غضبِ الٰہی کیا ہے؟  
18/06/2026
غضبِ الٰہی کیا ہے؟  
18/06/2026

 اسقاطِ حمل کےجُرم سے مخلصی   

ہزاروں لوگ اسقاطِ حمل سے وابستہ احساسِ جرم  میں مبتلا ہیں۔  یہ احساس اُن خواتین کا پیچھا نہیں چھوڑتا جنہوں نےایسا کِیا، اُن مردوں کو بے چین رکھتا جنہوں نے ایسا کروانے  کی ترغیب دی، اور اُن ڈاکٹر صاحبان کو پریشان کرتا ہے ، جنہوں نے اِسے سرانجام دِیا۔ ’نیویارک ٹائمز‘ میں ایک معالجہ نے بیان کیا کہ اسقاطِ حمل کرنے سےقبل اُسے خود کو جذباتی طور پر تیار کرنا پڑتاتھا، اور وہ اکثر  کئی راتیں بے خوابی  کی حالت میں گزارتی تھی۔ اُس کا کہنا تھا کہ ’’ایک ماہرِ امراضِ نسواں کے لئے یہ  نہایت کٹھن کام ہے،اِس سے پیدا ہونے والے جذبات اِس قدر شدید ہوتے ہیں کہ ڈاکٹر اِس کے متعلق آپس میں بات تک نہیں کرتے۔‘‘ ایک موقع پر تو ایسا ہوا کہ اسقاطِ حمل کرنے کے بعد، ڈاکٹر صاحبہ جذبات سے مغلوب ہو کرفرش پر گِر پڑیں۔ 

احساسِ گناہ وہ قوی جذبہ ہے جو اِنسان کو نفسیاتی طور پر مفلوج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایک دفعہ ایک ماہرِنفسیات میرے پاس آیا، اور اُس نے مجھے اپنے عملے میں شامل ہونے کی پیشکش کی۔ اُس نے وضاحت کی کہ اُس کےمعتدد مریض شدید احساسِ جرم سے پیدا ہونے والے مسائل سے  دوچار ہیں۔ اُس کا کہنا تھا کہ ’’اُس کے مریضوں کو کسی ڈاکٹر کی نہیں، بلکہ ایک ایسے پاسبان کی ضرورت ہے جو اُنہیں بتاسکے  کہ اُن کے گناہ بخش دئیے گئے ہیں۔‘‘

اِس ماہرِ نفسیات کو مسیحیت سے کوئی خاص عقیدت نہیں تھی ، اُسےفقط اپنے مریضوں کی ذہنی صحت کی فِکرتھی۔ وہ  احساسِ گناہ کی تباہ کن طاقت سے واقف تھا، اُسے علم  تھا کہ اپنے گناہ سے انکار  یا حیلے بہانے تراشنا ، حقیقی جرم سے نمٹنے کا مؤثر طریقہ نہیں۔ حقیقی جرم کا واحد مؤثر علاج حقیقی معافی ہے۔ اپنے ہاتھوں پر لگے داغوں کو چھپانے کی کوشش کرنا، دراصل اِ نہیں دُور کرنے کا ایک ادنیٰ اور ناقص نعم البدل ہے۔

خدا کی معافی کا تجربہ کرنا

حقیقی معافی کی گہری مخلصی کا تجربہ کرنے کے لئے، اِنسان کو چاہئے کہ وہ فقط خدا کی حضوری میں فروتن دِلی اور شکستہ روح کے ساتھ اپنے گناہ کا اقرار کرے۔ شکستہ دِلی میں خدا کی نافرمانی کرنے پرحقیقی غم شامل ہوتا ہے۔ایسی حالت اُس توبہ کی ندامت  سے مختلف ہے، جومحض سزا کے خوف سے پیدا ہوتی ہے اور توبہ کی ایک جھوٹی صورت  ہے۔ ایسی توبہ کی مثال اُس بچے کی سی ہے جو ماں کے ہاتھ میں چھڑی دیکھ کر صرف اِس بات پر نادِم ہوتا ہے کہ وہ چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا ہے۔ اِس کے برعکس سچی توبہ گناہ کی حقیقت کو تسلیم کرتی، اور اِسے جائز ثابت کرنے کی کوشش نہیں کرتی۔ جو کوئی بھی  فروتن دِل ، شکستہ روح اور گناہ کا ارتکاب نہ کرنے کا  پختہ ارادہ کرتے ہوئے ، خدا کے حضور آتا ہے، وہ یقیناً،خدا کی معافی حاصل کرتا ہے۔ 

اگرچہ جو کچھ مَیں کر چکا ہوں، اُسے بدلا تو نہیں جا سکتا، لیکن مجھے حقیقی  معافی مل سکتی ہے۔ معافی خدا کے فضل کے کرامات میں سے ایک ہے۔ اُس کی شفا بخش قدرت نہایت ہی جلالی اورعظیم ہے۔ اگر کوئی خاتون اسقاطِ حمل جیسے گناہ میں شریک رہی ہے، تو خدا یہ تقاضا نہیں کرتا کہ وہ  بقیہ زِندگی میں اپنے سینے پر ملامت  یا احساسِ گناہ کا نشان لگائے پھرے۔ وہ فقط چاہتا   ہے کہ ہم اپنے گناہ سے توبہ کریں اور معافی کی پاکیزگی حاصل کرنے کے لئے اُس کے حضور آئیں۔ جب خداہمیں معاف کر تا ہے، تو ہم حقیقتاً، معاف کردئیے جاتے ہیں۔ جب خدا ہمیں پاک کرتا ہے، تو ہم حقیقتاً، پاک  صاف ہو جاتے ہیں۔ایسی صورتِ حال ہمارے لئے  بڑی شادمانی کا باعث ہے۔ 

یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔