
قناعت کی تلاش کے پانچ طریقے
24/03/2026
مَیں اپنے کام کی جگہ پر خود کو کیسے مسیحی ثابت کر سکتا ہوں؟
31/03/2026کیا خدا ہمیشہ مسیحیوں سے خوش رہتا ہے؟
اِس سوال کا صحیح جواب دینے کے لئے ضروری ہے کہ ہم ایک مضبوط بُنیاد رکھیں، جو اِس حقیقت سے شروع ہوتی ہے کہ فضل اَعمال سے پہلے ہے۔
1۔ مسیح سے جُدا ہو کر ،ہم اپنی اَخلاقیات، کوشش یا قابلیت کے ذرِیعے خدا کو خوش نہیں کر سکتے
وہ رُوحیں جنہوں نے نئی پیدایش کا تجربہ نہ پایا ہو ، نہ تو خدا کو خوش کرنے کی آرزُو مند ہوتی ہیں اور نہ ہی اُس کے احکام کی پیروی کرنے کے قابل (رومیوں 5:8-8)۔ جسم میں چھپی ہوئی گناہ آلود خود غرضی اُن کی زندگیوں پر غالب رہتی ہے (2۔تیمتھیس 1:3-5) ۔ اِیمان ہی کے وسیلہ سے حنوک خدا کے ساتھ چلتا رہا (عبرانیوں 5:11-6)۔ صرف اُس وقت جب ذہن، اِرادے اور دِل کی بنیاد پر فضل سے بھری رُوحانی تجدید واقع ہوتی ہے تو ہم اپنی نااُمیدی کی حالت کو پہچانتے ہیں اور خدا کی عدالت کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے آپ کو مسیح کے سپرد کرتے ہیں۔ لازم ہے کہ پہلے رُوح القدس خدا کی شریعت کو ہمارے دِلوں پر لکھے تاکہ ہم حقیقت میں اُسے خوش کرنے کے لئے شکرگزاری اور خدا کو جلال دینے والے طریقوں سے اُس کی تلاش کریں۔
2۔ اَزل سے اَبد تک خدا نے اپنے حاکمانہ چناؤ پر کبھی ایک لمحے کے لئے بھی اَفسوس نہیں کیا
تخلیق سے قبل خدا کو یہ اچھا لگا کہ وہ اپنی دُلہن یعنی کلیسیا کو پیشتر سے مقر ر کرے، تاکہ وہ اُس کی قیمتی ملکیت اور اُس کی آنکھ کی پُتلی ہو، وہ اپنی محبت میں مسرور رہے گا اور وہ گاتےہوئے تیرے لئے شادمانی کرے گا (صفنیاہ 11:3-17)۔ خدا کو یہ بھی پسند آیا کہ عمومی طور پر، کچھ مخصوص صورتِ حال میں، خدا نے دُنیا کے بیوقوفوں کو چُن لیا کہ حکیموں کو شرمندہ کریں اور خدا نے دُنیا کے کمزوروں کو چُن لیا کہ زورآوروں کو شرمندہ کریں (1۔کرنتھیوں 20:1-27)۔ باپ کو یہ پسند آیا کہ دانش مندوں اور حکیموں سے مکاشفہ کی روشنی کو پوشیدہ رکھے اور دُنیا کے بیوقوفوں پر ظاہر کرے (متی 25:11-27 ؛ لوقا 14:2؛ 32:12)۔ جب ہم جلد باز ماہی گیروں، قاتل فقہیوں، مرتے ہوئے باغیوں ، بدنام بدکار عورتوں ،آسیب زدہ افراد اور بدعنوان محصول لینے والوں کی مثالوں پر نظر ڈالتے ہیں تو خدا نے اُن لوگوں کو چُن لیا جو سب سے ناپسندیدہ اور بظاہر سب سے بدترین سمجھے جاتے تھے تاکہ اِنسانی غرور کو پست کرے اور اپنی ذات کے لئے زیادہ جلال ظاہر کرے ۔ اگر خدا اپنے اِس چُناؤ سے مطمئن ہے تو پھر اِس اِنتخابی مفہوم میں مسیحی خدا کو خوش کرتا ہے۔
3۔ اگرچہ خدا سب کے ساتھ بھلائی کرنے والا ہے اور اپنے مقدسوں کے لئے نیک اِرادہ رکھنے والا ہے، تاہم تمام بنی آدم میں سے صرف ایک ہی ایسا شخص ہے جو اپنی ذات میں ہمیشہ مکمل طور پر باپ کو پسندیدہ ہے (یوحنا 29:8)
خدا مسیح کے مسح شُدہ پیغام، معجزات، شریعت کی پاسداری اور دُکھ سہنے میں خوش ہوتا ہے۔ اُس کی خوشنودی کا یہ جلالی اعلان کائنات کی بازگشت بن گیا : ” یہ میرا بیٹا ہے جس سے مَیں خوش ہوں “(متی 16:3-17؛ 5:17)۔ اگر یسوع ابدی بیٹا اور عہد کا درمیانی بن کر اَزل سے خدا کو خوش کرتا ہے، تو وہ سب جو اُس کے ساتھ متحد ہیں، اُس کے خون سے دھوئے گئے، اُس کی راست بازی سے ملبس ہوئے اور لے پالک ہونے کے لئے قبول کیے گئے (اِفسیوں 3:1-6) اور خدا کے نزدیک مقبول ٹھہرے۔
4۔ نجات کا یقینی چناؤ اور مقام، شکرگزار شاگردوں کی بڑھتی ہوئی اُس فرماں برداری کی طرف مائل کرتا ہے جو خدا کو پسند ہے(اِفسیوں 1:5-10؛ کلسیوں 9:1-14 ) ایسی فرماں برداری جو اُن نیک اَعمال کی اَنجام دِہی کو نہ نظرانداز کرتی ہے اور نہ ہی فراموش (اِفسیوں 5:2-10)۔
بلکہ ہم یہ قصد کرتے ہیں کہ کس طرح خدا کو خوش کیا جائے۔ ہم یہ بالکل اُسی طرح کرتے ہیں جیسے سپاہی، تیمتھیس کی مانند، جب ہم اپنا سب سے اہم مقصد یہ ٹھہراتے ہیں کہ اپنے فرماں روا یسوع کو خوش کریں (2۔تیمتھیس 1:2-14)۔ ہم یہ سب کچھ مسیح کے نمونے پرایک خادِم کی طرح کرتے ہیں، جس نے اپنے آپ کو صلیب تک حلیم بنائے رکھا۔ اب ہم اِنسانی تعریف کے خواہاں نہیں رہتے بلکہ اپنی خود غرضانہ خواہشات کو ایک طرف رکھ کر بھائیوں اور دُوسروں کی ضروریات کو ترجیح دیتے ہیں، تاکہ کسی کو ٹھوکر نہ لگے اور ہم کمزور کو مضبوط کریں اور کلام کو پھیلائیں۔
5۔ کلامِ مقدس کئی مقامات پر یہ وضاحت کرتا ہے کہ خدا کو کیسے خوش کیا جائے
خدا اُس وقت خوش ہوتا ہے جب مزدور سخت محنت کرتے ہیں، بچے والدین کی فرماں برداری کرتے ہیں، رِشتہ اِزدِواج مضبوط ہو، شہری اعلیٰ حکومتوں کے تابع رہیں، اراکین بزرگوں کی سنجیدگی پر توجہ دیتے ہیں اور وفاداری زِنا کی جگہ لے لیتی ہے(1۔تھسلُنیکیوں 1:4-8)۔ خدا ہمارے اَعمال کی تصدیق کرتا ہے جب سلامتی جھگڑے کو ختم کر دیتی ہے، کلیسیا کلامِ مقدس سے معمور ہو اور بھیڑیں خوراک پائیں (نہ زخمی ہوں اور نہ بھوکی رہیں)۔ مسیحی خدمت اُس وقت سراہی جاتی ہے جب باطنی حقیقت خالی رسم و رواج کی جگہ لے، گنہگار شکستہ دِل ہوں (زبور 16:51-17؛ میکاہ 6:6-8)۔ معاف کئے گئے مقدسین، فیاضی سے پیش کیے گئے تحائف کے ساتھ پاک قربانی پر مبنی خدمت پیش کریں (فلپیوں 18:4؛ عبرانیوں 16:13) اور ہم مکمل طور پر دُعا میں مشغول رہیں (1۔تیمتھیس 1:2-4)۔
6۔ دو حقائق خدا کو خوش کرنے والے راستے کی پیروی میں مددگار ثابت ہوتے ہیں
ایک یہ ہے کہ خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کی خواہش اور تحریک خود سے پیدا نہیں ہوتی، بلکہ یہ مسیح کے طاقتور خو ش خبری پر مبنی کلام کا نتیجہ اور اَثر ہے، جو روح القدس کے ذریعے ہمارے دِلوں میں نافذ ہوتا ہے تاکہ ہمیں وہ سوچ اور عمل کرنے کی تحریک دے جو خدا کو پسند ہو(فلپیوں 12:2-13؛ عبرانیوں 20:13-21)۔
دوسرا یہ ہے کہ جب ہم اِنسانی تعریف کے خواہاں ہونا چھوڑ دیتے ہیں، خودغرضی کی خواہش کو قابو میں رکھتے ہیں، اپنے آپ کو خدا کے سپرد کرتے ہیں اور دُوسروں کو ترجیح دیتے ہیں، تو ہم یہ دریافت کر لیتے ہیں کہ صلیب کی فروتن راہ ہی حقیقی آزادی اور زندگی کا راستہ ہے (رومیوں 1:14؛ 33:15؛ 1۔کرنتھیوں 31:10-33)۔ جیسا کہ بائبل مقدس بیان کرتی ہے : ”دینا لینے سے مبارک ہے“ (اعمال 35:20)۔ خدا اِس بات سے خوش ہوتا ہے کہ ہمارے اندر اُسے دریافت کرنے کی جستجو ہو۔
7۔ کلامِ مقدس بلا شبہ یہ تعلیم دیتا ہے کہ خدا ہمارے اَعمال میں گناہ کو ناپسند کرتا ہے
جب داؤد نے بت سبع کو لیا اور متکبر ہو کر مردم شماری کا حکم جاری کیا تو یہوّاہ خدا نے اپنی ناراضی کا اِظہار کیا (2۔سموئیل 27:11؛ 1۔ کرنتھیوں 1:21-7)۔ ہمارے ناپسندیدہ اَعمال رُوح القدس کو رنجیدہ کرتے ہیں (اِفسیوں 25:4-32) ۔ ہمارا آسمانی باپ اپنے بچوں کی اَبدی بھلائی کے لئے محبت کے ساتھ اُنہیں نظم و ضبط کے تحت تربیت دیتا ہے(عبرانیوں 5:12-11) ۔ حتیٰ کہ شدید اور بڑے گناہوں کے لئے بھی (1۔کرنتھیوں 28:11-34)۔ اگر مسیح نے آسیہ کی سات میں سے چھے کلیسیاؤں میں نقص پائے( مکاشفہ 1:2-22:3) تو پھر فضل ہمیشہ حتمی اِختیار رکھتا ہے۔ خداوند اِس بات سے بخوبی واقف ہے کہ ہم محض خاک ہیں اور ہم گناہ کی قیمت ادا نہیں کر سکتے ، لیکن جب ہم غلطی کرتے ہیں، تو خدا صبر و رحمت کے ساتھ ہمیں معاف کرتا اور ہم پر رحم فرماتا ہے (زبور 8:103-18)۔
حاصلِ کلام
اپنے خاص مقصد کے تحت، خدا ہمیشہ مقدسوں سے خوش رہتا ہے۔ مسیح میں اِیمان داروں کے مقام کے لحاظ سے، خدا کی خوشنودی یقینی ہے۔ لیکن ہماری کارکردگی کے لحاظ سے، خدا گناہ کو تو ناپسند کرتا ہے لیکن اُس فرماں برداری کو پسند کرتا ہے جو وہ اپنی طاقت سے ہمارے دِلوں میں زندہ کر کے عمل میں لاتا ہے۔اگر ہم اِس بات سے حیران ہوں کہ خدا نے ہمارے سنگین ترین گناہوں اور نقائص کے باوجود ، کیوں ہماری نجات کے حصول میں شادمانی محسوس کی تو یہ اِس لئے تھا تاکہ وہ جلال پائے اور اِس سے لطف اندوز ہو۔ جب وہ ہماری گہرائیوں تک جھکتا ہے اور ہمیں اپنی بلندیوں تک اٹھاتا ہے، تو وہ اپنا صابر، رحم کرنے والا اور معاف کرنے والا دِل ظاہر کرتا ہے، تاکہ اُس کی اَبدی زِندگی ہم میں ظاہر ہو اُس کے جلالی فضل کی تعریف میں اِضافہ ہو ۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔


