
پانچ چیزیں جو آپ کوگناہ کا مقابلہ کرنے کے لئے جاننی چاہئیں
05/05/2026
پانچ چیزیں جو آپ کوموسیٰ کے بارے میں جاننی چاہئیں
12/05/2026پانچ چیزیں جو آپ کوپاکیزگی کے بارے میں جاننی چاہئیں
۱۔ خدا کی پاکیزگی اہمیت رکھتی ہے۔
’’قدوس، قُدوس، قُدوس رب الافواج ہے‘‘ (یسعیاہ ۶: ۳؛ مزید دیکھیں مکاشفہ ۴: ۸)۔ جب یسعیاہ نبی کو خدا کے تخت کے سامنے پیش کیا گیا، تو آسمان پر یہی نعرہ گونج رہا تھا۔آسمانی مخلوقات خدا کی الہٰی فطرت اور اُس کی بے مثال پاکیزگی سے مرعوب ہو کر اُس کے حضور خوف میں کھڑی تھی۔ جب ہم قادرِ مطلق خدا کے حضور حاضر ہوتے اور اُسے ویسا ہی پاتے ہیں جیسا وہ ہے ، تو ہماری کیفیت بھی بالکل ایسی ہی ہوتی ہے۔ کیوں کہ اُس کے جلال کی روشنی میں ہمارا فطری بگاڑ نظر آنے لگتا ہے(یسعیاہ ۶: ۵)، جس سے ہمیں یقین ہو جاتا ہے کہ گناہ کی عدالت ہولناک اور اٹل ہے۔ لیکن حیرت انگیز اور یقینی طور پر، ایک پُر جلال نجات بھی اُس کی پاکیزگی سے صادر ہوتی ہے (یسعیاہ ۶: ۶-۷)۔
اکثر اوقات، خدا کی پاکیزگی غیر اہم معلوم ہوتی ہے، اور اُس میں بہت کم یا کوئی دلچسپی نہیں لی جاتی۔ جب ہم گناہ میں اندھے ہو جاتے ہیں، تو اُس کی پاکیزگی ہمارے لئے کوئی معنی نہیں رکھتی۔ مگر خدا پھر بھی قُدوس ہی رہتا ہے، اور اُس کے تمام کام اُس کی پاکیزگی کے مطابق ہیں، خواہ وہ تخلیق ہو، نجات ہو یا عدالت۔ اُسے تسلیم کیا جائے یا نہ کیا جائے، اُس کی پاکیزگی سب کے لئے اہمیت رکھتی ہے، کیوں کہ سب اُس سے مُتاثر ہوں گے ، یا تو گناہ کی سزا کی صورت میں جب خدا عدالت کرے گا، یا پھر یسوع مسیح یعنی اُس ’’راست باز اور قُدوس‘‘(اعمال ۳: ۱۴) کے فضل میں نجات کی صورت میں۔
۲۔ نجات کے لئے پاکیزگی اہم ہے۔
ہمیں خدا کے ساتھ چلنے اور اُس کی عدالت کی تیاری کے لئے پاکیزگی کی ضرورت ہے۔ گناہ کی آلودگی کا مطلب ہے کہ ہم اپنی مدد آپ کے تحت پاکیزگی حاصل نہیں کر سکتے۔ لیکن ہمارے لئے خوش خبری ہے کہ خدا ہمیں اپنی پاکیزگی میں شامل کرنا اور روح القدس کے ذریعے سے ہمارے اندر کام کرنا چاہتا ہے (رومیوں ۱۵: ۱۶)۔ اِس کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ ہم ، ’’سب کے ساتھ میل ملاپ رکھنے اور اُس کی پاکیزگی کے طالب رہیں جس کے بغیر کوئی خداوند کو نہ دیکھے گا‘‘ (عبرانیوں ۱۲: ۱۴)۔ یعنی ہم پاکیزگی میں ترقی کریں ۔ خدا ہمیں پاکیزگی عطا کرتا ہے، لیکن ہمیں خود بھی پورے دِل سے اُس کے طالب ہونا ہے تاکہ وہ ہمارے اندر کام کرے۔ اِس کے لئے لازِم ہے کہ ہم خدا کو خوش کریں، کیوں کہ فقط خدا ہی ہمیں نیّت اور قوت عطا کرسکتا ہے (فلپیوں ۲: ۱۲۔ ۱۳)۔ یعنی ہم اپنے گناہوں کا اقرار کریں، اُن سے کنارہ کریں، اور خدا کی راست باز راہوں کی پیروی کریں۔ خدا بطورِ باپ ہمارا خیال رکھتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ ہم اُس کے ساتھ شخصی تعلق قائم کریں ، تاکہ ہم جب چاہیں، آزادی کے ساتھ اپنی ہر ضرورت کے لئے اُس کے پاس جا سکیں۔ اگرچہ ہم اکثر اُسے مایوس کرتے ہیں، لیکن ہم یہ جان کر حوصلہ رکھ سکتے ہیں کہ جو کام اُس نے شروع کیا ہے وہ اُسے پورا بھی کرے گا (فلپیوں ۱: ۶)۔
۳۔ پاکیزگی نجات کی بنیاد ہے۔
ہماری نجات میں خدا کی پاکیزگی کا کلیدی کردار ہے، جسے ہم اکثر نظرانداز کر دیتے ہیں۔ مسیح میں خدا کی پاکیزگی جہاں ہمارے گناہوں کو بےنقاب کرتی ہے، وہاں ہمیں اِن گناہوں سے نجات بھی دیتی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہےکہ خدا کی پاکیزگی ہی ایک مسیحی کی نجات کا ضامن ہے (یسعیاہ ۶: ۱۔ ۷؛ زکریاہ ۳ باب؛ رومیوں ۵: ۱۰)۔
کلامِ مقدس میں مسیح کی زندگی، موت ، قیامت اور نئی پیدائش کے واقعات ہمیں مزید یقین دلاتے ہیں کہ خدا کی پاکیزگی مسیحی نجات کی بنیاد ہے۔ زبور ۱۶: ۱۰ میں زبور نویس مسیح کی زندگی اور موت میں خدا کی پاکیزگی کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتا ہے کہ ’’تو نہ میری جان۔۔ اور نہ اپنے مُقدس کو سڑنے دے گا۔‘‘ اُس کا مُردوں میں سے جی اُٹھنا( قیامت )’’پاکیزگی کی روح کے اعتبار سے‘‘ تھا(رومیوں ۱: ۴)۔ ہم خدا کے رُوح القدس کے وسیلے سے نئے سِرے سے پیدا ہوئے ہیں (یوحنا ۳: ۵۔۸)۔ خدا کی پاکیزگی ہماری نجات کے تمام اہم عناصر یعنی ہر ایک پہلو میں نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ اِس لئے یسوع مسیح میں خدا کے فضل کی بدولت ہم کہہ سکتے ہیں کہ خدا کی پاکیزگی ہی ہماری نجات ہے۔
۴۔ پاکیزگی کا مطلب دوسروں کے سامنے’’پارسا‘‘ بننا نہیں۔
انگریزی محاورہ’’ آپ سے مُقدس ‘‘ایسے شخص کے لئے استعمال ہوتا ہے جو اپنے پڑوسی کے سامنے خود کو اخلاقی طور پر برتر ظاہر کرتا ہے۔ یہ پاکیزگی نہیں بلکہ اُس کا متضاد ہے۔ انسان میں پاکیزگی کا مطلب خدا کی صورت پر بننا ہے، جیسا یسوع نے ظاہر کِیا کہ ’’مَیں حلیم ہوں اور دِل کا فروتن‘‘(متی ۱۱: ۲۹)۔ مسیح جو پاکیزگی میں کامِل ہے وہ ہمارے لئے پست ہو گیا اور صلیب پر لعنتی بنا۔ اُس نے ہمارے گناہوں کا بوجھ اپنے اُوپر لے لیا۔ مسیح کی تعلیمات پر وفاداری سےعمل کرنے کا مطلب ہے کہ آپ دوسروں کے ساتھ تعلق میں تکبر کی بجائے انکساری اختیار کریں (لوقا ۱۴: ۱۰-۱۱؛ ۲۲: ۲۴-۳۰؛ یوحنا ۱۳: ۱۴-۱۷؛ ا۔پطرس ۵: ۶)۔
’’خود کو دوسروں سے بہتر یا پارسا‘‘خود راستبازی ‘‘ کی علامت ہے۔ فریسی اور محصول لینے والے کی تمثیل(لوقا ۱۸: ۹- ۱۴) میں ریاکار فریسی سمجھتا تھا کہ وہ خدا کے قریب ہے لیکن اپنے پڑوسی کے مقابلے میں خود کو اخلاقی طور پر برتر خیال کرتا تھا۔ فریسی خدا کا شکر کرتا ہے کہ وہ محصول لینے والے کی مانند نہیں ، لیکن محصول لینے والا خدا سے رحم کی درخواست کرتا اور راست باز ٹھہر کر اپنے گھر جاتا ہے۔ پاکیزگی کا اظہار اخلاقی اوصاف کے ذریعے سے ہوتا ہے، بالکل ویسے ہی جیسے مسیح نے مثالوں سے بتایا اور سکھایا کہ روحانی تکبر کے ساتھ نہیں بلکہ عاجزی و فروتنی کے ساتھ رہنا ہے۔
۵۔پروردگاری کا مقصد مسیحیوں کی پاکیزگی میں نشوونما ہے۔
خدا کی منکشف مرضی یہ ہے کہ اُس کے فرزند پاکیزگی میں اُس کی مانند بنیں۔ اُس نے اپنی پروردگاری اِس طرح ترتیب دی کہ وہ ہمیں اپنی پاکیزگی عطا کرے ، اور ہم اُس میں بڑھنے اور نشوونما پانے کے قابل بنیں۔ خدا اپنی پروردگاری میں ہمیں یسوع مسیح پر ایمان لانے کی طرف مائل کرتا اور ہمارے گناہوں پر تنبیہ کرتا ہے تاکہ ہم اُس کی پاکیزگی میں شامل ہو سکیں۔ اگرچہ اُس کی تنبیہ غم کا باعث معلوم ہوتی ہے مگر بعد میں راست بازی کا پھل بخشتی ہے (عبرانیوں ۱۲: ۱۰۔۱۱)۔ وہ ہمیں اپنا پاک روح، پاک بائبل اور کلیسیا جسے وہ پاک کہتا ہے، عطا کرتا ہے تاکہ ہم پاکیزگی کی راہ کے بارے میں سیکھ سکیں۔ خدا نے ہفتے کی دِنوں کی ترتیب بھی ہماری پاکیزگی میں ترقی کے لئے بنائی، ’’یاد کر کے تُو سبت کا دِن پاک ماننا‘‘ (خروج ۲۰: ۸)۔ یہ وہ دِن ہے جسے اُس نے خود مُقدس ٹھہرایا (خروج ۲۰: ۱۱)۔ خداوند کے دِن کے بارے میں اُس کے کلام پر عمل کرنے سے ہم آنے والے ہفتے کے لئے روحانی قوت پاتے ، اور اُس مقدس شہر کی طرف بڑھنے میں مدد حاصل کرتے ہیں جہاں ہم اپنے نجات دہندہ کا دیدار کریں گے، جسے ہمار ا آسمانی باپ اپنے فضل سے ہمارے لئے تیار کر رہا ہے۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔


