
محبت کی خصوصیات
17/09/2026مسیح یسوع کب مُوا ؟
ہر سال دُنیا بھر کے مسیحی عید ِ قیامت ( ایسٹر ) مناتے ہیں ، ایک ایسا تہوار جو کہ مسیح یسوع کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کی یاد میں منایا جاتا ہے ۔ناصرت کے یسوع کی موت صرف ایک مذہبی عقیدہ یا یاد گار واقعہ نہیں بلکہ ایک تاریخی حقیقت بھی ہے ۔پہلی اور دوسری صدی کے متعدد غیر بائبلی ماخذ/حوالہ جات میں بھی ناصرت کے یسوع کا ذکر ملتا ہے ، جیسے کہ( ٹیسیٹس Tacitus ، یوسیفس Josephus، فائلو Philoاور تالمود Talmud)۔
اگرچہ بائبل مقدس مصلوبیت کی کوئی تاریخ اس انداز میں بیان نہیں کرتی جس طرح ہم آج کے زمانے میں توقع کرتے ہیں ، تاہم اس کے وقت اور مقام کے بارے میں کوئی شک نہیں ۔اس تاریخی حقیقت کے پس منظر کو سمجھتے ہوئے ہم اُسی منطق سے اُس سوال کا جواب دیتے ہیں ،”کیا مسیح یسوع تین دن قبر میں رہے ؟”۔ناصرت کے یسوع کی تاریخی موت کو عموماً اس طرح سے جانا جاتا ہے کہ وُہ جمعہ کے دن ، ۳ اپریل ۳۳ عیسوی کو ، نویں گھنٹے یعنی ( دوپہر ۳ بجے) ، یروشلیم کے قریب گلگتا میں مصلوب ہوئے ۔ گلگتا، جس کا یونانی زبان میں مطلب ہے ،” کھوپڑی کی جگہ "، ایک ایسا مقام تھا جہاں پر رومی مجرموں کو مصلوب کیا جاتا تھا ۔
یسوع مسیح کی عوامی طور پر موت کی اہمیت پر غور کرنا چاہیے ۔انجیل مقدس کے بیانات یسوع مسیح کو قتل کرنے کی سازش اور اُس کے بدلے قیدی برابّا کی رہائی کو ظاہر کرتے ہیں، جسے عید فسح کے موقع پر معاف کر کے آزاد کر دیا گیا تھا (متی ۲۷؛ مرقس ۱۴-۱۵؛ لوقا ۲۳؛ یوحنا ۱۱: ۱۹)۔ پنطُس پیلا طُس نے جو کہ یہودیہ کا پانچواں گورنر تھا ،خواہ دباوٴ میں آ کر یا ساز باز کے تحت ، یسوع مسیح کو فوراً مصلوب کرنے کا حکم دیا ۔سزائے موت کا یہ طریقہ اس طرح سے وضع کیا گیا تھا کہ کوئی راز داری باقی نہ رہے اور نہ ہی موت کے بارے میں کسی فریب کی کوئی گنجائش ہو ، کیونکہ اِس میں مرنے تک طرح طرح کی اذیتیں دی جاتی تھیں اور سر عام اِس تماشے میں تحقیر اور رسوائی کے لیے ہجوم بھی شریک ہوتا تھا ۔
مزید برآں ، مسیح یسوع کی موت کا واقعہ قلم بند بھی کیا گیا ہے ، اور انجیل نویس اُن دو ڈاکووٴں کے اقوال بھی بیان کرتے ہیں جو اُس کے ساتھ مصلوب کیے گئے تھے ( دیکھیں متی ۲۷: ۳۸-۴۴؛ لوقا ۲۳: ۳۲-۴۳)۔مسیح یسوع کے آخری الفاظ بھی قلم بند کیے گئے ہیں جن میں یہ الفاظ شامل ہیں ،” تمام ہو ا” ، جو اُس نے بلند آواز سے پُکار کر کہے جب اُس نے” اپنی رُوح خُدا کے سُپرد کی "(یوحنا ۱۹: ۳۰؛ متی ۲۷: ۵۰)۔مرقس ایک اہم گواہ یعنی صوبہ دار کے ردعمل کو بھی قلم بند کرتا ہے جس نے دیکھا کہ ” اُس نے اس طرح جان دی ” اور کہا ،” بیشک یہ آدمی خُدا کا بیٹا تھا! ” (مرقس ۱۵: ۳۹)۔
بعض دلائل یسوع مسیح کی موت اور مُردوں میں سے جی اُٹھنے کی زمانی ترتیب Timelineپر اعتراض کرتے ہیں ،جن میں غشی کا نظریہ بھی شامل ہے جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ یسوع مسیح صلیب پر مَرا نہیں بلکہ صرف بے ہوش ہو گیا تھا ۔اگر چہ ، اس بات کو ممکن مان بھی لیا جائے ، پھر بھی وقت کی حقیقت ہمیں بتاتی ہے کہ کسی نہ کسی موقع پر ناصرت کا یسوع واقعی مَرا تھا۔تاریخی اور انجیلی بیانات صلیب پر اُس کی علانیہ موت کے وقت اور طریقہ کار کی اہمیت کو نمایاں کرتے ہیں ۔اگرچہ یسوع مسیح کی موت نہایت درد ناک تھی ، لیکن وُہ نہ تو حادثاتی تھی اور نہ ہی خُدا کی حاکمیت ِمُطلق سے باہر ؛ بلکہ، ” مسیح یسوع عین وقت پر بے دینوں کے لیے مَرا "(رومیوں ۵: ٦)۔
اس سے ہم سمجھتے سکتے ہیں کہ صلیب پر یسوع مسیح کی موت محض ایک جسمانی واقعہ نہیں تھی بلکہ وُہ ایک رُوحانی حقیقت کو بھی ظاہر کرتی ہے ۔اُس کی موت قربانی اور عہد کی موت کے طور پر یکتا تھی ۔یہی خوشخبری ہے ۔یسوع مسیح صرف ایک نیک انسان یا دانا اُستاد نہیں ؛ وُہ آخری آدم ہے ۔پولُس رسول بیان کرتا ہے ،”کیونکہ جس طرح ایک ہی شخص کی نافرمانی سے بہت سے لوگ گنہگار ٹھہرے اُسی طرح ایک کی فرمانبرداری سے بہت سے لوگ راستباز ٹھہرینگے "(رومیوں ۵: ۱۹)۔کیونکہ یسوع مسیح خُدا -انسان ہے ، جیسا کہ صوبہ دار نے بھی اقرار کیا ، اِس لیے اُس نے جسم میں جو قربانی پیش پیش کی وُہ اُن سب کے لیے ابدی اثررکھتی ہے جو اس کے ساتھ متحد ہیں ۔
ناصرت کے یسوع کی موت بہت سے دوسرے سوالات کو جنم دیتی ہے جیسا کہ : یسوع کون ہے ؟دُنیا آج تک اُس کی موت کا ذکر کیوں کرتی ہے ؟تمام جاندار موت کے تابع کیوں ہیں ؟بائبل مقدس اِن تمام سوالات کے جوابات دیتی ہے اور ہمیں اپنی موت پر بھی غور کرنے میں مدد دیتی ہے ۔صلیب کی تصویر ، ہمیں اِس بات کو سمجھنے میں مدد کرتی ہے کہ اگرچہ ایسا ممکن ہے کہ ہم کبھی کسی عدالت میں جُرم کے مجرم قرار نہیں دیے گئے ہوں ، پھر بھی ہم موت کی سزا کے تحت ہیں ۔اگرچہ ہم اپنی فانی حالت کا انکار کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں ، لیکن موت کا اچانک خطرہ ہمیں زندگی کی کمزوری اور اِس کے انجام کے لیے پوری طرح تیار نہ ہونے کی اپنی بے بسی کا احساس دلاتا ہے ۔ہمیں بھی اپنے ساتھ ویسے ہی مخلص ہونا چاہیے جیسا کہ ہمارا خُدا ، ہمارا خالق ، ہمارے ساتھ مخلص رہا ہے :” گُناہ کی مزدوری موت ہے "(رومیوں ٦: ۲۳)۔ اسی لیے ہم مسیح کی موت پر شادمان ہوتے ہیں کیونکہ یہ یوں ہی واقع ہونا تھی ،”جو گُناہ سے واقف نہ تھا اُسی کو اُس نے ہمارے واسطے گُناہ ٹھہرایا تاکہ ہم اُس میں ہو کر خُدا کی راستبازی ہو جائیں "(۲ کرنتھیوں ۵: ۲۱)۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔


