
بائبل مقدّس خواتین پاسبانوں کے بارے میں کیا تعلیم دیتی ہے؟
23/07/2026
اِصلاحی علم ِ النجات کیوں اہم ہے ؟
30/07/2026کلام ِ مقدس میں نجات کا بیان
بائبل کا آغاز آسمانوں اور زمین کی تخلیق سے ہوتا ہے (پَیدایش ۱- ۲)، اور اِس کا اختتام نئے آسمان اور نئی زمین کی تخلیق پر ہوتا ہے ( مکاشفہ ۲۱-۲۲)۔ تخلیق اور نئی تخلیق کلامِ مقدس میں موجود نجات کے تاریخی متن کا احاطہ کرتی ہے اور اِسے خُدا مرکُوز تناظر میں بیان کرتی ہے ۔دوسرے لفظوں میں ، انسان کی پَیدایش حتمی مقصد نہیں بلکہ اِس سے پہلے کی چیز ہے ۔کلام ِ مقدس انسان مرکُوز نہیں ہے یعنی یہ خُدا مرکُوز ہے ۔اِس کا حتمی مقصد ،خُدا اور اُس کا جلال ہے ۔انسان کی نجات اِس حتمی مقصد کو پُورا کرتی ہے ۔
پَیدایش کی کتاب میں چھ دنوں کی تخلیق کا تکمیلی کام ،خُدا کی طرف سے آدم اور حوّا کی تخلیق تھا ۔لیکن انسان خود اپنے آپ میں تکمیلی مقصد نہیں رکھتا ۔ ساتواں دن ظاہر کرتا ہے کہ انسان اپنے خالق کی عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے ۔خُدا نے پہلے انسان (آدم) سے ایک عہد باندھا ، جسے عمومی طور پر اعمال کا عہد کہا جاتا ہے ۔اِس عہد میں ،” آدم سے اور اُس کی نسل سے کامل اور شخصی فرمانبرداری کی شرط پر زندگی کا وعدہ کیا گیا تھا ( ویسٹ منسٹر اقرارالایمان ۷۔۲)۔مگرا فسوس، کہ آدم اور حوّا نے اپنے محبت کرنے والے خالق کے کلام کی بجائے ، سانپ کے کلام کو ترجیح دی ۔اُنہوں نے خُدا کے خلاف گُناہ کیا اور اعمال کے عہد کے ذریعے ابَدی زندگی حاصل کرنے کے قابل نہ رہے (پَیدایش ۳)۔اُن کی اولاد بھی اِسی مکمل گمُراہی اور بَر گشتگی کی حالت میں پیدا ہوتی ہے ۔
کلام ِ مُقدس میں نجات کی کہانی آدم کے گُناہ میں گِرنے کے ساتھ ہی شروع ہو جاتی ہے ۔خُدا نے آدم اور حوّا کو اپنے ساتھ دائمی عداوت کی حالت میں چھوڑنے کے بجائے ، سانپ سے کہا کہ ، ” میں تیرے اور عورت کے درمیان اور تیری نسل اور عورت کی نسل کے درمیان عداوت ڈالونگا "۔پھر خُدا یہ حیرت انگیز وعدہ کرتا ہے : "وُہ تیرے سر کو کُچلیگا اور تُو اُس کی ایڑی پر کاٹے گا "(پَیدایش ۳: ۱۵)۔یہ خُدا کی طرف سے سانپ کے خلاف اعلانِ جنگ ہے ، اور آدم اور حوّا کے لیے فضل کی خوشخبری بھی ہے ۔اِس نقطہ کے بعد جو کچھ بھی ہم پڑھتے ہیں ، وُہ خُدا کی طرف سے اِن ابتدائی وعدوں کی حتمی تکمیل کا بیان ہے ۔
ابتدا میں انسانیت گُناہ اور بِگاڑ میں مسلسل گِرتی جاتی ہے ،اور خُدا طوفان کے ذریعے دُنیا کی عدالت کرتا ہے (پَیدایش ٦-۹)۔جو تھوڑے سے لوگ زندہ بچ جاتے ہیں وُہ بھی گُناہ میں قائم رہتے ہیں ، اور خُدا اُن کی زبانوں میں اختلاف ڈال کر اُنہیں زمین پر مُنتشر کر دیتا ہے (پَیدایش ۱۱)۔لیکن پھر خُدا ابرام کو بُلاتا ہے اور اُس کے ساتھ ایک عہد باندھتا ہے ۔ابرہام کے ساتھ کیے گئے وعدوں میں درج ذیل باتیں شامل ہیں : اور میں تُجھے ایک بڑی قوم بناوٴنگا اور برکت دُونگا اور تیرا نام سرفراز کرونگا سو تُو باعثِ برکت ہو ! جو تجھے مُبارک کہیں اُن کو میَں برکت دُونگا اور جو تجھ پر لعنت کرے اُ س پر میَں لعنت کرونگا اور زمین کےسب قبیلے تیرے وسیلہ سے برکت پائیں گے (پَیدایش ۱۲: ۲-۳)۔
انسان کی نجات کا یہ کام ابرہام کے ایک بیٹے کے وسیلہ سے پُورا کیا جائے گا ۔آخر کا ر ، ابرہام کی اولاد مصر میں غلام بنا لی جاتی ہے ۔وہا ں رہنے کے دوران وُہ ایک بڑی اور کثیر التعداد قوم بن گئے(خرُوج ۱: ۷)۔چار سو سالوں کے بعد ، خُدا موسیٰ کو بتاتا ہے کہ وُہ کیا کرنے والا ہے اور وُہ موسیٰ کو حکم دیتا ہے کہ وُہ لوگوں کو یہ باتیں بتائے : سو تُو بنی اسرائیل سے کہہ کہ میَں خُداوند ہوں اور میَں تم کو مصریوں کے بوجھوں کے نیچے سے نِکال لوُنگا ۔ اور میَں تم کو اُن کی غلامی سے آزاد کرونگا اور میَں اپنا ہاتھ بڑھا کر اور اُن کو بڑی بڑی سزائیں دے کر تُم کو رہائی دُونگا ۔ اور میَں تُم کو لے لُونگا کہ میری قوم بن جاوٴاور میَں تمہارا خُدا ہونگا اور تُم جان لو گے کہ میَں خُداوند تمہارا خُدا ہوُں جو تُم کو مصریوں کے بوجھوں کے نیچے سے نکالتا ہوُں ۔اور جس مُلک کو ابرہام اور اِضحاق اور یعقوب کو دینے کی قَسم میَں نے کھائی تھی اُس میں تُم کو پہنچا کر اُسے تُمہاری مِیراث کردُونگا ۔ خُداوند میَں ہوُں (خرُوج ٦: ٦-۸)۔
” میَں تمہیں باہر نکالوں گا اور میَں تمہیں اندر لے آوٴں گا ” ۔ یہی وُہ کام ہے جو عہد ِ عتیق میں خُدا اپنی مثالی نجات کے عمل میں کرتا ہے ۔ بعد میں جب نبی آنے والے زمانہ کے بارے میں ، اور نجات کے عظیم کام کے بارے میں بات کریں گے تو وُہ اُسے خرُوج کی اصطلاحات میں بیان کریں گے ۔
خرُوج کے دوران ، خُدا اپنے لوگوں کو اپنی شریعت دیتا ہے اور اُس چیز کی بنیاد رکھتا ہے جو آنے والی ہے ، یعنی موعُودہ سر زمین میں بادشاہی ۔لیکن بادشاہی ، بادشاہوں اور لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے قائم نہیں رہتی ۔خُدا نبیوں کے ذریعے سے اُنہیں خبردار کرتا ہے لیکن وُہ توبہ کرنے سے انکار کرتے ہیں اور بالآخر جِلاوطنی میں بھیج دیئے جاتے ہیں ۔تاہم ، آنے والی عدالت کے بارے میں نبیوں کا انتباہ آخری بات نہیں ہے ۔خُدا وعدہ کرتا ہے کہ عدالت کے بعد وُہ نجات کا ایسا کام کرے گا جو پہلے خرُوج (Exodus)سے بھی بڑا ہو گا ۔وُہ اپنی قوم کے لیے ایک مسیحی بادشاہ بھیجے گا تاکہ وُہ اُنہیں نجات دے ۔وُہ ایک نیا عہد قائم کرے گا اور ایک نیا آسمان اور نئی زمین تخلیق کرے گا ۔
سینکڑوں سالوں کے بعد ، اسرائیل میں ایک نوجوان عورت پر ایک فرشتہ ظاہر ہوتا ہے اور اُسے خبر دیتا ہے کہ اُس کا بیٹا موعُودہ مسیحی بادشاہ ہو گا (لوقا ۱: ۲٦-۳۳)۔اُس کا نام یسوع ہو گا ،”کیونکہ وُہی اپنے لوگوں کو اُن کے گُناہوں سے نجات دے گا ” (متی ۱: ۲۱)۔مسیح یسوع ہی وُہ شخص ہے جو سانپ کے سر کو کُچلنے کے لیے آیا ہے ۔وُہ اِبن ابرہام ہے جس کے وسیلہ سے قومیں برکت پائیں گی (متی ۱: ۱)۔وُہی وُہ موعُودہ دُکھ اُٹھانے والا خادم ہے جو ہماری خطاوٴں کے سبب سے گھایل کیا گیا اور ہماری بد کرداری کے باعث کُچلا گیا ( یسعیاہ ۵۳: ۵)۔وُہ ہمارے گُناہوں کے لئے مُوا (۱ کرنتھیوں ۱۵: ۳)، اور جو بھی اُس پر ایمان لائے گا نجات پائے گا ( یوحنا ۳: ۱٦؛ اعمال ۱٦: ۳۱)۔
دوسرا آدم ایک نئی اِنسانیت کا سردار ہے ، اور اِس عظیم خرُوج میں وُہ اپنے لوگوں کو گُناہ اور تاریکی سے نکال کر اپنی بادشاہی میں داخل کرتا ہے تاکہ وُہ خُدا کی عبادت کریں ، خُدا کے ساتھ اتحاد اور رفاقت میں رہیں ، اور ہمیشہ کے لیے خُداسے لُطف اندوز ہوں ۔یسوع مسیح کا نجات بخش کام اور اُس کا اُس کے لوگوں پر اِطلاق ، کلام ِ مقدس کی نہایت جلالی تعلیمات میں سے ایک ہے ۔مضامین (Articles) کے اِس سلسلے میں ہم دیکھیں گے کہ کلیسیا نے نجات کی بائبلی تعلیم کو کیسے سمجھا ہے ( اور بعض اوقات غلط بھی سمجھا ہے ) ، اور ہم یہ واضح کرنے کی کوشش کریں گے کہ اِس تعلیم کی درست سمجھ ہماری مسیحی زندگی کے لیے کیوں نہایت اہم ہے ۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔


