
مسیحی الٰہی مکاشفہ کے بارے میں کیا ایمان رکھتے ہیں ؟
23/09/2026بائبل مُقدس کثیر الازواجی کے متعلق کیا فرماتی ہے ؟
پُرانے عہد نامہ میں بعض ایسی رسوم پائی جاتی ہیں جنہیں بائبل کی اخلاقی تعلیم پر تنقید کرنے والے ناقدین بار بار بطور اعتراض پیش کرتے ہیں ۔اُن میں سے ایک کثیر الازواج ہے ۔یہ بات بالکل واضح ہے کہ پُرانے عہد نامہ میں دو بیویاں رکھنے کا رواج موجود تھا ۔اس کا آغاز پیدایش ۴: ۱۹ ، میں ہوتا ہے :”اور لمک دو عورتیں بیاہ لایا "۔ بعد میں ابرام کی شادی ساری سے ہوئی ،لیکن” ساری نے اپنی مِصری لونڈی ہاجرہ کو لیا اور اُسے اپنے شوہر ابرام کو دیا کہ وُہ اُس کی بیوی بنے "(پیدائش ۱٦: ۳)۔ یعقو ب کی چار بیویاں تھیں ، دو مستقل بیویاں اور دو لونڈیاں ، جنہیں اُن دونوں بیویوں کے لیے اولاد پیدا کرنے کی غرض سے ثانوی بیویوں کے طور پر رکھا گیا تھا (پیدایش ۲۹-۳۰)۔تاہم ، کثیر الازواجی کا رواج صرف بزرگوں کے دَور تک محدُود نہ تھا ۔اسرائیل کے دَور میں دوسرے نامور مرد بھی ایک سے زیادہ بیویاں رکھتے تھے، جن میں داوٴد اور خاص طور پر سلیمان شامل ہیں (۱ سلاطین ۱۱ : ۳)۔قدیم مشرق قدیم میں کثیر الازواجی غیر معمولی بات نہ تھی ، اگرچہ اِس پر عمل کرنے کی استطاعت صرف اُن مردوں کی ہوتی تھی جو اُس بڑے خاندان کی کفالت کر سکتے تھے جو کثیر الازواجی کے نتیجہ میں وجود میں آتا تھا ۔بادشاہوں کے معاملہ میں یہ شادیاں اکثر سیاسی نوعیت کی ہوتی تھیں ، جو بنیادی طور پر سلطنتوں کے درمیان تعلقات کے استحکام کو یقینی بناتی تھیں ۔اسرائیل میں یہ رواج قدیم دُنیا کے بیشتر حصوں کے رواج کی عکاسی کرتا تھا ۔
یہ حقائق کئی سوال اُٹھاتے ہیں۔پہلا یہ کہ ، کیا پُرانا عہد نامہ کثیر الازواج کی تائید کرتا ہے ۔اگرچہ پُرانے عہد نامہ میں مذکور مختلف مردوں نے کثیر الازواجی پر عمل کیا ، لیکن ایسا معلوم نہیں ہوتا کہ قدیم اسرائیلوں ، یا عام طور پر قدیم دنیا میں کثیر الازواجی کا عام رواج تھا ۔بیشتر مرد اِس کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے تھے ۔مثال کے طور پر ،ممکن ہے کہ روت ۴ میں مذکور دوسرے قریبی چھُڑانے والے نے اِس لیے اِنکار کیا ہوکہ روت سے شادی اُس کے مالی وسائل پر اضافی بوجھ ڈالتی (روت ۴: ٦)۔یوں کثیر الازواج زیادہ تر اُن لوگوں تک محدُود تھی جنہیں آج کی اصطلاح میں ” ایک فیصد "کہا جا سکتا ہے ۔اگرچہ عہد قدیم ایسے واقعات کو بیان کرتا ہے لیکن وُہ کہیں بھی اِس عمل کی منظوری نہیں دیتا ۔
دوسرا یہ کہ ، کیا بائبل میں ایسے احکامات یا اصول موجود ہیں جو کثیر الازواجی کے عمل کے غلط ہونے کو ظاہر کرتے ہیں ؟اوّل ، پُرانے عہد نامہ میں کثیر الازواج کی پہلی مثال لمک کی ہے ، جو قائن کی نسل سے تھا ، لمک کی پُر تشدد نظم ظاہر کرتی ہے کہ وُہ بُلند اخلاقی کردار کا حامل شخص نہ تھا ۔دوم ، خُدا نے آدم کے لیے حوّا کو پیدا کرکے یہ اصول قائم کیا کہ شادی کے لیے ایک مرد اور ایک عورت ہی خُدا کا مقرر کردہ نمونہ ہیں ۔یہی اصُول ، خُداوند یسوع مسیح نے طلاق کے سوال کے جواب میں پیش کیا (متی ۱۹: ۳-٦)۔سوم ، پُرانے عہد نامہ میں کثیر الازواج کی تمام مثالیں ازدواجی زندگی میں شدید کشمکش کو ظاہر کرتی ہیں ۔اِسے ہم پیدایش ۲۹-۳۰ ابواب میں یعقوب کی محبت حاصل کرنے کے لیے لیاہ اور راخل کے درمیان مقابلے کی صور ت میں دیکھ سکتے ہیں ، اور بلہاہ اور زِلفہ کو اولاد پیدا کرنے کے لیے شامل کرنا بھی لیاہ اور راخل کے درمیان اس تنازع کو مزید بڑھا دیتا ہے ۔چوتھی با ت یہ کہ ، القانہ کی شادی کے معاملہ میں (۱ سموئیل ۱) فِننہ کو حنّہ کی ” حریف ” کہا گیا ہے (۱ سموئیل ۱: ٦) ۔ جس لفظ کا ترجمہ ” حریف ” کیا گیا ہے ،وُہ ایک ایسے عبرانی مادہ سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے ” دشمن کی طرح برتاوٴ کرنا ” ۔آخر میں( احبار ۱۸: ۱۸) ، میں خُدا وند فرماتا ہے :”تُو اپنی سالی سے بیاہ کر کے اُسے اپنی بیوی کی سَوکن نہ بنانا کہ دُوسری کے جِیتے جی اِس کے بدن کو بھی بَے پردہ کرے ۔”لفظی معنی کے اعتبار سے یہ حکم ظاہر کرتا ہے کہ کوئی شخص ، یعقوب کی طرح ایک عورت اور اُس کی سگی بہن دونوں سے نکاح نہ کرے ۔ تاہم ، لفظ ” بہن” مجازی معنوں میں کسی ایسی دوسری عورت کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے جس کا کوئی جسمانی یا خُونی رشتہ نہ ہو ۔
جب ہم نئے عہد نامہ کی بات کرتے ہیں تو ابتدا سے آخر تک بنیادی اصُول یہی ہے کہ شادی یک زوجگی پر مبنی ہو یعنی کہ شادی ایک مرد اور ایک عورت کے درمیان ہو ۔۱ کرنتھیوں ۷ باب میں پولُس رسو ل کی شادی سے متعلق تعلیم میں بھی یک زوجگی کا اصُول واضح طور پر ملتا ہے ۔اِسی طرح ۱ تیمتھیس ۳ باب اور طِطس ۱ میں کلیسیا کے عُہدیداروں کے لیے یہ اصُول پایا جاتا ہے کہ بزرگوں کو ” ایک ہی بیوی کا شوہر ” ہونا چاہیے ۔ نئے عہد نامہ میں ایسا کوئی اِشارہ نہیں پایا جاتا جس کے مطابق کثرت ِازدواج کو قابل ِ قبول سمجھا جاتا ہو ۔
آخری سوال یہ ہے کہ بائبل مقدس ، خاص طور پر پُرانا عہد نامہ کثیر الازواجی کی صریح مذمت کیوں نہیں کرتی ۔یا دوسرے الفاظ میں ، خُدا نے پُرانے عہد نامہ میں کثیر الازواجی کو کیوں برداشت کیا ؟
حتمی طور پر ہم یہ بات یقین کے ساتھ نہیں جانتے ۔تاہم معلوم ہوتا ہے کہ خُدا نے اپنی قوم کے بعض ایسے گُناہوں کو برداشت کیا جو اسرائیل کے گرِد و نواح کی ثقافت میں عام ہو چکے تھے ۔ غلامی کے بارے میں بھی یہی بات کہی جا سکتی ہے ۔لیکن یہ حقیقت کہ خُدا نے یعقوب ، داوٴد یا سلیمان کو اُن کی کثیر الازواجی کے سبب فوراً سزا نہ دی ، ہرگز اِس بات کا جواز نہیں کہ ہم اُن کے نقشِ قدم پر چلیں ۔یک زوجگی کا اصُول پُرانے عہد نامہ میں بھی واضح ہے ۔لیکن یہ بات ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال کرنے پر مجبور کرتی ہے ، آج ہمارے زمانہ میں کون سے ایسے گُنا ہ ہیں جنہیں ہم کلیسیا میں برداشت کر رہے ہیں؟اور ہماری اپنی زندگیوں میں کون سے ایسے گُناہ ہیں جن پر خُدا ابھی تک صبر سے کام لے رہا ہے ؟ آئیں ، دیر کرنے کی بجائے آج ہی اُن گُناہوں کو ترک کر دیں ۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔


