مسیحی زِندگی میں اُمید کا کردار
25/06/2026
یسوع نے صعودِآسمانی سے قبل کیا وعدہ کِیا ؟
07/07/2026
مسیحی زِندگی میں اُمید کا کردار
25/06/2026
یسوع نے صعودِآسمانی سے قبل کیا وعدہ کِیا ؟
07/07/2026

 کیا خدا تمام مذاہب کی عبادت قبول کرتا ہے؟  

عصرِ حاضر میں، خدا پراِیمان  رکھنے والےاِس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ خدا تمام مذاہب کی عبادت قبول کرتا ہے، بشرطیکہ عبادت گزارمخلص ہو۔ تاہم، کلامِ مقدس میں اِس نظریے کی کوئی دلیل یا ثبوت موجود نہیں۔ دراصل، پیدائش سے لے کر مکاشفہ تک، کلامِ مقدس اِس کے قطعی برعکس حقیقت عیاں کرتا ہے۔ 

دس احکام میں،خدا سب سے پہلے حکم میں فرماتا ہے کہ ’’میرے حضور تُوغیر معبودوں کو نہ ماننا‘‘ (خروج ۲۰: ۳)۔وہ  قدیم مشرقی دُنیا جہاں بنی اسرائیل مقیم تھے، ہر قسم کے اجنبی مذاہب اور ’’دیوتاؤں‘‘ سے بھری پڑی تھی۔ خدا ئے واحد ایسے تمام اجنبی مذاہب کو مسترد کرتا ہے۔ کیوں؟ اِس لئے کہ اِن مذاہب کے’دیوتا‘ شیاطین ہیں، اور اِن شیاطین کی عبادت خدا کے نزدیک مکروہ ہے (احبار ۱۷: ۷؛ اِستثنا ۳۲: ۱۶- ۱۷)۔ پولُس رسول بھی عہدِ جدید میں یہی تعلیم دیتا ہے (۱-کرنتھیوں ۱۰: ۲۰)۔ 

اپنی آزمائش کے دوران میں، یسوع مسیح نے شیطان کو استثنا ۶: ۱۳ کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا، ’’تو خداوند اپنے خدا کو سجدہ کر اور صرف اُسی کی عبادت کر‘‘ (متی ۴: ۱۰)۔  یہ مذہبی اختصاصیت کا واضح اظہار ہے۔ تجسیمِ مسیح کے وقت، کلام خدا کے ساتھ تھا، کلام  ہی خدا تھا،  کلام مجسم ہؤا اور ہمارے درمیان رہا (یوحنا ۱: ۱، ۱۴)۔ اور  اب وہ خدا اور اِنسان کے بیچ میں ہمارا  درمیانی ہے (۱-تیمُتھیس ۲: ۵)۔ اُس کے سوا کوئی اَور  دوسرا نہیں۔ 

اگر خدا تمام مذاہب کی عبادت قبول کرتا، تو مسیح کے مجسم ہونے، اُس کی موت اور قیامت  کی کوئی ضرورت  ہی نہ ہوتی۔ 

خداوند یسوع مسیح نے خود مسیحیت کی اختصاصیت کو انتہائی واضح الفاظ میں بیان فرمایا کہ ’’راہ اور حق اور زِندگی مَیں ہوں۔ کوئی میرے وسیلے کے بغیر باپ کے پاس نہیں آتا‘‘ (یوحنا ۱۴: ۶)۔  ’’کوئی نہیں‘‘ کا مطلب قطعاً، کوئی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پطرس نے، روح القدس سے معمور ہو کر، یسوع مسیح کےمتعلق برملا  اعلان کیا کہ ’’کسی دوسرے کے وسیلے سے نجات نہیں، کیوں کہ آسمان کے تلے آدمیوں کو کوئی دوسرا نام نہیں بخشا گیا جس کے وسیلے سے ہم نجات پا سکیں‘‘ (اعمال ۴: ۱۲)۔ وہ  لوگ جو نجات کے حقیقی متلاشی ہیں، اُن کے لئے مسیح کے سوا کوئی اَور مُنجی نہیں۔ 

اگر خدا تمام مذاہب کی عبادت قبول کرتا تو مسیح کے مجسم ہونے، اُس کی موت اور قیامت کی کوئی ضرورت ہی نہ ہوتی، کیوں کہ پہلی صدی سے ہی  دُنیا میں بے شمار مذاہب موجود تھے۔ مزید برآں، اگر خدا تمام مذاہب کی پرستش کو جائز قرار دیتا، تو ارشادِ اعظم  اور اقوامِ عالم میں بشارت کی بھی کوئی حاجب نہ رہتی۔ اگر خدا فی الواقع تمام مذاہب کی عبادت قبول کرتا ہے، تو وہ بشارت جس کا حکم یسوع نے صادر فرمایا، محض وقت کا ضیاع ہے۔ 

خدا اُس مذہب کے سوا، اَور کوئی مذہب قبول نہیں کرتا جو اُس نے خود اپنے فضل سے ہمیں مہیا کیا ہے۔ وہ اُن تمام مذاہب کو مسترد کرتا ہے، جو خالق کی عبادت کے بجائے، مخلوق کی عبادت کو ترجیح دیتے ہیں۔ خدا باطِل عبادت قبول نہیں کرتا۔ مگر   ایسے ایمان داروں کو ضرور قبول کرتا ہے، جو اپنے باطل مذاہب سے توبہ کر تے اور مسیح پر توکل رکھتے  ہیں۔


یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔