
محبت کا رِشتہ
28/04/2026
پانچ چیزیں جو آپ کوگناہ کا مقابلہ کرنے کے لئے جاننی چاہئیں
05/05/2026مقدس خد ا کے ساتھ جنگ اور سلامتی
مَیں 1945 ءکی اُس گرم، دُھوپ بھری گرمیوں کے دِن کو یاد کرتا ہوں جب مَیں شکاگو کی گلیوں میں اسٹِک بال کھیلنے میں مصروف تھا۔ اُس وقت میری دُنیا اُس زمین کے ٹکڑے تک محدود تھی جو ایک مین ہول کے ڈھکن سے دُوسرے تک پھیلا ہوا تھا۔ میرے لئے سب سے اہم بات یہ تھی کہ بالآخر میری بیٹنگ کی باری آ گئی تھی۔ مجھے سب سے زیادہ غصہ اُس وقت آیا جب پہلا پِچ کھیلتے ہوئے اچانک ہر طرف شور اور ہنگامہ برپا ہو گیا۔ لوگ اپارٹمنٹ کے دروازوں سے بھاگنے لگے، چیختے چلاتے اور لکڑی کے چمچوں سے برتنوں پر دستک دینے لگے۔ مَیں نے ایک لمحے کے لئے سوچا کہ شاید دُنیا کا آخری وقت آ گیا ہے۔ یقینی طور پر یہ میری اسٹِک بال کی بازی کا خاتمہ تھا۔ ہنگامے اور اِنتشار کے بیچ میں، مَیں نے اپنی ماں کو اپنی طرف آنکھوں میں آنسو اور چہرے پر بے بسی کے آثار کے ساتھ دوڑ کر آتے ہوئے دیکھا۔ اُس نے مجھے اپنی بانہوں میں اُٹھایا اور زور سے گلے لگایا جو بار بار روتے ہوئے کہتی رہی ”سب ختم ہو گیا۔ سب ختم ہو گیا۔ سب ختم ہو گیا “۔
یہ 1945 ءکا ” وی جے ڈے “ یعنی جاپان پر فتح کا دِن تھا، مَیں مکمل طور پر نہیں جانتا تھا کہ اِس کا مطلب کیا ہے، لیکن ایک بات واضح تھی : جنگ ختم ہو گئی تھی اور میرا باپ گھر واپس آ رہا تھا۔ اب دُور دراز مُلکوں کے لئے ہوائی ڈاک نہیں جائے گی۔ روزانہ لڑائی میں ہونے والے نقصانات کی خبریں سننے کی ضرورت نہیں رہی۔ اب ستاروں سے مزین ریشمی جھنڈیاں کھڑکیوں میں نہیں لٹکیں گی۔ اب ٹین کے سوپ کے ڈبے کچلنے کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ راشن کے کوپن کی پابندی بھی اب نہیں رہی۔ جنگ ختم ہو گئی تھی اور آخر کار ہمارے گھر امن کا سماں قائم ہو گیا تھا۔
وہ خوشی کا لمحہ میرے بچپن کے ذہن پر گہرا اثر چھوڑ گیا۔ مَیں نے سیکھا کہ امن ایک اہم شَے ہے، جس کا قیام بے باک خوشی کا سبب بنتا ہے اور اُس کے کھونے پر تلخ اَفسوس ہوتا ہے۔ اُس دِن شکاگو کی گلیوں میں جو تاثر مجھے ملا، وہ یہ تھا کہ امن ہمیشہ کے لئے آ چکا ہے۔ اُس وقت مجھے اندازہ بھی نہیں تھا کہ یہ کتنا نازک اور غیر مستحکم ہے۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ بہت کم وقت گزرا تھا کہ خبریں دینے والے رپورٹرز، جیسے گیبریل ہیٹر، چین میں فوجی جمع ہونے، رُوس کے جوہری خطرے، اور برلن کی محاصرے کے متعلق خطرناک اِنتباہات دے رہے تھے۔ امریکہ کا امن زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکا اور جلد ہی دوبارہ جنگ کی لپیٹ میں آ گیا، پہلے کوریا میں اور پھر ویتنام میں۔
ہم ایک دیرپا امن کے لئے ترستے ہیں جس پر ہم بھروسا کر سکیں۔ نازک۔ غیر مستحکم۔ کمزور۔ یہی زمینی امن کی معمول کی حالتیں ہیں۔ امن کے معاہدے، بالکل قواعد کی طرح، بظاہر توڑنے کے لئے ہی بنائے گئے ہیں۔ اگر ایک ملین نیویل چیمبرلین بالکونیوں سے جھکتے ہوئے ہاتھ پھیلائیں اور اِعلان کریں کہ ”ہم نے اپنے وقت کے لئےامن قائم کر دیا ہے “ تو بھی یہ اِنسانی تاریخ کو کبھی ایک مسلسل میونخ سے باہر نہیں لے جا سکتا۔
ہم جلد ہی سیکھ لیتے ہیں کہ امن پر زیادہ بھروسانہیں کیا جا سکتا۔ جنگ بہت تیزی اور آسانی سے رخنہ ڈال دیتی ہے۔ پھر بھی ہم ایک دیرپا امن کے لئے ترستے ہیں جس پر ہم بھروسا کر سکیں۔ یہ بالکل وہی امن ہے جس کا اِعلان پولس رسول نے رومیوں کے لئے اپنے خط میں کیا تھا۔
جب ہماری خدا کے ساتھ مقدس جنگ ختم ہو جاتی ہے، جب ہم، بالکل لوتھر کی طرح، فردوس کے دروازوں سے گزرتے ہیں، جب ہمیں اِیمان کے ذریعے راست باز قرار دیا جاتا ہے، تب یہ جنگ ہمیشہ کے لئے ختم ہو جاتی ہے۔ گناہ سے صفائی اور اِلٰہی معافی کے اِعلان کے ساتھ ہم خدا کے ساتھ ایک دائمی امن کے معاہدے میں داخل ہو جاتے ہیں۔ ہماری راست بازی کا پہلا پھل خدا کے ساتھ امن ہے۔ یہ امن ایک مقدس امن ہے، ایک ایسا کامل امن جو ہر طرح کی کمی سے ماورا ہے۔ یہ وہ امن ہے جو کبھی تباہ نہیں ہو سکتا۔
جب خدا امن کے معاہدے پر دستخط کرتا ہے، تو وہ معاہدہ ہمیشہ کے لئے طَے پاتا ہے۔ جنگ ہمیشہ کے لئے ختم ہو جاتی ہے۔ البتہ ہم اب بھی گناہ کرتے ہیں، ہم اب بھی بغاوت کرتے ہیں، ہم اب بھی خدا کے خلاف دُشمنی کے اَعمال انجام دیتے ہیں۔ لیکن خدا جنگ میں شریک نہیں ہوتا۔ وہ ہم سے لڑائی میں ملوث نہیں ہوگا۔ کیوں کہ ہمارے پاس باپ کے حضور ایک وکیل ہے۔ ہمارے پاس ایک ثالثی ہے جو امن قائم رکھتا ہے۔ وہ امن پر حکمرانی کرتا ہے کیوں کہ وہ نہ صرف امن کا شہزادہ ہے بلکہ وہ ہمارا امن بھی ہے۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔


