یسوع نے صعودِآسمانی سے قبل کیا وعدہ کِیا ؟
07/07/2026
یسوع نے صعودِآسمانی سے قبل کیا وعدہ کِیا ؟
07/07/2026

’’مسیح میں‘‘ ہونے  کا حقیقی مفہوم کیا ہے؟

ہمارے خداوند یسوع مسیح کے خدا اور باپ کی حمد ہو جس نے ہم کو مسیح میں آسمانی مقاموں پر ہر طرح کی رُوحانی برکت بخشی۔  چُنانچہ اُس نے ہم کو بنایِ عالم سے پیشتر اُس میں چُن لیا تاکہ ہم اُس کے نزدیک محبت میں پاک اور بے عیب ہوں۔ اور اُس نے اپنی مرضی کے نیک اِرادہ کے مُوافق ہمیں اپنے لئے پیشتر سے مُقرر کیا کہ یسوع مسیح کے وسیلے سے اُس کے لے پالک بیٹے ہوں۔ تاکہ اُس کے اُس فضل کے جلال کی ستائش ہو جو ہمیں اُس عزیز میں مُفت بخشا۔ ہم کو اُس میں اُس  کے خون کے وسیلے سے مخلصی یعنی قصوروں کی معافی اُس کے اُس فضل کی دولت کے مُوافق حاصل ہے جو اُس نے ہر طرح کی حکمت اور دانائی کے ساتھ کثرت سے ہم پر نازل کیا۔ چُنانچہ اُس نے اپنی مرضی کے بھید کو اپنے اُس نیک اِرادہ کے موافق ہم پر ظاہر کیا۔ جسے اپنے آپ میں ٹھہرا لیا تھا۔ تاکہ زمانوں کے پورے ہونے کا ایسا انتظام ہو کہ مسیح میں سب چیزوں کا مجموعہ ہو جائے۔ خواہ وہ آسمان کی ہوں خواہ زمین کی۔ 

اُسی میں ہم بھی اُس کے اِرادے کے موافق جو اپنی مرضی کی مصلحت سے سب کچھ کرتا ہے پیشتر سے مُقرر ہو کر میراث بنے۔ تاکہ ہم جو پہلے سےمسیح کی اُمید میں تھے اُس کے جلال کی ستائش کا باعث ہوں۔ اور اُسی میں تُم پر بھی جب تُم نے کلامِ حق کو سُنا جو تُمہاری نجات کی خوشخبری ہے اور اُس پر اِیمان لائے پاک موعودہ رُوح کی مُہر لگی۔ وہی خدا کی ملکیت کی مخلصی کے لئے ہماری مِیراث کا بیعانہ ہے تاکہ اُس کے جلال کی ستائش ہو۔ (اِفسیوں ۱: ۳- ۱۴)۔ 

جب لوگ آپ سے آپ کے اِیمان کے متعلق پوچھتے ہیں تو آپ اپنی پہچان کس طرح کرواتے ہیں؟ کیا آپ خود کو ایسے متعارف کرواتے ہیں کہ ’’مَیں ایک پریسبیٹیرین ہوں؟‘‘ یا ’’ مَیں  بپٹسٹ ہوں؟‘‘ یا شاید، ’’مَیں ایک اپیسکوپیلین(Episcopalian) ہوں؟‘‘ یا پھر آپ اپنی پہچان محض اِس طرح کرواتے ہیں کہ ’’مَیں ایک مسیحی ہوں؟‘‘

غالباً، ایسا خیال کبھی ہمارے ذہنوں میں نہیں آیاکہ اگرہم عہدِ جدید کےزمانے کے اِیمان داروں سے اُ ن کی پہچان پوچھیں، تو وہ کبھی  بھی خود  کو ایسے متعارف نہیں کرواتے کہ ’’ہم مسیحی ہیں۔‘‘ درحقیقت، لفظ ’مسیحی‘ عہدِ جدید میں فقط تین بار استعمال ہوا ہے۔ شاگردوں کو سب سے پہلے انطاکیہ میں ’’مسیحی‘‘ کہا گیا (اعمال ۱۱: ۲۶)۔ بعدازاں، اَگرپا بادشاہ اِس لفظ کو گویا حقارت سے ادا  کرتے ہوئے پولُس رسول سے کہتا ہے کہ’’ تُو تو تھوڑی ہی سی نصیحت کر کے مجھے مسیحی کر لینا چاہتا ہے‘‘ (اعمال ۲۶: ۲۸)۔ پھر، پطرس رسول اپنے پہلے  خط میں ’’مسیحی‘‘ ہونے کے باعث دُکھ اُٹھانے کا ذِکر کرتا ہے (ا۔پطرس ۴: ۱۶)۔ 

اِن تینوں اقتباسات میں لفظ ’’مسیحی‘‘ غالباً، ایک تحقیر آمیز اصطلاح تھی، بلکہ  اِنجیل کے مخالفین کی جانب سے وضع کردہ ’’نفرت انگیز کلام‘‘  بالکل ویسے ہی جیسے سترہویں صدی میں ’’پیوریٹن‘‘ کی اصطلاح استعمال کی جاتی تھی۔ عین ممکن ہے کہ اِسے بالکل اسی طرح حقارت  سے ادا کیا جاتا ہو جیسے عصرِ حاضر میں لفظ’’بنیاد پرست‘‘ استعمال ہوتا ہے۔ یہ سب ’’نفرت آمیزالقابات‘‘ہیں۔ اگر لفظ ’’مسیحی ‘‘ اسی طرح رائج ہوا تھا، تو یہ کوئی حیران کُن بات نہیں۔ رسولوں کے اعمال میں لوقا اِیمان داروں کے لئے اِصطلاح ’’شاگرد‘‘ (مثلاً اعمال ۶: ۱؛ جس کی دو درجن سے زائد مثالیں موجود ہیں) استعمال کرتا ہے، یا بعض اوقات وہ مسیحیوں کو ’’اِس طریق‘‘ (اعمال ۹: ۲؛ ۲۲: ۴؛ ۲۴: ۱۴)  کے پیروکار کے طور پر  بھی بیان کرتا ہے ، کیوں کہ وہ اُس عظیم ہستی کی پیروی کرتے تھے جس نے خود فرمایا  کہ ’’راہ مَیں ہوں‘‘ (یوحنا ۱۴: ۶)۔ 

لیکن اگر آپ پولُس رسول سےدریافت کرتے کہ ’’وہ اپنے متعلق کیا رائے رکھتا ہے ؟‘‘ تو اُس کا جواب غالباً، مذکورہ بالا بیانات میں سے کوئی نہ ہوتا، بلکہ وہ خود کو یوں متعارف کرواتا کہ ، ’’مَیں مسیح میں ایک شخص ہوں۔‘‘

مجھے آج بھی یاد ہےکہ مَیں نے  لڑکپن  میں۲۔کرنتھیوں ۱۲: ۱- ۱۰ کا  حوالہ  پڑھا تھا، جس میں پولُس اُس رُویا اور مکاشفے کا ذکر کرتا ہے جو اُسے خداوند کی طرف سے عِنایت ہوا اور ساتھ ہی وہ جسم میں کانٹا چبھونے کا ذکر بھی کرتا ہے تاکہ وہ  خود کو فخر سے باز رکھے۔ اِس حوالے کا آغاز کرتے ہوئے، پولُس لکھتا ہےکہ  مَیں ’’مسیح میں ایک شخص‘‘ کو جانتا ہوں ، جسے خدا کے فضل اور عجیب کاموں کے ایسے غیرمعمولی اور حیران کُن مکاشفات  عِنایت ہوئے جنہیں آدمی کو بتانا روا نہیں۔ مَیں تب حیران ہوتا تھا، کہ یہ گمنام’’مسیح میں ایک شخص‘‘ کون ہے؟ جس کا  پولُس رسول ذکر کرتا ہے؟ شاید  اپنے فہم و فراست میں کمی کے باعث یہ سچائی مجھ پر آہستہ آہستہ مُنکشف ہوئی کہ  پولُس رسول وہاں اپنے متعلق بات کر رہا تھا ! وہ خود کو ایسے ہی بیان کرتا ہے، کیوں کہ وہ اپنے آپ کو اِسی انداز سے دیکھتا ہے یعنی ’’مسیح میں ایک شخص۔‘‘

اِن دو الفاظ ’’مسیح میں‘‘ اور اِس کے مترادف (مثلاً، ’’اس میں‘‘) جیسے الفاظ کو  ذہن نشین کر لیں۔  پھر اپنی بائبل کے تقریباً اُن ۶۰ صفحات پر ایک طائرانہ نظر ڈالیں، جن میں پولُس کے ۱۳ خطوط درج ہیں۔ آپ دیکھیں گے کہ ’’مسیح میں‘‘ یا اِس جیسی دیگر اصطلاحات ۸۰ سے زائد دفعہ استعمال ہوئی ہیں۔ ایسے ہی  مترادف الفاظ ’’خداوند میں‘‘ (یا بعض اوقات ’’خداوند یسوع میں‘‘)اِس تعداد کو تقریباً دوگنا کر دیتے ہیں۔ 

اگر آپ نے پہلے کبھی اِن اقتباسات  پر غور نہیں کیا، تو شاید آپ حیران ہو جائیں کہ پولُس رسول ایسی اصطلاحات کو بکثرت استعمال کرتا ہے، ممکن ہے کہ  آپ نے بھی اِن حوالہ جات پر خاطر خواہ توجہ  نہ دی ہو۔ ہو سکتا ہے کہ آپ بھی گذشتہ کئی برسوں، بلکہ دہائیوں  سےپولُس کےخطوط کا مطالعہ کرتے ہوں، مگر پھر بھی آپ  اِس مختصر ’’حرفِ جار ‘‘ کی اہمیت کو پہچان نہ سکے، جو واضح طور پر پولُس کے نزدیک ’’مسیحی ہونے‘‘ کے مفہوم کو بیان کرنے کا بنیادی طریقہ ہے۔

یہ دو الفاظ یعنی حرفِ جار ’’ مَیں‘‘ اور اِس کے بعد کا لقب ’’مسیح‘‘، اِن صفحات کا مرکزی موضوع ہے۔ کتاب کے اختتام تک، اگر آپ سوچتے ہیں  یہ اِن  دو الفاظ کی سب سے طویل تشریح ہے جو آپ نے شاید کبھی پڑھی ہو، تو آپ درُست ہیں۔  پھر بھی یہ صفحات اِس پُرمعنی اور حیرت انگیز نظریے کی محض ابتدائی تفہیم ہی پیش کرتے ہیں۔ مگر شاید یہ اقتباس آپ کے لئے حوصلہ افزائی  کا باعث ہوں،اور آپ  مزید مختلف بائبلی حوالہ جات سے سیکھ سکیں کہ ’’مسیح میں‘‘ ہونے کا اصل مفہوم کیا ہے۔  اگر آپ کا تعلق بھی اُس (مسیح) سے ہے، تو آپ کی زِندگی کے ہر دِن کی اصل اور حقیقی پہچان بھی  یہی ہے، یعنی آپ وہ مرد یا خاتون ہیں جو ’’مسیح میں‘‘ ہے ۔ 

عہدِ جدید کا ایک عالم اِس نقطے کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ فلم ’’دی گاڈ فادر(The Godfather)‘‘ میں لفظ  مافیا(Mafia) کہیں  بھی استعمال نہیں ہوا۔لیکن پھر بھی یہ پوری فلم کا بنیادی مفروضہ (underlying presupposition) ہے۔ بالکل اسی طرح   اگر’’مسیح میں‘‘ ہونے کے لئے کوئی مخصوص اصطلاح استعمال نہیں بھی ہوتی، تو بھی  اُس کا مفہوم اُن تمام باتوں کی بنیاد ہے جو پولُس رسول مسیحی زِندگی گزارنے کے متعلق بیان کرتا ہے۔ اِس سے بڑھ کر ، یہ اصطلاح  اُن متعدد مسائل کا حل بھی ہے جو کسی انفرادی ایمان دار یا پوری جماعت کے لئے پریشانی کا باعث  ہے۔ 

عہدِ جدیدکہیں بھی’’مسیح میں‘‘ہونے کا اصل مفہوم بیان نہیں کرتا۔ اِس کی اہمیت کو سمجھنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ اُن مختلف حوالہ جات پر غور کیا جائے جو اِس میں شامل حقائق کی وضاحت کرتے ہیں۔ یہاں ہمارا بنیادی مقصد خود کو ’’مسیح میں‘‘ ہونے کی اہمیت سے متعارف کروانا ہے۔ اِس کا  ایک بہترین طریقہ یہ بھی ہے کہ  اِفِسیوں کے نام  پولُس کے  خط کے پہلے باب میں اِس اصطلاح کی موجودگی پر غور وخوض کیا جائے۔ 


یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔

سینکلئیر بی۔ فرگوسن
سینکلئیر بی۔ فرگوسن
ڈاکٹر سینکلئیر بی۔ فرگوسن لیگننئیر منسٹریز کے تدریسی ساتھی اور لیگنئیر منسٹریز کے وائس چیر مین ہیں۔اور ریفارمڈ تھیولوجیکل سیمنری میں سیسٹیمیٹک تھیولوجی کے چانسلر پروفیسر ہیں ۔ وہ لیگنئیر کی متعدد تدریسی سیریز کے ممتاز اُستاد ہیں جن میں مسیح کے ساتھ اتحاد بھی شامل ہیں۔ وہ بہت ساری کُتب کے مُصنف ہیں جن میں ’’پورا مسیح‘‘، ’’بلوغت‘‘، اور ’’خُدا کی کلیسیا سے مخلص‘‘ شامل ہیں۔ ڈاکٹر فرگوسن ’’نا دیدنی اشیا ء‘‘ پاڈ کاسٹ کے میزبان بھی ہیں۔