
ہم اپنے بپتسمہ کے مقصد کو زندگی میں کس طرح بہتر بناتے ہیں؟
03/11/2026
بُت پرستی سے کیا مُراد ہے؟
04/11/2026کیا یسوع مسیح ہمارے لئے نمونہ ہے؟
” اور تُم اِسی کے لِئے بُلائے گئے ہو کیوں کہ مسیح بھی تمہارے واسطے دُکھ اُٹھا کر تمہیں ایک نمُونہ دے گیا ہے تاکہ اُس کے نقشِ قدم پر چلو“(1۔پطرس 21:2)۔
ایک لحاظ سے اِس سوال کا جواب بہت آسان ہے۔ کیا یسوع مسیح ہمارے لئے نمونہ ہے؟ جی ہاں، یسوع مسیح ہمارے لئے نمونہ ہے۔ لیکن وہ صرف ہمارا نمونہ ہی نہیں، اور نہ ہی اُس کی پیروی کرنا ہمارے اِیمان کی بنیاد ہے۔
مسیح کا منفرد نجات بخش کام
پطرس رسول نے یہ لکھنے سے پہلے کہ مسیح ” تمہیں ایک نمُونہ دے گیا ہے“ پہلے یہ بیان کیا کہ ” مسیح نے تمہارے لئے دُکھ اُٹھایا ہے“ یعنی اُس نے ایسے انداز سے دُکھ اُٹھایا جس طرح ہم دُوسروں کی خاطر دُکھ نہیں اُٹھا سکتے۔ جب یسوع مسیح صلیب پر دُکھ اُٹھا رہا تھا، تو اُس نے ’’اپنے بدن پر ہمارے گناہوں کا بوجھ اُٹھا لیا“ اور اُسی کے مار کھانے سے ہم نے شفا پائی (1۔پطرس 24:2)۔ ہم ہی وہ تھے جو بھیڑوں کی مانند بھٹک گئے تھے، اور ہمارے لئے اُس کے منفرد نجات بخش کام نے ہمیں گناہ سے مخلصی بخشی، تاکہ ہم مُقدّس زِندگی بسر کریں (1۔ پطرس25:2)۔
اپنی زِندگی، موت اور قیامت کے ذریعے یسوع مسیح نے ہمارے لئے، یعنی اُن سب کے لئے جو اِیمان کے وسیلے سے اُس کے ساتھ متحد ہیں، وہ کام اَنجام دیا جو نہ ہم اپنے لئے کر سکتے تھے اور نہ ہی کسی اَور کے لئے۔ ہم اپنے ہم جنس گنہگاروں کو اُن کے گناہوں کے اَبدی نتائج سے مخلصی دِلانے کے لئے اپنی جان نہیں دے سکتے۔ لیکن یسوع مسیح، جو کامِل خدا اور کامل اِنسان ہے، صلیب پر گنہگاروں کی جگہ خود قربان ہوا۔ مسیح نے ہم، یعنی اپنے تمام اِیمان لانے والوں کے لئے دُکھ اُٹھایا۔
اَناجیلِ اَربعہ کا نقطۂ عروج یہ ہے کہ یسوع مسیح ہمارے لئے وہ کام اَنجام دیتا ہے جو ہم اپنے لئے کبھی اَنجام نہیں دے سکتے۔ اَناجیل کا پہلا اور بنیادی مقصد یہ نہیں کہ ہم یسوع مسیح کے کاموں کی نقل کریں، بلکہ جیسا کہ یوحنا نہایت واضح اَلفاظ میں لکھتا ہے، ہم یسوع مسیح پر اِیمان لائیں: ”لیکِن یہ اِس لئے لکھے گئے کہ تُم اِیمان لاؤ کہ یِسُوع ہی خُدا کا بیٹا مسیح ہے اور اِیمان لاکر اُس کے نام سے زِندگی پاؤ“(یوحنا 31:20)۔
شاگرد کی حیثیت سے مسیح کی پیروی کرنا
اَناجیلِ اَربعہ یسوع مسیح کے نقشِ قدم پر چلنے کی راہ نمائی سے کس قدر لبریز ہیں! اُس کے نجات بخش کام کا جوہر ایسا ہے کہ اُس جیسا کام کوئی اَور سراَنجام نہیں دے سکتا، لیکن اُس کی اِنسانی زِندگی، تعلیمات اور اَعمال ایسی بے شمار مثالوں سے بھرپور ہیں جن پر ہم عمل کر سکتے ہیں۔ ہماری طرح وہ بھی حقیقی اِنسان تھا، اور جسم اور خون میں زندگی گزارتے ہوئے، گنہگاروں کی مخالفت اور اِس برگشتہ دُنیا کے دباؤ کے باوجود، اپنے آسمانی باپ کو جلال دینے کی کوشش کرتا رہا۔ یسوع مسیح ایک طرف ہمارے گناہوں کا منفردکفارہ ہے اور دُوسری طرف مسیحی زِندگی گزارنے کے لئے ہمارا کامل نمونہ بھی ہے۔
یسوع مسیح نے خود بھی اپنے پیروکاروں کو دعوت دی کہ وہ اُس سے سیکھیں اور اُس کے نقشِ قدم پر چلیں۔ وہ متی 29:11 میں فرماتا ہے : ”میرا]ہلکا اور ملائم [جُوا اپنے اُوپر اُٹھا لو اور مجھ سے سیکھو“ ۔درحقیقت، یسوع مسیح کا ’’شاگرد‘‘ ہونے کا یہی مطلب ہے، کیوں کہ شاگرد وہ ہے جو اپنے اُستاد سے سیکھتا ہے۔اُس کے شاگرد وہ ہیں جو اُس سے سیکھتے اور اُس کی زِندگی اور تعلیمات کو اپنے لئے نمونہ بناتے ہیں۔چناں چہ، اپنی مصلوبیت سے ایک رات پہلے، جب یسوع مسیح نے اپنے شاگردوں کے پاؤں دھوئے، تو اُس نے فرمایا:” پَس جب مجھ خُداوند اور اُستاد نے تمہارے پاؤں دھوئے تو تم پر بھی فرض ہے کہ ایک دُوسرے کے پاؤں دھویا کرو۔ کیوں کہ مَیں نے تم کو ایک نمونہ دِکھایا ہے کہ جَیسا مَیں نے تمہارے ساتھ کِیا ہے تم بھی کِیا کرو“(یوحنا 14:13-15 )۔
اگرچہ ہم مسیح کی زِندگی اور موت کی نجات بخش اہلیت کو دُہرا نہیں سکتے، تاہم اُس نے اپنی کمر پر تولیہ باندھ کر خدمت کی ہو یا صلیب پر اپنا بدن قربان کر کے، اُس نے جس فروتنی اور خود کو قربان کرنے والی محبت کا مظاہرہ کیا، اُس کی پیروی ہم کر سکتے ہیں، بلکہ ضرور کریں گے۔
رسُول بھی ہمیں یہی نصیحت کرتے ہیں کہ ہم یسوع مسیح کو اپنا نمونہ بنائیں۔ پولُس رسول لکھتا ہے: ” وَیسا ہی مِزاج رکھّو جَیسا مسیح یسوع کا تھا “ پھر وہ مسیح کی فروتنی، صلیب اور قیامت کے جلال کے نمونے کو بیان کرتا ہے (فلپیوں 5:2-8)۔ اِسی طرح، یوحنا رسُول اپنے پہلے خط میں لکھتا ہے: ” جو کوئی یہ کہتا ہے کہ مَیں اُس میں قائِم ہُوں تو چاہئے کہ یہ بھی اُسی طرح چلے جِس طرح وہ چلتا تھا“(1۔یوحنا 6:2)۔
مسیح کے ہم میں بسنے والے رُوح کی قدرت
تو پھر، مسیحی ہونے کی حیثیت سے ’’دِین داری کی زِندگی‘‘ گزارنے کا کیا مطلب ہے؟ پولُس رسول 1۔تیمتھیس 16:3میں اِسے نہایت مؤثر انداز میں بیان کرتا ہے: جہاں وہ لکھتا ہے: ” اِس میں کلام نہِیں کہ دِین داری کا بھید بڑا ہے“ ۔ ‘ جی ہاں، دِین داری۔ اِس میں کیا کچھ شامل ہے؟ شاید ہم توقع کریں کہ اِس کے بعد نیکی کی صفات یا راست باز اَعمال کی ایک مختصر فہرست پیش کی جائے گی۔ لیکن اِس کے برعکس، پولُس رسول دِین دار مسیحی زندگی کے لئے مجسم خدا، یعنی یسوع مسیح، کے نمونے کو مرکزی حیثیت دیتا ہے۔ پھر وہ یسوع مسیح کے بارے میں ایک گیت پیش کرتا ہے:
وہ جو جِسم میں ظاہِر ہُوا
اور رُوح میں راست باز ٹھہرا
اور فرِشتوں کو دِکھائی دِیا
اور غَیرقَوموں میں اُس کی منادی ہُوئی
اور دُنیا میں اُس پر اِیمان لائے اور جلال میں اُوپر اُٹھایا گیا۔
کیا آپ جاننا چاہتے ہیں کہ دِین داری کیا ہے؟ تو یسوع مسیح کی طرف دیکھیں۔ وہ مجسم دِین داری ہے۔ اِسی لئے مسیحیوں نے دِین دار جذبات، اوصاف اور اَعمال کو اکثر ’’مسیح کی مانند ہونا (Christlikeness) ‘‘قرار دیا ہے۔ہمارے اِیمان کے مرکز میں اُس کا بے مثال نجات بخش کام ہے،جبکہ مسیحی زِندگی کے لئے اعلیٰ ترین نمونہ اُس کی وہ اِنسانی زندگی ہے، جس کی پیروی کی جا سکتی ہے۔
ہم اَناجیلِ اَربعہ کو پڑھتے اور یسوع مسیح کی زندگی کے ہر پہلو پر حیران رہ جاتے ہیں۔ ہم گنہگاروں کے لئے اُس کے بے مثال نجات بخش کام پر حیرت و تعظیم سے بھر جاتے ہیں، اور اُسے لوگوں سے میل جول رکھتے، دُعا کرتے، منادی کرتے، رحم و شفقت ظاہر کرتے، آرام کے لئے تنہائی اِختیار کرتے اور پھر فضل کی خدمت کے لئے واپس آتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ ہم اُس کی محبت، صبر اور حکمت پر غور کرتے ہیں، اور اُس کے ہم میں سکونت کرنے والے رُوح کی قدرت سے اُس کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔


