اسقاطِ حمل کےجُرم سے مخلصی   
23/06/2026
 اسقاطِ حمل کےجُرم سے مخلصی   
23/06/2026

مسیحی زِندگی میں اُمید کا کردار

مسیحی اوصاف جن میں اِیمان، اُمید اور محبت شامل ہیں، تینوں اہمیت کے حامل ہیں۔اِن اوصاف میں محبت جتنی اہم ہے (۱-کرنتھیوں ۱۳: ۱۳)، اِیمان بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ہم ایمان کی افادیت پرتو گہرا غوروخوض کرتے  ہیں، اور محبت کی اہمیت  کو بھی سمجھتے ہیں، لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم مسیحی اوصاف کے تیسرے عنصر یعنی اُمیدکو نظراندا زکر دیتے ہیں۔

 رومیوں ۵باب میں اگر کوئی ایسا لفظ ہے جسے ہم بنیادی طور پر غلط سمجھتے  ہیں تو وہ اُمید ہے۔ پولُس رسول کے  اِس مستعمل لفظ کو سمجھنے میں اکثرشک و شبہ کا ایک عنصر حائل ہو جاتا ہے۔  جب ہم اُمید کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو عموماً اِس سے ہماری مراد کوئی ایسی تمنا یا خواہش ہوتی ہے جس کی تکمیل کے متعلق ہمیں یقین نہیں ہوتا۔ لیکن عہدِ جدید میں یہ لفظ اِس طرح کام نہیں کرتا۔جب روح القدس   کے وسیلے سے ہم  نئی پیدائش حاصل کرتے ہیں، تو ہم ایک ایسی اُمید کے لئے نئے سرے سے پیدا ہوتے ہیں جو مسیحی زِندگی کے لئے ہمارے اعتماد کی بنیادبنتی ہے۔ اِیمان اور اُمید میں محض اتنا فرق ہے کہ اِیمان  کا مطلب ماضی کے واقعات پر  توکل رکھنا ہے، جبکہ اُمیدفقط مستقبل کی طرف دیکھنے والے اِیمان کا دوسرا نام ہے۔ 

عہدِ جدید میں اُمید کی ماہیت بیان کرنے کے لئے ’لنگر‘ کا استعارہ استعمال کیا گیا ہے۔ کتابِ مقد س بیان کرتی ہے کہ اُمید، جان کا لنگر ہے۔ عہدِ جدید میں کثرت سے  ملاحوں کا تذکرہ پایا جاتا ہے۔ غیر مستحکم لوگوں کا موازنہ ایسی  کشتیوں سے کیا گیا ہے جن کا کوئی لنگر نہیں ہوتا، جو اپنے نظریے کے باعث  ہر جھونکے سے اِدھر اُدھر ڈگمگاتے پھرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی پہچان تذبذب اور بے یقینی ہے، لیکن وہ اُمید جو  روح القدس  نے ہماری روح وجان میں پیوست  کی ہے، ایسی نہیں ہوتی۔ بلکہ وہ  اُمید ہمیں بنیاد، استحکام اور پختہ یقین بخشتی ہے۔ اُمید وہ لنگر ہے جو ہمیں(مختلف نظریات کی لہروں میں)  بہہ جانے سے محفوظ رکھتی ہے۔ اُمید کے باعث ہی ہم پختہ یقین رکھتے ہیں کہ خدا مستقبل میں ہر وہ  کام  سرانجام دے گا جس کا اُس نے وعدہ فرمایا ہے۔ 

  راست باز ٹھہرایا جانا ،دراصل اسی اُمید کا پھل ہے۔ ایک لحاظ سے، راست باز ٹھہرایا جانا، اُن تمام باتوں کا بیعانہ ہے جن کا خدا نے مخلصی کے کام کی تکمیل  میں ہم سے وعدہ فرمایا ہے۔  اُمید ہمارے اندر روح القدس کے وسیلے سے پید اہوتی ہے۔ دیگر مقامات پر، پولُس رسول  بیان کرتا ہے کہ خدا نے ہمیں روح القدس بطورِ ’’بیعانہ‘‘ عطا فرمایا ، جو ہمارے مستقبل کا کامِل تیقُن ہے۔ اُمید فقط گہرا  سانس لیتے ہوئےایسی تمنا  کرنے کا نام نہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔  بلکہ یہ  اِس بات کا پختہ یقین ہے کہ خدا وہ سب کچھ ضرور کرے گا جو اُس نے فرمایا ہے۔

یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔