
غیر یکسُو دِلوں کا علاج
23/04/2026
مقدس خد ا کے ساتھ جنگ اور سلامتی
30/04/2026محبت کا رِشتہ
ہم اِس مقدس رسم سے بہت فائدہ اُٹھا سکیں گے، اگر یہ خیال ہماری عقل و جان پر ثبت اور منقوش ہو جائے کہ کوئی بھی بھائی ہماری طرف سے نقصان اُٹھائے، حقیر جانا جائے، ردّ کیا جائے، ظلم سہہ لے یا کسی بھی طور پر ہم سے اَذیت پائے، تو ہم دراصل اُن زیادتیوں کے ذریعے خود مسیح کو ہی ضرر پہنچاتے، حقیر جانتے اور بے عزتی کرتے ہیں۔ یعنی اپنے بھائیوں سے اِختلاف کرنا دراصل خود مسیح سے اِختلاف کرنا ہے۔ کہ ہم مسیح سے محبت نہیں کر سکتے جب تک اپنے بھائیوں سے محبت نہ کریں۔ یہ کہ ہمیں اپنے بھائیوں کے بدنوں کی اُسی طرح فکر رکھنی چاہیے جس طرح اپنے جسم کی رکھتے ہیں، کیوں کہ وہ ہمارے بدن کے اَعضاء ہیں اور جیسے بدن کا کوئی حصہ کسی درد سے متاثر ہو تو اُس کا اَثر تمام بدن پر پھیل جاتا ہے، ویسے ہی ہمیں بھی یہ روا نہیں کہ کسی بھائی کو کسی تکلیف میں مبتلا دیکھیں اور اُس کے لئے ہمارے دِل میں رحم پیدا نہ ہو۔ اِسی لیے آگسٹین نے بجا طور پر اِس مقدس رسم کو ”محبت کا رِشتہ“ کہا ہے۔
جان کیلون کے نزدیک عشائے ربانی کا بنیادی فائدہ یہ ہے کہ یہ ہمارے اِیمان اور مسیح کے ساتھ ہماری رفاقت کو مضبوط بناتی ہے۔ تاہم مسیح کے ساتھ یہ شراکت مقدّسین کی باہمی شراکت سے جُدا نہیں کی جا سکتی۔ آگسٹین کی پیروی کرتے ہوئے کیلون نے عشائے ربانی کے اِسی ’’اُفقی‘‘ پہلو کو ’’محبت کا بندھن‘‘ کہا۔ عشائے ربّانی ایک ایسی پاک رسم ہے جو اِیمان داروں کو باہم متحد کرنے اور اُنہیں ایک دُوسرے سے محبت کرنے کی ترغیب دینے کے لیے مقرر کی گئی ہے۔ پولُس بیان کرتا ہے کہ مسیح کا صرف ایک ہی بدن ہے جس کا شریک وہ ہم سب کو بناتا ہے ، اِس لئے ہم سب ایک ہی بدن ہیں (1۔کرنتھیوں 17:10)۔ کیلون کے مطابق عشائے ربّانی میں اِستعمال ہونے والی روٹی اُس یگانگت کی تمثیل پیش کرتی ہے جو ہمیں آپس میں رکھنی چاہیے۔ جیسے بے شمار گندم کے دانے مِل کر ایک ہی روٹی بن جاتے ہیں، ویسے ہی ہمیں بھی بغیر کسی تقسیم کے ایک دُوسرے کے ساتھ پیوست رہنا چاہیے۔
جب ہم عشائے ربانی میں شامل ہونے کے لیے جمع ہوتے ہیں تو یہ ہمیں بدن کی یگانگت کی یاد دِلاتا اور ہمیں ترغیب دیتا ہے کہ ہم مسیح میں اپنے بھائیوں اور بہنوں کے بوجھ اُٹھانےکے لئے اپنی بھرپور شفقت اور کوشش کااِستعمال کریں۔
لیکن اِس کا کیا مطلب ہے؟ کیلون ہمیں یاد دِلاتا ہے کہ جب ہم مسیحی اِیمان داروں کے طور پر خُداوند کی عشائے ربانی میں شریک ہونے کے لئے جمع ہوتے ہیں، تو ہمیں نہ صرف مسیح کی موت کو یاد رکھنا چاہیے بلکہ اُن سب کو بھی یاد رکھنا چاہیے جن کے لئے مسیح نے جان دی، یعنی ہمارے بھائی اور بہنیں جو مسیح میں ہیں۔ کیا یسوع ہم سے محبت کرتا ہے؟ وہ اُن سے بھی محبت کرتا ہے۔ کیا اُس نے ہماری خاطر جان دی؟ اُس نے اُن کے لئے بھی جان دی۔ کیا ہم مسیح کے ایک ہی بدن کا حصّہ ہیں؟ وہ بھی اُسی بدن کا حصّہ ہیں۔ کیا ہم خُدا کے لے پالک بیٹے ہیں؟ وہ بھی لے پالک ہی ہیں۔ پھر ہم اُن سے محبت اور خیال رکھنے میں کیسے کوتاہی کر سکتے ہیں جو مسیح کے بدن کا حصّہ ہیں؟ ۔ عشائے ربانی اِسی صداقت کو ہمارے دِل و دِماغ پر نقش کر دیتی ہے۔
کیلون کی یہ نصیحت خصوصاً اُس ثقافت میں نہایت ضروری ہے جس کا شعار یہ بن چکا ہے کہ ’’سب سے پہلے اپنی فکر کرو ‘‘۔ ہماری دُنیا ایک ایسی ذہنیت میں ڈھل چکی ہے جس میں ہر شخص ترقی کی سیڑھی پر چڑھنے کے جنون میں مبتلا ہے۔ مرد و عورت دونوں کو دُوسروں کو روندنے یا گرا دینے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوتی تاکہ کسی بھی قیمت پر وہ بلندی تک پہنچ جائیں۔ اگرچہ پولُس ہمیں یاد دِلاتا ہے کہ ” فروتنی سے ایک دُوسرے کو اپنے سے بہُتر سمجھے “(فلپیوں 3:2) لیکن اپنے آپ کو بڑا ظاہر کرنے اور خود ستایشی کا رُجحان مسیحیوں میں بھی عام پایا جاتا ہے۔ ہمیں اِس بات کی پروا نہیں رہتی کہ ہم کس کو دُکھ پہنچاتے یا کس کو پیچھے دھکیل دیتے ہیں، بس اَنجام میں ہم کامیاب دِکھائی دیں۔ مگر مسیحیوں میں ایسا روِیہ ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔
شاید اِس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہمارے درمیان موجود اُن لوگوں کے لئے بے حِسی عام ہو چکی ہے جو دُکھ اور تکلیف میں مبتلا ہیں۔ جب ہم عبادت کے لئے اِکٹھے ہوتے ہیں تو ہم اُن لوگوں کے ساتھ عبادت کرتے ہیں جن کے دِل دُکھ سے بھرے ہوئے ہیں۔ کوئی بیماری میں مبتلا ہے، کوئی غم میں ڈوبا ہوا ہے، کوئی اپنی گھریلو ضروریات پوری کرنے کے لئے جدوجہد کر رہا ہے، اور کوئی بالکل تنہا ہے جس کا کوئی اپنا نہیں۔ لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم اِن باتوں پر کوئی توجہ نہیں دیتے۔ہم اپنی ہی پریشانیوں میں اِس قدر اُلجھے رہتے ہیں کہ دُوسروں کے دُکھوں کی طرف دھیان نہیں دیتے۔ تاہم کیلون ہمیں یاد دِلاتے ہیں کہ جب بدن کا ایک عضو دُکھ اٹھاتا ہے تو سارا بدن اُس کے ساتھ متاثر ہوتا ہے۔ جب ہم عشائے ربانی کے لئے اِکٹھے ہوتے ہیں تو یہ ہمیں بدن کی اُس یگانگت کی یاد دِلاتا اور ہمارے اندر وہ رحم و شفقت بیدار کرتا ہے جو ہمیں اِس بات کے لئے اُبھارتا ہے کہ ہم اپنے مسیحی بھائیوں اور بہنوں کے بوجھ اُٹھانے میں اُن کا ساتھ دیں۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔


