
کیا اِنسانی فطرت طبعی طور پر راست ہے یا گناہ آلودہ ؟
16/06/2026غضبِ الٰہی کیا ہے؟
ہمارا قدوس اور برحق خدا اپناالٰہی غضب ایسےگناہ گاروں کے خلاف ظاہر کرتا ہے جن کے گناہ مسیح کے کفارے کے وسیلے سےڈھانپے نہیں گئے۔ اگرچہ معتدد لوگ خدا کو غضب ناک تصور کرنا پسند نہیں کرتے، مگر کلامِ مقدس میں بدی کے خلاف خداوند کے قہروغضب کا ذکربارہاملتا ہے۔ عہدِ عتیق اور عہدِ جدید دونوں اِس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ خدا ناراستی کے باعث اپنا غضب نازل کرتا ہے (استثنا ۹: ۸؛ ۲۔سلاطین ۲۳: ۲۶؛ زبور ۲۱: ۹؛ ۹۰: ۱۱؛ یسعیاہ ۱۳: ۹؛ میکاہ ۵: ۱۵؛ صفنیاہ ۱: ۱۸؛ یوحنا ۳: ۳۶؛ رومیوں ۱: ۱۸؛ افسیوں ۵: ۶؛ مکاشفہ ۱۶: ۱)۔
غضبِ الٰہی اور صفاتِ باری تعالیٰ
خدا ئے قدوس، ناراستی پر اپنا غضب نازِل کرتا ہے، کیوں کہ یہ اُس کی اپنی ذات کا تقاضا ہے(because who He is)۔ کلامِ مقدس گواہی دیتا ہے کہ خدا منصف اور برحق ہے(اِستثنا ۳۲: ۴؛ دانی ایل ۹: ۱۴؛ رومیوں ۱: ۱۷؛ مکاشفہ ۱۵: ۳)۔ اگر وہ بدی اور بدکاروں کو سزا نہ دے تو وہ منصف اور برحق نہیں کہلا سکتا، اِس لئے گناہ پر غضب کا نازل ہونا، اُس کے راست باز کردار کے عین مطابق ہے۔گناہ گاروں کو اپنے جرائم کی سزا بھگتنا ہو گی، کیوں کہ خدا اپنے عدل پر مبنی غضب کے بغیر مجرم کو بے گناہ نہیں ٹھہرا سکتا، مبادا وہ خودناراست ٹھہرے (خروج ۳۴: ۶- ۹)۔ خدا محبت ہے (۱۔یوحنا ۴: ۷- ۸)، اور جن چیزوں سے وہ محبت رکھتا ہے اُن میں سے ایک صداقت ہے (زبور ۳۳: ۵)۔ چونکہ خدا خود کامِل ہے، اِس لئےصداقت کے لئے اُس کی محبت بھی کامِل ہونی چاہئے، اُسے’’شریروں کی روِش ‘‘ سےنفرت ہے(اِمثال ۱۵: ۹؛ اِستثنا ۳۲: ۴)۔
خدا تعالیٰ کے غضب کا ظہور گناہ کے بغیر ممکن نہیں، اور گناہ کا وجود گناہ گار مخلوق کے بغیر ممکن نہیں ۔ اِس لئے غضبِ الٰہی کا صادر ہونا، تخلیقِ کائنات اور نسلِ انسانی کی برگشتگی سے مشروط ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علمِ الٰہی کے معتدد ماہرین نے غضبِ الٰہی کو خدا کی صفتِ متعلقہ(مشترک) قرار دیا ہے، نہ کہ صفتِ مطلق(غیر مشترک)۔ خدا کی صفتِ مطلق سے مراد وہ صفت ہے جو تخلیقِ کائنات کے بغیر بھی عیاں یا زیرِ عمل رہتی ہے۔ صفتِ مطلق میں ابدیت اور علمِ کُل جیسی چیزیں شامل ہیں۔جس کا مطلب ہے کہ ہماراخالق خداتخلیقِ کائنات کے بغیر بھی ابدی اور علیمِ کُل ہے۔
خدا کی صفتِ متعلقہ اُس وقت تک ظاہر نہیں ہوتی جب تک خدا کی ذات سے باہر کوئی ایسی شے موجود نہ ہو جس سے وہ نسبت رکھ سکے۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا، غضبِ الٰہی، ایک متعلقہ صفت ہے، یعنی اگر گناہ گار نہ ہوتے تو الٰہی غضب کا کوئی ظہور نہ ہوتا۔ تاہم اِس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ الٰہی غضب (یا کوئی دوسری متعلقہ صفت) ایسی چیز ہے جو خدا نے تخلیقِ کائنات کے نتیجے میں حاصل کی ہو۔خدا گناہ کا جواب غضب سے اِس لئے دیتا ہے، کیوں کہ وہ اپنی فطرت میں نیک اور راست ہے۔ الٰہی غضب کا ظہور اِس لئے ہوتا ہے، کیوں کہ مخلوق بدل کر گناہ گار بن گئی، اِس لئے نہیں کہ خدا بذاتِ خود بدل گیا ہے۔ گناہ گار، الٰہی غضب کا تجربہ اُس وقت کرتے ہیں جب وہ راست باز خدا کے حضور آتے ہیں، اِس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ خدا نے نسلِ انسانی کے گناہ میں گِر جانے کے بعد کوئی نئی صفت حاصل کر لی ہے۔ بہرصورت، خدا لاتبدیل ہے (ملاکی ۳: ۶)۔
الٰہی غضب کا تجربہ
بائبل واضح کرتی ہے کہ قہرِ الٰہی نہایت ہیبت ناک ہے۔ کتابِ مقدس اکثر خدا کےقہرِ شدید کا ذکر کرتی ہے (خروج ۳۲: ۱۱؛ نوحہ ۴: ۱۱)، اور وہ گناہ گار جو مسیح کی طرف رجوع نہیں کرتے ،اُن کے لئے خدا کے ابدی غضب کو ’’آگ کی جھیل‘‘ (مکاشفہ ۲۰: ۱۰) قرار دِیا ہے۔
یسوع مسیح، یسعیاہ ۶۶: ۲۴ کا حوالہ دیتے ہوئےفرماتا ہے کہ جہنم میں ’’اُن کا کیڑا نہیں مرتا‘‘ (مرقس ۹: ۴۲- ۴۹)۔اِس استعارے کے ذریعے سے ہمارا مُنجی، خدا کی عدالت کی تصویر کشی ایک ایسی دائمی اور تباہ کُن کیفیت کے طور پر کرتا ہے جو گناہ گاروں کو فنا کر دے گی۔ انبیاءاور رسول بھی’’خداوند کے دِن‘‘ کی ہلاکت اور بربادی کا تذکرہ کرتے ہیں، جو تاریخ کے مخصوص لمحات میں خدا کی عدالت یا آخری عدالت، دونوں کی طرف اشارہ ہے (یسعیاہ ۱۳: ۶؛ حزقی ایل ۳۰: ۳؛ یوایل ۱: ۱۵؛ ۲-پطرس ۳: ۱۰)۔
مذکورہ بالا بیانا ت کے باعث، معتدد لوگ سمجھتے ہیں کہ غضبِ الٰہی ، شاید ایک ہولناک اورہیبت ناک عدالت کے مظاہر پر منحصر ہے۔ تاہم، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ عدالت کے ایسے مظاہرے درحقیقت اُس غضب کا نقطہ کمال (consumption) ہوتے ہیں جس کا نزول بہت پہلے شروع ہو چکا ہوتا ہے۔ رومیوں ۱: ۱۸- ۳۲ جیسے اقتباس اِس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ خدا اکثر اپنا غضب یکدم نہیں بلکہ وقت کے ساتھ نازِل کرتا ہے۔ پولُس رسول کے مطابق،خدا کا غضب اِس صورت میں بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو اُنہی کے گناہوں کے حوالے کر دیتا ہے اور اُنہیں اجازت دیتا ہے کہ وہ اُس گناہ کے جال میں مزید گہرائی تک دھنستے چلے جائیں۔ خدا اکثر غیر تائب گناہ گاروں (Impenitent sinners) کو اپنی ہیبت ناک(fiery) عدالت میں فنا کرنے سے پہلے، اُنہیں اُن کی خواہش کے مطابق گناہ میں ملوث ہونے دیتا ہے۔ خدا اپنے غضب میں غیر تائب لوگوں کو اُنہی کے گناہوں کے قبضے میں دے دیتا ہے۔
غضبِ الٰہی کی زدّ میں موجود لوگوں کے لئے اُمید
گناہ گاروں پرالٰہی غضب کے لئے آخری دِن معین ہے۔ ہم شکرگزار ہیں کہ ہمارا خدا رحیم ہے، اور اُس نے ہمیں آنے والے غضب سے بچانے کے لئے یسوع مسیح مہیاکیا (۱۔ تھسّلُنیکیوں ۱: ۱۰)۔ یسوع جو ابنِ خدا ہے، اُس نے مجسم ہو کر گناہ کے خلاف ہمارے منصف خدا کی مقرر کردہ سزا اپنے اُوپر لے لی۔خدا ، یسوع مسیح میں اپنا غضب نازل کرتا، اور اُسے خود اپنے اوپر لے لیتا ہے ۔ چونکہ گناہ کی سزا مسیح میں دی گئی، اِس لئے وہ خود کو مُنصف ثابت کرتا اور ساتھ ہی وہ رحیم بھی ٹھہرتا ہے۔ کیوں کہ مسیح کے کفارے کا مطلب ہے کہ وہ اُن گناہ گاروں پر مہربان ہو سکتا ہے جو اپنے گناہوں سے مُنہ موڑتے اور یسوع پر توکل کرتے ہیں (رومیوں ۳: ۲۱- ۳۱)۔ خداوند اپنی ابدی محبت اور رحم ظاہر کرنے سے خوش ہوتا ہے (میکاہ ۷: ۱۸)، اور جو کوئی نجات کے لئے صرف یسوع پر بھروسا کرتا ہے،وہ خدا کے ابدی غضب سے مکمل طور پر بچ جائے گا (عبرانیوں ۷: ۲۵)۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔


