
خدا کا اپنی ذات کو منکشف کرنا
21/04/2026غیر یکسُو دِلوں کا علاج
جب کوئی عمر رسیدہ والدین یا دوست وفات پا جاتے ہیں تو ہم اکثر خاندان سے یہ پوچھتے ہیں کہ کیا وہ اُنہیں الوداع کہنے کے قابل ہو سکے۔ آخری اَلفاظ نہ صرف اِس لئے قیمتی ہوتے ہیں کہ وہ جدائی کا آخری سلام ہوتے ہیں بلکہ اِس لئے بھی کہ اُن میں عموماً ساری زِندگی کی حکمت اور محبت سمٹی ہوئی ہوتی ہے۔
کلامِ مُقدس ہمیں ایسی آخری ملاقاتوں میں سے ایک کی جھلک دِکھاتا ہے، جب ایک قریب الموت بادشاہ اپنے برسرِ اِقتدار آنے والے بیٹےسے رُخصت لے رہا تھا: داؤد اور سلیمان۔ سلطنت کی حکمرانی کے بارے میں عملی نصیحتیں دینے کے بعد داؤد ذاتی انداز میں مخاطب ہوتا ہے۔ ذرا تصور کریں، ایک عمر رسیدہ باپ داؤد جھک کر سلیمان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ رہا ہے : ”اور تُو اےَ میرے بیٹے سلیمان ! اپنے باپ کے خدا کو پہچان اور پُورے دِل اور رُوح کی مستعدی سے اُس کی عبادت کر“ (1۔تواریخ 9:28)۔
لفظ ”پورے “ کا مطلب ہے ”کامل “ یا ”مکمل “ اِس کے برعکس ”حصہ “ اُس چیز کی طرف اِشارہ کرتا ہے جو روکی گئی ہو یا تقسیم ہو۔ داؤد کو ”خدا کے دِل کے موافق شخص“ کہا گیا ہے (اعمال 22:13) ۔ لیکن وہ اپنے ہی دِل کی اُس کشش کو جانتا تھا جو زندگی کے کچھ حصے اپنے پاس رکھنے پر مائل کرتی ہے بجائے اِس کے کہ پوری زندگی خُدا کے سپرد کر دی جائے۔ اِسی لیے اُس نے اِلتجا کی: ” اَے خُداوند! مجھ کو اپنی راہ کی تعلیم دے۔ میَں تیری راستی میں چلوں گا۔ میرے دِل کو یکسُوئی بخش تاکہ تیرے نام کا خُوف مانوں “ (زبور 11:86)۔
جب بھی ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم خود کو خُدا سے بہتر محبت دے سکتے ہیں تو ہم اپنی زندگی کے ایک حصے پر خاموشی سے ”یہ میرا ہے “ کا نشان لگا کر اُسے خدا سے الگ کر دیتے ہیں۔ سلیمان ایک زبردست بادشاہ بنا، حکمت اور قوت سے بھرا ہوا، لیکن اُس نے اپنے دِل کو مطمئن کرنے کے لئے خُدا کے وعدوں سے آگے دیکھنا شروع کر دیا۔ اِبتدا اِس بات سے ہوئی کہ اُس نے خُدا کی بجائے عورتوں میں پناہ تلاش کی۔ اُس کی اِسی روِش نے بُت پرستی کو جنم دیا، خُدا کے جلال کی جھلک کو محدود کر دیا، اور وہ بالآخر سلطنت کی ہلاکت خیز تقسیم تک جا پہنچا۔
یہ حقیقت حیرت انگیز ہے کہ اپنے سروں پر نجات کا خود پہن کر،ہم مسیح کی راست بازی کے لباس میں ملبوس ہوں، پھر بھی ایک منقسم دِل کے سبب سمجھوتے کے سائے میں زندگی گزار سکتے ہیں۔ اگرچہ مسیح کی نجات اِس قدر کامل اور اَٹل ہے کہ جہنم بھی اُسے ہلا نہیں سکتی، تاہم ایک منقسم دِل ہمیں اُس اِطمینان، برکت اور خوشی سے محروم کر دیتا ہے جو اُس نجات میں پوشیدہ ہے۔ یہ ہماری زندگی کے مقصد کو مدھم کر دیتا ہے، صلیب کے جلال کو نظرانداز کر دیتا ہے اور اُس بھلائی کو روک دیتا ہے جو ہماری زندگیوں سے دُوسروں تک بہنی چاہئے تھی۔
داؤد اور سلیمان کی زِندگیوں کے راستوں میں ایک نمایاں فرق دِکھائی دیتا ہے۔ سلیمان کی زندگی سمجھوتوں میں گہری ہوتی گئی، جبکہ داؤد نے خالص توبہ کے ساتھ خدا کی طرف رجوع کیا اور جان لیاکہ خدا معافی اور بحالی کے لئے تیار ہے: ” لیکن تُو یارب! رحیم و کریم خُدا ہے۔ قہر کرنے میں دِھیما اور شفقت و راستی میں غنی “(زبور 15:86)۔ ہمارے لئے بھی یہی اِنتخاب ہے کہ ہم اپنے منقسم دِلوں کو نظرانداز کریں، چھپائیں، چھوڑ دیں، یا پھر توبہ کریں اور اُس کے وعدوں پر دوبارہ بھروسا کریں۔
یسوع کی کامل محبت کے سبب سے ہم اپنے منقسم دِلوں کے ساتھ اُس کے پاس آ سکتے ہیں اور اُس میں کاملِ ہو سکتے ہیں۔ اُس کا دِل کبھی تقسیم نہیں ہوتا، جب ہم اپنے گناہوں میں مردہ تھے تو اُس نے ہمیں اپنی زِندگی بخشی، جب ہم اُس کے دُشمن تھے تو اُس نے ہمارے ساتھ صلح کی اور ہمیں اپنا دوست کہا۔ کیا ہی عجیب فضل ہے! خدا کا مقصد ہماری زندگیوں کے لئے اُس عظمت اور خوشی سے کہیں بڑھ کر ہے جس کا ہم کبھی تصوّر یا خود سے پیدا کر سکتے ہیں۔ اور جب ہم خدا کی طرف نظر کرتے ہیں اور اُس کے وعدوں پر اِیمان رکھتے ہیں تو ہماری زِندگیاں اُس کے جلال، مقصد اور محبت سے روشن ہو جاتی ہیں۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔


