
محبت کا محرک
14/07/2026جانفشانی اور سُستی و کاہلی
جب ہم سولہویں صدی کی پروٹسٹنٹ اصلاحِ کلیسیا کی لازوال میراث پر غور کرتے ہیں، تو کئی باتیں ہمارے ذہن میں آتی ہیں جیسا کہ صرف اِیمان کے وسیلے سے راست باز ٹھہرایا جانا جو صرف مسیح کے ذریعے سے، صرف خدا کے کلام کے مطابق اور صرف خدا کے جلال کے لئے ہے۔لیکن اِصلاحِ کلیسیا کا ایک اَور سنگِ میل بھی ہے جسے ہم اکثر نظرانداز کر دیتے ہیں۔ مگر اِسے پروٹسٹنٹ محنت کی اخلاقیات میں محفوظ کیا گیا ہے۔ اب یہ اِصطلاح دیگر مقولوں سے منسوب ہو چکی ہے جیسا کہ ’’دیانت دارانہ محنت کے بدلے، دیانت دارانہ معاوضہ ۔‘‘ لیکن اِسے ’’پروٹسٹنٹ محنت کی اخلاقیاتِ ‘ اِس لئے کہا جاتا ہے، کیوں کہ ماہرِ اصلاحِ کلیسیا نے جس اِصطلاح کی وضاحت کی یا جسے دوبارہ قائم کیا، اُس کے مطابق ہر جائز کام (نہ کہ صرف مذہبی یا کلیسیائی کام) خدا کی جانب سے مقدس ٹھہرایا گیا ہے۔ مختصراً یہ کہ ماہرِ اِصلاح کلیسیا نے اِنسانی محنت کی عظمت کے بائبلی تصور کو دوبارہ زِندہ کیا ہے ۔
کلامِ مقدس میں اِنسانی محنت کی اہمیت کو سمجھنے کے لئے محض اُن معتدد اقتباسات پر غور کرنا ہی کافی ہے جو کاہلی اور سُستی کی مذمت سخت ترین الفاظ میں کرتے ہیں:جیسا کہ کلامِ خدا کے مطابق’’محنتی آدمی کا ہاتھ حکمران ہو گا۔ لیکن سُست آدمی باج گُذار بنے گا‘‘ (امثال ۱۲: ۲۴)۔ ’’ کاہل آدمی جاڑے کے باعث ہل نہیں چلاتا اِس لئے فصل کاٹنے کے وقت وہ بِھیک مانگے گا اور کچھ نہ پائے گا‘‘ (امثال ۲۰: ۴)۔ ’’کاہل کی تمنا اُسے مار ڈالتی ہے، کیوں کے اُس کے ہاتھ، محنت سے اِنکار کرتے ہیں‘‘ (امثال ۲۱: ۲۵)۔اسی طرح عہدِ جدید میں پولُس رسول کلیسیا کو لکھتا ہے کہ’’ جب ہم تمہارے پاس تھے اُس وقت بھی تم کو یہ حکم دیتے تھے کہ جسے محنت کرنا منظور نہ ہو وہ کھانے بھی نہ پائے۔ ہم سُنتے ہیں کہ تم میں بعض بے قاعدہ چلتے ہیں اور کچھ کام نہیں کرتے بلکہ اَوروں کے کام میں دَخل دیتے ہیں ۔ ایسے شخصوں کو ہم خداوند یسوع مسیح میں حکم دیتے اور نصیحت کرتے ہیں کہ چپ چاپ کام کر کے اپنی ہی روٹی کھائیں‘‘(۲۔تھسّلُنیکیوں ۳: ۱۰- ۱۲)۔ جیسا کہ اِن آیات سے ظاہر ہوتا ہے، ایک تندرُست شخص کا کام نہ کرنا کوئی معمولی گناہ نہیں۔ پولُس رسول اِس نقطے کو ۱-تیمُتھیُس ۵: ۸ میں مزید واضح کرتے ہوئے بیان کرتا ہے کہ ’’اگر کوئی اپنوں اور خاص کر اپنے گھرانے کی خبرگیری نہ کرے تو اِیمان کا مُنکر اور بے اِیمان سے بدتر ہے۔‘‘
پروٹسٹنٹ محنت کی اخلاقیات نہ صرف دیانت دارانہ محنت کی فضیلت پر زَور دیتی ہے بلکہ اِس محنت میں جانفشانی کی تاکید بھی کرتی ہے۔ امثال ۱۸: ۹ کے مطابق ’’ کام میں سُستی کرنے والا مُسرِف کا بھائی ہے۔‘‘ امثال کی پوری کتاب میں فقط محنت کرنے والے کی ہی نہیں، بلکہ اُس شخص کی تعریف کی گئی ہے جو جانفشانی سے کام کرتا ہے۔بالفاظِ دیگر، ہمیں اپنے کام میں اپنی بہترین صلاحیتوں اور بھرپور کاوشوں کو بروئے کار لانا چاہئے۔
مگر ہماری ایسی حالت ’’اِنسانی گراوٹ‘‘ کا نتیجہ ہی ہے، کیوں کہ بعض لوگ کاہل اور کام کرنےسے اِنکار کرتے ،اور دیگر اپنے کام میں سُستی اور لاپرواہی برتتے ہیں۔ گناہ بعض لوگوں کو اِس بات پر مائل کرتا ہے کہ وہ کام کو خود غرضی یعنی محض مالی نقطہ نظر سے دیکھیں۔باالفاطِ دیگر، لوگ اُس خدمت کی بہت کم پرواہ کرتے ہیں جو ہم خدا کے حضور، اُس کے جلال کے لئے پیش کر سکتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنے کام کو محض اپنی دولت کا حصول اور اپنی آسائشوں کا ایک ذریعہ سمجھتے ہیں۔
گناہ بعض لوگوں کو اُن کے کاموں میں اِس قدرگم کر دیتا ہے کہ وہ اپنے خاندان، یہاں تک کہ اپنی فلاح سے بھی غافل ہو جاتے ہیں ۔آج کے دور میں بہت سے لوگوں میں ہر وقت کام میں جتے رہنے کی ذہنیت، اپنے آپ کو اُس محنت و سرگرمی کے رُوپ میں پیش کرتی ہے جس کا مطالبہ کلامِ مقدس میں کیا گیا ہے۔ ۔ لیکن یہ محض خود فریبی ہے۔کیوں کہ، ہماری جانفشاں محنت کا ہرگز مقصد یہ نہیں کہ ہم اِسے اپنے خدا اور گھرانے کے حقوق کے مدِ مقابل کھڑا کر دیں ۔
گناہ بعض لوگوں کو اِس بات پر مائل کرتا ہے کہ وہ اپنے کام کی نوعیت کے باعث اپنے متعلق نہایت بلند خیالات (اور دیگر لوگوں کے بارے میں حقیرخیالات ) قائم کر لیتے ہیں۔ہم اپنی ثقافت میں پُرکشش اور نہایت شاندار ملازمتوں کے باعث اِس دھوکے میں مبتلا ہیں کہ ہم اپنے بہترعہدے کی وجہ سے فطرتاً دوسروں سے بہتر ہیں۔ ایسا طرزِ عمل اُن لوگوں کے کام، کردار اور وقار کے بارے میں تحقیر آمیز عدالت کا باعث بنتا ہے جن کے پاس ایسی پُرکشش ملازمتیں نہیں۔
آپ بطورِمسیحی،ملازمت کے حوالے سے ایسے مسخ شدہ تصورات سے خبردار رہیں، اور جب کبھی ایسے خیالات ظاہر ہوں تو آپ کو توبہ کرنی چاہئے۔ اِس لئے ، مسیحی نقطہ نظر کے مطابق محنت سے متعلق کسی بھی مباحثے میں سبت کا ذِکر ضرورکریں۔ پیدائش ۲: ۳ کے مطابق ’’خدا نے ساتویں دِن کو برکت دی اور اُسے مقدس ٹھہرایا، کیوں کہ اُس میں خدا ساری کائنات سے جسے اُس نے پیدا کِیا اور بنایا فارغ ہوا۔‘‘ جیسے ہم اپنی محنت و مشقت میں اپنے خالق کی عکاسی کرتے اور اُسے جلال دیتے ہیں، ویسے ہی ہمیں سبت کی پابندی کرتے ہوئے اُس کی عکاسی کرنی اور اُسے جلال دینا چاہئے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ہماری محنت اپنے درُست تناظر میں دِکھائی دیتی ہے۔ عبرانیوں کا مصنف اعلان کرتا ہے کہ مسیح ہی ہمارا حتمی آرام اور سبت ہے (عبرانیوں ۳: ۷-۴: ۱۰)۔ جب ہم اپنی محنت و مشقت سے کچھ دیر کے لئے وقفہ لے کر اپنے مسیح اور اُس کے اُن کاموں پر غورکرتے ہیں جو اُس نے ہماری خاطر اِنجام دئیے، تو ہمارا دِل حقیقی شکر گزاری سے ازسرِ نو بیدار ہوتا ، اور ہم اپنی زندگی اور محنت و مشقت کے متعلق اپنانظریہ مسیح پر مرکوز کرلیتے ہیں۔
پس، پروٹسٹنٹ محنت کی اِخلاقیات کے کیا مضمرات ہیں؟ سستی، بیکاری اور کاہلی درحقیقت خالق خدا کے خلاف اِنسانی بغاوت کے مظاہر اور اُس کے جلال کی توہین ہے۔
اگر ہم کام کے متعلق اپنے خیالات کو دُنیاوی سانچے میں ڈھلنے دیں گے، تو اِس بات کا قوی امکان ہے کہ ہم اپنے پیشے کو بطورِ’بت‘ استعمال کرنے لگیں ۔اِس لئے محض کام کرنا ہی کافی نہیں، بلکہ جانفشانی سے کام کرنا ضروری ہے ، اِس طرح ہم اپنی زِندگیوں میں نہ تو سُستی یا کاہلی کو جگہ دیں گے اور نہ ہی آدمیوں کو خوش کرنے والے بن سکیں گے۔
ہمیں کاہلی اور سُستی کے متعلق کلامِ مقدس کے اِن سخت الفاظ کو دِل سے قبول کرنا چاہئے۔کیوں کہ ہمیں اپنے کام اور دیگر تمام شعبوں میں، فقط خدا کے جلال کے لئے زِندگی بسر کرنی ہے۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔


