
سولہویں صدی میں علم النجات کی اِصلاح
13/08/2026
اعمال کا عہد کیا ہے ؟
20/08/2026زیارت کے گیتوں کو کیسے پڑھیں؟
زبور کی کتاب کے پانچویں مجموعہ میں پندرہ ( ۱۲۰-۱۳۴) زبور ایسے ہیں جن کا عنوان ہے ” صعود کے گیت ” ۔ زیارت کے گیت ، یا ” صعود کے گیت ” کے طور پر یہ مجموعہ بنی اسرائیل کے مردوں اور عورتوں کے لیے گویا ایک پسندیدہ گیتوں کا مجموعہ تھا ، جسے وُہ عید فسح ، ہفتوں کی عید ، اور عید خیام کی تین سالانہ زیارتی عیدوں کے موقع پر یروشلیم جاتے وقت گایا کرتے تھے (خروج ۲۳: ۱۲-۱۷؛ استشنا ۱٦: ۱٦)۔
ایمان میں ہمارے باپ دادا کی طرح ، ہم بھی ایک رُوحانی سفر میں ہیں ۔ہمارا یہ سفر ہمیں اِس بگڑی ہوئی دُنیا سے اُس نئے یروشلیم کی طرف لے جاتا ہے ۔اِس دشوار اور اکثر خطرناک راستے میں ، زبور ہمیں حکمت بھری رہنمائی اور رُوحانی طور پر بھر پور غذا فراہم کرتے ہیں ۔اگر یہ زبور ہمارے رُوحانی سفر میں ہماری مدد کےلیے دیے گئے ہیں ، تو پھر ہمیں اِنہیں کیسے پڑھنا چاہیے ؟اچھی شروعات کرنے کےلیے پانچ اصُول ہماری مدد کر سکتے ہیں ۔
۱۔ ہر زبور کو بار بار پڑھیں اور اُس کی بنیادی ساخت اور ترتیب کا خاکہ مرتب کریں ۔
چونکہ یہ زبور عبرانی شاعری کے طور پر لکھے گئے ہیں ، اس لیے آپ کو اِس قسم کے ادب کی تفسیر کے اصُولوں سے شناسائی حاصل کرنی چاہیے ۔زبور کے مصروں کی بنیادی ساخت اور اُن کے باہمی تعلق کی تفہیم ، آپ کو ہر زبور کے بنیادی مفہوم کو سمجھنے کے لیے ایک اچھی رہنمائی فراہم کرے گی ۔اِن اصولوں کے مزید مطالعہ کے لیے میتھیو ایچ ۔پیٹن کے مضمون ” عبرانی شاعری کو کیسے پڑھیں ” کا مطالعہ کریں ۔
۲-اِن زبوروں میں استعمال ہونے والی تمثیلوں اور شبیہات کو سراہنا سیکھیں
جب آپ کسی تصویر / شبہہ کو بیان کریں تو آپ کو تین سوالوں کے جواب دینے کی ضرورت ہوتی ہے ۔اوّل ، زِیر بحث موضوع کیا ہے ؟ دوم، زبور نویس اس مضمون کو بیان کرنے کے لیے کون سی شبیہ استعمال کرتا ہے ۔سوم، یہ کہ مضمون اور شبیہ کے درمیان کیا مشابہت پائی جاتی ہے ؟
زبور ۱۳۳ میں دو نہایت موثرٴ تمثیلیں پائی جاتی ہیں جن کا مرکزی موضوع خُدا کے لوگوں کا اتحاد ہے ۔پہلی شبیہ تیل ہے ۔
دیکھو ! کیسی اچھی اور خوشی کی بات ہے
کہ بھائی باہم مل کر رہیں۔
یہ اُس بیش بہا تیل کی مانِند ہے جو سر پر لگایا گیا
اور بہتا ہوا داڑھی پر آ گیا
یعنی ہارون کی داڑھی پر آ گیا
بلکہ اُس کے پیراہن کے دامن تک جا پہنچا ۔ (زبور ۱۳۳: ۱-۲)۔
اگر موضوع ، اتحاد ہے اور تیل اس کی تمثیل ہے تو مشابہت کی مناسبت کیا ہے ؟ داوٴد جس تیل کا حوالہ دے رہا ہے وُہ مَسح کرنے والا مُقدس تیل ہے (خروج ۳۰: ۲۲-۳۸)۔یہ تیل نہایت خوشبو دار ہوتا تھا اور ایک دلکش خُوشبو چھوڑتا تھا ۔خُدا کے لوگوں کے درمیان یگانگت ، ایک مُعَطر اور خوش گوار ماحول پیدا کرتی ہے ۔
دوسری تمثیل ہے اوس :
یا حرمُون کی اوس کی مانِند ہے
جو صیون کے پہاڑوں پر پڑتی ہے
کیونکہ وہیں خُدا وند نے برکت کا
یعنی ہمیشہ کی زندگی کا حکم فرمایا ۔ (زبور ۱۳۳: ۳)
جس طرح شبنم گھاس کو تازگی اور نئی زندگی بخشتی ہے ،ویسے ہی جب ایمان دا ر، خُدا کے کام کے لیے ایک دل اور ایک جان ہوتے ہیں تو اُن کی روحیں تازگی پاتی ہیں ۔
۳-اِن زبوروں کو یسوع مسیح کے مکاشفہ کے طور پر پڑھیں
پہلی دو ہدایات ہم سے تقاضا کرتی ہیں کہ ہم ہر زبور کی ادبی خصوصیات پر توجہ مرکوز کریں۔تیسری ہدایت ، ہماری توجہ ادبی پہلو سے ہٹا کر الٰہیاتی پہلو کی طرف مبذول کرتی ہے ۔مسیح یسوع نے فرمایا:” ضرور ہے کہ جتنی باتیں مُوسیٰ کی توریت اور نبیوں کے صحیفوں اور زبور میں میری بابت لکھی ہیں پوری ہوں "(لوقا ۲۴: ۴۴)۔زبور مسیح یسوع کے بارے میں بیان کرتے ہیں ۔قارئین عموماً زبور کے بارے میں اِس خیال کو سمجھنے میں دِقت محسوس نہیں کرتے ، کیونکہ یسوع مسیح ہی کلام ِ مقدس کا مُبارک انسان ہے ۔ زبور ۲۲ کا ترک کیا ہوا شخص ، وہی ہے ۔وُہی زبور ۲۳ کا اچھا چرواہا ہے ۔
لیکن ہم زیارت کے زبوروں میں مسیح یسوع کو کہاں پاتے ہیں ؟ہم اُسے یروشلیم کی راہ پر ایک وفادار زائر کے طور پر یہ زبور گاتے ہوئے پاتے ہیں ۔۱۲ سال کی عمر سے، جب وُہ پہلی دفعہ عید فسح کے لیے یروشلیم گیا (لوقا ۲: ۴۱-۵۱)، نجات دہندہ باقاعدگی سے زیارت کے تہواروں کو مناتا رہا (یوحنا ۲: ۱۳؛ ٦: ۴؛ ۷: ۱-۲۴؛ ۱۳: ۱)۔جب اُس کی مصلوبیت کا وقت نزدیک آیا تو خُداوند نے عید فسح منانے کے لیے یروشلیم کا رُخ کیا (لوقا ۹: ۵۱)۔وُہ ایک ثابت قدم زائر تھا حالانکہ وُہ جانتا تھا کہ اُس کی وفاداری اُسے دُکھ اور موت کی راہ پر لے جائے گی (لوقا ۹: ۲۱-۲۲)۔جب آپ اِن زبوروں کو پڑھیں ، تو یہ سوال کریں کہ یسوع مسیح نے اُنہیں کس طرح گایا ہو گا ، یا یہ کس طرح آپ کی رہنمائی کرتے ہیں کہ آپ یسوع مسیح کے بارے میں گائیں ۔
۴۔ کسی زبور کے پس منظر کو سیکھنے کے بعد ، اُس کے عملی اِطلاق کی طرف متوجہ ہوں ۔
چوتھی ہدایت ادبی اور الٰہیاتی پہلووٴں سے آگے بڑھ کر ذاتی عملی زندگی کے مسائل پر توجہ مرکُوز کرتی ہے ۔اپنے آپ کو اُس اسرائیلی کے مقام پر رکھیں جو مقدس شہر کی طرف جا رہا ہے ، اور اپنے آپ سے یہ سوال کریں :
- میرے لیے ایک وفادار زائر بن کر نئے یروشلیم کی طرف سفر کرنے کا کیا مطلب ہے ؟
- میں اُن رُکاوٹوں کا سامنا کیسے کروں جو مجھے پیش آتی ہیں(زبور ۱۲۱: ۱) ؟
- میری زندگی میں عبادت کی اُمید اور خوشی بھرا جشن کیسا دکھائی دینا چاہیے ؟
۵-اِن زبوروں میں خُدا کے لوگوں کے اجتماعی کردار کو سراہنا سیکھیں۔
جب اسرائیلی عیدوں کے لیے یروشلیم جاتے تھے تو وُہ گروہوں کی صُور ت میں سفر کرتے تھے ۔مریم اور یوسف اُس وقت پریشان نہیں ہوئے ، جب ناصرت جاتے ہوئے واپسی پر اُنہیں معلوم ہوا کہ یسوع اُن کے ساتھ نہیں ہے ، کیونکہ اُنہوں نے سمجھا کہ وُہ قافلے کے دوسرے لوگوں کے ساتھ شمال کی طرف جا رہا ہو گا (لوقا ۲: ۴۳-۴۴)۔اگرچہ ہم میں سے ہر ایک زائر ہے ، مگر ہم یہ سفر اکیلے نہیں کرتے ۔ پس ہمیں چاہیے کہ ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کریں (زبور ۱۲۲: ۱)، اُن سب کی فلاح و بہبود کا خیال رکھیں جو ہمارے ساتھ سفر کر رہے ہیں (زبور ۱۲۲: ۸)، اِس بات کو محسوس کریں کہ ہم سب مُشکلات کا سامنا کرتے ہیں (زبور ۱۲۳: ۲-۴)،اور رفاقت کی خوشی سے لُطف اندوز ہونا سیکھیں (زبور ۱۳۳)۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔


