
اقرارِگناہ کیا ہے؟
19/05/2026
شدید بیماری میں اُمید کی تلاش
26/05/2026کیا خدا واقعی ہماری فکر کرتا ہے؟
مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں یا شدید ترین اضطراب کے عالم میں، اِیمان دار اکثر خود سے سوال کرتے ہیں کہ کیا خدا حقیقتاً، میری فکر کرتا ہے؟ اگر آپ بھی اسی کیفیت میں مبتلا ہیں تو میرے پاس آپ کے لئے ایک خوش خبری ہے۔
ایک عمومی سوال
اوّل ،اِس کیفیت میں مبتلا آپ اکیلے شخص نہیں، بلکہ تاریخ کے ہر دَور میں ایمان دار یہ سوال اُٹھاتے آئے ہیں۔ جب حبقوق نبی نے خدا کی اُمت کی حالتِ زار دیکھی جنہیں ناراستوں نے پامال کیا اور اُن پر ظلم ڈھائے تھے، تو وہ پکار اُٹھا:
اَے خداوند! مَیں کب تک نالہ کروں گا،
اور تُو نہ سُنے گا؟ (حبقوق ۱:۲؛ مزید دیکھیں ۱: ۳، ۱۳)۔
زبور نویس نے اکثر خداوند کے حضور التجاکی کہ اَے خدا ’’اٹھ!‘‘، مگر جب اُس کی آہ و زاری کا کوئی جواب نہ ملتا تو وہ خدا کی فکر مندی پر سوال اُٹھاتا (زبور ۳۵: ۲۳؛ ۴۴: ۲۳)۔ اگرچہ داؤد اِس حقیقت سے واقف تھا کہ خدا نہ اُونگھتا ہے نہ سوتا ہے (زبور ۱۲۱: ۴)، لیکن اُسے اپنے دُکھوں کے بیچ میں خدا کی بظاہر خاموشی اور عدم مداخلت ایسا سوچنے پر مجبور کردیتی کہ کیا خدا واقعی میری پرواہ کرتا ہے؟
یہ کشمکش محض عہدِ عتیق تک محدود نہیں۔ بلکہ شدید اضطراب کے عالم میں، شاگردوں نے بھی یسوع کو پکارا، ’’اے اُستاد کیا تجھے فکر نہیں کہ ہم ہلاک ہوئے جاتے ہیں؟ ‘‘ (مرقُس ۴: ۳۸)۔ حتیٰ کہ روزمرہ کے عمومی معمولات میں بھی ایمان دار اِس سوال سے نبرد آزما رہے تھے، جیسا کہ مرتھا خدمت کرتے کرتے گھبرا گئی اور یسوع سے کہنےلگی کہ کیا تجھے خیال نہیں کہ میری بہن نے خدمت کے لئے مجھے اکیلا چھوڑ دِیا؟ (لوقا ۱۰: ۴۰)۔ زمان و مکان اور حالات کے تفاوت کے باوجود، جب خدا ہماری توقع کے مطابق ہمارے مصائب میں فوری مداخلت نہیں فرماتا (یا اُس مصیبت کو آنے ہی نہیں دیتا)، تو ہر دَور کے اِیمان دار وں نے خدا کی فکرمندی پر سوال اُٹھایا ہے ۔
ایک شان دار جواب
دوم ، خدا آپ کواِس کشمکش میں تنہا نہیں چھوڑ دیتا کہ آپ سوچتے رہیں کہ اُسے آپ کی فکر ہے یا نہیں، کیوں کہ اُس نے اپنی فکرمندی کا اظہار ایک نہایت گہرے اندازسے کیا، یعنی اپنے پیارے بیٹے کو اِس دُنیا میں بھیج کر۔ یوحنا رسول اِس حقیقت کو یوں بیان کرتا ہے: ’خدا نے دُنیا سے ایسی محبت رکھی کہ اُس نے اپنا اِکلوتا بیٹا بخش دِیا‘ (یوحنا ۳: ۱۶)۔ اِس کا مطلب ہے کہ مسیح اِس گناہ آلودہ دُنیا کی پریشانیوں، تکالیف اور خوف سے بخوبی واقف ہے اور وہ ہماری کمزوریوں میں ہماراہمدرد ہونے کے قابِل ہے (عبرانیوں ۴: ۱۵)۔
اِس کے علاوہ خدا کی فکرمندی روح القدس کے کام کے ذریعے سے ہر وقت ہمارے درمیان موجود رہتی ہے۔ جب یسوع مسیح نے روح القدس کا وعدہ کیا، تو اُس نےفرمایا کہ وہ ایک ’’مددگار‘‘ بخشے گا جو ابد تک ہمارے ساتھ رہے گا (یوحنا ۱۴: ۱۶)۔ ایسا مددگار نہیں، جو اِنسانی دوستوں کی طرح شاید تھک جائے یا آپ کو نظرانداز کرے، بلکہ وہ ہمیشہ آپ کے ساتھ رہتا ہے۔ وہ نہ تو کبھی آرام کے لئے آپ سے دُور ہوتا ہے، نہ کبھی نظریں چُراتا ہے، اور نہ ہی کبھی آپ کو تنہا چھوڑتا ہے۔ یہ وعدہ دراصل خدا کے اِس بنیادی عہد کا عملی اظہار ہے کہ ’’مَیں تجھ سے ہرگز دست بردار نہ ہوں گا اور نہ کبھی تجھے نہ چھوڑوں گا‘‘ (استثنا ۳۱: ۸؛ عبرانیوں ۱۳: ۵)۔ اور یہ حقیقت اُس وقت بھی قائم رہتی ہے جب آپ کے جذبات کہتے ہیں کہ آپ تنہا ہیں، چھوڑ دئیے گئے ہیں، اور آپ خدا کی نظرِ کرم سے باہر ہیں۔
مصائب: خدا کی فکرمندی کا ثبوت
خدا کی فکرمندی کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ آپ دُکھ تکلیف اور پریشانیوں سے بچ جائیں گے۔ بلکہ اُس کی فکر مندی کا مطلب ہے کہ آپ مصائب کو برداشت کرکے روحانی ترقی حاصل کرے گے۔ یہ اَمر سننے میں خلافِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ، مگر خدا اپنے کلام میں بیان کرتا ہے کہ مصائب ہمیں تباہ کرنے کے بجائے ہم میں صبر، پختگی اور اُمید پیدا کرتے ہیں (رومیوں ۵: ۳-۵)۔
بعض مصائب آسمانی باپ کی جانب سے ہماری تنبیہ یا تربیت کےلئے ہوتے ہیں، جن کا مقصد ہماری بھلائی ہوتا ہے (عبرانیوں ۱۲: ۷-۱۱)، اِس کا مطلب ہماری تکالیف خواہ تربیت کے لئے ہی کیوں نہ ہوں، وہ خدا کی دست برداری نہیں بلکہ اُس کی فکرمندی کی علامت ہیں ۔
بعض تکالیف و مصائب ہمیں مسیح کی زِندگی میں شریک ہونے کا موقع دیتے ہیں۔ پولُس رسول بڑی دلیری سے اعلان کرتا ہے کہ ہم ’’خدا کے وارِث اور مسیح کے ہم میراث ہیں بشرطیکہ ہم اُس کے ساتھ دُکھ اُٹھائیں تاکہ اُس کے ساتھ جلال بھی پائیں‘‘ (رومیوں ۸: ۱۷)۔ اور یہاں تک خود مسیح نے بھی دُکھ اُٹھا کر فرماں برداری سیکھی (عبرانیوں ۵: ۸)۔ اگر ہم نے بھی مسیح کی مانند بننا ہے، تو ہمیں اُس کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے سیکھنا ہو گا۔ اور ہماری تکالیف کوئی بوجھ نہیں، بلکہ ایک تحفہ ہیں یعنی اپنے نجات دہندہ کے تجربات میں شریک ہونے کا ایک خاص اعزاز۔
خلاصہ
جب بھی آپ اِس آزمائش میں مبتلا ہوں کہ خدا کو آپ کی فکر نہیں، تو مسیح کی صلیب کی طرف دیکھیں۔ جو خدا کی محبت کامکمل اظہار ہے۔ اتنی بھاری قیمت چکانے کے بعد، خدا اپنے لوگوں سے کبھی دست بردار نہیں ہو گا ، بلکہ وہ ایسا کر ہی نہیں سکتا۔ اور اگر اُسے اپنے لوگوں کی خصوصاً آپ کی فکر نہ ہوتی تو وہ کبھی اتنی بڑی قیمت ادا نہ کرتا۔ اِس لئے تکالیف میں مبتلا ہونا اِس بات کی علامت نہیں کہ خدا آپ سے دست بردار ہو گیا ہے، بلکہ یہ اِس بات کا ثبوت ہے کہ خدا اب بھی آپ کی زِندگی میں کام کر رہا ہے۔
حوصلہ رکھیں! جب شک و شہبات آپ کو گھیر یں اور آپ کا ایمان کمزور پڑنے لگے، تو یاد رکھیں کہ خدا آپ کو کبھی نہیں چھوڑے گا، کیوں کہ ایک روز جب آپ پُرسکون حالات میں اپنی آزمائش کی جانب مُڑ کر دیکھیں گے، تو آپ کو معلوم ہو گا کہ اُس وقت وہ مضبوطی آپ کے ہاتھوں کی نہیں تھی جس نے صلیب کو تھامے رکھا تھا، بلکہ وہ مسیح کے میخوں سے چھدے ہوئے ہاتھوں کی طاقت تھی جس نے آپ کو اٹھائے رکھا، آپ کی حفاظت کی، آپ کو تقویت بخشی اور کبھی نہ چھوڑنے کا اپنا وعدہ پورا کیا۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔


