
پانچ چیزیں جو آپ کوپاکیزگی کے بارے میں جاننی چاہئیں
07/05/2026پانچ چیزیں جو آپ کوموسیٰ کے بارے میں جاننی چاہئیں
موسیٰ بائبل کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہے۔ اِس مضمون میں ایسی پانچ باتیں درج ہیں، جن سے شاید آپ واقف نہ ہوں:
۱۔ موسیٰ اپنے تینوں بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹاتھا۔
موسیٰ کی بہن عمر میں اتنی بڑی تھی کہ اُس نے (ٹوکرے میں رکھے) بچے کی نگرانی خود کی، تاکہ دیکھے اُس کے ساتھ کیا ہوتا ہے، اور بعد میں اُس نے فرعون کی بیٹی کے سامنے سفارش بھی کی (خروج ۲: ۱-۱۰)۔موسیٰ کا بھائی ہارون اُس سے عمر میں تین سال بڑا تھا (گنتی ۳۳: ۳۹؛ اِستثنا ۳۴: ۶ کا تقابلی مطالعہ)۔
۲۔ موسیٰ کی زندگی کے چالیس برس ،تین ادوار پر مشتمل ہیں۔
اگرچہ خروج ۲باب میں اِس کا ذکر نہیں ملتا، مگر اعمال ۷:۲۳ کے مطابق جب موسیٰ نے مصری کا قتل کیا ، تو اُس کی عمر چالیس برس تھی۔ اعمال ۷: ۳۰ کے مطابق جلتی ہوئی جھاڑی میں خدا کے ظاہر ہونے سے پہلے، موسیٰ نے چالیس برس بیابان میں بھیڑبکریاں چراتے ہوئے گزارے۔ پھر اِستثنا ۳۴: ۶ میں ہمیں پتا چلتا ہے کہ موسیٰ کا انتقال ۱۲۰ برس کی عمر میں ہوا تھا۔ اِس طرح موسیٰ نے چالیس برس مصر میں، چالیس برس بیابان میں بھیڑ بکریاں چراتے ہوئے، اور آخری چالیس برس بیابان میں بنی اسرائیل کی نگہبانی کرنے میں گزارے۔
۳۔ موسیٰ نے ایک کُوشی عورت سے بیاہ کیا (گنتی ۱۲: ۱)۔
ہم جانتے ہیں کہ اُنہوں نے مدیانی کاہن کی بیٹی، صفورہ سے شادی کی تھی (خروج ۲: ۱۶، ۲۱)۔ لیکن کیا گنتی ۱۲ باب میں مذکور کُوشی بیوی سے مُراد صفورہ ہی ہے؟ بعض مفسرین جیسے کہ آگسٹین اور کیلون کا مؤقف ہے کہ صفورہ اور کُوشی عورت ایک ہی خاتون تھی۔ جبکہ دیگر مفسرین کا خیال ہے کہ کُوشی خاتون اُس کی دوسری بیوی تھی، کیوں کہ ’کوش‘ سے مُراد ایتھوپیا لیا جاتا ہے۔ چونکہ بائبل خود اِس بارے میں مزید تفصیل فراہم نہیں کرتی، اِس لئے ہمیں اِسے غیر حتمی ہی رہنے دینا چاہئے۔
۴۔ موسیٰ تو ’’رویِ زمین کے سب آدمیوں سے زیادہ حلیم تھا‘‘ (گنتی ۱۲: ۳)۔
یہ بیان جو غالباً خود موسیٰ ہی کی طرف سے ہے، بظاہر ایک تضاد معلوم ہوتا ہے۔ کیا ایک حلیم یا خاک سار انسان اپنی حلیمی کے بارے میں لکھ سکتا ہے؟ نقاد علماء کا ماننا ہے کہ یہ موسیٰ کی تحریر نہیں۔ لیکن اگر اسے درُست طور پر سمجھا جائے، تو یہ تبصرہ سیاق و سباق کے لئے نہایت ضروری ہے۔ جب مریم اور ہارون نے موسیٰ کے حقِ قیادت پر حملہ کیا ، تو اُس نے غصے اور رنجش کے ساتھ جواب دینے کے بجائے خدا کو اپنے حق میں بولنے کا موقع دِیا۔ جیسا کہ کائیل اور ڈیلیٹز(Keil & Delitzsch) تفسیر میں بیان کیا گیا ہے،’’چونکہ وہ رویِ زمین کے سب آدمیوں سے زیادہ حلیم تھا ، اِس لئے اُس نے اپنے اوپر ہونے والے اِس حملے کو اطمینان کے ساتھ اُس دانا اور عادِل منصف خدا پر چھوڑ دیا، جس نے اُسے اِس عہدے کے لئے بلایا اور اہل بنایا تھا۔‘‘
۵۔ موسیٰ اور ایلیاہ یسوع کے ساتھ اُس پہاڑ پر تھے جہاں اُس کی صورت بدل گئی تھی (متی ۱۷: ۱-۸؛ مرقُس ۹: ۲-۸؛ لوقا ۹: ۲۸-۳۶)۔
یہ ایک بحث کا موضوع ہے کہ پرانے عہد نامے کی دیگر برگزیدہ ہستیوں کے بجائے صرف موسیٰ اور ایلیا ہ ہی یسوع کے ساتھ کیوں ظاہر ہوئے۔ بعض علماء کا خیال ہے کہ موسیٰ ’شریعت‘ اور ایلیاہ ’انبیاء‘ کی نمائندگی کرتا ہے، اوردونوں مل کر پورے عہدِ عتیق کی نمائندگی کرتے ہیں۔ لیکن دیگر علما کے مطابق موسیٰ اور ایلیاہ، پرانے عہد نامے میں معجزات کے دو بڑے اَدوار کی نمائندگی کرتے ہیں۔ مگر میرا ماننا ہے کہ موسیٰ اور ایلیاہ وہ دو شخصیات ہیں جنہوں نے کوہِ سینا پر خداوند سے ملاقات کی تھی۔ اِس لئے نہایت موزوں تھا کہ وہ یسوع کی ’صورت بدل جانے‘ کے وقت اُن سے ملاقات کریں، اور اُس کی مسیحانہ شناخت کی تصدیق کریں۔ فضل سے ہمارے لئے تیار کر رہا ہے۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔


