معافی کا یقین  کیا ہے؟
14/05/2026
کیا خدا واقعی ہماری فکر کرتا ہے؟
21/05/2026
معافی کا یقین  کیا ہے؟
14/05/2026
کیا خدا واقعی ہماری فکر کرتا ہے؟
21/05/2026

اقرارِگناہ کیا ہے؟

   جب آپ کسی اصلاحی مجلس کے عبادتی حصے میں شرکت کرتے ہیں، تو  ہو سکتا ہے وہاں کلیسیائی خادِم اقرارِ گناہ میں آپ کی قیادت کرے۔  شاید وہ پہلے  کلامِ خدا پڑھ کر سُنائے، پھر دُعا میں رہنمائی کرے یا  وہ مسیح کے خون کے ذریعے سے معافی کے متعلق  بیان کرے  ۔ اقرارِ گناہ کا مفہوم کیا ہے؟ اِس طریقِ عمل کا آغاز کہاں سے ہؤا ؟ اور آپ اِس  میں مزید وفاداری کے ساتھ کیسے شرکت کر سکتے ہیں؟ 

اقرارِگناہ کا مفہوم 

پہلا یوحنا ۱: ۹ کےمطابق  ’’اگر ہم اپنے گناہوں کا اقرار کریں تو وہ ہمارے گناہوں کے معاف کرنے اور ہمیں ساری ناراستی سے پاک کرنے میں سچا اور عادِل ہے۔‘‘ یوحنا رسول اِس آیت میں ’’اقرار‘‘ کے لئے ایک ایسا لفظ استعمال کرتا ہے جس کا مطلب ہے ’’ویسے ہی کہنا جیسا لکھاہے۔‘‘ پس گناہوں کے اقرار  سے مراداپنے گناہوں کی بابت اُس بیان سے اتفاق کرنا  جو خداوند نے بائبل میں ہمارے لئے  مرتب  کیا ہے۔

اجتماعی عبادت میں اقرارِ گناہ  وہ معین وقت ہوتا ہے جب کلیسیائی خادم مسیح کے بدن کی نمائندگی کرتے ہوئے کلیسیا کی بدکاری اور نافرمانی کے اقرار میں قیادت کررہا ہوتا ہے۔ بعدازاں، وہ خداوند کے حضور التجا پیش کرتا ہے کہ کلیسیا وہ  رحم  حاصل کرے جو مسیح کے وسیلے سے مہیا کیا گیا ہے۔ 

اقرارِ گناہ کا ماخذ

عہدِ عتیق کے خیمہ اجتماع اور ہیکل  کے لئے خداوند کا حکم تھا کہ صحن  مشرقی سمت میں ہو (خروج ۲۷: ۱۳)۔ اِس سمت کا انتخاب اِس لئے کیا گیا، کیوں کہ آدم اور ہوا کے گناہ کے ارتکاب کے بعد  خدا نےاُنہیں باغِ عدن  کے مشرِق کی طرف  سے نکل جانے کا حکم دیا  تھا(پیدائش ۳: ۲۴)۔  بعدازاں، یہی  دروازہ بنی اسرائیل کے لئے خدا کی طرف واپس رجوع لانے کا ایک پُرفضل بلاوا تھا۔  

جب یہودی خیمہ اجتماع میں داخل ہوتے تو اُن کی نظر سب سے پہلے مذبح پر پڑتی تھی۔ وہ وہاں ٹھہرتے ، قربانی کے جانور پر اپنا ہاتھ رکھتے، اور اپنے گناہوں کا اقرار کرتے، جبکہ کاہن قربانی کو قدوس خدا کے حضور پیش کر رہا ہوتا تھا۔  قربانی کا یہ عمل اُنہیں یاد دلاتا تھا کہ ’’بغیر خون  بہائے مُعافی نہیں ہوتی‘‘ (عبرانیوں ۹: ۲۲؛ مزید دیکھیں احبار ۱۷: ۱۱)۔ 

عبرانیوں ۹: ۱۰-۲۲ میں مصنف قربانیوں کا حوالہ دیتے ہوئے بیان کرتا ہے کہ جانوروں کا خون پاک کرنے کی حقیقی قدرت نہیں رکھتا۔ اِس کے برعکس کلامِ خدا میں ہم مزید دیکھتے ہیں کہ ’’مسیح کا خون جس نے اپنے آپ کو ازلی رُوح کے وسیلے سے خدا کے سامنے بے عیب قربان کر دِیا تمہارے دِلوں کو مُردہ کاموں سے کیوں نہ پاک کرے گا تاکہ زندہ خدا کی عبادت کریں‘‘(عبرانیوں ۹: ۱۴)۔ 

خدا کے حضور حاضر ہونے کے لئے خونِ مسیح کی  ضرورت کو نمایاں کرنے کی خاطر ، معتدد اصلاحی کلیسیاؤں کے عبادتی ضوابط میں اقرارِ گناہ کو اجتماعی عبادت کے ابتدائی حصے میں شامل کیا گیا ہے۔ جان کیلون نے جنیوا اور اسٹراسبرگ کی سوئس مجالس کے لئے یہ دستور قائم کیا کہ عبادت کا آغاز اِس دُعا ئیہ پُکار سے کرایا جائے:

ہماری مدد خداوند کے نام سے ہے

جس نے آسمان اور زمین کو بنایا (زبور ۱۲۴: ۸)۔

بعدازاں، وہ اجتماعی طور پرگناہوں کا اقرار کرتے۔ جان کیلون کے مطابق، 

بلاشبہ، وہ کلیسیائیں جو نہایت ترتیب یا نظم وضبط کے ساتھ قائم ہیں، ایک مفید دستور کی پابندی کرتے ہوئے، کلیسیائی خدام ہر اتوار(خداوند کے دِن) کو اپنی جانب سے اور جماعت کی نمائندگی میں گناہ کے اعتراف کے لئے باضابطہ اصول مرتب کرتا ہے، جس میں وہ اجتماعی طور پر بدکاری اور نافرمانی کا اقرار کرتا ہے، اور خداوند کے حضور معافی اور مغفرت کی التجا پیش کرتا ہے (انسٹی ٹیوٹ آف کرسچن رلیجن ۳۔۴۔۱۱)۔

کیلون اور دیگر اِصلاح کاروں کے اثرو رسوخ کے باعث یہ دستور عام ہو گیا۔ ویسٹ منسٹراجتماعی عبادت کےدستور العمل کے مطابق  عبادت کا آغاز  ’’خداوند کی ناقابلِ فہم عظمت اور جلال کے اعتراف سے ہونا چاہئے (جس کے حضور ہم  خاص سنجیدگی سے حاضر ہوئے ہیں) اور ساتھ ہی اپنی نجاست اور نااہلی کے اقرار سے بھی، کہ ہم اُس کے اِس قدر قریب آنے کی لیاقت نہیں رکھتے۔ ‘‘ بعدازاں، یہ دستور العمل اُن معتدد طریقوں کو بیان کرتا ہے جن کے ذریعے سے گناہ کا اعتراف کیا جانا چاہئے۔ بحیثیتِ روحانی جانشین، یہ اصلاحی طریقِ عمل اب ہم تک پہنچا ہے۔  

اقرارِ گناہ کا طریقِ عمل

اپنے گناہوں کے اقرار میں مزید وفاداری کے ساتھ شامل ہونے کے لئے یہاں تین عملی اطلاق پیش کئے گئے ہیں۔

۱۔ اپنے  گناہ کی سنگینی کا اعتراف کرنا۔

عموماً  ہم محض  گناہ کے فعل(عمل) کی بابت  سوچتے ہیں۔ حالاں کہ زیادہ غور طلب معاملہ یہ ہے کہ ہم نے کِس ذات کے خلاف گناہ کیا ہے۔ 

اگر آپ میری پینٹ کی ہوئی کسی تصویر  پر مضحکہ خیز مونچھیں بنا دیں، تو یہ  ایک معمولی بات  ہو گی۔ کیوں؟  شاید اِس لئے کہ مَیں ایک معمولی درجے کا  فنکار (آرٹسٹ) ہوں۔ لیکن اگر آپ پیرس کے عجائب گھر ’’لوور(Louvre) جائیں، اور کسی طرح ڈا  ونچی کی ’’مونا لیزا(Mona Lisa)  جیسے عالمی شاہکار پر وہی مونچھیں بنا دیں، تو آپ بڑی مصیبت میں پھنس سکتے ہیں۔ آپ کے ایک ہی جیسے کام کا انجام اب کہیں زیادہ سنگین ہوگا، کیوں کہ آپ نے ایک عظیم شاہکار کی بے حُرمتی کی ہو گی۔ 

اسی طرح،  تمام کائنات کے خالق و مالک کے خلاف گناہ کرنا نہایت سنگین امر ہے۔ جب داؤد نے بت سبع کے ساتھ زنا کرنے اور اُس کے شوہر کو قتل کروانے کا اعتراف کیا جو کہ خدا کی صورت پر پیدا ہوئے تھے تو اُس نے اقرار کیا کہ، ’’مَیں نے فقط تیرا ہی گناہ کیا ہے ‘‘ (زبور ۵۱: ۴)۔ 

۲۔  اپنے گناہوں کی اجتماعی نوعیت پر غمگین ہونا۔

دُعائے ربانی میں ہم التجا کرتے ہیں کہ ’’ہمارے قرض ہمیں معاف کر‘‘(متی ۶: ۱۲)۔ ہم سب روح القدس کے ذریعے سے آپس میں متحد ہیں۔چونکہ ہمارا گناہ پوری جماعت پر اثرانداز ہوتا ہے، اِس لئے لازِم ہے ہم  سب باہم مل کر اپنے گناہوں کا اقرار کریں۔

پولُس رسول نے فرمایا ، ’’کیا تم نہیں جانتے تم خدا کا مَقدِس ہو اَور خدا کا روح تم میں بسا ہؤا ہے؟‘‘ (۱۔کرنتھیوں ۳: ۱۶)۔ اِس آیت میں  لفظ’’تم‘‘ جمع کے صیغے میں استعمال ہوا ہے یعنی پوری جماعت۔ مسیح کے بدن  یعنی کلیسیا میں گناہ اپنی ماہیت میں ایک توہین آمیز امر ہے، کیوں  کہ  قدوس خدا کلیسیا میں سکونت کرتا ہے۔ کلیسیا خدا کا ایک ایسا عجائب گھر  ہے جسے مسیح کے خون سے خوبصورت کیا گیا ہے (عبرانیوں ۱۰: ۲۸-۳۱)۔ جیسا کہ تھامس واٹسن نے کہا: ’’شریروں کے گناہ خدا کو غصہ دِلاتے ہیں، لیکن اُس کے اپنے لوگوں کے گناہ اُسے غمگین یا رنجیدہ کرتے ہیں۔‘‘

۳۔ اپنے گناہ پر حقیقی ندامت کا اظہار کریں۔

بائبل مقدس میں بنی اسرائیل کی جانب سے گناہوں کے اقرار کے معتدد واقعات درج ہیں، مثلاً  جب بنی اسرائیل نے بیابان میں شکایت کی تو خدا نے جلانے والے سانپ بھیجے (گنتی ۲۱: ۷)، یا جب لوگ اسیری سے واپس یروشلیم کی فصیل  تعمیر کرنے آئے (نحمیاہ۹: ۱-۳)۔ جب آپ اِن واقعات کو پڑھتے ہیں، تو آپ خدا کے لوگوں کی اپنے گناہوں  کی طرف حقیقی ندامت اور پچھتاوا محسوس کرتے ہیں۔ 

شاید آپ کی کلیسیائی جماعت اتنی پست حال نہ ہو، لیکن  خداوند کے خلاف کیا گیا کوئی بھی گناہ حقیقی دُکھ کا باعث ہونا چاہئے۔ معتدد ایسے مزامیر، جو اکثر اقرارِ گناہ کے لئے پڑھے یا گائے جاتے ہیں، ہماری خطاؤں پر دلی آہ و زاری کا اظہار کرتے ہیں۔ اقرارِ گناہ کا ایسا اسلوب کلیسیا کا  باقاعدہ اور متوقع طریقِ عمل ہونا چاہئے۔ جیسا کہ مارٹن لوتھر نے کہا: ’’ جب مَیں تمہیں اقرارِ گناہ کی نصیحت کرتا ہوں، تو دراصل مَیں تمہیں ایک مسیحی بننے کی نصیحت کر رہا ہوتا ہوں۔‘‘


یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔

بیری جے یارک
بیری جے یارک
ڈاکٹر بیری جے۔ یارک موناکا، پنسلوانیا میں ریور ویلی ریفارمڈ چرچ کے پاسبان اور پٹسبرگ کے ریفارمڈ پریسبیٹیرین تھیولوجیکل سیمنری میں صدر اور پروفیسر برائے ’ پاسٹورل تھیولوجی اور ہومیلیٹکس‘ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ ریفارمڈ پریسبیٹیرین تھیولوجیکل جرنل کے جنرل مدّیر اور معتدد کُتب کے مصنف بھی ہیں بشمول Hitting the Marks۔