
مَیں اپنے کام کی جگہ پر خود کو کیسے مسیحی ثابت کر سکتا ہوں؟
31/03/2026
اپنے بچوں کو معافی کے بارے میں تعلیم دینا
07/04/2026اپنی کلیسیا میں تیمارداروں کی پرورِش اور دست گیری
کئی برس پہلے نوجوانوں کا ایک گروہ ہماری کلیسیا میں شامل ہوا جو بڑےجوش و جذبے اور توانائی سے معمورتھا۔ چونکہ ہمارے ہاں کوئی باقاعدہ ’’خدمات‘‘ موجود نہ تھیں، اِس لئے وہ اِس بارے میں قدرے تذبذب کا شکار دِکھائی دیے کہ کس طرح خدمت انجام دیں۔ ہمارے پاسبان نے عبادت سے پہلے اِس بات کو واضح کیا اور کہا: ’’اگر کوئی خدمت کی تلاش میں ہے تو اُسے کسی باضابطہ جماعت یا لقب کی ضرورت نہیں۔ ہمارے پاس خدمت کے بے شمار مواقع ہیں۔ آپ بزرگوں سے ملاقات کر سکتے ہیں، اُن سے جو گھروں تک محدود ہیں یا اُن سے جو جسمانی یا ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہیں‘‘۔
چند ہی دِنوں میں ایک نوجوان میرے بیٹے سے ملاقات کرنے آیا جو ایک سنگین ذہنی بیماری کے ساتھ زندگی گزار رہا تھا۔ کچھ عرصے بعد ایک اَور نوجوان بھی شامل ہوا اور یوں تینوں میں دوستی قائم ہو گئی۔ یہ میری جان کے لئے مرہم ثابت ہوا۔ میرے بیٹے کی بیماری اکثر جذبات کو دبا دیتی اور معاشرتی تعلقات میں رکاوٹ ڈالتی ہے۔ زیادہ تر لوگ اُس کی بات چیت میں عدم دلچسپی کو یہ سمجھتے تھے کہ وہ تنہا رہنا چاہتا ہے، حالانکہ حقیقت اِس کے برعکس تھی۔
مجھے وہ کیفیت آج بھی یاد ہے جو مجھ پر اُس وقت طاری تھی، جب مَیں ایک ضرورت سے زیادہ فکر مند ماں کی مانند دِکھائی دیتی تھی جو اپنے بیس برس کے بیٹے کے لئے دوست تلاش کر رہی ہو۔ میرے پاسبان کے اِعلان نے اِس مشکل کو حل کر دیا۔ میری کہانی تو اُن بے شمار کہانیوں میں سے محض ایک ہے جو خدمت گزار اپنی کلیسیاؤں میں سہارے کی تلاش میں سناتے ہیں۔ اُن کی ضروریات اُن کے حالات کی طرح متنوع ہیں، لیکن اُن سب کے دِل میں ایک ہی آرزُو ہے کہ اُنہیں پائیدار حوصلہ اَفزائی اور حقیقی فہم حاصل ہو۔
پائیدار حوصلہ اَفزائی
اکثر کلیسیا ئیں فوری ضروریات پر تیزی سے ردِعمل ظاہر کرتی ہیں۔ وہ اُن لوگوں کو مادّی اور جذباتی سہارا دینے کے لئے آمادہ رہتی ہے جنہیں کوئی تشویش ناک مرض لاحق ہو گیا ہو، یا جنہوں نے روزگار یا گھر کھو دیا ہو، یا پھر جنہیں اپنے کسی عزیز کو سپردِ خاک کرنا پڑا ہو۔ لیکن تیمارداری اکثر طویل مدت پر مبنی بلاہٹ ہوتی ہے، اور اُس کی آزمائشیں اُس وقت بھی جاری رہتی ہیں جب کلیسیا کی اِبتدائی پُرجوش مدد دم توڑ چکی ہوتی ہے۔
پاسبان بہت کچھ کر سکتے ہیں تاکہ سہارا مسلسل جاری رہے۔ تیمارداروں اور اُن کے عزیزوں کو اپنی شخصی اور اِجتماعی دُعاؤں میں شامل رکھنے کے علاوہ وہ جماعت کو مسلسل یہ ترغیب دے سکتے ہیں کہ وہ ملاقاتوں، خطوط، فون کالز اور عملی خدمت کے ذریعے اُن کے ساتھ موجود رہیں۔
میرا پاسبان اکثر ہمیں یہ یاد دِلاتا تھا کہ محبت ہمیں ہمارے آرام دہ دائرے سے باہر قدم رکھنے پر مجبور کر سکتی ہے۔ ’’تمہیں اپنی سہولت کو قربان کرنا ہوگا ‘‘۔ اور اُس کی زِندگی اُس کے اَلفاظ کی تائید کرتی تھی۔ جہاں کہیں اُس کی ضرورت پیش آتی، وہ وہاں موجود ہوتا، کبھی بظاہر پریشان دِکھائی نہ دیتا، گویا ضرورت مندوں کی خبر گیری کرنا اُس کے دِن کا سب سے روشن لمحہ ہو۔
ایک خاندان جو طویل مُدت سے تیمارداری کی حالت میں ہو، اُسے محض سفر کے آغاز میں حوصلہ افزائی کرنے والوں سے بڑھ کر اُن لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جو اُسے سہارا دینے وا لے ہوں۔ ”ایمی نے مجھ سے کہا کہ جب وہ کئی ماہ تک اپنے نو سالہ بیٹے کی خون کے سرطان کی بیماری دُوسروں کے سامنے بیان کرتی رہی “۔ بالکل ایک طویل سفر کے لئے دوڑنے والے شخص کی مانند ہمیں بھی راستے میں پانی اور توانائی بخش مشروب کے مراکز درکار ہوتے ہیں۔ ہمیں ایسے لوگوں کی بھی ضرورت ہے جو راہ کے مختلف مقامات پر کھڑے گھنٹیاں بجا کر ہمارا حوصلہ بڑھائیں اور یاد دِلائیں کہ وہ ہمارے ساتھ ہیں۔ یہ ایک طویل اور تھکا دینے والا سفر ہے۔ ہمیں فراموش نہ کرنا۔
تیمارداری عموماً ایک طویل مدّت کی بلاہٹ ہے، اور اُس کی آزمائشیں اُس وقت بھی قائم رہتی ہیں جب کلیسیا کی اِبتدائی پُرجوش مدد بہت پہلے مدھم پڑ چکی ہوتی ہے۔
بھول جانا آسان ہے کیوں کہ ہر شخص مصروف ہے، اور تیمارداری کرنے والے اکثر اپنی جدوجہد کو اپنے تک محدود رکھنا پسند کرتے ہیں، اِس خوف سے کہ کہیں دُوسروں کے لئے بوجھ نہ بن جائیں یا اپنے عزیزوں کو اُن کی روزمرہ دیکھ بھال کی تفصیلات ظاہر کر کے رنجیدہ نہ کر دیں۔ یہ ہماری کلیسیاؤں کے ہر فرد کی شخصی ذِمے داری ہے کہ تیمارداری کرنے والوں اور اُن کے عزیزوں کو یاد رکھا جائے، کلیسیا میں اُن کے قریب جائیں اور جب وہ غیر حاضر ہوں تو اُنہیں تلاش کریں۔
دُرُست تفہیم
اگرچہ کبھی ہم اپنے آرام دہ دائرے سے باہر نکل کر اپنی کلیسیاؤں کے تیمار داروں کی مدد کرنے کی کوشش بھی کر لیتے ہیں،لیکن ہماری مصروف طبیعت اکثر ہمیں اُن کی ضروریات سمجھنے سے روک دیتی ہے۔ ٹرینا، جس نے کئی برس اپنے شوہر کی دیکھ بھال میں گزارے ،جب وہ ذہنی زوال اور سرطان جیسے مہلک مرض کے خلاف جدوجہد کر رہا تھا، اُس کے دِل میں یہ تلخ یادیں باقی ہیں کہ لوگ محض اپنی دُعاؤں کو سرطان سے شفا تک محدود رکھتے تھے، جبکہ وہ اور اُس کا شوہر یہ یقین رکھتے تھے کہ خدا نے سرطان کو اُس کے تیز رفتار ذہنی زوال کے لئے ایک رحم دِل انجام کے طور پر منظور کیا ہے۔ اُس کی موجودگی میں کسی نے اُس کے اور اُس کے بچوں کے لئے دُعا نہ کی۔
’’ہمیں ثابت قدمی کی ضرورت تھی اور ہمیں درد سے نجات، زِندگی کے آخری فیصلوں اور دِیگر مسائل کے بارے میں فکر لاحق تھی ‘‘۔اُس نے کہا: ’’لوگوں کو چاہیے کہ وہ دُعا کی درخواستوں کو سنیں یا پڑھیں اور اُنہی باتوں کے لئے دُعا کریں، خاص طور پر مریض اور تیمار دار کے سامنے۔ ہمیں اُن لوگوں سے یہ احساس ملنا چاہیے جنہیں ہم سہارا دینے والا سمجھتے ہیں کہ ہماری بات سنی جا رہی ہے۔ اور اُن کی دُعائیں حقیقت کی عکاسی کریں، نہ کہ صرف دُعا کرنے والے کی اپنی خواہشات۔‘‘
سنگین ذہنی بیماری میں مبتلا اَفراد کے والدین میں سے بہت سے لوگوں نے مجھ سے کہا کہ اُنہیں سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ قبولیت، فہم، اُمید اور محبت ہے، ایسی محبت اور حقیقی حوصلہ افزائی جو خود اُس شخص کے لئے بھی ہو جسے نگہداشت درکار ہے۔ ’’تیمار دار محض اپنے عزیزوں کی جسمانی دیکھ بھال کے ذِمے دار نہیں ہوتے بلکہ اُنہیں یہ دیکھنے میں مدد دینا بھی اُن کا فرض ہے کہ اُن کی زندگیوں میں ایک مسلسل مقصد موجود ہے “۔ ٹرینا نے مجھ سے کہا : ” مجھے اپنے شوہر کو یہ یاد دِلانا پڑتا تھا کہ وہ خدا کی صورت کا حامل ہے جو اب بھی اپنے خاندان کے لئے برکت کا باعث بن سکتا ہے۔ “یہ نہایت ضروری ہے کہ ہم اپنے عزیزوں کا شکر ادا کریں کہ وہ ہمیں کس طرح برکت دیتے ہیں اور ہمارے آگے بڑھتے ہیں۔ مَیں رفتہ رفتہ اِس بات کو زیادہ سمجھ رہی ہوں کہ میرے شوہر کی مصیبت برداشت کرنے کی مثال میرے لئے اور اُن سب کے لئے کیا معنی رکھتی ہے جنہوں نے اِسے قریب سے دیکھا۔ کلیسیا اِس حوصلہ اَفزائی کے کام میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
محبت، سمجھ بوجھ اور حوصلہ اَفزائی وقت کی ایسی وابستگی کا تقاضہ کرتے ہیں جو ایک عملی رویّے والے معاشرےمیں بہت کم نظر آتی ہے، جہاں فوری حل کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ اگر ہم کسی ضرورت مند سے ملنے جائیں تو اکثر ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ ہمیں اُن کے مسائل حل کرنے چاہییں یا کم از کم اُنہیں کچھ کارآمد مشورے دینے چاہییں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ رویّہ اُن لوگوں کے لئے بدترین ثابت ہو سکتا ہے جو اپنی پیچیدہ حالت کو حکمت اور ماہرین کی رائے کی روشنی میں سنبھالنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔
اصل نیکی یہ ہے کہ ہم وفادار دوستوں کی مانند موجود رہیں، تیار رہیں کہ ساتھ نبھائیں، سنیں اور سیکھیں۔ تیمارداروں اور اُن کے پیاروں کی زندگیوں میں شامل ہونا بظاہر ایک قربانی محسوس ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ سب کے لئے برکت اور فائدہ کا باعث بنتا ہے۔ اگر ہمیں یقین ہے کہ ” بَدَن میں ایک ہی عضُو نہِیں بلکہ بہُت سے ہیں “ اور ہر ایک کلیسیا کی تعمیر کے لئے ضروری ہے، تو پھر ہم ایک دُوسرے کو بھی اُسی نظر سے دیکھیں گے اور اِسی عمل میں محبت، حکمت اور پختگی میں بڑھتے جائیں گے۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔


