
کیا خدا واقعی ہماری فکر کرتا ہے؟
21/05/2026شدید بیماری میں اُمید کی تلاش
اپنے بیٹے کی پانچویں سالگرہ کے دِن، مَیں اپنے گھر سے چھ سو میل دُور ایک کینسر سنٹر میں بیٹھی، اپنی آنکھوں سے کیموتھراپی کی دوا کو ڈرپ کے ذریعے سے اپنے بدن میں اُترتا دیکھ رہی تھی۔ مَیں درحقیقت کینسر کی ایک نایاب قسم سے لڑ رہی تھی، اور علاج کے ایک خاص طبی تجربے کے عمل کی وجہ سے مجھے کئی مہینوں تک اپنے شوہر اور تین چھوٹے بچوں سے دُور رہنا پڑا ۔
کینسر کےباعث میری دُنیاوی اُمید پوری طرح ٹوٹ چکی تھی۔ میری اچھی صحت چھین جانے کے ساتھ ساتھ میری بدنی طاقت، میرے بال اور میراسنہرا مستقبل بھی چھین چکا تھا۔ اپنے خاندان کا خیال رکھنے کے بجائے، اب میرے دِن ہسپتال کی انتظار گاہوں، خون لگوانے، ٹیسٹ کروانے اور تھکن کی نیند میں گزر رہے تھے۔ مَیں اپنے بچوں کی زندگی کے کتنے ہی قیمتی مواقع کھو چکی تھی اور مجھے یہ بھی علم نہ تھا کہ آئندہ مَیں مزید ایسے دِن دیکھنے لئے زندہ رہوں گی بھی یا نہیں۔
کینسر کی اِس آزمائش اوراِس سے لڑنے کے پورے عمل کے دوران میں مجھے ایک ایسی اُمید کی ضرورت تھی جو میری صحت کے اِس اُتار چڑھاؤ میں مجھے تھامے رکھے۔خدا کے رحم اور اُس کے فضل کی بدولت، ہمارے پاس ایک ایسی بہترین اُمید موجود ہے جس سے ہم لپٹ سکتے ہیں یعنی ہمارا خداوند اور نجات دہندہ، یسوع مسیح ۔ پطرس رسول نے اپنا پہلا خط آپ جیسے اور مجھ جیسے دُکھ اُٹھانے والے مسیحیوں کے نام اِس لئے لکھا تاکہ وہ ہمیں یقین دِلا سکے کہ مسیح میں ہماری’’زندہ اُمید‘‘ دُنیاوی آزمائشوں سے کبھی متزلزل نہیں ہو گی، بلکہ وہ اپنے پُرجلال انجام تک قائم رہے گی۔
ہماری زندہ اُمید
پطرس رسول اپنے خط کا آغاز ہماری زِندہ اُمید کی خوش خبری سے کرتا ہے:
’’ہمارے خداوند یسوع مسیح کے خدا اور باپ کی حمد ہو جس نے یسوع مسیح کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے باعث اپنی بڑی رحمت سے ہمیں زندہ اُمید کے لئے نئے سِرے سے پیدا کیا‘‘ (ا۔پطرس ۱: ۳)۔
ہمارا تعلق کسی ایسے نجات دہندہ سے نہیں جو ابھی تک قبر میں مُردہ پڑا ہو ۔ بلکہ ہمارا مسیح مُردوں میں سے جی اُٹھا ، اُس نے گناہ اور موت پر فتح پائی ہے (۱۔کرنتھیوں ۱۵: ۵۴-۵۷)۔ مسیح کا مُردوں میں سے جی اُٹھنا ، قیامت کی کہانی کا محض آغاز ہے۔ وہ جی اُٹھنے والوں میں ’پہلا پھل‘ ہے، اور جو کوئی اُس سے تعلق رکھتا ہے وہ بھی ہمیشہ زندہ رہے گا، کیوں کہ وہی ہماری زندہ اُمید ہے (۱۔کرنتھیوں ۱۵: ۲۰-۲۳)۔
جب ہم شدیدبیماری کی تکلیف سے گزررہے ہوں، تو ہمارا تھک جانا اور ہمت ہار جانا بہت آسان ہوتا ہے۔ شاید ہم یہ اُمید بھی کھو دیں کہ زِندگی دوبارہ کبھی معمول پر نہیں آئے گی۔ ایسے تاریک لمحات میں، ہم اپنی زِندہ اُمید یعنی اپنے نجات دہندہ کو مضبوطی سے تھام سکتے ہیں، جس نے قبر اور موت پر فتح پائی ہے۔ ہماری اُمید اِس لئے زندہ ہے ، کیوں کہ ہمارا نجات دہندہ زندہ ہے۔
ہماری غیر متزلزل اُمید
ہم نہ صرف ایک زندہ اُمید کے لئے نئے سِرے سے پید اہوئے ہیں بلکہ اِس لئے بھی کہ :
’’ ایک غیر فانی اور بے داغ اور لازوال میراث کو حاصل کریں۔ وہ تمہارے واسطے (جو خدا کی قدرت سے اِیمان کے وسیلے سے اُس نجات کے لئے جو آخری وقت میں ظاہر ہونے کو تیار ہے حفاظت کئے جاتے ہو) آسمان پر محفوظ ہے (۱۔پطرس۱: ۴-۵)۔
جو لوگ مسیح سے تعلق رکھتے ہیں وہ اِس جہانِ فانی کے دُکھوں سے پرے اُس ابدی میراث کو دیکھ سکتے ہیں جو اُن کی مُنتظر ہے۔ وہ بیماریاں جو ہمارے جسدِ خاک کو بے دردی سے کھا جاتی ہیں، اُس میراث کو چھو بھی نہیں سکتیں۔ وہ حالات جو ہم پر غالب آجاتے ہیں، اُس میراث کی ابدی کاملیت اور تقدُس کو دھندلا نہیں کر سکتے۔ جس خزانے کو خدا نے آسمانی مقاموں پر ہمارے لئے محفوظ کر دیا ہے، اُسے کوئی چھین نہیں سکتا۔
ہم کیسے یقین کر سکتے ہیں کہ وہ لازوال میراث ہمیں ضرور ملے گی؟ پطرس رسول نے کہا کہ وہ میراث خدا کی قدر ت سے ایمان کے وسیلے سے آسمان پر محفوظ ہے۔ اِس کا انحصار ہماری اپنی طاقت یا ہمارے ایمان کی مضبوطی پر نہیں۔ ہم یہ میراث خدا کے رحم سے حاصل کرتے ہیں، اور خدا ہی کی قدرت سے اِسے قائم رکھتے ہیں۔ ہماری اُمید غیر متزلزل ہے ، کیوں کہ ہم پر ہمارے خدا کی گرفت مضبوط اور اٹل ہے (یوحنا ۱۰: ۲۷- ۲۹)۔
ہماری پُرجلال اُمید
جب پطرس رسول نے ہماری اِس زندہ اور غیرمتزلزل اُمید کے متعلق لکھا، تو وہ زندگی کی آزمائشوں سے بے خبر نہ تھا۔ اِس لئے وہ ہماری حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ ہم دُکھ کی حالت میں بھی خوشی منائیں:
’’اِس کے سبب سے تم خوشی مناتے ہو۔ اگرچہ اب چند روز کے لئے ضرورت کی وجہ سے طرح طرح کی آزمائشوں کے سبب سے غم زدہ ہو۔ اور یہ اِس لئے ہے کہ تمہارا آزمایا ہؤا اِیمان جو آگ سے آزمائے ہوئے فانی سونے سے بھی بہت ہی بیش قیمت ہے یسوع مسیح کے ظہور کے وقت تعریف اور جلال اور عزت کا باعث ٹھہرے‘‘ (۱۔پطرس ۱: ۶-۷)۔
خدا کے وعدے ہماری نظریں عارضی مصیبتوں سے ہٹا کر ابدی خوشی اور جلال کی طرف لگا دیتے ہیں۔ ہم میں خدا کے کام کی بدولت، دُکھوں کی آزمائش ہمارے اِیمان کو حقیقی ثابت کرتی ہیں۔ اِس لئے یسوع کی دوبارہ آمد کے وقت، یہ اِیمان جسے خدا نے اِن آزمائشوں کے ذریعے سے ہمارے اندر پروان چڑھایا ہے، ’’تعریف، جلال اور عزت‘‘ کا باعث ٹھہرے گا (۱۔پطرس ۱: ۷)۔ یہ جلال مسیح کا جلال بھی ہو سکتا ہے، اور وہ جلال بھی جو ہمیں اُس کے ساتھ ملے گا۔ مگر ہم جانتے ہیں کہ مسیح کے ساتھ ہمارا مستقبل پُرجلال ہو گا، اور یہی وجہ ہے کہ آج ہمیں اِن دُکھوں کے درمیان بھی خوشی منانی ہے۔
جب درد اور تکلیف قابلِ برداشت نہ رہے، خوف ہم پر غالب آجائے، ہمارے بدنوں اور مستقبل میں آنے والی تبدیلیاں ہمیں تھکا دیں، تو مسیح میں ہماری اُمید، ایک مضبوط پناہ گاہ ہے۔ اِس لئے ہم اپنی اِس زندہ، غیر متزلزل اور پُرجلال اُمید کی بدولت پطرس کے ساتھ مل کر کہہ سکتے ہیں کہ ’’ہمارے خداوند یسوع مسیح کے خدا اور باپ کی حمد ہو‘‘ (۱۔پطرس ۱: ۳)۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔


