
جانفشانی اور سُستی و کاہلی
16/07/2026کیا کلیسیا رِیاکاروں سے بھری ہوئی ہے؟
تقریباً تیس برس قبل، میرے قریبی دوست اور خدمت گزار ساتھی، آرچی پیرش، جو اُس وقت فورٹ لاڈرڈیل میں "Evangelism Explosion” پروگرام کی قیادت کر رہا تھا، میرے پاس ایک درخواست لے کر آیا۔ اُس نے واضح کیا کہ ہزاروں بشارتی دَوروں کے دوران، جو اِی۔ ای کی ٹیموں نے کئے، وہ اُن جوابات کا باقاعدہ ریکارڈ محفوظ رکھتے تھے جو لوگ خوش خبری کی گفتگو کے جواب میں دیتے تھے۔ اُنہوں نے اُن سوالات اور اِعتراضات کو، جو مسیحی اِیمان کے بارے میں سب سے زیادہ کثرت سے پیش کئے جاتے تھے، یکجا کیا اور اِن سوالات اور اِعتراضات کو اُن دس موضوعات میں مرتب کیا جو سب سے زیادہ سامنے آتے تھے۔ ڈاکٹر پیرش نے مجھ سے دریافت کیا کہ کیا مَیں اُن اِعتراضات کے جوابات پر مشتمل ایک کتاب تحریر کروں تاکہ مبشرین اپنی بشارتی خدمت میں اُسے اِستعمال کر سکیں۔ اُس کاوِش کا نتیجہ میری کتاب ”اِعتراضات کے جو ابات“ کی صورت میں نکلا، جو اَب ”اِیمان لانے کی وجہ“ کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اُن دس بڑے اِعتراضات میں سے ایک نمایاں اِعتراض یہ تھا کہ کلیسیا رِیا کاروں سے بھری ہوئی ہے۔ اُس زمانے میں ڈاکٹر ڈی جیمز کینیڈی نے اِس اِعتراض کے جواب میں یوں کہا: ” فکر نہ کریں، ایک اَور کے لئے جگہ اب بھی موجود ہے “۔ اُس نے لوگوں کو خبردار کیا کہ اگر وہ کسی کامل کلیسیا کو پا لیں تو اُنہیں اُس میں شامل نہیں ہونا چاہئے، کیوں کہ اُن کا شامل ہونا اُس کی کاملیت کو مجروح کر دے گا۔
لفظ ”رِیا کار“ کی اِصطلاح یونانی ڈرامہ کی دُنیا سے ماخوذ ہے۔ یہ اِصطلاح اُن نقابوں کے لئے اِستعمال ہوتی تھی جو اداکار مختلف کرداروں کو پیش کرنے کے لئے اپنے چہرے پر پہنتے تھے۔ آج بھی تھیٹر کی علامت ہنسی اور اَلمیہ کے دو نقاب سمجھے جاتے ہیں۔ قدیم زمانے میں بعض اداکار ایک سے زیادہ کردار ادا کرتے تھے ا ور وہ اپنے چہرے پر مخصوص نقاب پہن کر ظاہر کرتے تھے کہ وہ اُس وقت کون سا کردار پیش کر رہے ہیں۔ یہی پس منظر اُس تصوُّر کی بنیاد ہے جسے ہم ’’رِیا کاری ‘‘ کہتے ہیں۔
لیکن یہ اِلزام کہ کلیسیا رِیا کاروں سے بھری ہوئی ہے، ظاہر ہے کہ سراسر غلط ہے۔ اگرچہ کوئی بھی مسیحی اِس زندگی میں تقدیس کی کاملیت تک نہیں پہنچتا اور ہم سب تاحال گناہ کی مسلسل جدوجہد میں مبتلا رہتے ہیں، تو بھی یہ حقیقت اِنصاف کے ساتھ رِیا کاری کا فیصلہ صادِر کرنے کا جواز فراہم نہیں کرتی۔ رِیا کار وہ شخص ہوتا ہے جو وہ کام کرتا ہے جن کے بارے میں وہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نہیں کرتا۔ جو لوگ مسیحی کلیسیا کا باہر سے مشاہدہ کرتے ہیں، وہ اُن لوگوں کو دیکھتے ہیں جو مسیحی ہونے کا اِقرار کرتے ہیں اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ وہ گناہ کرتے ہیں۔ چونکہ وہ مسیحیوں کی زندگیوں میں گناہ دیکھتے ہیں،اِس لئے وہ جلدی سے یہ فیصلہ کر لیتے ہیں کہ پس یہ لوگ رِیا کار ہیں۔اگر کوئی شخص اپنے بے گناہ ہونے کا دعویٰ کرے اور پھر گناہ کرے تو یقیناً وہ شخص رِیا کار ہے۔لیکن کسی مسیحی کا محض یہ ظاہر کرنا کہ وہ گنہگار ہے، اُسے رِیا کاری کا مجرم ثابت نہیں کرتا۔
متضاد منطق کچھ یوں بیان کی جاتی ہے: ’’ تمام رِیاکار گنہگار ہوتے ہیں ‘‘۔ یوحنا گنہگار ہے، لہٰذا یوحنا رِیا کار ہے۔ جو کوئی منطق کے قوانین سے واقف ہے وہ جانتا ہے کہ یہ قیاسی اِستدلال دُرُست نہیں۔ اگر ہم اِس اِلزام کو کہ ”کلیسیا رِیا کاروں سے بھری ہوئی ہے“ سے تبدیل کر کے یہ کہہ دیں کہ ”کلیسیا گنہگاروں سے بھری ہوئی ہے“ تو ہم فوراً اِقرارِ جرم کر لیں گے۔ کلیسیا وہ واحد اِدارہ ہے جسے مَیں جانتا ہوں اور جو اپنی رُکنیت کے لئے گنہگار ہونے کے اِقرار کو لازم قرار دیتا ہے۔ کلیسیا گنہگاروں سے بھری ہوئی ہے، کیوں کہ کلیسیا وہ مقام ہے جہاں اپنے گناہوں کا اِقرار کرنے والے گنہگار اپنے گناہوں سے نجات پانے کے لئے آتے ہیں۔ پس اِس معنی میں محض یہ بات کہ کلیسیا گنہگاروں سے بھری ہوئی ہے، اِس نتیجے کو دُرُست ثابت نہیں کرتی کہ کلیسیا رِیا کاروں سے بھری ہوئی ہے۔ ایک بار پھر، ہر قِسم کی رِیا کاری گناہ ہے، لیکن ہر گناہ رِیا کاری کا گناہ نہیں ہے۔
جب ہم نئے عہد نامے کے زمانے میں رِیا کاری کے مسئلے پر نظر ڈالتے ہیں تو ہم اُسے سب سے زیادہ نمایاں طور پر اُن لوگوں کی زندگیوں میں دیکھتے ہیں جو اپنے آپ کو سب سے زیادہ راست باز قرار دیتے تھے۔ فریسی ایک مذہبی فرقہ تھا جو اپنی تعریف کے مطابق اپنے آپ کو لوگوں کی عام گناہ آلود زِندگی سے الگ اور بر تر تصوُّر کرتا تھا۔ اُنہوں نے اچھے انداز سے اِبتدا کی اور وہ خدا کی شریعت کے تابع رہتے ہوئے دِین داری اور خدا پرستی کی زندگی کے طالب ہوئے۔ تاہم جب اُن کا طرزِ عمل اُن کے مقررہ معیار تک نہ پہنچ سکا تو وہ رِیا کاری میں مبتلا ہونے لگے۔ اُنہوں نے اپنے آپ کو اُس سے زیادہ راست باز ظاہر کیا جتنا وہ حقیقت میں تھے۔ اُنہوں نے ظاہری راست بازی کا ایک لبادہ اوڑھ لیا، جو محض اُن کی زندگیوں میں موجود گہرے بگاڑ کو چھپانے کے لئے تھا۔
اگرچہ کلیسیا رِیا کاروں سے بھری ہوئی نہیں ہے، تاہم اِس حقیقت کی تردِید نہیں کی جا سکتی کہ رِیا کاری ایک ایسا گناہ ہے جو نئے عہد نامے کے فریسیوں تک محدود یا محصور نہیں رہا۔ یہ وہ گناہ ہے جس کا سامنا مسیحیوں کو کرنا پڑتا ہے۔ کلیسیا کے لئے رُوحانی اور راست باز طرزِ عمل کا ایک بلند معیار مقرر کیا گیا ہے۔ ہم اکثر اِن بلند مقاصد تک نہ پہنچنے کی اپنی ناکامی پر شرمندگی محسوس کرتے اور اِس طرف مائل ہو جاتے ہیں کہ یہ ظاہر کریں گویا ہم راست بازی کے اُس بلند معیار تک پہنچ چکے ہیں جسے ہم نے حقیقت میں حاصل نہیں کیا۔ جب ہم ایسا کرتے ہیں تو ہم رِیا کاری کا نقاب اوڑھ لیتے اور اِس مخصوص گناہ کے سبب سے خدا کی عدالت کے نیچے آ جاتے ہیں۔ جب ہم اپنے آپ کو اِس قسم کی رِیا کاری میں اُلجھا ہوا پاتے ہیں تو ہمارے ذہن میں خطرےکی گھنٹی بجنی چاہئے، تاکہ ہم فوراً مسیح اور اُس کی صلیب کی طرف واپس آئیں اور یہ سمجھیں کہ ہماری حقیقی راست بازی کہاں موجود ہے۔ ہمیں مسیح میں کسی ایسے نقاب کو تلاش کرنے کی ضرورت نہیں جو ہمارے چہرے کو چھپا لے، بلکہ ہمیں ایک مکمل لباس پہننا ہے جو اُس کی راست بازی ہے۔ در حقیقت،صرف مسیح کی راست بازی کے لبادے میں، جو اِیمان کے وسیلے سے حاصل ہوتا ہے، ہم میں سے کوئی بھی پاک خدا کے حضور کھڑے ہونے کی اُمید رکھ سکتا ہے۔ اِیمان کے ساتھ مسیح کے لباس کو اوڑھنا رِیا کاری کا عمل نہیں ، بلکہ یہ مخلصی کا عمل ہے۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔


