کیا خدا ہمیشہ مسیحیوں سے خوش رہتا ہے؟
26/03/2026
اپنی کلیسیا میں تیمارداروں کی پرورِش اور دست گیری
02/04/2026
کیا خدا ہمیشہ مسیحیوں سے خوش رہتا ہے؟
26/03/2026
اپنی کلیسیا میں تیمارداروں کی پرورِش اور دست گیری
02/04/2026

مَیں  اپنے کام کی جگہ پر  خود کو کیسے مسیحی ثابت کر سکتا ہوں؟

”  تم جانتے ہو، ایلیکس، روزی کمانے کے وسیلے کے علاوہ میرا کام حقیقت میں بالکل بے معنی ہے “۔ یہ اَلفاظ ایک کامیاب مسیحی کاروباری شخص نے مجھ سے اُس وقت کہے جب میری عمر بیس برس کے درمیانی حصے میں تھی ۔  ایک حلیم شخص ہونے کے ناطے، اُس کا مُدعا یہ تھا کہ   کام اکثر ایک ناگزیر بُرائی کی طرح محسوس ہوتا ہے۔

یہ قابلِ تعریف بات ہے کہ میرے بزرگ دوست نے اپنی شناخت کو اپنے کام میں تلاش نہ کیا،  یہ ایک ایسی آزمایش ہے  جس سے بچنا ہمارے لئے  نہایت ضروری ہے۔  حقیقت میں صرف مسیح ہی ہمیں وہ معنویت عطا کر سکتا ہے جسے اکثر لوگ اپنے کام سے حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔  لیکن کیا ہمیں اپنی ملازمت کو یوں ہی بے معنی سمجھنا چاہیے؟  یا پھر شاید پاک کلام ہمیں اُن سرگرمیوں کے بارے میں ایک زیادہ بھرپور اور اُمیداَفزا تصور پیش کرتا ہے جن پر ہم اپنی بیداری کی آدھی زِندگی صرف کر دیتے ہیں۔  آخر مسیحی ہونے کی حیثیت سے کام کرنے کا کیا مفہوم ہے؟

1۔  کام بطور عبادت 

ہم اکثر یہ سنتے ہیں کہ لوگ مسیحی خدمت  کو غیر مذہبی کام کے مدِمقابل رکھتے ہیں۔  کُل وقتی خدمت ایک منفرد اور نہایت اہم بُلَاہٹ ہے،  جو دوچند عزت کے لائق ہے (عبرانیوں 7:13؛ 1۔تیمتھیس 17:5)۔  لیکن مسیحی کے لئے زِندگی کا ہر پہلو” "Coram Deo یعنی  خدا کے رُوبرُو بسر کیا جانا ہے۔  اِسی لئے ہر وہ سرگرمی جو دُوسروں کی بھلائی کے لئے ہو اور جو اِیمان پر مبنی فرماں برداری کے ساتھ خدا  کے سامنے پیش کی جائے، وہی دراصل مسیحی کام ہے۔ 

رومیوں 1:12  ہمیں ہدایت دیتا ہے   کہ”  اپنے بَدَن اَیسی قُربانی ہونے کے لِئے نذر کرو جو زِندہ اور پاک اور خُدا کو پسندِیدہ ہو۔ یہی تمہاری معقُول عِبادت ہے “۔   یہ ایک ہی بار کا نہیں بلکہ مسلسل جاری رہنے والا عمل ہے۔  ہماری پوری زندگی اُس شخص کے نام وقف ہونی چاہیے جس نے ہمارے لئے  اپنی زندگی وقف کر دی اور جان دی تاکہ  ” جو جیتے ہیں وہ آگے کو اپنے لِئے نہ جِئیں بلکہ اُس کے لِئے جو اُن کے واسطے مُؤا اور پھِر جی اُٹھا “(2۔کرنتھیوں 15:5)۔  یہ سب ہم اِس لئے  نہیں کرتے کہ خدا کے فضل کے مستحق ٹھہریں، بلکہ اِس لئے  کہ ہم اُس فضل کو پہلے ہی پا چکے اور اُس کا تجربہ کر چکے ہیں۔

ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں اُس کی خاص اہمیت ہے، کیوں کہ ہمارا ہر عمل، ہر جذبہ اور ہر محرّک اُس رُوحانی عبادت کا حصّہ ہے جس کے لئے  ہمیں بُلایا گیا ہے۔   کام کی جگہ پر ہم جو چیزیں  بنائیں  یا جو بھی خدمات کریں، اُنہیں یوں پیش کریں جیسے کہ خود  خداوند کے سامنے پیش کی جا رہی ہو۔  ہمیں چاہئے کہ ہم جو بھی کام کریں یہ جان کریں کہ ہم خداوند کے لئے کرتے ہیں نہ کہ آدمیوں کے لئے    (کلسیوں 23:3)۔  ہم اپنے کام میں کمال کے طلب گار اِس لئے  ہیں کہ خدا وند کو خوش کریں، نہ کہ زمینی  اَجر پانے کے لئے ۔ 

2۔  کام کو اپنے  ہمسائے کے ساتھ بطور محبت جاننا

مارٹن لُوتھر اکثر یہ کہا کرتے تھے کہ: ” خدا کو ہماری نیک اَعمال کی ضرورت نہیں، مگر ہمارے ہمسائے کو ہے “۔  ہماری ملازمتیں ہمیں وہ عینی مواقع فراہم کرتی ہیں جن کے وسیلے سے ہم اپنے ہمسائے سے  اپنی محبّت کا اِظہار کر سکتے ہیں۔  اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم ”نیک کام “ کی ترکیب کو صرف اُجرت کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں۔  اِس میں کوئی قباحت نہیں کہ ہمیں  ہمارے کام کا مناسب معاوضہ ملے،  کیوں کہ مالی خود مختاری  اور قناعت پسندی کو کتابِ مقدس  میں سراہا گیا ہے (1۔تھسلنکیوں 11:4-12؛ 1۔تیمتھیس 8:5؛ عبرانیوں 5:13)۔   لیکن  نہ  دولت اور نہ  ہی عُہدےہماری بنیادی تحریک بننے چاہییں۔  پھر کیا ہونا چاہئے ؟  خدا اور اپنے ہمسائے سے محبّت۔

 اپنے کام کی جگہ پر ، ہمیں چاہئے کہ  ہم کارآمد بننے کی جستجو کریں:  زندگیوں کو سنوارنے، نظام کو فروغ دینے اور دُکھ کو کم کرنے کے لئے ۔  یہ ایک بہت بڑے اُصُول کا حصّہ ہے:  مسیحیت ایک بہترین معاشرہ  ہے ۔  یہ ہمیں بہترین شوہر، بیویاں، باپ، مائیں، شہری اور ملازم بناتی ہے۔  ہمیں مسیحیوں اور غیر مسیحیوں دونوں کے لئے  کارآمد بناتی ہے۔  ہر نیک کام اچھی اُجرت نہیں دیتا۔   ہر نیک کام کی بکثرت تعریف نہیں کی جاتی۔  تاہم ہر  نیک کام  فائدہ مند ضرور ہے۔

3۔کام بطور بلاہٹ

اِس بات کو تسلیم کرنا کہ ہمیں  دُوسروں کی بھلائی کے لئے خاص طور پر بلایا گیا ہے ، ایک عظیم شادمانی اور معنویت کو جنم دیتا ہے، چاہئے  حالات جیسے بھی کیوں نہ ہوں۔  کیا آپ کا مالک ناشکرا ہے؟  کیا آپ کے ساتھ کام کرنے والی ساتھی سخت مزاج ہیں؟  آپ کے گاہک  خوش ہونے میں دُشواری محسوس کرتے ہیں؟  ٹھیک ہے، یونہی سہی۔  آپ کا کام خدا کی طرف سے آپ کی بلاہٹ ہے۔  اگر وفاداری ہمارا مقصد ہو اور خدا کی ستایش ہمارا ہدف،  تو پھر اِن تمام شکایتوں کا برداشت کرنا ہمارے لئے آسان ہو جاتا ہے۔  یسوع ہمارا نمونہ ہے،  جس نے لعن طعن برداشت کر کے اپنے آپ کو سچے اِنصاف کرنے والے کے سپرد کر دیا (1۔پطرس  23:2)۔  ایک مسیحی ہونے کے ناطے، ہماری زندگی کا ہر پہلو  "”Coram Deo  یعنی خدا کے رُوبرو بسر ہونا چاہئے۔  پس کوئی بھی سرگرمی جو دُوسروں کی بھلائی کے لئے  اَنجام دی جائے  اور جو خدا کو اِیمان پر مبنی فرماں  برداری کے ساتھ پیش کی جائے،  وہی حقیقی مسیحی خدمت اور کام ہے۔

شکر ہے کہ کئی پہلوؤں سے ہمیں یہ آزادی حاصل ہے کہ ہم اُس کام کو اِختیار کریں جس کے لئے  ہم زیادہ موزُوں ہیں۔  عملی پہلوؤں کو مدِنظر رکھتے ہوئے ہمیں ایسے پیشے یا خدمت کی جستجو کرنی چاہیے جو ہماری عطا کردہ نعمتوں، مزاج، صلاحیتوں اور رُجحانات کو بہتر طور پر اُجاگر کرے۔ اِس طرح ہمارا کام محض مشقت نہیں بلکہ، جیسا کہ ڈورؔتھی  سیئرز نے کہا ہے کہ، وہ چیز بن جائے گا جس میں ہم ”رُوحانی، فکری اور جسمانی تسکین “ پاتے ہیں اور وہ وسیلہ بنے گا جس کے ذریعے ہم اپنی ہستی کو خدا کے حضور پیش کرتے ہیں۔

اگر آپ روزگار کی تلاش میں ہیں تو اپنی مطلوبہ ذِمے داری حاصل کرنے کے لئے اپنی مہارتوں کو  نکھارتے اور  اپنا پیشہ وارانہ خاکہ تیار کرتے ہوئے  خدا کی پروردِگاری پر  مکمل  بھروسا رکھیں۔  اپنے کام کو بلاہٹ سمجھنا ہمیں یہ یاد دِلاتا ہے کہ ہم  موجودہ حالت میں وفادار رہیں، اِس یقین کے ساتھ کہ کم از کم فی الحال خدا نے ہمیں اِسی  کے لئے مقرر کیا ہے۔ 

4۔ کام بطور بشارت

اپنے کام کے ذریعہ جو نیک اَعمال اَنجام پاتے ہیں ، ہم   خدا کے فضل کی خوش خبری کو دُوسروں کے سامنے قابلِ قبول اور مؤثر بناتے ہیں (طِطُس 9:2-10)۔   یعنی ہم اُسے دُوسروں کے لئے  زیادہ پُرکشش بناتے ہیں۔  کام کی جگہ ہمیں اُن غیر مسیحیوں کے ساتھ تعلق قائم کرنے کا موقع دیتی ہے جنہیں ہم  عام طور پر نہیں جانتے۔   اپنے  ساتھیوں کے ساتھ نیکی کرنا  ہمیں یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم  مسیح کے کام  کےبارے میں بات کریں، یعنی  وہ کام جو نہ صرف صلیب پر ہوا بلکہ ہماری زندگیوں میں بھی جاری ہے۔    جب  مواقع  فراہم ہوں،  ہمیں دُوسروں کے ساتھ تعلق قائم کرنا چاہیے،  محبت میں سچائی بیان کرتے ہوئے اور خدا سے دُعا کرنی چاہیے کہ وہ اُنہیں توبہ کی توفیق عطا فرمائے۔ یسوع نے یہ بات سکھاتے ہوئے اِس کا تصور یوں پیش کیا : ” تمہاری روشنی آدمِیوں کے سامنے چمکے تاکہ وہ تمہارے نیک کاموں کو دیکھ کر تمہارے باپ کی جو آسمان پر ہے تمجید کریں“(متی 16:5)۔ 

5۔کام بطور وسیلۂ تقدیس

 آخرکار، چونکہ ہمارا کام مشکلات سے وابستہ ہو سکتا ہےاور گرے ہوئے عالم میں یہ  بات بالکل یقینی ہے،  تو  پھرہمارا کام تقدیس کا وسیلہ ہے۔  اِس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے،   ہم طرح طرح کی آزمایشوں کو   کمال خوشی  کی بات سمجھتے ہیں  ، یہ  جان کر کہ ہمارے اِیمان کی آزمایش صبر پیدا کرتی ہے (یعقوب 2:1-3)۔  خداوند کا شکر ہے کہ جس نے ہم   میں یہ نیک کام شروع کیا ہے  وہ اُسے یسوع مسیح کے دِن پورا کر دے گا (فلپیوں 6:1)۔ 

پیارے مسیحیو!  جو کچھ آپ کام کی جگہ پر کرتے ہیں وہ بےمعنی نہیں ہے۔  یہ آپ کی زندگی پر خدا کے بُلاہٹ کا ایک اہم پہلو ہے،  ایک ایسا مقام جہاں آپ  رُوحانی عبادت پیش کر سکتے ،  مشترکہ بھلائی میں حصہ ڈال سکتے اور نیک اَعمال کے ذریعے اپنے ہمسائے سے محبت ظاہر کر سکتے ہیں۔ 

یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔