تین چیزیں جو آپ کو یوایل نبی کے متعلق جاننی چاہئیں
09/06/2026
کیا اِنسانی فطرت طبعی طور پر راست  ہے یا  گناہ آلودہ ؟
16/06/2026
تین چیزیں جو آپ کو یوایل نبی کے متعلق جاننی چاہئیں
09/06/2026
کیا اِنسانی فطرت طبعی طور پر راست  ہے یا  گناہ آلودہ ؟
16/06/2026

تین چیزیں جو آپ کو عبرانیوں کے خط کے بارے میں جاننی چاہئیں

عبرانیوں کے خط کی بہتر تفہیم  کا ایک طریقِ کار یہ ہے کہ نظریے کے تین  کلیدی نکات کی روشنی میں، اِس  کی ناگزیر خدمات کا جائزہ لیا جائے۔ 

۱۔ عہد کے علمِ الٰہی کی تفہیم کے لئے عبرانیوں کا خط نہایت اہم ہے۔

بائبلی عہد کے علمِ الٰہی کی بہتر  تفہیم کے لئے عبرانیوں کا خط، عہدِ جدید کا سب سے اہم خط ہے۔ بائبلی عہود کے متعلق کسی شخص کا فہم خواہ کچھ بھی ہو،مگر  وہ عبرانیوں کے خط کی تفسیر سے لازماً متاثر ہوا ہو گا ۔ یہ خط عہدِ عتیق کے مقصد اور عہدِ جدید کے ساتھ اِس کے باہمی تعلق کی وضاحت کرتا ہے۔ درحقیقت، یہ خط ایک ایسا تفسیری عدسہ (lens) ہے  جس کے ذریعے سے عہدِ عتیق کا درُست مطالعہ ممکن ہے ۔

بعض قارئین  اِس غلط فہمی کا شکار ہوتے ہیں کہ عبرانیوں کا خط، عہدِ عتیق کی قدرومنزلت کو کم کرتا ہے ،مگر حقیقت بالکل  اِس کے برعکس ہے۔ کیوں کہ عہدِ جدید کا جلال  تب ہی  پورے آب و تاب کے ساتھ چمکتا ہے جب عہدِ عتیق کو اُس کے تمام تر جلال کے ساتھ دیکھا جائے، قطعِ نظر اِس کے کہ وہ عارضی تھا۔مگر یہی امتیاز خط میں مذکور ’’جو/تو‘‘ والے بیانات میں واضح دکھائی دیتا ہے (عبرانیوں ۲: ۱-۴؛۹: ۱۳-۱۴؛ ۱۲: ۲۵)۔ عبرانیوں کا خط بیان کرتا ہے کہ عہدِ جدید، عہدِ عتیق کو منسوخ نہیں کرتا بلکہ اُس  کی تکمیل کرتا ہے۔ یہی نقطہ نظر بائبلی مطالعے کےپورے اسلوب کو ترتیب دیتا ہے۔عبرانیوں کا خط ہمیں سکھاتا ہے کہ کلام ہی کلام کی تفسیر کرتا ہے۔ اِس لئےہمیں عہدِ عتیق  اورعہدِ جدید  کو ایک دوسرے کے مدِ مقابل نہیں لانا چاہئے، بلکہ اُنہیں درُست تعلق میں دیکھنا چاہئے یعنی عکس اور اصل،  وعدہ اور اُس کی تکمیل۔

مصنف ، عہدِ جدید میں زِندگی بسر کرنے کے جلیل  القدر استحقاق اور اِس کی سنجیدگی اُجاگر کرنے کے لئے نہایت سرگرم ہے(عبرانیوں ۱: ۲- ۳)۔ چونکہ ہم ایک ایسے عہد کے انتظام کےماتحت   ہیں جو کہیں زیادہ افضل  (عبرانیوں ۸: ۶)، بلکہ بے نقص ہے (عبرانیوں ۸: ۷- ۸)، اِس لئے ہماری ذِمے داری بھی کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ یہاں انتباہ زیادہ سخت، وعدے زیادہ شیریں اور توقعات کہیں زیادہ بلند ہیں۔ یہ کوئی عارضی عہد نہیں، بلکہ ابدی عہدی ہے (عبرانیوں ۱۳- ۲۰)۔ عبرانیوں کا خط، پولُس رسول کے اُس دعوے کی وضاحت کرتا ہے جو ۲-کرنتھیوں ۱: ۲۰ میں مرقوم ہے ’’خدا کے جتنے وعدے ہیں وہ سب اُس میں ہاں کے ساتھ ہیں۔‘‘  فضل کا وہ واحد عہد، جو اپنے مختلف انتظامات کے ساتھ قائم رہا، مسیح کی آمد پر اپنی کمالیت کو پہنچ گیا۔ عبرانیوں کے نزدیک یہی وہ حقیقت ہے جو ہر شے کو بدل کر رکھ دیتی ہے۔ پس،  جب آپ عبرانیوں کے خط کا مطالعہ کریں، تو عہدِ جدید کے اِس جلال پر خاص توجہ فرمائیں۔ 

۲۔ علمِ المسیح  کی تفہیم کے لئے عبرانیوں کا خط نہایت اہم ہے۔

عہدِ جدید اپنے درمیانی یعنی مسیح کے باعث نہایت جلیل القدر ہے۔ اگر اِیمان ہی خدا کےفضل  کے عہد سے مستفید ہونے کا واحد ذریعہ ہے (جیسا کہ ہمیشہ سے رہا ہے)، تو پھر اِس اِیمان کے’ مرکزو محور ‘ کواِس قابل ہونا چاہئے کہ وہ ہمارے اِیمان کا بوجھ اُٹھا سکے۔ عبرانیوں کا خط صریحاً، مسیح کی فضلیت  کو  عہدِ عتیق کے ہر عکس کی ’اصل‘ کے طور پر ثابت کرتا ، اور اِسے ہمارے اِیمان اور عبادت کے لئےبزرگ وبرتر  ہستی کی حیثیت سے پیش کرتا ہے۔ 

عبرانیوں کا خط ایسے مسیح کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑتا جسے انسان اپنی مرضی کے مطابق ڈھال لے ۔ وہ خدا کے جلال کا پرتَو اور اُس کی ذات کا نقش ہے (عبرانیوں  ۱: ۳)، وہی  اپنی قُدرت کے کلام سےکائنات کو سنبھالے ہوئے ہے۔ وہ ابدی بیٹا، فرشتوں سے افضل، اور موسیٰ سے بزرگ ہے،  وہی وہ آخری سردار کاہن ہے  جس نے خود کو ایک ہی بار قربانی کے لئے پیش کر دیا۔ وہ ہر  شخص سے بزرگ  ہے، یعنی فرشتوں سے لے کر اُن جلیل القدر عُہدوں تک، جو خداوند  نے خود عہدِ عتیق میں مقرر کئے یعنی انبیاء، کاہن اور بادشاہ وغیرہ۔ 

خداوند یسوع مسیح نئے عہد کا ضامن ٹھہرا، جیساکہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ  وہ عہدِ عتیق سے کہیں بہتر  ہے (عبرانیوں ۷: ۲۲)۔ عبرانیوں کے خط کے مطابق، مسیحی زندگی کوئی مبہم روحانیت نہیں ہے بلکہ یہ اُس جلالی مسیح کے ساتھ ایک  مستحکم عہودی وفاداری اور وابستگی ہے جو اُس کے ساتھ ایک گہرے  اور روحانی اتحاد سے صادر  ہوتی ہے۔اِس لئے، وہی ہماری محبت کا مرکز، ہماری اُمید کا لنگر، اور ہمارے اِیمان کا محور ہے ۔ پس، جب آپ عبرانیوں کے خط کا مطالعہ کریں، تو یسوع مسیح کے جلال کا مشاہدہ کریں۔ 

۳۔ علم الکلیسیا  کی تفہیم کے لئے عبرانیوں کا خط نہایت اہم ہے۔ 

عصرِ حاضر کے قارئین کے لئے،عبرانیوں کے خط میں مرقوم علم الکلیسیا کے متعلق بصیرت، اگرچہ علم المسیح اور عہد کے علم الٰہی کی نسبت کم  واضح ہے، مگر اِس کی اہمیت کسی طور سے بھی کم نہیں ۔عبرانیوں کا مصنف بیابانی نسل کی جانب  اشارہ، فقط ایک تاریخی حوالے کے طور پر نہیں کرتا، بلکہ وہ کلیسیا کے وجود اور شناخت کو اُسی بیابانی ڈھانچے میں مرتب کرتا ہے۔ یہاں کلیسیائی شناخت محض استعاراتی نہیں، بلکہ تمثیلی معنوں میں بیان کی گئی ہے،  یعنی عصرِ حاضر کی کلیسیا  بیابان میں بنی اسرئیل کی مانند نہیں، بلکہ عہدِ جدید میں وہ حقیقی معنوں میں اُسی مسافر قوم کا  ایک تسلسل ہے۔

عبرانیوں کے خط میں ’مسافرت‘ کی اصطلاح  استعمال ہوئی  ہے یعنی ’’یہاں ہمارا کوئی قائم رہنے والا شہر نہیں بلکہ ہم آنے والے شہر کی تلاش میں ہیں‘‘ (عبرانیوں ۱۳: ۱۴)۔  مصنف اپنے اُن قارئین کو جو عہدِ عتیق کی آسائشوں اور آسودگی کی جانب لوٹ جانے کے وسوسوں میں گھِرے ہیں، اُنہیں تاکید کرتا ہے کہ  اسیروں کی مانند اپنے حقیقی وطن کی  جانب لوٹ جانے کے لئے ثابت قدم رہیں۔ابواب ۳ اور۴ میں کلیسیا کی یہی تصویر زیادہ واضح بیان کی گئی ہے۔ کلیسیا کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ اپنے دِلوں کو سخت نہ کریں جیسا کہ آزمائش کے دِن جنگل میں کیا گیا  تھا  (عبرانیوں ۳: ۷-۸)۔ وہ اُمت  اپنی بے اعتقادی کے باعث بیابان میں ہی ہلاک ہو گئی تھی۔ اِس لئے مصنف سخت  تاکید کرنے کےساتھ ساتھ بھرپور حوصلہ افزائی بھی کرتا ہے،کہ خدا کے آرام میں داخل ہونے کا وعدہ اب بھی باقی ہے (عبرانیوں ۴: ۱)، اور یہ  آرام ہمیں مسیح میں ملتا ہے، کیوں کہ وہ  ہمارا  ایسا سردار کاہن ہے جو ہماری کمزوریوں میں ہمارا ہمدرد ہے (عبرانیوں ۴: ۱۵)۔  کلیسیا ایک ایسی  عہودی  جماعت ہے جو استقامت، عبادت اور مستقبل کی اُمیدسے نشان زد ہے۔ پس، کلیسیا بیابان میں مسیح کے گرد جمع ہے، وہ اُس کے کلام سے رُوحانی غذا  حاصل کرتی ، اور آسمانی یروشلیم کی جانب رواں دواں  ہے۔ 

تفہیمِ کلام کے لئے ہمیں مزید گہرائی سے مطالعے کی ضرورت ہے ۔ عبرانیوں کا خط ہمیں آسمانی  عبادت کاا یک ایسا پُرجلال منظر دِکھاتا ہے، جو علم الکلیسیا  کی  تفہیم میں مزید ہماری  راہنمائی کرتا ہے۔ ۱۲ باب  میں، مصنف کوہِ سینا اور کوہِ صیون کے امتیاز کو بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ ہم کوہِ سینا کی وہشت اور ہیبت  کے پاس نہیں، بلکہ صیون یعنی ’’زندہ خدا کے شہر آسمانی یروشلیم‘‘ کے پاس آتے ہیں۔ اور وہاں ہمارے ساتھ کون ہے؟ ’’لاکھوں فرشتے‘‘، ’’ پہلوٹھوں کی عام جماعت ‘‘، ’’سب کا مُنصف خدا‘‘، اور ’’نئے عہد کا درمیانی یسوع‘‘  (عبرانیوں ۱۲: ۲۲- ۲۴)۔یہ کوئی مستقبل کی رویا نہیں بلکہ ایک موجودہ حقیقت ہے۔  کیوں کہ کلیسیا جب  عبادت کے لئے جمع ہوتی ہے تو وہ بھی اِس  آسمانی جماعت میں شامل کر لی جاتی ہے۔ اور یوں مجاہد کلیسیا،  فاتح کلیسیا کے ساتھ مل کر  اُس عہد کو دہراتی ہے جس کی بنیاد ’’ابدی عہد کے خون‘‘ (عبرانیوں ۱۳: ۲۰) پر رکھی گئی ہے۔ جب آپ عبرانیوں کے خط کا مطالعہ کریں تو کلیسیا کے اِس جلال پر خاص توجہ فرمائیں۔ 

اِن تین موضوعات کے تناظر میں عبرانیوں کے خط کا مطالعہ نہ صرف آپ کو اِس ایک خط کے پیغام کو سمجھنے میں مدد دے گا، بلکہ بائبل مقدس کی دیگر کُتب کی تفہیم میں بھی مدد فرمائے گا۔    

یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔