
کیا کلیسیا رِیاکاروں سے بھری ہوئی ہے؟
21/07/2026
کلام ِ مقدس میں نجات کا بیان
28/07/2026بائبل مقدّس خواتین پاسبانوں کے بارے میں کیا تعلیم دیتی ہے؟
یہ سوال کہ آیا خواتین پاسبان یا بزرگ کے طور پر خدمت اَنجام دے سکتی ہیں، بہت سے مسیحیوں کے لئے نہایت ذاتی اور قلبی اہمیت رکھتا ہے۔ اِیمان داروں نے دیکھا ہے کہ یہ معاملہ اُن کی کلیسیاؤں میں کشمکش پیدا کرتا اور حتیٰ کہ اُنہیں تقسیم تک کر دیتا ہے۔ ایسے نہایت اہم اور حساس موضوع کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے لازم ہے کہ ہم کلامِ مقدس کی طرف رُجُوع کریں۔ خدا کا کلام اِس متنازع موضوع پر کیا راہ نُمائی فراہم کرتا ہے؟
1۔تیمتھیس 8:2-15 میں پولس رسول کلیسیا کو وہ واضح ہدایت فراہم کرتا ہے جس کے ذریعے اُسے اپنی زندگی کو ایسے ترتیب دینا ہے جو خدا کو پسند ہو۔ اِس خط میں پولس رسول اپنے نوجوان ہم خدمت ساتھی تیمتھیس کو مخاطب کرتا ہے۔ تیمتھیس اُس وقت اِفسس کی کلیسیا میں ایک نہایت مشکل دَور میں خدمت اَنجام دے رہا تھا۔ اُسے جھوٹی تعلیم کے مسائل کا سامنا تھا (۱ ۔تیمتھیس 3:1-11؛ 2:6-10) اور عبادت میں اِنتشار بھی پایا جاتا تھا (۱ ۔تیمتھیس 1:2-15) ۔ مزید برآں کلیسیا کو اپنے عہدے داروں، یعنی بزرگوں اور خادموں، کی اہلیت اور ذِمے داری کے بارے میں واضح راہ نمائی درکار تھی (۱ تیمتھیس 1:3- 25:5)۔
مسیحی عبادت میں دُعا کی خدمت سے متعلق ہدایات دینے کے بعد(1۔تیمتھیس 1:2-7) پولُس مردوں اور عورتوں کو کلیسیائی سطح پر ہونے والی خدا کی عبادت میں اُن کی شرکت کے بارے میں مخصوص ہدایات دیتا ہے(1۔تیمتھیس 8:2-15)۔ اِن آیات میں وہ اُن گناہوں کی نشان دِہی کرتا ہے جو عموماً مردوں اور عورتوں میں سے ہر ایک کو خاص طور پر درپیش ہوتے ہیں۔ مردوں کو چاہئے کہ ’’بغیر غصہ اور تکرار کے پاک ہاتھوں کو اُٹھا کر ‘‘ دُعا کریں (۱۔تیمتھیس 8:2) اور عورتوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ حیا دار لباس، شرم اور پرہیزگاری کے ساتھ اپنے آپ کو سنواریں (۱۔تیمتھیس 9:2-10)۔
پولُس خواتین کی کلیسیائی سطح پر عبادت میں شرکت سے متعلق مزید ایک اہم پہلو کو زیرِ بحث لاتا ہے۔ وہ پہلے مثبت انداز میں عورتوں کے لئے خدا کی بُلاہٹ کو واضح کرتا ہے: ”عورت کو چپ چاپ کمال تابع داری سے سیکھنا چاہئے“ (1۔تیمتھیس 11:2) ۔ رسول اِس اَمر کی توثیق کرتا ہے کہ عورتوں کو کلیسیا کی عبادت میں حاضر ہونے اور مردوں کے ساتھ خدا کے کلام کو، جب وہ پڑھا اور منادی کیا جاتا ہے، سیکھنے کا حق حاصل ہے۔ اِس اِعتبار سے یسوع مسیح کی شاگرد عورتیں ہر پہلو سے یسوع مسیح کے شاگرد مردوں کے برابر ہیں۔
پولُس پھر عورتوں کو ’’تعلیم دینے یا مرد پر حکم چلانے ‘‘ سے منع کرتا ہے (1۔تیمتھیس 12:2) بلکہ اُنہیں حکم دیا جاتا ہے کہ ”خاموش رہیں“ ۔ عورتوں کو اُنہی ذِمے داریوں میں مشغول رہنا ہے جن کے لئے خدا نے اُنہیں بُلایا ہے، یعنی وہ خاموشی کے ساتھ سیکھنے والی ہوں۔ اُنہیں اُن اُمُور کو اِختیار نہیں کرنا جو آیت ۱۲ میں ممنوع قرار دیئے گئے ہیں۔
یہ اُمُور کیا ہیں؟ پولُس دو باتوں کا ذِکر کرتا ہے۔ پہلی تعلیم دینا ہے۔ یہاں سیاق و سباق نہایت اہم ہے۔ پولُس کلیسیا کے اندر ہر قِسم کی تعلیم کو عورتوں پر ممنوع قرار نہیں دیتا۔ بلکہ وہ عورتوں کو اُس وقت خدا کے کلام کی علانیہ منادی اور تعلیم دینے سے منع کرتا ہے جب کلیسیا عبادت کے لئے جمع ہوتی ہے۔ یہ خدمت کلیسیا کے بزرگوں کے سپرد ہے(دیکھیے! 1۔تیمتھیس 2:3؛ 11:4-16) ۔ دُوسری بات مردوں پر اِختیار کا اِستعمال ہے۔ اگلے باب میں پولُس رُوحانی اِختیار کو کلیسیا کے بزرگوں کے سپرد کرے گا، ایسے اہل مرد جنہوں نے اپنے گھرانوں کی حکمت مندانہ نگہبانی سے اپنی صلاحیت اور اہلیت کو ثابت کیا ہے۔ چناں چہ آیت ۱۲ میں پولُس کی ممانعت کا خلاصہ یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ: عورتوں کو کلیسیا میں بزرگ کے عہدےکو سنبھالنے یا اُس کے فرائض اَنجام دینے کی اِجازت نہیں ہے۔
آیات ۱۳–۱۴ میں پولُس آیات ۱۱–۱۲ میں دی گئی اپنی ہدایات کی وجوہات بیان کرتا ہے۔ وہ تیمتھیس کو اُس ترتیب کی یاد دِہانی کراتا ہے جس کے مطابق خدا نے آدم اور حوّا کو پیدا کیا: ”کیوں کہ پہلے آدم بنایا گیا اُس کے بعد حوا“(1۔تیمتھیس 13:2)۔ پھر پولُس تیمتھیس کو ہمارے پہلے والدین کے گناہ میں گرنے کے ترتیب کی یاد دِہانی کراتا ہے: ”اور آدم نے فریب نہیں کھایا بلکہ عورت فریب کھا کر گناہ میں پڑ گئی“(1۔تیمتھیس 14:2)۔ پولُس اِنسان کے گناہ میں گرنے کے بارے میں آدم کواِس ذِمے داری سے بری نہیں ٹھہرا رہا۔ بلکہ اِس کے برعکس، آدم کا گناہ خدا کے کلام کی روشن اور واضح ہدایت کے برخلاف تھا ۔ اور نہ ہی پولُس یہاں یہ کہتا ہے کہ حوّا جلد فریب میں آ جانے والی شخصیت تھی۔ وہ صرف بائبل کی اِس تعلیم کی نشان دِہی کرتا ہے کہ حوّا نے اُس وقت ممنوع پھل کھایا جب وہ سانپ کے فریب میں آ چکی تھی۔
۱۔تیمتھیس 13:2- 14 میں پولُس کے اَلفاظ آیات ۱۱–۱۲ میں دی گئی اُس کی ہدایات کی تائید کس طرح کرتے ہیں؟ وہ کم از کم دو بنیادوں پر اِن ہدایات کی تائید کرتے ہیں۔ اوّل، آیت ۱۲ میں بیان کی گئی یہ ممانعت کہ ”عورتیں تعلیم نہ دیں اور اِختیار کا اِستعمال نہ کریں “ اِس کی جڑیں اُس تخلیقی ترتیب میں پیوست ہیں جس کے مطابق خدا نے اِنسان کو پیدا کیا(1۔تیمتھیس 13:2)۔ دُوسرے اَلفاظ میں، اِس کی بنیاد تخلیق میں ہے۔ پولُس کی یہ ممانعت اِفسس کی مخصوص صورتِ حال تک محدُود نہیں اور نہ ہی یہ پہلی صدی تک مقید ہے۔ ہم ہرگز اِسے پہلی صدی کے کسی یہودی مرد کی محدود سوچ سے منسوب نہیں کر سکتے۔ یہ ممانعت اُس ترتیب کی عکاسی کرتی ہے جو خدا نے مرد اور عورت کے لئے تخلیق میں قائم کی۔
ثانیاً ، آیت ۱۲ میں پولُس کی ممانعت کی تنبیہی مثال آیت ۱۴ میں پیش کی گئی ہے۔ جب حوّا نے ”خدا کی مانند بننے“ کی کوشش کی اور خدا کے کلام کی نافرمانی کی ، تب ہلاکت آمیز اَنجام سامنے آیا ( پیدایش 5:3)۔ اُس راست اور مقدس ترتیب سے منحرف ہونےمیں کبھی بھلائی نہیں ہوتی جو خدا نے ہماری فلاح کے لئے قائم کی ہے۔ اِسی سبب سے ، پولس اپنے بیان کو جاری رکھتے ہوئے بیان کرتا ہے کہ عورتوں کو اُن اُمُور کے حُصُول کی کوشش نہیں کرنی چاہئے جن سے خدا نے اُنہیں منع کیا ہے۔ عورتوں کو اپنے آپ کو اُن ذِمے داریوں کے لئے وقف کرنا چاہئے جن کے لئے خدا نے اُنہیں بُلایا ہے۔ خدا اکثر عورتوں کو( اگرچہ سب کو نہیں) شادی اور اولاد پیدا کرنے کے لئے بُلاتا ہے (۱ ۔تیمتھیس 15:2)۔ جب کوئی اِیمان دار عورت اِس بُلاہٹ کو ’ ’اِیمان اور محبت اور پاکیزگی کے ساتھ، ضبطِ نفس ‘‘ میں قبول کرتی ہے،تب وہ اُس نجات کے بارے میں یقین حاصل کر سکتی ہے جو خدا نے اُسے مسیح میں فضل کے وسیلے سے عطا کی ہے۔
آج کلیسیا میں ہمیں پولُس کے اِن اَلفاظ کی ضرورت ہے۔ یہ ہم پر اُس ترتیب یا نمونے کو ظاہر کرتے ہیں جو خدا نے اپنی کلیسیا میں مردوں اور عورتوں کے لئے مقرر کیا ہے۔ یہ ہم پر اُس ترتیب سے منحرف ہونے کے خطرے کو واضح کرتے ہیں۔ لیکن یہ محض کلیسیا کے لئے منفی احکام تک محدود نہیں ہیں۔ بلکہ یہ اُس پُر کشش تصویر کو پیش کرتے ہیں جو واضح کرتی ہے کہ خدا نے عورتوں کو کیا ہونے اور کیا کرنے کے لئے مقرر کیا ہے۔ اُس دَور میں جب عورتوں کو اکثر فکری اور اَخلاقی اِعتبار سے مردوں سے کمتر سمجھا جاتا تھا، پولُس نے تیمتھیس کو بتایا کہ مردوں کی طرح عورتوں کو بھی مسیح کی شاگردیت میں سیکھنے کا حق حاصل ہے(1۔تیمتھیس 11:2)۔ اُنہیں خدا پرستی کے ساتھ اپنے آپ کو سنوارنا ہے، نہ صرف اُس وقت جب وہ ہفتہ وار عبادت کے لئے کلیسیا میں جمع ہوتی ہیں (۱ تیمتھیس 9:2) بلکہ روز مرہ زندگی کی مشقت میں بھی، جب وہ اپنی اولاد کی پرورِش کرتی ہیں (۱ ۔تیمتھیس 15:2)۔ زندگی کے خاموش اور عام حالات میں ہی خدا اپنے فضل کے غیر معمولی اِرادوں کو تکمیل تک پہنچانا پسند کرتا ہے اور یہ ہر زمانے میں خدا کے سب لوگوں کے لئے خوش خبری ہے۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔


