
تین چیزیں جو آپ کو عبرانیوں کے خط کے بارے میں جاننی چاہئیں
11/06/2026کیا اِنسانی فطرت طبعی طور پر راست ہے یا گناہ آلودہ ؟
قدیم پلاجئین (Palagian) بدعت کا کہنا ہے کہ تمام نسلِ انسانی طبعی طور پر راست ہے،یعنی آدم کے گناہ نے صرف اور صرف آدم کو ہی متاثر کیا۔اِس نظریے کے مطابق اِنسانی فطرت، آدم کے گناہ سے متاثر نہیں ہوئی تھی۔ لیکن کلامِ مقدس کی تعلیم اِس نظریے کے برعکس ہے، اور واضح کرتی ہے کہ آدم کے گناہ نے ہر بشر کو متاثر کیا (رومیوں ۵: ۱۲- ۱۴)۔یعنی تمام انسان طبعی طور پر ’’غصب کے فرزند‘‘ (افسیوں ۲: ۳) ہیں۔ یہ الہیاتی نقطہ ’’مکمل اِنسانی فطری بگاڑ (Total Depravity) ‘‘، کیلون ازم کے مشہور پانچ نکات TULIP سے مشتق ہے۔ بالفاطِ دیگر، گناہ نے (ماسوائے یسوع) ہم سب کے دِل، دماغ، بدن اور روح کو ناراست کر دیا ہے۔ یہ نظریہ عہدِ عتیق اور عہدِ جدید دونوں میں پایا جاتا ہے (پیدائش ۶: ۵؛ زبور ۱۴: ۱- ۳؛ ۱۴۳: ۲؛ واعظ ۷: ۲۰؛ یسعیاہ ۶۴: ۶؛ متی ۷: ۱۸- ۲۳؛ رومیوں ۱: ۲۱- ۳۲؛ ۳: ۱۰- ۱۸، ۲۳؛ ۸: ۵- ۸؛ گلتیوں ۴: ۳؛ اِفسیوں ۲: ۱-۳؛ ۴: ۱۷- ۱۹؛ طِطُس ۳: ۳)۔
مسیحی اِس بائبلی تعلیم کہ’’اِنسان کو خدا نے اپنی صورت پر خلق کیا‘‘ (پیدائش ۱: ۲۶- ۲۷) سے اُلجھن کا شکارہوتے ہیں، کیوں کہ بائبل مقدس بیان کرتی ہے کہ خدا نے اپنی تمام تر مخلوق کو’’بہت اچھا‘‘ قرار دِیا ہے ( آیت ۳۱)۔ پس، اگر خدا کی خلق کردہ ہر شے اچھی ہے،توانسانی فطرت بھی اُسی نےخلق کی، کیا اِس کا بھی راست ہونا واجبی نہیں؟ جی ہاں، اپنی اصل تخلیق کے اعتبار سے اِنسانی فطرت راست ہی تھی۔ تاہم، اِنسانی مشّیت، اِنسانی فطرت کا ایک حصہ ہے۔ پہلےپہل بنی نوع اِنسان کی ذِمے داری تھی کہ وہ اپنی اِس مشّیت کو مکمل طور پر خدا کی مرضی کے تابع رکھے، یعنی اُس کی فرماں برداری کرے۔ مگر، اِنسان نے خدا کی نافرمانی کی۔ اور شیطان کی طرح، اُس نے بھی اپنی مشّیت کو خدا کی مرضی کے خلاف کر دیا، جس کے باعث دُنیا اور اُن کی اپنی جبلت میں گناہ اور مصیبت سرائیت کر گئی۔ بالفاطِ دیگر، اُنہوں نے گناہ کا ارتکاب کیا۔ جب ایسا ہؤا، تو اِنسانی فطرت مسخ اور ناراست ہو گئی۔ چونکہ’’جیسا بیج ویسا پھل(Like Begets like)‘‘ اِس لئے اب ہر بشر ناراست اور گناہ آلودہ فطرت کے ساتھ پیدا ہوتا، اور پیدائشی گناہ کا غلام ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ایسا دعویٰ کرنا کہ ’’ہر شخص تھوڑا بہت گناہ کرتا ہے‘‘ قطعاً ، غلط ہے۔ ہم خود کو دوسرے انسانوں کے ترازو میں تولنے کے عادی ہیں، اور اپنا موازنہ کرنے کے لئے عموماً بدترین نمونوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ جیسا کہ ہم اپنا موازنہ، ایڈولف ہٹلر، جوزف اسٹالن، یا ماؤ زیڈونگ جیسے لوگوں سے کرتے ہیں۔ اگر معیار فقط لاکھوں لوگوں کو قتل کرنے سے باز رہنا ہے، تو اپنے متعلق اچھا محسوس کرنا، نہایت آسان ہے۔لیکن کلامِ خدا،گناہ کو اِس معیار پر نہیں ناپتا۔ اصل معیار توخدا کی مرضی ہے، اور اُس کا مطالبہ اِس مرضی کی کامل فرماں برداری ہے، ’’کیوں کہ جس نے ساری شریعت پر عمل کیا اور ایک ہی بات میں خطا کی وہ سب باتوں میں قصوروار ٹھہرا‘‘(یعقوب ۲: ۱۰، گلتیوں ۳: ۱۰)۔ سوال یہ نہیں آج آپ کتنے لوگوں کےقتل سے باز رہے؟ بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا آج آپ نے ’’خداوند اپنے خدا سے اپنے سارے دِل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری عقل سے محبت رکھی؟ یا کیا آپ نے ’’اپنے پڑوسی سے اپنے برابر محبت رکھی؟‘‘ (متی ۲۲: ۳۷- ۳۹)۔اِس حکم پر عمل کرنے میں آپ کتنی بار ناکام ہوئے؟ کیا یہ ناکامی محض ’’تھوڑی سی‘‘ تھی؟ ہرگز نہیں، ہم ایسا کرنے میں کئی بار نا کام ہوتے ہیں ، جس کا مطلب ہے کہ ہم کئی بار گناہ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں یسوع مسیح کی کامِل راست بازی کی ضرورت ہے، کیوں کہ فقط وہی واحد ہستی ہیں جس نے شریعت کی کامِل تکمیل کی۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔


