
کیا مجھے سیمنری میں تعلیم حاصل کرنی چاہیے؟
07/10/2026کرسمس کے موقع پر ہم گیت کیوں گاتے ہیں؟
اِنسان نے تاریخ کے ہر دَور میں گانے سے محبت کی ہے۔ خواہ بیس بال کے مقابلے ہوں یا سال گرہ کی تقریبات، لوگ بڑے شوق سے گاتے ہیں اور کبھی کبھی سب کے سامنے یہ بھی ظاہر ہو جاتا ہے کہ ہم فطری طور پر اچھا نہیں گا سکتے۔ اجتماعی طور پر گانا،بالخصوص کرسمس کے موقع پر، ہماری تہذیبی روایت کا ایک نمایاں حصہ بن چکا ہے۔ لیکن آخر ایسا کیوں ہے کہ کرسمس کے گیت اور حمدوثنا، خواہ ہم اُنہیں پیشہ ورانہ طور پر ہی کیوں نہ گا رہے ہوں اور اُن کے اَلفاظ کے مفہوم میں ہماری کوئی دِل چسپی بھی نہ ہو، پھر بھی ہمارے دِلوں پر اِتنا گہرا اَثر چھوڑتی ہیں؟
عبادت میں گانا ہمیشہ سے منبر اور جماعت، دونوں کے لئے ایک اہم سوال رہا ہے کہ اُسے کس انداز سے اور کس مقصد کے لئے پیش کیا جانا چاہیے۔1861ء میں، جان ویزلی نے "Directions for Singing” کے عنوان سے چند ہدایات تحریر کیں، جن کا مقصد میتھوڈسٹ کلیسیا کو اِس معاملے میں راہ نمائی فراہم کرنا تھا۔ اِن ہدایات کی اِشاعت کے بعد اُن کا اَثر صرف میتھوڈسٹ کلیسیا تک ہی محدود نہیں رہا۔ اُن میں سے دو ہدایات درج ذیل ہیں:
پورے جوش، ہمت اور دِل جمعی کے ساتھ گائیں۔ اِس طرح نہ گائیں کہ معلوم ہو جیسے آپ میں نہ زندگی کی حرارت ہو اور نہ بیداری کی کیفیت۔ بلکہ پوری قوت کے ساتھ اپنی آواز بلند کریں۔ آج اپنی آواز بلند کرنے سے نہ گھبرائیں، اور نہ ہی اُس کے دُوسروں تک پہنچنے پر شرمندگی محسوس کریں، کیوں کہ جب آپ شیطان کے گیت گایا کرتے تھے، تب آپ کو ایسی جھجک نہیں ہوتی تھی۔
نرمی، شائستگی اور اعتدال کے ساتھ گائیں۔ اِس طرح بلند آواز سے نہ گائیں کہ آپ کی آواز پوری جماعت سے نمایاں ہو جائے یا سب سے الگ سنائی دے، کیوں کہ اِس سے اِجتماعی ہم آہنگی مجروح ہوتی ہے۔ بلکہ کوشش کریں کہ آپ کی آواز دُوسروں کی آوازوں کے ساتھ اِس طرح ہم آہنگ ہو جائے کہ سب مِل کر ایک سُریلا نغمہ بن جائیں۔
اپنی محدود صلاحیتوں کے باوجود، کرسمس ہی وہ موقع ہوتا ہے جب ہم ’’پوری قوت کے ساتھ اپنی آواز بلند کرتے ہیں۔‘‘ شاید اِس کی ایک وجہ یہ ہو کہ ہم اِن گیتوں سے اچھی طرح واقف ہوتے ہیں۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ واقفیت ہی وہ چیز ہے جو لوگوں کو مل کر گانے میں شریک ہونے کی ترغیب دیتی ہے۔ پولُس رسول نے بھی مسیحیوں کو تلقین کی کہ وہ اپنی گانے کی صلاحیت سے قطعِ نظر” اپنے دِلوں میں فضل کے ساتھ خُدا کے لِئے مزامِیر اور گیت اور رُوحانی غزلیں گاؤ(کلسیوں 16:3)۔
گانا سیکھنے کی بہترین اور آسان ترین جگہوں میں سے ایک کلیسیا ہے۔جہاں زبور، حمد اور رُوحانی گیت ہماری یادداشت کا مستقل حصہ بن جاتے اور زندگی بھر ہمارے ساتھ رہتے ہیں۔ عمر بڑھنے کے باوجود بھی ہم اِن گیتوں کو کبھی نہیں بھول پاتے، کیوں کہ ماہرین کے مطابق گانے کا عمل ہمارے دِماغ میں محفوظ اَلفاظ اور دُھنوں سے وابستہ یادداشت کو پھر سے تازہ کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کرسمس کے موقع پر نرسنگ ہومز میں رہنے والے وہ اَفراد بھی، جو پہلے گانے میں کوئی دِل چسپی نہیں لیتے تھے، "Joy to the World” اور "Silent Night”گاتے ہوئے خوشی اور جوش سے بھر اُٹھتے ہیں۔
خوشی اور لطف فراہم کرنے کے علاوہ، کرسمس کے بہت سے گیت تعلیم بھی دیتے ہیں، کیوں کہ وہ عِلمِ اِلٰہی کی گہری سچائیوں سے بھرپور ہوتے ہیں۔ مارٹن لوتھر نے 1520ء کی دہائی اور اُس کے بعد قائم ہونے والی نئی لوتھرن کلیسیاؤں کی رُوحانی نشو و نما کے لئے گیتوں کو ایک بنیادی ذریعۂ تعلیم کے طور پر اِستعمال کیا۔ وہ "chorales” (کلیسیائی حمدو ثنا کےگیت)اور کیٹی کیزم کو گایا کرتے تھے، اور اِس کی معقول وجہ بھی تھی، کیوں کہ گیت اِن نئی کلیسیاؤں میں تعلیم دینے کا ایک نہایت مؤثر ذریعہ تھے۔
موسیقی آج بھی مسیحی رفاقت میں ہماری رُوحانی تشکیل کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ سینٹ اینڈریوز چیپل میں، آر۔ سی۔ سپرول اکثر صرف عبادت میں شریک ہونے پر اِکتفا نہیں کرتے تھے، بلکہ عبادت کے پس منظر اور مقصد کی بھی وضاحت کیا کرتے تھے۔ کسی گیت کے بعد وہ اکثر پوچھتے: ” کیا آپ جانتے ہیں کہ ابھی آپ کیا گا رہے تھے؟“ اُن کے نزدیک گانا خدا کے کلام کو دل و دماغ میں جذب کرنے کا ایک نہایت مؤثر ذریعہ تھا۔
کرسمس کے گیتوں میں عِلمِ اِلٰہی کس طرح نمایاں ہوتا ہے؟ آئیے، اِس کی چند مثالوں پر غور کرتے ہیں:
”دُنیا خوشی منائے، خداوند آ گیا ہے“
یہ گیت LOWELL MASON کی مرتب کردہ دُھن ANTIOCH پر گایا جاتا ہے، جسے اُس نے جارج فریڈرک ہینڈل کی موسیقی سے ماخوذ کر کے ترتیب دیا تھا۔ آئزک واٹس کے اِس کلام میں خدا کے جلال، حاکمیت، قدُّوسیت، سچائی اور فضل جیسے بنیادی اِلٰہیاتی موضوعات بیان کئے گئے ہیں۔ یوں یہ گیت خدا کی صفات کا ایک جامع بیان پیش کرتا ہے، جس سے ہر واعِظ اپنے وعظ میں اِقتباس کر سکتا ہے۔
”اَے عمانوایل، آ، آ“
یہ گیت "VENI EMMANUEL” نامی دُھن پر گایا جاتا ہے، جو قدِیم کلیسیائی نغم (Plainsong) کی ایک دُھن ہے۔ اِس گیت میں عمانوایل کی آمد کے لئے نہایت پُرسوز اِلتجا کی گئی ہے۔ اِس کا آغاز یسعیاہ کی نبوت سے ہوتا ہے، اور پھر متعدد بائبلی حوالوں کے ذریعے یسوع مسیح کی فطرت اور اُس کی آمد کے مقصد کو بیان کیا جاتا ہے۔
” میرے لوگوں کو تسلی دو، تسلی دو“
یہ گیت "THIRSTING” نامی دُھن پر گایا جاتا ہے، جسے جنیوا زبورنامے کے موسیقار Louis Bourgeoisنے ترتیب دیا تھا۔ اِس کی بنیاد یسعیاہ 40:1-2 پر ہے۔ سترھویں صدی میں Johannes Olearius کے تحریر کردہ اِس کلام میں خدا کے کلام کی نبوتی قدرت اور نجات دِہندہ کو بھیجنے میں خدا کے مقصد سے متعلق مسیحی تعلیم پیش کی گئی ہے۔
”اَے بیت لحم کے چھوٹے سے شہر“
یہ گیت "ST. LOUIS” نامی دُھن پر گایا جاتا ہے، جسے L.H. Redner نے ترتیب دیا تھا۔ اُنیسویں صدی کا یہ گیت میکاہ 2:5 کی نبوت کی واضح تکمیل کو بیان کرتا ہے۔ 1868ء میں Phillips Brooks کے تحریر کردہ اِس کلام میں لوقا کی اِنجیل میں بیان کردہ یسوع مسیح کی وِلادت کے واقعے کو مفہوم کے ساتھ پیش کیا گیا ہے اور اِس کا چوتھا بند خوش خبری پر مبنی ایک واضح دُعا پر مشتمل ہے:
اَے بیت لحم کے مُقدّس فرزند،
ہم دُعا کرتے ہیں، ہمارے پاس آ،
ہمارے گناہ کو دُور کر، ہمارے اندر آ،
اور آج ہمارے اندر جنم لے۔ہم کرسمس کے فرشتوں کو
عظیم خوش خبری کا اِعلان کرتے ہوئے سُنتے ہیں،
اَے عمانوایل، ہمارے پاس آ،
اَے ہمارے خداوند، ہمارے ساتھ رہ۔
”اَے تُو، جو دولت مند تھا“
یہ گیت "QUELLE EST CETTE ODEUR AGREABLE” نامی فرانسیسی کرسمس گیت کی دُھن پر گایا جاتا ہے، جسے Charles H. Kitson نے ترتیب دیا، جبکہ اِس کا کلام Frank Houghton نے تحریر کیا۔
اَے تُو، جو ہر طرح کے حشمت وجلال سے بڑھ کر دولت مند تھا،
محبت ہی کی خاطر تُو غریب بن گیا،
تُو نے اپنے تخت کو چرنی کے لئے چھوڑ دیا،
اور نیلم سے آراستہ صحنوں کو اِصطبل کی زمین کے عوض ترک کر دیا۔اَے تُو، جو ہر طرح کی حمد و ستایش سے بلند خدا ہے،
محبت ہی کی خاطر اِنسان بن گیا،
تُو اِس قدر فروتن ہوا، تاکہ گنہگاروں کو اُٹھا کر
اپنے اَزلی منصوبے کے مطابق آسمان کی طرف لے جائے۔اَے تُو، جس کی محبت بیان سے باہر ہے،
اَے نجات دِہندہ اور بادشاہ، ہم تیری پرستش کرتے ہیں۔
اَے عمانوایل، جو ہمارے اندر سکونت کرتا ہے،
ہمیں ویسا بنا، جیسا تُو ہمیں بنانا چاہتا ہے۔
ہم کیوں کرسمس کے گیت گاتے ہیں؟ یقیناً اِس لئے کہ وہ ہمارے دلوں میں خوشی پیدا کرتے ہیں، یسوع مسیح کی ولادت اور زندگی کو یاد رکھنے میں ہماری مدد کرتے ہیں، اور ہماری رُوحانی تشکیل کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ کرسمس سے پہلے کے ایّام میں ہم مانوس حمدیہ گیتوں اور کرسمس کے گیتوں کے ذریعے تخلیق، جلال، مجسم ہونے اور کفارے جیسے بنیادی عقائد کا بار بار اِقرار کرتے ہیں۔ اِس عمل کے نتیجے میں ہمیں ترغیب ملتی ہے کہ ہم ہر روز مسیح کی خوش خبری کے مطابق اپنی زندگی بسر کریں۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔


