
زیارت کے گیتوں کو کیسے پڑھیں؟
18/08/2026
پاک ترین مکان
25/08/2026اعمال کا عہد کیا ہے ؟
اعمال کے عہد میں ، جسے کبھی کبھی تخلیق کا عہد یا زندگی کا عہد بھی کہا جاتا ہے ،خُدا نے آدم اور حوّا کو نیک و بَد کی پہچان کے درخت کا پھل کھانے سے منع فرمایا (پیدایش ۲: ۱۵-۱۷)۔اِس عہد کی کامل فرمانبرداری آدم اور حوّا کو زندگی میں قائم رکھتی ؛ وُہ خُداوند کے حضور راستباز ٹھہرائے جاتے اور اَبدی زندگی کے وارث بنتے۔
ہم آدم کے ساتھ کیے گئے عہد کو "اعمال کا عہد ” کہتے ہیں کیونکہ انسانی کوشش وُہ وسیلہ تھی جس کے ذریعے اِس برکت کو حاصل کرنا تھا ۔پھل دار ہونے ، زمین پر اِختیار رکھنے ، اور ممنوعہ درخت کا پھل کھانے سے باز رہنے کی صُورت میں فرمانبرداری کے یہ نیک اعمال ، آدم اور اُس کی نسل کے لیے ہمیشہ کی زندگی کے استحقاق کا باعث ٹھہرتے (پیدایش ۱: ۲۸؛ ۲: ۱۵-۱۷)۔
جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ آدم اور حوّا نے اعمال کے عہد کو توڑ دیا ، اور یوں اپنے آپ کو اور اپنی تمام نسل کو -سِوائے ایک کے یعنی مسیح یسوع ، گُناہ میں غرق کر دیا۔آدم میں ہم اعمال کے عہد کو پورا کرنے کی اپنی قدرت کو کھو بیٹھے (رومیوں ۳: ۹-۲۰)، لیکن اِس کا مطلب یہ نہیں کہ وُہ عہد منسُوخ کر دیا گیا تھا ۔ہم اب بھی اُس عہد کی شرائط کے پابند ہیں ، لیکن اپنی ناتوانی کے سبب ہماری واحد اُمید یہ ہے کہ کوئی دوسرا ہماری جگہ اس عہد کو پورا کرے(گلتیوں ۳: ۱۰-۱۴)۔
اپنے لوگوں کے لیے فردوس کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے ، مسیح یسوع کو دوسرا آدم بننا پڑا ۔یعنی اُسے ہماری مانند بن کر آنا پڑا تاکہ وُہ کامل طور پر خُدا کی فرمانبرداری کر سکے اور ہمارے نمائندے کے طور پر وہاں کامیاب ہو جہاں آدم ناکام ہوا تھا ۔پولُس اِس کی واضح تعلیم دیتا ہے (۱ کرنتھیوں ۱۵: ۴۵)،لیکن یہ بات اناجیل متوافقہ میں پائی جانے والی یسوع مسیح کی آزمائش کی روایات میں بھی مُضمر ہے ۔
اپنے بپتسمہ کے بعد ، مسیح یسوع کو بیابان میں لے جایا گیا ، جہاں مسیح یسوع کا سامنا اُس سے ہوا جس نے سانپ کے روپ میں آدم کو آزمایا تھا۔پہلے آدم کو اِس بات کے لیے آزمایا گیا کہ وُہ خُداوند کی ظاہر کردہ مرضی کی بجائے اپنی ہی حکمت پر تکیہ کرے۔اسی طرح سے دوسرے آدم کو بھی آزمایا گیا کہ وُہ خُدا کی مرضی کو ترک کر دے ،یعنی یہ کہ وُہ دُکھ اُٹھانے کے وسیلہ سے سانپ کو مغلوب کرے، جب شیطان نے اُسے یہ ترغیب دی کہ وُہ اپنی ضروریات غلط وقت پر پوری کرے یا بغیر کسی تکلیف کے فوراً اپنی بادشاہی میں داخل ہو جائے (متی ۴: ۱-۱۱)۔تاہم ، پہلے آدم کے برعکس ، مسیح یسوع شیطان کی آزمائش پر غالب آیا ، اور یوں صلیب پر اُس (شیطان ) کی حتمی شکست کے لیے راہ ہموار کی( کُلسیوں ۲: ۱۳-۱۵)۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔


