جان کا آرام
16/04/2026
غیر یکسُو دِلوں  کا علاج
23/04/2026
جان کا آرام
16/04/2026
غیر یکسُو دِلوں  کا علاج
23/04/2026

خدا کا اپنی ذات کو منکشف کرنا

مَیں حال ہی میں اُس ملاقات پر غور کر رہا تھا جو خُدا اور اَبرہام کے درمیان سدوم اور عمورہ کی ہلاکت سے قبل ہوئی تھی، اور مجھ پر ایک نہایت حیرت انگیز نکتہ منکشف ہوا۔  یہ اُس مکالمے سے متعلق تھا جو خُدا نے اپنی ہی ذات میں کیا،  جب اُس نے یہ سوال اُٹھایا : ” اور خُدواند نے کہا کہ جو کُچھ مَیں کرنے کو ہوُں کِیا اُسے ابرؔہام سے پوشیدہ رکھُوّں؟ “(پیدایش 17:18)۔ 

یہ حقیقت کہ ہمارے پاس اِس سوال کا ریکارڈ موجود ہے، نہایت  حیرت انگیز بات ہے۔ یہ بالکل اندرونی غور و فکر تھا جو خُدا کے ذہن میں جاری تھا۔ اُس وقت اَبرہام کو اِس کا کوئی علم نہ تھا کہ یہ سب کچھ وقوع پذیر ہو رہا ہے، اور نہ ہی اِس بات کا کوئی اِشارہ ملتا ہے کہ خُدا نے بعد میں اُسے اِس  بارے میں کچھ بتایا ہو۔ یہ بصیرت، جو خُدا کے ذہن کے اندر جھانکنے کا موقع دیتی ہے، نصف ہزار سال بعد ظاہر ہوئی، جب موسیٰ نے رُوحُ القُدس کے اِلہام کے تحت پیدایش  کی کتاب کو قلم بند کیا۔ رُوح نے موسیٰ پر خُدا کے اِس پوشیدہ غور و فکر کو منکشف کیا،اور موسیٰ نے اُسے آنے والی نسلوں کے لئے  قلم بند کر دیا۔  خدا نے اپنے ذہن  کو ہم سب پر منکشف کر دیا۔ 

وہی مکاشفہ  دراصل خُدا کے اُس داخلی غور و فکر کا موضوع بھی تھا۔  وہ اپنی ہی ذات میں یہ سوچ رہا تھا کہ آیا وہ اَبرہام کو بتائے کہ وہ شریر شہروں یعنی  سدوم اور عمورہ کے ساتھ کیا کرنے والا ہے،  یعنی اُنہیں آگ اور گندھک کے شعلوں سے  بھسم کر نا۔  البتہ خُدا کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ اپنی ہی ذات میں کشمکش  میں مبتلا تھا، ایک تشبیہ ہے، یعنی اِنسانی زبان کا ایسا اِستعمال جو ہمیں خُدا کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔درحقیقت ایک عالم الغیب خُدا کبھی بھی اپنی ہی ذات میں کشمکش  کا شکار نہیں ہوتا ۔   لیکن خُدا نے اِس قسم کے  ”فکر ی عمل “ کی زبان کو اِس لئے  اِختیار کیا تاکہ وہ اپنے آپ کو ہمارے درجے تک جھکا کر ہمارے لئے  قابلِ فہم بنا سکے۔

اور بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ کہ خُدا اَبرہام سے کچھ  بھی پوشیدہ رکھنا نہیں چاہتا۔  حالانکہ خُدا پر اَبرہام (یا کسی اَور اِنسان) کو کسی قِسم کی وضاحت  دینا لازم نہیں،  پھر بھی وہ اپنے برگزیدہ  لوگوں پر اپنی  سوچ کو ظاہر کرنے کی گہری خواہش رکھتا ہے۔     یہی خاص مکاشفہ ہماری نجات کا جوہر ہے۔  جیسا کہ یسوع مسیح نے فرمایا:  ” اور ہمیشہ کی زِندگی یہ ہے کہ وہ تجھ خُدایِ واحِد اور برحق کو اور یِسُوع مسیح کو جِسے تُونے بھیجا ہے جانیں “(یوحنا 3:17)۔    اَبرہام کو خُدا کا دوست کہا گیا ہے (یسعیاہ 8:41)۔  دوستی کی اصل بنیاد باہمی اِنکشاف ہے۔  خُدا چاہتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو ہم پر ظاہر کرے،  اور میرا اِیمان ہے کہ آسمان دراصل خُدا کے لوگوں کے لئے  اُس کی  فکر اور مقاصد کی اَبدی تعلیم ہوگا۔  یہ  کس قدر حیران کن  بات ہے کہ خُدا نے نہ  صرف تارِیخ میں آنے والی ہر قوم کے عروج اور زوال پر اپنی حکمرانی قائم رکھی ،بلکہ ایک چڑیا کے زمین پر گرنے تک پر بھی اُس کی حکمرانی ہے۔ مزید یہ کہ   اُس کے اِقتدار کے منصوبے کی پیچیدہ جہتوں اور باریک پہلوؤں کے بارے میں جاننے کے لئے  لامحدود باتیں ہوں گی۔  اور یہ اُس کے لئے باعثِ مسرت بات ہو  گی کہ وہ ہمیں سکھائے اور ہمارے لئے  خوشی کی بات  ہو گی کہ ہم سیکھیں اور حیران رہ جائیں۔ 

فی الحال خُدا کی بیشتر تدابیر ہم سے پوشیدہ ہیں۔  یسوع نے فرمایا: ” مُجھے تم سے اَور بھی بہُت سی باتیں کہنا ہے مگر اَب تُم اُن کی برداشت نہِیں کرسکتے “(یوحنا 12:16)۔  خُدا کے کچھ نہایت پیچیدہ اور دُکھ دینے والے فیصلے اُس وقت تک  پوشیدہ رکھنا ضروری ہیں جب تک کہ ہمارے جلالی ذہن اُن سچائیوں کو سنبھالنے کے قابل نہ ہو جائیں۔  لیکن خُدا کا منصوبہ آگے چل کر اَور زیادہ ظاہر کیا جائے گا، اور وہ شاندار جلال سے منور ہوگا۔

یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔