
اپنے بچوں کو معافی کے بارے میں تعلیم دینا
07/04/2026
مسیحی زندگی
14/04/2026مَیں اپنے نافرمان بچے کے ساتھ کس طرح پیش آؤں؟
نوجوان یا نابالغ بچوں کے ساتھ ٹوٹے ہوئے تعلقات کا تجربہ زندگی کے ہر گوشے پر سایہ ڈال دیتا ہے۔ خاندانی مواقع، جو خوشی سے لبریز ہونے چاہییں، محرومی کی یاد دِہانی بن جاتے ہیں۔ شکستہ دِل، حیران اور پریشان والدین یہ نہیں جانتے کہ رُخ کس جانب کریں۔
والدین اور بچوں کے درمیان ٹوٹے ہوئے تعلقات کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، لیکن اِن سب میں ایک مشترک حقیقت یہی ہے: ہم گناہ کرتے ہیں اور ہمارے خلاف بھی گناہ کیا جاتا ہے۔ اِس سے کوئی محفوظ نہیں رہتا، حتیٰ کہ سب سے زیادہ محنتی والدین بھی نہیں۔ سوال یہ ہے کہ والدین اِس ٹوٹ پھوٹ سے آگے بڑھ کر میل ملاپ تک کیسے پہنچ سکتے ہیں؟ بائبل اِس کربناک سوال کا جواب دیتی ہے۔
کتابِ مقدس میل ملاپ کی خصوصیات اور مضامین سے لبریز ہے۔ یہ ایک رُوحانی سفر ہے، ایک مسلسل عمل، کوئی ایک وقتی واقعہ نہیں۔ آئیے چند ایک بائبلی ہدایات پر غور کریں جو گناہ اور بغاوت کے سبب بالغ بچوں کے ساتھ ٹوٹے ہوئے تعلقات کو سنبھالنے کے لئے راہ نمائی فراہم کرتی ہیں۔
1۔خدا کے مقاصد کو یاد رکھیں
یہ نتیجہ اخذ کرنے کی بجائے کہ تمہاری ساری کوششیں اپنے نوجوان یا بالغ بچے کے ساتھ ناکام ہو چکی ہیں، خدا کے وعدوں کو یاد کریں اور صبر کے دامن کو تھام کر رکھیں۔ بطور والدین خدا کے مقاصد کو ہمیشہ نگاہ میں رکھیں، کیوں کہ وہ ہمیں مسیح کی صورت پر ڈھال رہا ہے۔ وہ ہمیشہ ہماری آزمائشوں کے وسیلے سے ہمیں پاک کرنے کے عمل میں کارفرما ہے، خواہ یہ آزمایشیں ہماری اپنی کمزوریوں سے جنم لیتی ہوں ،دُوسروں کی طرف سے ہم پر لادی گئی ہوں یا زندگی کے حالات کی پیداوار ہوں۔ آپ کبھی اُس مقام پر نہیں پہنچے جہاں آپ کی محنت بےکار گئی ہو۔آپ ایک سفر پر گامزن ہیں، اور خدا ایک وفادار آسمانی باپ ہے۔ ’’ہمت ہار جانا‘‘اِس بات کی علامت ہے کہ آپ اپنی اُمید خدا کے رُوح کے کام کی بجائے اپنی کوششوں پر رکھ رہے ہیں۔ مَیں اِس دُکھ اور محرومی کا اِنکار نہیں کرتی جو بچوں کے ساتھ ٹوٹے ہوئے تعلقات کے ساتھ جڑا ہوتا ہے، لیکن نااُمیدی اکثر بےاِیمانی کی عکاسی کرتی ہے۔ یاد رکھیں کہ تبدیلی خدا کا رُوح لاتا ہے،ہماری کوششیں نہیں۔
بائبلی یگانگت کا آغاز ہمارے اپنے دِلوں سے ہونا چاہیے۔ توجہ اِس بات پر مرکوز رکھیں کہ خدا کا رُوح کس طرح ہماری جان کو بصیرت اور تبدیلی بخشتا ہے۔ ہمیں یہ پہچاننے کی ضرورت ہے کہ کن پہلوؤں میں ہم نے خود تعلقات کے بگاڑ میں حصہ ڈالا ہے۔ مَیں اِسے بغاوت کی طاقت ختم کرنا قرار دیتی ہوں۔ جب ہم میل ملاپ کا آغاز کرتے ہیں تو ہمارا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ اپنے نوجوان یا بالغ بچے کے دِل میں ہمارے خلاف کسی بھی جواز یا عذر کے احساس کو جڑ سے ختم کر دیں۔ عاجزی، میل ملاپ کا قلب ہے۔ میل ملاپ ہمیشہ آپ کے بچے کی رُوحانی بھلائی کے بارے میں ہونا چاہیے۔ یہ خیال نہ کریں کہ ’’مَیں اپنے نافرمان بچے کو کس طرح دُرُست کر سکتا ہوں؟‘‘ ۔ بلکہ یہ سوچیں کہ ’’خدا مجھے مسیح کی مانند بنانے کے لئے لوگوں اور حالات کو کس طرح اِستعمال کر رہا ہے؟‘‘ ۔ میل ملاپ کا مقصد یہ نہیں کہ محض اپنے دِل کا بوجھ ہلکا کیا جائے، بہتر محسوس کیا جائے، زندگی آگے بڑھائی جائے، اپنے آپ کو دُرُست ثابت کیا جائے یا ضمیر کو مطمئن کیا جائے۔ اِس آزمایش کو قبول کریں، کیوں کہ یہ آپ کو خدا تک لے جاتی ہے۔ اِس کا مقصد یہ ہے کہ آپ کی توجہ مسیح پر مرکوز ہو۔ سنار کی آگ بدل ڈالنے والی ہے، یہ کندن میں سے خالص سونا نکالتی ہے۔
2۔ دُعا، میل ملاپ کا بنیادی جز ہے
عاجزی اور اِنکساری کے لئے دُعا کریں۔ اُن پہلوؤں میں خدا سے معافی طلب کریں جن میں آپ ٹوٹ پھوٹ میں کسی نہ کسی طرح شریک رہے ہیں۔ اپنے شریکِ حیات اور اپنے بچے کے لئے (اور اُن کے ساتھ) دُعا کریں۔ آپ دُعا کریں کہ آپ کو صلح کرنے والا دِل اور سننے کا حوصلہ عطا ہو۔ دُعا کریں کہ خوف آپ پر غالب نہ آئے اور آپ ایسے محبت کریں جیسے آپ سے محبت کی گئی۔ کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ آپ اپنے بچوں کی دُنیا میں اِنجیل کے زندگی بخش پیغام کے ساتھ داخل ہوں۔ اِنکساری اور دُعا آپ کو اُن مکالمات کے لئے تیار کرتی ہیں جو آپ کی نوجوان یا بالغ اولاد کے ساتھ بغاوت کو دُور کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
آنے والے دنوں میں آپ کو کچھ مشکل رکاوٹوں کا سامنا ہوسکتا ہے، لیکن اگر آپ کے بچے آپ کی آواز اور رویے میں خُدا ترسی کے عزم کو دیکھیں اور سنیں تو یہ چیز بحالی کے عمل کو آگے بڑھائے گی۔ آپ یہ طے کر لیں کہ آپ اپنی اولاد کو یہی پیغام دے کر جائیں گے کہ آپ اُن سے اُسی طرح محبت کرنا چاہتے ہیں جس طرح مسیح نے آپ سے محبت کی ہے۔
یہ نہایت نیک بات ہے کہ بچے اپنے والدین کے ساتھ وفاداری اور محبت میں زندگی بسر کریں۔ یہ منظر دلنشین ہے کہ ایک گھرانا مِل کر مسیح کی بادشاہت کی خدمت میں شریک ہو۔ یہ بیش قیمت ہے کہ ایک نسل کے بعد دُوسری نسل خُدا کے راستوں پر چلے۔ لیکن خطرہ اُس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم اِن برکات کو ناگزیر سمجھنے لگیں، یا جب اِن کے نہ ملنے پر ہم مایوسی اور غم کے ایسے شکار ہو جائیں کہ ہمیں خُدا ہی میں کوئی تسلّی اور اُمید نہ ملے۔
خُدا نے ہمیں تعلقات کے لئے پیدا کیا ہے۔ خُدا کے ساتھ ہمارا رِشتہ اور ایک دُوسرے کے ساتھ ہمارے تعلقات اُس اَزلی رفاقت، محبت، ہمکلامی اور مقصد کے عکس ہیں جو تثلیث میں اَزل سے موجود ہے۔ اِسی لئے جب خاندانی دائرے میں، جو اِنسانی زندگی کا مرکزی رِشتہ ہے، ٹوٹ پھوٹ واقع ہوتی ہے تو ہمارے دِل گہرے درد سے دوچار ہوتے ہیں۔ لیکن خداوند کا شکر ہو کہ اُس نے صلح و اِتحاد کا راستہ مقرر کیا ہے۔ یہ صلح سب سے زیادہ قدرت اور کمال کے ساتھ مسیح کے تجسم، اُس کی زمینی زندگی، صلیبی موت اور فاتحانہ قیامت میں ظاہر ہوئی، تاکہ ہمیں اپنے آسمانی باپ سے ملاپ نصیب ہو۔
3۔ عاجزی کے ساتھ محبت
ہم مسیحی اِیمان کی سچائی اور عاجزی کے ساتھ زندگی بسر کر رہے ہیں۔ دُوسروں کے ساتھ اُس طرح محبت کریں جیسے خدا نے آپ کے ساتھ محبت کی۔ اپنے رشتوں کی توقعات کو اُس خوبصورتی، فضل، شفقت اور فہم سے گھیر لیں جو مسیح نے آپ پر ظاہر کی۔ مسیح آپ کے لئے باپ کے حضور شفاعت کر رہا ہے۔ آپ کا باغی فرزند آپ میں وہی خوش خیر مقدم دیکھے اور سنے جو مسیح اُن سب کو بخشتا ہے جو خطرے میں ہیں۔ اگر مایوسی کے وسوسے آئیں تو دِل شکستہ نہ ہوں۔ متی 28:11-30 میں مسیح کی اُس بلاہٹ کو یاد رکھیں جو تھکے ماندوں اور بوجھ تلے دبے ہوئے لوگوں کے لئے ہے۔ یہ محض گنہگاروں کا خیرمقدم نہیں بلکہ اِیمان داروں کے لئے پناہ اور تسلی کا وعدہ بھی کرتی ہے۔
اپنے آپ کو عاجزی کے ساتھ جھکا کر ٹوٹے ہوئے رِشتوں میں اپنی شراکت داری کو تسلیم کرنا بےحد مشکل ہے۔ خاص طور پر جب بات ہماری بظاہر عادِلانہ قربانی، نیک اِرادوں اور والدین کے طور پر مخلصانہ کوششوں کی ہو۔ اِسی طرح بغاوت کا سامنا مسیح کی مانند رویّوں کے ساتھ کرنا بھی آسان نہیں۔ تو پھر ہم اُس ’’بغاوت کو بے اَثر کرنے والی خدمت‘‘ کو کس طرح پورا کر سکتے ہیں؟ اِسی موقع پر پطرس ہمیں نہایت بروقت نصیحت دیتا ہے جو ہماری رہنمائی اور حوصلہ افزائی کا ذریعہ ہے:
” کیوں کہ اُس کی اِلٰہی قُدرت نے وہ سب چیزیں جو زِندگی اور دِین داری سے مُتعلِق ہیں ہمیں اُس کی پہچان کے وسِیلہ سے عِنایت کِیں جِس نے ہم کو اپنے خاص جلال اور نیکی کے ذرِیعہ سے بُلایا۔ جِن کے باعِث اُس نے ہم سے قیمتی اور نِہایت بڑے وعدے کِئے تاکہ اُن کے وسِیلہ سے تُم اُس خرابی سے چھُوٹ کر جو دُنیا میں بڑی خواہِش کے سبب سے ہے ذاتِ اِلٰہی میں شِریک ہو جاؤ۔ “ (2۔پطرس 3:1-4)۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔


