مقدس خد ا کے ساتھ جنگ اور سلامتی
30/04/2026
پانچ چیزیں جو آپ کوپاکیزگی کے بارے  میں جاننی چاہئیں
07/05/2026
مقدس خد ا کے ساتھ جنگ اور سلامتی
30/04/2026
پانچ چیزیں جو آپ کوپاکیزگی کے بارے  میں جاننی چاہئیں
07/05/2026

پانچ چیزیں جو آپ کوگناہ کا مقابلہ کرنے کے لئے جاننی چاہئیں

۱۔ حقیقی خطرہ

بائبل مقدس واضح طور پر بیان کرتی ہے کہ ہم اِس دُنیا، اپنے بدن اوراِبلیس کی جانب سے بڑی آزمائشوں کا سامنا  کرتے ہیں، کیوں کہ یہ تینوں ہمارے   بڑے دُشمن ہیں۔    

دُنیا ہماری طرف دارنہیں۔  اور یہ دُنیاوی نظام  بھی  ہمیں ایک خاص سمت کی جانب دھکیلنے کی سازش کرتا رہتا ہے۔ اِس لئے پولُس رسول تمام مسیحیوں کو تنبیہ کرتا ہے کہ ’’اس جہان کے ہم شکل نہ بنو‘‘ (رومیوں ۱۲: ۲)۔کیوں کہ وہ دُنیاوی باتیں جنہیں یہ دُنیا قیمتی سمجھتی، برداشت کرتی اور جس انداز سے ترقی و کامرانی کو بیان کرتی ہے ، وہ مختلف ثقافتوں کے لئے مختلف ہو سکتی ہیں، مگر اِن تمام باتوں کی مزاحمت کرنا اور  ہر حال میں اِنہیں کلامِ خدا کی روشنی میں پرکھنا بہت ضروری ہے۔ 

ہمارا بدن بھی ہمارے خلاف جنگ کرتا ہے۔ کیوں کہ ہم فطری طور پر گناہ گار، خدا سے دُور اور گناہ آلودہ خواہشات کی طرف رجحان رکھتے ہیں۔  اکثر اوقات، نئی پیدائش کے معجزے  کے وقت خدا  اپنے فضل سے ہمارے گناہوں کے بعض رجحانات توختم کر دیتا ہے، مگر ہماری گناہ آلودہ زندگی کے  کچھ اثرات پھر بھی باقی رہ جاتے ہیں۔ہم محض اپنے دِل کی پیروی  کرتے ہوئے ایسی توقع نہیں کر سکتے کہ یہ ہمیں درُست سمت کی جانب لے جائے گا۔ 

پھر اِبلیس کا ذکر آتا ہے۔ کلامِ مقدس ہمیں خبردار کرتا ہے کہ ہوشار رہیں کیوں کہ، ’’مخالف اِبلیس گرجنے والے شیرِببر کی طرح ڈھونڈتا پھرتا  ہے کہ کس کو پھاڑ کھائے‘‘ (۱۔پطرس ۵: ۸)۔   اگر کسی   ماہر قاتل کو آپ کے قتل کے لئے مختص کیا جائے، تو آپ اپنی حفاظت کے لئے  ہر وقت چوکنا رہیں گے۔آپ سب دروازوں کو تالا لگا دیں گے اور قاتل کی موجودگی کا پتہ لگانے کے لئے ہر کونے میں بار بار دیکھیں گے۔ شیطان ہر بشر کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقت ور ہے، اِس لئے ہمیں ہر وقت ہوشیار اور بیدار رہنے کی ضرورت ہے۔  

۲۔ آزمائش:  ایک اچانک حملہ  .

جب ہم گناہ میں گِرتے ہیں تو اکثر اِس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ہم نے پہلے سے اپنی حفاظت کا انتظام نہیں کیا ہوتا۔ ہم اپنی معمول کی سرگرمیاں اِس طرح  انجام نہیں دے سکتے کہ  گویا ہم پر گناہ کا اثر  نہیں ہو گا ۔ گناہ سے لڑنےکا بہترین طریقہ ایسی جگہوں اور سرگرمیوں سے پرہیز کرنا ہے  جو ہمیں آزمائش کی طرف لے جا تی ہیں۔ یعنی بعض لوگ خود کو مصروف رکھنے کی کوشش کریں ، کیوں کہ  تنہائی کی اُکتاہٹ  اُنہیں آزمائش کی جانب لے جا سکتی ہے۔ بعض لوگ  ایسے اشخاص سے دُور رہیں جن کی صحبت  گناہ کی طرف مائل کرتی ہے۔ اور کچھ لوگوں  کے لئے ایسے حفاظتی انتظام لازِم ہیں جو اُنہیں انٹرنیٹ پرنامناسب مواد سے دُور رکھ سکتے ہیں۔ ہم ایسی کئی  چیزوں کے متعلق جانتے ہیں جنہیں ہمیں کبھی نہیں دیکھنا چاہئے، یا  ایسی جگہیں جہاں ہمیں کبھی نہیں جانا چاہئے، اور ایسے اوقات جن میں ہمیں کبھی تنہا نہیں رہنا چاہئے۔  ہو سکتا ہے کہ  ایسے لوگ، ایسے مقامات اور ایسے  مواقع بذاتِ خود تو گناہ معلوم  نہ ہوتے ہوں، لیکن اِن  میں شمولیت  ہمیں آزمائش میں مبتلا  اور  گناہ میں گِرجانے کے بڑے خطرے سےدوچار کرسکتی ہے۔ 

۳۔  گناہ کے خلاف جنگ کا  آغازِ دل سے ہوتا ہے    

یسوع مسیح واضح  طور پر بیان کرتا ہے کہ تمام گناہ دِل سے نکلتے ہیں (متی ۱۵: ۱۹)۔ ہمارا دِل گناہ کا ذریعہ ہے،اورگناہ کے خلاف جدوجہدکے لئے ضروری ہے  کہ پہلے باطنی انسان کی اِصلاح کی جائے۔ اور اِس کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے دِل کو خدا کے کلام کے مطابق سنواریں۔

زبور۱۱۹: ۱۱ میں اِس کا خلاصہ یوں بیان کیا گیا ہے کہ:

مَیں نے تیرے کلام کو اپنے دِل میں رکھ لِیا ہے،

تاکہ تیرے خلاف گناہ نہ کروں۔

زبور نویس جانتا تھا کہ گناہ سے بچنے کے لئے اُس کے دِل  کا خدا کے کلام سے لبریز ہونا ضروری ہے۔ یہی بات ہم سب کے لئے بھی سچ ہے۔ ہم اپنے دِل کی پیروی کرتے ہوئے  ایسی توقع نہیں کر سکتے کہ یہ ہمیں درُست سمت  کی جانب لے جائے گا۔  اِس لئے   بلاناغہ  بائبل مقدس کا مطالعہ کرنا، آیات یاد کرنا اور خدا کے کلام کے مطابق دُعا کرنا نہایت ضروری ہے۔  جو کچھ ہم سوچتے ہیں، وہ ہمارے الفاظ اور اعمال میں ظاہر ہوتا ہے۔  اسی کی روشنی میں پولُس رسول بیان کرتا ہے کہ ’’غرض اے بھائیو! جتنی باتیں سچ ہیں اور جتنی باتیں شرافت کی ہیں اور جتنی باتیں واجب ہیں اور جتنی باتیں پاک ہیں اور جتنی باتیں پسندیدہ ہیں اور جتنی باتیں دِلکش ہیں غرض جو نیکی اور تعریف کی باتیں ہیں، اُن پر غور کِیا کرو‘‘ (فلپیوں ۴: ۸)۔ 

۴۔خدائے ثالوث ہمیں قوت بخشتا ہے۔

بطورِ مسیحی اِن آزمائشوں کا سامنا کرنے کے باوجود خدا ہمارے ساتھ ہے۔ بائبل مقدس بیان کرتی ہے کہ وہ مسیحی جونئے سِرے سے پیدا ہوئے ہیں اُن کے ’’بے نقاب چہروں سے خداوند کا جلال اِس طرح مُنعکس ہوتا ہے جس طرح آئینے میں، تو اُس خداوند کے وسیلے سے جو رُوح ہے ہم اُسی جلالی صورت میں درجہ بدرجہ بدلتے جاتے ہیں‘‘ (۲۔کرنتھیوں ۳: ۱۸)۔ مسیحیوں کے پاس یہ وعدہ ہے کہ ’’جس (خدا)نے تم میں نیک کام شروع کیا ہے وہ اُسے  یسوع مسیح کے دِن تک پورا کر دے گا‘‘(فلپیوں ۱: ۶)۔  اور پھر یہ کہ ’’جو تم میں نیت اور عمل دونوں کو اپنے نیک اِرادہ   کو انجام دینے کے لئے پیدا کرتا ہے وہ خدا ہے‘‘ (فلپیوں ۲: ۱۳)۔ 

اِس کے علاوہ، کلامِ خدا میں ہمیں خاص طور پر بتایا گیا ہے کہ:

’’تم کسی ایسی آزمائش میں نہیں پڑے جو انسان کی برداشت سے باہر ہو اور خدا سچا ہے۔ وہ تم کو تمہاری طاقت سے زیادہ آزمائش میں نہ پڑنے دے گا بلکہ آزمائش کے ساتھ نکلنے کی راہ بھی پیدا کر دے گاتاکہ تم برداشت کر سکو‘‘ (۱۔کرنتھیوں ۱۰: ۱۳)۔ 

اگرچہ جن دُشمنوں کا ہمیں سامنا ہے وہ طاقت ور ہیں، مگر ہمارا خدا ، اِن سے کہیں زیادہ زور آور ہے۔ اُس کا روح القدس—جس نے یسوع کو مُردوں میں سے زندہ کیا— وہ آج ہمارے بدنوں میں کام کرتا ہے۔  اور کلامِ خدا  مسیحیوں کو یاد دلاتا ہے کہ ’’جو تم میں ہے وہ اُس سے بڑا ہے جو دُنیا میں ہے‘‘ (۱۔یوحنا ۴: ۴)۔ 

۵۔ ابدی جلال تک روحانی  جنگ  

جب تک ہم اپنے نجات دہندہ کی حضوری میں داخل نہیں ہو جاتے ، ہمیں تب تک  گناہ کے خلاف جنگ کرنی ہے۔  بائبل بیان کرتی ہے کہ ’’اگر ہم کہیں کہ ہم بےگناہ ہیں تو اپنے آپ کو فریب دیتے ہیں، اور ہم میں سچائی نہیں‘‘ (۱۔ یوحنا ۱: ۸)۔

گناہ سےجنگ کا مطلب  ہے کہ  ہم اِس زمین پر روحانی جنگ  کی حالت میں ہیں۔  اور ہمیں اُس وقت تک مکمل آرام کی توقع نہیں کرنی چاہئے جب تک ہم آسمان کے ابدی آرام میں داخل نہ ہو جائیں۔ 

لیکن ایک دِن ہم سب بدل جائیں گے۔ جب یسوع  ابدی خیموں میں ہماراخیرمقدم کرے  گا،تو ہم اُس کی مانند ہوں گے۔ تب جنگ ختم ہو جائے گی اور ہم اپنی کُشتی جیت چکے ہوں گے۔

یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔