پانچ چیزیں جو آپ کوموسیٰ کے بارے میں جاننی چاہئیں
12/05/2026
اقرارِگناہ کیا ہے؟
19/05/2026
پانچ چیزیں جو آپ کوموسیٰ کے بارے میں جاننی چاہئیں
12/05/2026
اقرارِگناہ کیا ہے؟
19/05/2026

معافی کا یقین  کیا ہے؟

   دُنیا میں معتددایسے لوگ جومذاہب سے تو ناآشنا ہیں، مگررومن کیتھولک کلیسیا کے اِس روایتی جملے سے بخوبی واقف ہیں، ’’اَے باپ، مجھے برکت دے کہ مَیں اپنے گناہوں کا اقرار کر سکوں۔‘‘ ایک رُکنِ کلیسیا اِن کلمات کو   پاسبان کے سامنے اعتراف گاہ میں داخل ہوتے ہوئے ادا کرتا ہے۔اور یہ کلمات گناہ کی حقیقت اور فضل الہٰی کی ناگزیر ضرورت کا احاطہ کرتے ہیں۔ اقرارِ گناہ کے بعد اگلا قدم کیا ہوتا ہے؟ کلیسیائی خادِم اعتراف کئے گئے گناہوں کی فہرست کے جواب میں، توبہ کے مخصوص مراحل تجویز کرتا اور آخر میں معافی کا باضابطہ اعلان کرتا ہے۔ اگرچہ اصلاحی دستور بھی اقرار ِ گناہ اور حصولِ معافی کی اہمیت پر زَور ددیتا ہے، مگر بعض امتیازاتکے ساتھ۔

پہلا بنیادی امتیاز یہ ہے کہ ہم اپنے گناہوں کا اقرار کس سے کرتے ہیں۔ کیوں کہ کلامِ مقدس ہمیں تعلیم دیتا ہے کہ ’’خدا ایک ہے اور خدا اور اِنسان کے بیچ میں درمیانی بھی ایک یعنی مسیح یسوع جو اِنسان ہے‘‘ (۱۔تیمُتھیُس ۲: ۵)۔ اِس لئے ہمارا ایمان ہے کہ وہ واحد ہستی جو ہمارے گناہوں کے باعث پیدا ہونے والی دراڑ (تعلق کے بگاڑ) کو دُور کر سکتی ہے، وہ فقط مسیح ہے،نہ کہ کوئی اِنسانی کاہن یا پاسبان۔ ہم اپنے گناہوں کا اقرار براہِ راست خدا کے حضور  کرتے ہیں ،اور  اپنے سردار کاہن یسوع مسیح  کے نام سے معافی کی التجا کرتے ہیں ( عبرانیوں ۴: ۱۴-۱۶)۔  

دوسرا امتیاز یہ ہے کہ گناہوں کا اقرارکہاں یا کس جگہ پر کیا جانا چاہئے۔ اصلاحی دستور نے اعترافِ گناہ کے اِس عمل کو، جو رومن کیتھولک پاسبان کے سامنے الگ  اعتراف گاہ میں انجام پاتا تھا، وہاں سے نکال کر اجتماعی عبادت کے ایک مرکزی جُزو کے طور پر جماعت کے سامنے پیش کیا ہے۔ اگرچہ،صدیوں سے اِصلاحی طریقہ عبادت کی ایک نمایاں پہچان ’’پاکیزگی‘‘ کا ایک مخصوص حصہ رہا ہے۔ جس میں پہلے کلامِ مقدس کی تلاوت کی جاتی، لوگ اِس کلام کے جواب میں اپنے گناہوں کا اقرار کرتے، اور آخر میں پاسبان اُن تمام لوگوں کے لئے معافی کا اعلان کرتا ہے جو مسیح یسوع پر توکل رکھتے ہیں۔ 

مگراقرارِ گناہ کے اِس عمل کو اجتماعی عبادت کا لازمی حصہ کیوں بنایا گیا؟ گناہوں کا اقرار بظاہر  ایک شخصی اور نہایت پوشیدہ امر معلوم ہوتا ہے۔  شاید آپ بھی کسی ایسی کلیسیائی عبادت سے غیر مطمئن ہوں جہاں آپ کو گذشتہ ہفتے کے گناہوں کا براہِ راست اقرار  کرنے کی تاکید کی گئی ہو۔ عصرِ حاضر کی معتدد کلیسیاؤں نے کلامِ خدا کی تلاوت کرنے اور اقرارِ گناہ کے اِس عمل کو محض اِس لئے ترک کر دیا ہے تاکہ لوگ شرمندگی  کا شکار نہ ہوں۔ مگر اصلاحی  دستور ایک الگ راہِ عمل پر استقامت کے ساتھ قائم رہا ہے، جس  کی اصل وجہ عبادت کی بائبلی ماہیت سے مربوط رہنا ہے۔ 

عبادت دراصل خداوند کے ساتھ ایک ملاقات ہے، اور ایسا ناممکن ہے کہ ہم گناہ آلودہ لوگ  اُس پاک خدا کی حضوری میں داخل ہو سکیں۔ اِس لئے گناہوں کا اقرار اور مسیح یسوع کے وسیلے سے راست بازی، ہمارے لئے اِس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ اِنجیل کے بغیر عبادت کا تصور ناممکن ہے۔ مزید  یہ کہ،  عبادت کا مقصد مسیحی شناخت کی تشکیل کرنا اور اِسے استحکام بخشنا ہے۔ بطورِ مسیحی ہم بیک وقت گناہ گار بھی ہیں اور مُقدس بھی، اور ہمارے لئے یہ دونوں حقیقتیں اہمیت کی حامِل ہیں (۱۔یوحنا ۱: ۸-۹)۔  اجتماعی عبادت میں،  ہمارے لئے وہ لمحہ  نہایت پُرجوش اور رُوح پرور  ہوتا ہے جب  پاسبان اُس معافی کا اعلان کرتا ہے جو ہمیں مسیح یسوع میں حاصل ہے، اور یہ عمل ہم پر ہماری اصل پہچان کو نقش کر تا ہےکہ ہم فضل سے نجات یافتہ وہ گناہ گار ہیں جو خدا کی نگاہ میں برگزیدہ اور نہایت قیمتی ہیں۔ 

اِس نقطہ میں  ہم معافی کے متعلق  رومن کیتھولک اور اصلاحی نظریے کے مابین تیسرا بڑا امتیاز دیکھتے ہیں: یعنی جب ایک خادِم  گناہوں کی بخشش کا اعلان کرتا ہے، تو حقیقت میں کیا وقوع پذیر ہو رہا ہوتا ہے؟ ایک کلیسیائی پاسبان معافی کا اعلان کرتے ہوئے خود سے کوئی حکم یا فرمان جاری نہیں کرتا، بلکہ وہ فقط اُس سچائی کا اعلان کررہا ہوتا ہے جو بائبل کے مطابق پہلے سے  سچ ہے۔ اِس کے برعکس، ’’معافی‘‘ یعنی جو لاطینی لفظ  absolvereسے اخذ ہوا، جس کے معنی ’’آزاد کرنا‘‘ ہے، ایک ایسا عمل ہے جس میں  خادِم لغوی معنوں میں انسان کو اُس کے گناہوں کے جُرم سے آزاد کر دیتا ہے۔ مگر کلامِ خدا میں ہم دیکھتے ہیں کہ  انسانوں کے پاس گناہ معاف کرنے کا کوئی اختیار نہیں (مرقس ۲: ۷)، البتہ اُنہیں یہ اختیار ضرور دیا گیا ہے کہ وہ گناہوں کی معافی کی منادی کریں (اعمال ۱۳: ۳۸)۔ اِصلاحِ کلیسیا میں عبادت کے اِس خاص حصے میں پاسبان خدا کی جانب سے کھڑا ہوتا ہے، نہ کہ خدا کی جگہ پر ، اور اُس کے مُنہ سے ہم اپنے معاف کرنے والے اور رحیم خدا کے یہ الفاظ سُن رہے ہوتے ہیں: ’’پس اب جو مسیح میں ہیں اُن پر سزا کا حکم نہیں‘‘ (رومیوں ۸: ۱)۔ یہی وجہ ہے کہ  معتدد اصلاحی کلیسیاؤں میں معافی کے اعلان کے وقت بائبل مقدس کی کسی ایسی آیت کی تلاوت کی جاتی ہے جو اِنجیلی بخشش اور اُمید کی  وضاحت کرتی ہے۔  خدا کے اِسی کلام اور وعدہ میں ہمیں اپنی معافی کا کامِل تیقُن حاصل ہوتا ہے۔ 

اِس حقیقت کے پیشِ نظر ’معافی کا اعلان‘ اصلاحی طریقہ عبادت کے اہم ترین حصوں میں سے ایک ہے۔ گو کہ ہمارے گناہ ہمیں خاک میں ملا دیتے ہیں، مگر انجیل ہمیں سرفراز  کرتی ہے (زبور ۳۲: ۳-۵)۔ یہی ہماری اُمید کا سرچشمہ اور ہماری فرماں برداری کی قوت ہے۔ عبادت میں ہم  ’’خدا جو  فضل کا چشمہ ہے  ‘‘(۱۔پطرس ۵: ۱۰) سے ملاقات کرتے ہیں، یعنی تب وہ  ہم جیسے نااہل باغیوں کی طرف اپنا ہاتھ بڑھاتا ہے ، جیسا کہ داؤد کہتا ہے کہ وہ میرا ’’ سرفراز کرنے والا‘‘ (زبور ۳:۳) ہے۔ وہ ایسا خدا ہے جو ’’قہر کرنے میں دھیما ، شفقت اور وفا میں غنی ہے‘‘ (خروج  ۳۴:۶)۔  اجتماعی عبادت میں معافی کے اعلان کے وقت خدا کا رحم خاص ہم  پر عیاں ہوتا ہے۔ وہ لوگ جو مسیح پرتوکُل رکھتے ، اُن کے گناہ معافی کے اعلان سے قبل ہی بخش دئیے جاے ہیں اُس لمحے نہ تو ہمارے اندر فی‌الحقیقت کوئی تبدیلی واقع ہوتی ہے،اور نہ ہی ہمارے اور خدا کے درمیان تعلق کی حقیقت میں کوئی معروضی تبدیلی آتی ہے۔ اِس لئے ہم اپنی معافی کی حقیقت قبول کرنے کے بجائے،  اِسے فراموش کر دیتے ہیں، جس کے باعث ہم شک اور نافرمانی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ پس ’’ تیقُنِ معافی‘‘ ہمیں اِس امر کی ناگزیر یاد دہانی کرواتا ہے کہ بحیثیتِ خدا کی اُمت ہماری اصل پہچان کیا ہے: ’’پہلے تم کوئی اُمت نہ تھے مگر اب خدا کی اُمت ہو۔ تم پر رحمت نہ ہوئی تھی مگر اب تم پر رحمت ہوئی‘‘ (۱۔پطرس۲: ۱۰)۔


یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔

جونتھن کریوز
جونتھن کریوز
ڈاکٹر جونتھن لینڈرے کریوز، کلامازو میں کمیونٹی پریسبٹیرین چرچ کے پاسبان ہیں، جہاں وہ اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ وہ کئی کُتب کے مُصنف ہیں بشمول Hymns of Devotion, What Happens When We Worship, and The Character of Christ.