
اعمال کا عہد کیا ہے ؟
20/08/2026
جب میں اپنے آپ کو لاچار و بے بس محسوس کرتا ہوں
27/08/2026پاک ترین مکان
"تاکہ میں اُن کے درمیان سکونت کروں”(خروج ۲۵: ۸)۔اسرائیل کا خیمہ ِاجِتماع طرَز تعمیر کا ایک حیرت انگیز شاہکار تھا ۔اِس کا مقصد خُدا کی عظیم اور لامحدُود حضوری کو مُجسم کرنا تھا ۔جب تک یہ تعمیر نہ کیا گیا ، خُدا کی حضوری مختلف اوقات ، مختلف مقامات اور مختلف طریقوں سے ظاہر ہوتی رہی۔آدم اور حوّا کے لیے اُس نے اپنے آپ کو اُس وقت ظاہر کیا جب اُنہوں نے "اور اُنہوں نے خُداوند خُدا کی آواز جو ٹھنڈے وقت باغ میں پھرتا تھا سُنی”(پیدایش ۳: ۸)۔ابرہام پر اُس نے اپنے آپ کو ایک تنور جس سے دُھواں اُٹھتا تھا اور ایک جلتی ہوئی مشعل کے طور پر ظاہر کیا (پیدایش ۱۵: ۱۷)۔یعقوب پراُس نے اپنے آپ کو ایک ایسے شخص کے طور پر ظاہر کیا جس کے ساتھ یعقو ب نے کُشتی لڑی(پیدایش ۳۲: ۲۲-۳۲)۔مُوسیٰ پر اُس نے اپنے آپ کو اُس جلتی ہوئی جھاڑی میں ظاہر کیا جو بھسم نہ ہوتی تھی (خروج ۳: ۲)۔اور تمام بنی اسرائیل پر اُس نے اپنے آپ کو دن کے وقت بادل کے ستُون کی صُورت میں(۱۳: ۲۱-۲۲) ، اور بیابان کے سفر کے دوران گھنے بادل ، بجلی ، گَرج اور نرسنگے کی آواز کے ساتھ ظاہر کیا (خرُوج ۱۹: ۹، ۱٦)۔
لیکن خیمہ ِ اِجتماع کے ساتھ ایک نئی بات سامنے آئی ۔خُدا کی حضوری اب کسی ایسے مہمان کی مانند نہ تھی جو آتا اور چلا جاتا ، بلکہ ایک ایسے رہائشی کی طرح تھی جو اُن ہی کی مانند ، اُن ہی کے درمیان سکُونت پذیر ہو ۔پس ، خیمہ ِ اِجتماع اُس کا شاہی گھر تھا ، جس میں پردے میں دروازہ ، اُسے ڈھانپنے والے پردے ، روٹی کی میز ، روشنی کے لیے چراغ دان ، اور عہد کا صندُوق اُس کے شاہی پاوٴں کی چوکی کے طور پر موجود تھے ۔
اِس نئی بات کا ایک پہلو یہ تھا کہ اب عہد کے لوگ ، اپنے درمیان خُداوند کی حضوری سے اُس طرح لُطف اندوز ہوسکتے تھے جس طرح اُن کے باپ دادا نہ ہو سکے تھے ۔یہ بات آج کے مسیحیوں کے لیے بھی سبق آمُوز ہے ، کیونکہ خیمہِ اِجتماع ہمارے درمیان مُجسم خُدا کی سکُونت کی ایک مشابہت تھا :”اور کلام مُجسم ہوا اور فضل اور سچائی سے معمُور ہو کر ہمارے درمیان رہا ( لفظ ہمارے درمیان رہا کا ترجمہ خیمہِ اِجتماع کے طور پر ترجمہ کیا جا سکتا ہے )،اور ہم نے اُس کا ایسا جلال دیکھا جَیسا باپ کے اِکلوتے کا جلال”(یوحنا ۱: ۱۴)۔
خُدا کی حضوری سے لُطف اندوز ہونا صرف اُس کی اپنی شرائط پر ہی ممکن تھا ۔ اُس نے یہ شرائط موسیٰ پر ظاہر کرتے ہوئے فرمایا :”اور مسکن اور اُس کے سارے سامان کا جو نمونہ مَیں تُجھے دِکھاوٴں ٹھیک اُسی کے مطابق تُم اُسے بنانا”(خروج ۲۵: ۹)۔اس بیانان کی تفصیلی وضاحت (۲۵-۳۰ ابواب) ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ خُدا اپنے آپ کو ہم پر، اپنے لوگوں پر ظاہر کرتا ہے ، اور اُس کے کلام کے وسیلہ سے ہم اُس کے نزدیک جا سکتے ہیں اور اُس کو جان سکتے ہیں ۔جیسا کہ ہم اُن سب اَحکام کی پیروی کرتے ہیں جو خُداوند نے ہمیں اپنے کلام کے خادموں کے وسیلہ سے سکھائے جانے کا حکم دیا ہے ، اِس لیے ہمیں یقین ہے کہ وُہ ” دنیا کے آخر تک ہمیشہ ہمارے ساتھ ہے "( متی ۲۸: ۱۹-۲۰)۔
انسان خُدا کی حضور ی سے اُس وقت لُطف اندوز ہو سکتا تھا جب یہ اُس کے برگزیدہ خادموں یعنی کاہنوں کے ذریعے سے ظاہر اور مہیا کی جاتی تھی ۔خُداوند کی حضور ی کے خادم ہونے کے سبب، اسرائیل کے تمام لوگ اپنے تمام حواس کے ساتھ اُن (کاہنوں ) کے وسیلہ سے خُداوند کی حضوری کا تجربہ کر سکتے تھے ۔اُن کے لباس خُداوند کے جلال اور حُسن کو اُ س کے لوگوں پر ظاہر کرنے کے لیے تھے (خروج ۲۸: ۲)۔اور وُہ لوگوں کے اِرادی اور غیر اِرادی گُناہوں کے لیے قربانیاں گزارنتے تھے ،تاکہ اُن کے گُناہوں کا کفارہ اور تلافی ہو ، اور ساتھ ہی ساتھ وُہ اپنے خُدا کے فضل سے بھر پُور کاموں کے لیے شکرگزاری بھی پیش کریں (احبار ۱-۷)۔دراصل ، قربانی کے نظام کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ اُس میں لوگ خود بھی شریک ہوتے تھے ۔ لوگ قربانی کے لیے جانور خود لاتے تھے ،اپنے ہاتھ جانور کے سر کے اوپر رکھتے تھے ،اور اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے تھے ۔علاوہ ازیں ، اُس قربانی میں جو سلامتی کی قربانی کہلاتی تھی ، خُداوند اپنا حصہ مذبح پر قبول کرتا تھا ، کاہن اپنا حصہ حاصل کرتے تھے ، اور لوگ بھی اُس میں سے اپنا حصہ کھاتے تھے ( احبار۷: ۱۱-۱۸)۔
خُداوند نے اپنے لوگوں کو خیمہِ ِاِجتماع بخشا تاکہ اپنے کلام ، کاہنوں اور قربانیوں میں ظاہر ہونے والے فضل کے مقدس نشانات ، اور وہاں پیش کی جانے والی دُعاوٴں کے وسیلہ سے ، وُہ اپنے لوگوں کے درمیان فضل اور رحم کے ساتھ سکُونت کرے ۔حیرت انگیز طور پر ، وُہ آج بھی ہمارے درمیان سکُونت کرتا ہے (اِفسیوں ۲: ۱۸-۲۲)۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔




