہم نے پچھلے مضمون میں دیکھا ، رومن کیتھولک کلیسیا یہ تعلیم دیتی تھی کہ ،جب آدم گُناہ میں گِرا ، تو اُس نے راست باز ٹھہرانے والے، اور تقدیس کرنے والے فضل جیسی بخشش کھو دی ۔اِس لیے ، آد م اور اُس کی نسل کے لیے اِس فضل کو دوبارہ حاصل کرنا ضروری تھا تاکہ وُہ مافوق الفطرت حالت میں پھر سے سرفراز کیے جائیں ۔اُن کے خیال میں ، یہ رومن کیتھولک کلیسیا کی مقدس رسومات کے ذریعہ سے حاصل ہوتا ہے ۔
جب اُنہوں نے کلام ِ مقدس کا مطالعہ کیا ، تو مصلحین نے محسوس کیا کہ آدم کی گُناہ میں گِراوٹ کے بارے میں رومن کیتھولک کا عقیدہ ، بائبل مقدس کے متن کے ساتھ پُورا انصاف نہیں کرتا ۔وُہ اِس حقیقت کو سمجھ گئے کہ ،آدم کی گُناہ میں گِراوٹ کے بعد ، انسان نے صرف وُہ فوق الفطرت فضل ہی نہیں کھویا ہے جس سے اُس کی فطرت کو کوئی نقصان نہ پہنچا ہو یا بہت کم نقصان پہنچا ہو۔بلکہ جیسا کہ ویسٹ منسٹر اقرارالایمان بیان کرتا ہے ، گِراوٹ کے بعد ، وُ ہ اپنی اصل راستبازی اور خُدا کے ساتھ رفاقت سے گِر گئے ،اور اِس طرح سے گُناہ میں مُردہ ہو گئے ،وُہ اپنی رُوح اور بدن کے تمام اعضا اور قویٰ میں ناپاک ہو گئے ۔
گُناہ میں گِراوٹ کی حالت کو بیان کرنے کے لیے جو الٰہیاتی اصطلاح ، بعد میں استعمال کی گئی ہے وُہ ” مکمل بِگاڑ ” ہے ۔
اِس بات کو پھر سے ذہن نشین کر لینا ضروری ہے کہ جس چیز کو کوئی مسئلہ سمجھتا ہے ، وُہ اُس کے حل(علم ِ النجات ) کو بھی اُس (مسئلہ) کے مطابق ہی سمجھے گا۔ پلاجیس کا عقیدہ ِ نجات ویسا ہی تھا جیسا کہ اُس مسئلہ کے بارے میں اُس کا نظریہ تھا ۔روم (رومن کیتھولک کلیسیا) کا عقیدہ ِ نجات بھی ویسا ہی ہے جیساکہ وُہ اِس مسئلہ کی سمجھ بُوجھ رکھتے ہیں ۔ایک مُردہ شخص کی نجات اور ایک زخمی شخص کی نجات کے لیے بالکل مختلف ذرائع درکار ہوتے ہیں ۔
اِصلاحی کلیسیاوٴں نے انسان کے مسئلہ کےلیے خُدا کے حل کو اُس عہد کے مطابق بیان کیا جو خُدا نے اپنے اور انسان کے درمیان باندھا تھا ۔ویسٹ منسٹر اقرارالایمان نجات کے اِس بائبلی عقیدہ کا نہایت واضح بیان پیش کرتا ہے ۔ جو کچھ آگے بیان کیا جاتا ہے وُہ بڑی حد تک اِسی اِقرار الایمان سے لیا گیا ہے ۔قارئین کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وُہ ایک ایسی نقل حاصل کریں جس میں بائبلی حوالہ جات موجود ہوں ، اور احتیاط سے اُن سب کا مطالعہ کریں ۔
جیسا کہ ویسٹ منسٹر اقرارالایمان بیان کرتا ہے ،انسان کے گُناہ میں گِرنے سے پہلے ،خُدا نے آدم سے ایک عہد باندھا،جس میں آدم سے اور اُس کی نسل سے کامل اور شخصی فرمانبرداری کی شرط پر زندگی کا وعدہ کیا گیا (ویسٹ منسٹر اقرارالایمان ۷۔۲)۔ رومن کیتھولک کی تعلیمات کے برعکس، اہم بات یہ ہے کہ آدم کی گِراوٹ سے پہلے اُس کے پاس فرمانبرداری کرنے کی قدرت اور صلاحیت موجود تھی (ویسٹ منسٹر قرارالایمان ۴۔۲؛ ۱۹۔۱)۔مزید برآں ، ابتدائی راستبازی اُس کی فطرت کا حصہ تھی ، کیونکہ وُہ خُدا کی شبیہ پر پیدا کیا گیا تھا (ویسٹ منسٹر اقرارالایمان ۴۔۲؛ ٦۔۲)۔یہ رومن کیتھولک کلیسیاکی تعلیمات کے مطابق ، اُس کی فطرت میں شامل کی گئی کوئی اضافی بخشش نہیں تھی ۔
آدم کی گِراوٹ کے باعث ، اب وُہ پہلے عہد کی شرائط کو پورا کرنے کے قابل نہیں رہا ۔اِس لیے خُدا نے اپنی پاک مرضی سے ایک دوسرا عہد قائم کیا ، جسے عام طور پر فضل کا عہد کہا جاتا ہے ؛ جس میں وُہ یسوع مسیح کے وسیلہ سے گنہگاروں کو زندگی اور نجات مفت پیش کرتا ہے ؛ اور اُن سے اُس پر ایمان رکھنے کا تقاضا کرتا ہے ، تاکہ وُہ نجات پا سکیں ،اور اُن سب کو جو اَبدی زندگی کے لیے مقرر کیے گئے ہیں اپنا رُوح القدس دینے کا وعدہ کرتا ہے ، تاکہ وُہ ایمان لانے اور اُس پر توکُل کرنے پر آمادہ ہوں(ویسٹ منسٹر اقرارالایمان ۷۔۳)۔
خُدا کا اکلوتا بیٹا یسوع مسیح ، ازل سے مقرر کیا گیا تاکہ وُہ خُدا اور انسان کے درمیان واحد درمیانی ہو (ویسٹ منسٹر اقرارالایمان ۸۔۱)۔وُہ اپنے لوگوں کو نجات دینے کےلیے مقرر کیا گیا ،اُن لوگوں کو جنہیں خُدا نے اپنے آزاد فضل اور محبت سے ،”اپنے ابَدی اور لا تبدیل اِرادہ اور اپنی پاک مرضی کی پوشیدہ مصلحت اور خوشنُودی کے مطابق ، بنائے عالم سے پیشتر ، مسیح میں چُن لیا "(ویسٹ منسٹر اقرارالایمان ۳۔۵)۔
یسوع مسیح نے اپنی کامل فرمانبرداری اور اپنی ذات کی قربانی کے وسیلہ سے ، جسے اُس نے اَبدی روح کے ذریعے ایک ہی بار خُدا کے حضور گزرانا ،اپنے باپ کے انصاف کے تقاضوں کو پوری طرح پورا کر دیا ؛اور اُن سب کے لیے جنہیں باپ نے اُسے بخشا ہے ، نہ صرف مفاہمت حاصل کی بلکہ آسمان کی بادشاہی میں اَبدی میراث بھی مول لی(ویسٹ منسٹر اقرارالایمان ۸۔۵)۔
مسیح یسوع ، اِس مول لی گئی مخلصی کا اِطلاق تاریخ کے تمام اَدوار میں اُن سب پر کرتا ہے جو برگزیدہ ہیں (ویسٹ منسٹر اقرار الایمان۸۔۸)۔
چونکہ ، گِرا ہوا انسان گُناہ اور موت کی حالت میں ہے ،اور محض زخمی یا بیمار نہیں ،اِس لیے وُہ اپنے طور پر مُول لی گئی مخلصی کو حاصل کرنے کے لیے کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں ۔اِس لیے خُدا موثرٴ طور پر اپنے برگزیدوں کو موت سے واپس بُلاتا ہے ، جس طرح مسیح نے لعزر کو قبر سے بُلایا تھا ۔وُہ اُنہیں نئی پیدائش عطا کرتا ہے ، اُنہیں رُوحانی زندگی بخشتا ہے ،اور اُنہیں یسوع مسیح کی طرف کھینچ لاتا ہے (ویسٹ منسٹر اقرارالایمان ۱۰۔۱)۔
جنہیں خُدا بُلاتا ہے وُہ اُنہیں مفت راستباز بھی ٹھہراتا ہے ، وُہ راستباز ٹھہرائے جاتے ہیں یعنی راستباز قرار دیئے جاتے ہیں ، اور یہ اُن کے اعمال کی بدولت نہیں بلکہ صرف ایمان کے وسیلہ سے حاصل کی گئی مسیح کی منسُوب کردہ راستبازی کی بنیاد پر ہے (ویسٹ منسٹر اقرارالایمان ۱۱۔۱؛ ۱۴۔۲)۔وُہ جو موثرٴ طور پر بُلائے جاتے ہیں اور راستباز ٹھہرائے جاتے ہیں اُن کی ساری زندگی تقدیس کا عمل بھی جاری رہتا ہے ۔
گُناہ کا انسانی زندگی پر تسلُط پورے طور پر ختم کیا جاتا ہے ، اور اُس کی مختلف شہوتیں رفتہ رفتہ کمزور اور مغلوب کی جاتی ہیں ؛اور وُہ نجات بخش فضل میں روز بروز زندہ اور مضبوط کیے جاتے ہیں تاکہ حقیقی پاکیزگی پر عمل کریں ، جس کے بغیر کوئی شخص خُداوند کو نہ دیکھ سکے گا (ویسٹ منسٹر اقرارالایمان ۱۳۔۱؛ ۱٦: ۱-۷)۔
رومن کیتھولک کلیسیا کے برعکس ، اِصلاحی کلیسیاوٴں نے یہ تعلیم دی کہ وُہ لوگ جنہیں خُدا نے اپنے پیارے بیٹے میں قبول فرمایا ہے ، موثرٴ طور پر بُلایا ہے ، اور اپنے رُوح کے وسیلہ سے اُن کی تقدیس کی ہے ، وُہ نہ تو مکمل طور پر اور نہ ہی بالآخر فضل کی حالت سے گِر سکتے ہیں ، بلکہ یقینی طور پر آخر تک اِس میں قائم رہیں گے اور ابَدی نجات پائیں گے ( ویسٹ منسٹر اقرارالایمان ۱۷۔۱)۔
اپنے اگلے مضمون میں ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ نیدر لینڈ میں بعض اِصلاحی ماہر ِ علم الٰہیات کس طرح اِصلاحی الٰہی اقرار الایمان سے غیر مطمئن ہو گئے اور اُنہوں نے علم الٰہی کو دوبارہ کیتھولک کلیسیا کی سمت میں موڑنا شروع کر دیا ۔ہم دورٹ کی سِنڈ(کلیسیائی مجلس ) میں اِصلاحی کلیسیا کے رَد عمل کا بھی جائزہ لیں گے ۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔


