
’’مسیح میں‘‘ ہونے کا حقیقی مفہوم کیا ہے؟
09/07/2026محبت کا محرک
سی۔ ایس۔ لوئیس نے بیسویں صدی کی اپنی تصنیف’’دی اسکروٹیپ لیٹرز (The Screwtape Letters)‘‘ میں یہ تصور پیش کیاکہ اسکروٹیپ نامی اِبلیس اپنے بھتیجے ورم وڈ (Wormwood)کو خط لکھتے ہوئے اِیک پوشیدہ راز دریافت کرنے کی ضرورت پر زَور دیتا ہے، کہ آخر خدا بنی نوع اِنسان سے کیوں محبت کرتا ہے۔ اِبلیس اِس خط میں لکھتا ہے کہ :
درحقیقت، مَیں نے غفلت میں ایسا کہہ دِیا کہ دُشمن (خدا) واقعی اِنسانوں سے محبت کرتا ہے۔ یقیناً،ایساناممکن ہے۔ محبت کے متعلق اُس کی ساری باتیں محض دکھاوا ہیں۔کیوں کہ نسلِ انسانی کی تخلیق، اور پھر اُن کے لئے اِس قدر تگ و دو کے پیچھے اُس کا ضرور کوئی حقیقی محرک چھپا ہوگا۔ ہم اِس لئے اِس ناممکن محبت کا تذکرہ کرنے لگتے ہیں، کیوں کہ ہم اِس اصل محرک کو ڈھونڈنے میں بُری طرح ناکام رہے ہیں۔ آخر، خدا کو اِن انسانوں سے کیا حاصل ہو گا؟ یہی وہ ناقابلِ حل سوال ، اور ہماراحقیقی ہدف ہے ۔ ہم جانتے ہیں کہ وہ حقیقتاً، محبت نہیں کر سکتا، بلکہ کوئی بھی ایسا نہیں کر سکتا، مگر یہ ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ کاش ہم محض یہ جان پاتے کہ وہ اصل میں کیا کرنا چاہتا ہے؟
ہم شیاطین کی اِس جستجو میں کامیابی کے خواہشمند ہیں کہ وہ اپنا جواب جلد حاصل کر سکیں ۔مگر خدا کی اُمت ہونے کی حیثیت سے ، ہمیں ایسی کسی تحقیق کی ضرورت نہیں۔ کیوں کہ ہمارا پختہ یقین ہے کہ خدا ہم سے حقیقتاً، محبت رکھتا ہے۔ خدا محبت ہے (۱۔یوحنا ۴: ۱۶)۔ اِس لئے، محبت کرنا اُس کی عین فطرت ہے(اِس لئے، محبت کرنا اُس کی جبلت اور فطرت کا حصہ ہے)۔ اُس نے جب ہم بے گناہ یعنی ہمارے گناہ میں گِرنے سے پہلے کی حالت میں بھی ہم سے محبت کی اور آج جب ہم گناہ گار ہیں وہ تب بھی ہم سے محبت کرتا ہے۔ اسی لئے، یسوع نے فرمایا ’’اپنے دُشمنوں سے محبت رکھو۔۔۔ تاکہ تُم اپنے باپ کے جو آسمان پر ہے بیٹے ٹھہرو‘‘(متی ۵: ۴۴- ۴۵)۔
ہمارے لئے خدا کی محبت کی انتہا صلیب پر اُس کے نجات بخش کام کے ذریعے سے ظاہر ہوتی ہے: یوحنا ۳: ۱۶ کے مطابق’’خدا نے دُنیا سے ایسی محبت رکھی کہ اُس نے اپنا اِکلوتا بیٹا بخش دِیا تاکہ جو کوئی اُس پر اِیمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زِندگی پائے۔‘‘ یہ ایسی ناقابلِ بیان محبت ہے جو ہمیں حیرت (bowls us over)میں ڈال دیتی ہے۔ جیسا کہ چارلس ویسلے بیان کرتا ہے: پوچھو،میرے آسمانی وکیل سے!
یسوع کے چہرے میں اپنا مقدمہ نمایاں دیکھو،جو اب تختِ فضل کے حضور پیش ہے۔وہاں میرا مُنجی میرے لئے ؛ اپنے زخم دکھاتا اور اپنے ہاتھ پھیلاتا ہے، خدا محبت ہے؛ مَیں جانتا ہوں، مَیں محسوس کرتا ہوں؛ یسوع زندہ ہے اور وہ اب بھی مجھ سے محبت کرتا ہے۔
کلامِ مقدس میں ہمارے لئے خد ا کی جس محبت کا اظہار ہوا ہے، اسی نے ہمارے دِلوں کو خدا کی محبت سے منوّر کیا۔ یعنی اِن عظیم الشان حقائق کی روشنی میں،کیسے ممکن ہے کہ ہم بدلے میں اُس سے محبت نہ کریں؟ صلیب پر خدا کے اپنے بیٹے کی قربانی وہ آتش دان (fireplace) ہے جہاں ہم خدا کے لئے اپنے سرد دِلوں کو گرماتے ہیں۔ ہم میں سے وہ جوواعظین ہیں، اُن کے لئے اپنی خدمت میں کوئی بھی قربانی، اُس عظیم قربانی کے سامنے کچھ بھی نہیں، جو خدا نے ہمارے لئے پیش کی۔ روح القدس اِس سچائی کو استعمال کرتے ہوئے،ہماری روحوں شعلہ زن رکھتا ہے، جس سے ہمارا جذبہ اور ولولہ ناقابلِ تسخیر بن جاتا ہے۔ آئزک واٹس کی مشہور حمد کا آخری بند اِس حقیقت کی یوں عکاسی کرتا ہے کہ :
اگر پوری کائناتِ فطرت میری ملکیت ہوتی،
تو بھی ایسا نذرانہ، نہایت حقیر ہوتا؛
ایسی حیرت انگیز ، ایسی الہٰی محبت،
میری رُوح، میری زِندگی اور میرے وجود کی طلب گار ہے۔
تاہم،ہم محض بدلے میں خدا سے محبت نہیں رکھتے، بلکہ ہم اُن لوگوں سے بھی اپنی اُلفت کا اظہارکرتے ہیں، جن سے خدا محبت رکھتا ہے۔ہم ایک ایسا وسیلہ بننا چاہتے ہیں جن کے ذریعے سے خدا کی محبت اپنے مطلوبہ افراد تک پہنچ سکے۔ہم بحرو بر کی مسافتیں فقط اِس لئے طے نہیں کرتے کہ گمراہ روحوں کو الہٰی غضب سے خبردار کریں، بلکہ اِس لئے بھی کہ اُن سے اِلتجا کریں کہ وہ مسیح یسوع میں خدا کی محبت کو قبول کریں۔ درحقیقت، اگر ہم الہٰی محبت سے واقف ہیں، تو ایسا کرنا ہم پر فرض ہے۔
پولُس رسول یہی مقصد بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ:
’’مسیح کی محبت ہم کو مجبور کر دیتی ہے،اِس لئے کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جب ایک سب کے واسطے مُؤا تو سب مر گئے۔ ۔۔ پس ہم مسیح کے ایلچی ہیں گویا ہمارے وسیلے سے خدا اِلتماس کرتا ہے ۔ ہم مسیح کی طرف سے مِنت کرتے ہیں کہ خدا سے میل مِلاپ کر لو‘‘ (۲۔کرنتھیوں ۵: ۱۴، ۲۰)۔
اگر ایسی محبت آپ کی بشارتی جاں فشانی میں آپ کو متحرک نہیں کر رہی، تو غالباً، آپ اپنی مکمل استعداد سے کہیں کم کام کر رہے ہیں۔
جب ہم خدا کی محبت کی روشنی میں اُس سے محبت کرتے ہیں، تو ہم خود کو اُس کی دُلہن یعنی کلیسیا سے بھی محبت کرتا ہوئے پاتے ہیں۔ اِس طرح خدا کے وہ لوگ، جو مسیح کےخون سے خریدے گئے ہیں، وہ بھی ہمارے لئے نہایت عزیز بن جاتے ہیں۔ پولُس کے ہمراہ، ہم اُن سے کہتے ہیں کہ:
’’اِیمان کے وسیلے سے مسیح تمہارے دِلوں میں سکونت کرے تاکہ تم محبت میں جڑ پکڑ کے اور بُنیاد قائم کر کے ۔ سب مُقدسوں سمیت بخوبی معلوم کر سکو کہ اُس کی چوڑائی اور لمبائی اور اُونچائی اور گہرائی کتنی ہے ۔ اور مسیح کی اُس محبت کو جان سکو جو جاننے سے باہر ہے تاکہ تُم خدا کی ساری معموری تک معمور ہو جاؤ‘‘ (اِفِسیوں ۳: ۱۷- ۱۹)۔
اسی مقصد کی خاطر، ہم اُس تمام قدرت اور قوت کےساتھ محنت اور جاں فشانی کرتے ہیں جو خدا ہمیں عطا کرتا ہے۔
جہاں لوئیس کے بیان کردہ شیاطین جہنم میں اِس محرک کو حل کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں کہ خدا کی اِنسانوں سے محبت کا اصل مقصد کیا ہے، وہاں ہم اُسی محبت کے ذریعے سے اِس بات پر آمادہ ہوتے ہیں کہ ہم نہ صرف خدا سے محبت کریں بلکہ اُن لوگوں سے بھی ،جنہیں اُس نے خلق کیا اور مخلصی بخشی۔ جان کینٹ کے الفاظ میں ہم خود سے کہتے ہیں کہ:
اَے میری جان،اُس محبت پر دھیان کر، جو نہایت عظیم، پُرفیض اور بے لوث ہے؛ ایسی پاک اور حیران کُن محبت میں مگن ہو کر کہیں، اَے خداوند، مجھ سے ایسی محبت کیوں؟ ہلّلُویاہ! تیرا فضل ابد تک قائم رہے ۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔


