بائبل  مُقدس  کثیر  الازواجی  کے  متعلق  کیا  فرماتی  ہے  ؟
30/09/2026
بائبل  مُقدس  کثیر  الازواجی  کے  متعلق  کیا  فرماتی  ہے  ؟
30/09/2026

کیا مجھے سیمنری میں تعلیم حاصل کرنی چاہیے؟

بہت سے ایسے طلبہ سے میری ملاقات ہوتی ہے جو سیمنری میں داخلہ لینے پر غور کر رہے ہوتے ہیں، اُنہیں اکثر اِس سوال سے کشمکش میں مبتلا پایا جاتا ہے کہ: ” کیا مجھے سیمنری میں تعلیم حاصل کرنی چاہیے؟“ بعض طلبہ اِس سوال پر اپنی زِندگی کی سمت متعین کرنے کے حوالے سے غور کر رہے ہوتے ہیں۔وہ یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں کہ آیا خدا اُنہیں سیمنری میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے بُلا رہا ہے یا کسی اَور خدمت کی طرف راہ نمائی کر رہا ہے۔ اِس کے برعکس، بعض اِس بات پر غور کر رہے ہوتے ہیں کہ آیا ڈِگری مکمل کرنے کے لئے جن وسائل، وقت اور محنت کی ضرورت ہو گی، وہ واقعی اِس کے قابل ہیں یا نہیں۔ وہ اِس سوال پر اِس نقطۂ نظر سے غور کر رہے ہوتے ہیں کہ اِس میں صرف ہونے والے وقت، محنت اور وسائل کے بدلے اُنہیں کیا حاصل ہو گا، اِسی لئے وہ عموماً یہ سوال پوچھتے ہیں: ” سیمنری میرے لئے کیا کرے گی؟ مجھے اِس سے کیا حاصل ہو گا؟“۔ 

اِس مضمون میں، مَیں طلبہ کے اُس گروہ سے مخاطب ہوں، جو اِس کشمکش میں مبتلا ہے کہ خدا اُن سے کیا چاہتا ہے۔ جہاں تک دُوسرے گروہ کا تعلق ہے، اُس پر مَیں اگلے مضمون میں گفتگو کروں گا۔ لہٰذا اِس مضمون کا مقصد اُن اَفراد سے براہِ راست گفتگو کرنا ہے، جو یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آیا اُنہیں سیمنری میں تعلیم حاصل کرنی چاہیے یا نہیں۔ اگر آپ کو مجھ سے بالمشافہ ملاقات کا موقع ملتا، تو مَیں آپ کو یہی مشورہ دیتا۔

سب سے پہلے، مَیں آپ کو ترغیب دوں گا کہ آپ اپنی خواہشات پر غور کریں۔ کیا آپ سیمنری میں تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ کیا آپ کے دِل میں بائبل مُقدّس، عِلمِ اِلٰہی اور کلیسیا کی تارِیخ کا مطالعہ کرنے اور اُن کے بارے میں اپنے علم میں ترقی کرنے کی خواہش پائی جاتی ہے؟ کیا آپ اپنی باقی ماندہ زِندگی اِیمان کے حقائق کی تعلیم دینے یا اُن پر لکھنے کے خیال سے دِل چسپی رکھتے ہیں؟ کیا آپ اِس موقع کے مشتاق ہیں کہ مسیحی زِندگی کے نشیب و فراز میں خدا کے لوگوں کی گلّہ بانی کریں، اور جب وہ ’’موت کے سائے کی وادی‘‘ میں سے گزریں، تو اُن کے ساتھ چلیں؟ (زبور 4:23)۔ 

کئی سال پہلے، جب مَیں اِس کشمکش میں مبتلا تھا کہ خدا مجھ سے کیا چاہتا ہے، تو مَیں اپنے آپ سے یہی چند سوالات پوچھا کرتا تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک صبح کتابِ مُقدّس کا مطالعہ کرتے ہوئے اچانک مجھے اِس بات کا احساس ہوا کہ مَیں اپنی باقی ماندہ زِندگی خدا کے کلام کے مطالعے اور خدا کے لوگوں کو اِس کی تعلیم دینے میں صرف کرنا چاہتا ہوں۔ اگر آپ کے دِل میں بھی یہی خواہشات پائی جاتی ہیں، تو آپ کو سیمنری میں تعلیم حاصل کرنے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ ایسی خواہشات کا پایا جانا اِس بات کا جائزہ لینے کا پہلا اور ضروری قدم ہے کہ خدا آپ سے کیا چاہتا ہے۔

لیکن اگر آپ کو ابھی تک اپنی کیفیت کے بارے میں یقین نہ ہو، تو پھر کیا کرنا چاہیے؟ تو میرا مشورہ یہ ہو گا کہ آپ  کسی سیمنری کلاس کا حصہ بن کر دیکھیں  تاکہ آپ خود یہ جان سکیں کہ آیا وہ واقعی آپ کو پسند آتی ہے یا نہیں۔اگر ممکن ہو، تو اُس میں بالمشافہ اور باقاعدہ کریڈٹ کے ساتھ شریک ہوں۔اِس سے آپ کو نہ صرف یہ واضح اندازہ ہو جائے گا کہ ایک طالب علم کی حیثیت سے سیمنری کی زندگی کیسی ہوتی ہے، بلکہ یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ ڈگری مکمل کرنے کے لئے کس قدر محنت، عزم اور پابندی درکار ہوتی ہے۔کیا آپ مقررہ مطالعے اور تحقیق میں دِل چسپی رکھتے ہیں؟کیا آپ لیکچرز میں شرکت کے منتظر رہتے ہیں؟کیا اپنے ہم جماعتوں، دوستوں یا خاندان کے اَفراد کے ساتھ کلاس کے موضوعات پر گفتگو کرتے ہوئے آپ خود کو زیادہ پُرجوش اور سرگرم محسوس کرتے ہیں؟اور شاید سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا اِس کلاس میں شرکت کرنے کے بعد آپ کے دِل میں ایک اَور کلاس کا حصہ بننے کی خواہش پیدا ہوتی ہے؟

دُوسری بات، مَیں آپ کو ترغیب دُوں گا کہ آپ اُن لوگوں سے بات کریں جو آپ کو سب سے بہتر جانتے ہیں۔ اُن سے پوچھیں کہ وہ آپ کے اندر کیا دیکھتے ہیں۔ کیا اُنہیں آپ کے اندر کتابِ مقدّس کا مطالعہ کرنے اور اُس کی تعلیم دینے کی خواہش دِکھائی دیتی ہے؟ کیا اُنہوں نے آپ کے اندر خدا کے کلام کو سمجھنے، اُس کا عملی اِطلاق کرنے اور اُسے  دُوسروں تک مؤثر انداز میں پہنچانے کی غیر معمولی صلاحیت کو محسوس کیا ہے؟ کیا اُنہیں آپ کے اندر یہ خداداد صلاحیت دِکھائی دیتی ہے کہ آپ کتابِ مُقدّس کے مشکل حصوں کو آسانی سے سمجھا سکتے ہیں؟ کیا اُنہوں نے خدا کے لوگوں کے لئے آپ کے دِل میں نرمی، ہمدردی اور شفقت کو دیکھا ہے؟

میرے اپنے سفر میں یہی بات میرے لئے سب سے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوئی۔ میری بیوی اور میرے قریبی دوست، سب نے مجھے یہی مشورہ دیا کہ مجھے سیمنری میں تعلیم حاصل کرنی چاہیے۔ جب بھی مَیں سنڈے اسکول میں تعلیم دیتا یا بائبل کے مطالعے  میں دُوسروں کی راہ نمائی کرتا، تو اکثر لوگ بعد میں میرے پاس آتے اور سیمنری جانے کے لئے میری حوصلہ اَفزائی کرتے۔ میرے  پاسٹر نے بھی اِس سارے عمل میں نہایت اہم کردار اَدا کیا۔ اِن تمام لوگوں کی متفقہ گواہی اُس احساس کی تصدیق تھی، جو پہلے ہی میرے دِل میں موجود تھا۔ اِس سے مجھے یقین ہو گیا کہ ایک روشن مستقبل اور اچھی آمدنی والی ملازمت چھوڑ کر دوبارہ تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کوئی غیر معقول بات نہیں تھی۔

اگر آپ اپنے اندر سیمنری میں تعلیم حاصل کرنے کی خواہش محسوس کر رہے ہیں، اور آپ کے قریبی لوگ بھی آپ کو اِسی راہ پر چلنے کی ترغیب دے رہے ہیں، تو میری رائے میں آپ کو ضرور سیمنری جانا چاہیے۔ اِس کے لئے ضروری نہیں کہ پہلے ہی آپ کے ذہن میں ہر سوال کا جواب موجود ہو۔ خدا اپنے مقررہ وقت پر آپ کے تمام سوالوں کے جواب ضرور دے گا، اور اِس مقصد کی تکمیل  کے لئے وہ آپ کی کلاسز، آپ کے ہم جماعتوں اور آپ کے اَساتذہ کو بھی اِستعمال کرے گا۔اِسی طرح، یہ بھی ضروری نہیں کہ آغاز کرنے سے پہلے ہر بات پوری طرح طے ہو چکی ہو۔ جیسے جیسے آپ آگے بڑھتے جائیں گے، خدا آپ کی ہر ضرورت پوری کرتا جائے گا۔ دُعا کریں اور اِیمان کے ساتھ قدم بڑھائیں۔ خدا سے فراخ دِلی کے ساتھ مانگیں، یا زبور نویس کے اَلفاظ میں” تُو اپنا مُنہ خُوب کھول اور مَیں اُسے بھر دوں گا“(زبور 10:81) اُس کے اِس کلام پر کامل بھروسا رکھیں۔آنکھوں دیکھے پر نہیں بلکہ اِیمان   کے ساتھ چلیں۔ اور جب آپ اِیمان کے ساتھ آگے بڑھیں، تو میری دُعا یہی ہو گی کہ ہمارا عظیم خداوند اور بادشاہ آنے والے کئی برسوں  تک آپ کو اپنی خدمت میں بڑی قدرت کے ساتھ اِستعمال کرے، اور یہ سب کچھ اُس کی جلالی نعمت کی حمد و ستایش کے لئے ہو۔


یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔