کسی عزیز کے بچھڑنے کا غم
19/03/2026
کیا خدا ہمیشہ مسیحیوں سے خوش رہتا ہے؟
26/03/2026
کسی عزیز کے بچھڑنے کا غم
19/03/2026
کیا خدا ہمیشہ مسیحیوں سے خوش رہتا ہے؟
26/03/2026

قناعت کی تلاش کے پانچ طریقے

آخری  بار کب آپ نے آئینے میں خود کو دیکھا اور چاہا کہ جو کچھ آپ دیکھ رہے ہیں اُسے بدل دیں؟ گزشتہ مہینے میں کس چیز کے بارے میں آپ نے کہا:  ’’مجھے یہ چاہیے؟ ‘‘۔  جب آپ کے دوست نے وہ ترقی، وہ چیز یا وہ عزت پائی جس کے حاصل کرنے کی آپ نے اُمید رکھی تھی، تو آپ کا ردِّعمل کیا تھا؟

اکثر لوگ قناعت  کو نہایت دُشوار  اَمر سمجھتےہیں۔    قناعت   اِس لیے بھی مشکل  ہے کہ ہم ایک گِری ہوئی دُنیا   میں گِرے ہوئے اِنسان ہیں۔ اب ہم محض خدا کی عبادت اور اُس کے جلال کے لیے خدمت نہیں کرتے۔ جب تک یسوع واپس نہ آئے،  ہم اِس خواہش سے لڑتے رہیں گے کہ مسیح کے ساتھ ساتھ کوئی اَور یا کچھ اَور بھی ہو۔  لیکن حوصلہ رکھیں،  اگر آپ اِیمان کے وسیلہ سے مسیح کے ساتھ متحد ہیں  تو آپ سچ مچ قناعت کر سکتے ہیں ،اگرچہ کامل طور پر نہیں۔  بائبل ہمیں کم از کم پانچ طریقے سکھاتی ہے جن سے قناعت  کی تلاش کی جا سکتی ہے:

1۔ خداوند میں خوش رہیں 

چونکہ ’’سب نے گناہ کیا ہے اور خدا کے جلال سے محروم ہیں‘‘ (رومیوں23:3)  اِس لیے ہمارے دِل اب صرف خدا کی پرستش نہیں کرتے۔  ہم نے  ” خُدا کی سَچّائی کو بدل کر جھُوٹ بنا ڈالا اور مخلُوقات کی زیادہ پرستِش اور عِبادت کی بہ نسِبت اُس خالِق کے جواَبد تک محمُود ہے “ (رومیوں 25:1) ۔  لہٰذا اگر ہمیں اِطمینان  کی تلاش کرنی ہے تو ہمیں دوبارہ صرف خدا کی پرستش کی طرف لوٹنا ہوگا۔  حالات جیسے بھی ہوں، ہمیں خداوند میں خوش رہنا  چاہیے۔ 

 ” اگرچہ اِنجیر کا درخت نہ پھولے اور تاک میں پھل نہ لگے اور زیتون کا حاصل ضائع ہو جائے اور کھیتوں میں کچھ پیداوار نہ ہو اور بھیڑ خانہ سے بھیڑیں جاتی رہیں اور طویلوں میں مویشی نہ ہوں ۔ تو بھی مَیں خُداوند سے خوش رہوں گا اور اپنے نجات بخش خُدا سے خوش وقت ہُوں گا “(حبقوق 17:3-18)۔ 

2۔ خداوند پر بھروسا رکھیں 

ہم اکثر قناعت کو اِس لیے ایک مشکل  اَمر سمجھتے ہیں کہ ہم دِل سے یہ بھروسا نہیں رکھتے کہ خُدا ہم سے محبت کرتا ہے اور سب باتوں کو ہماری بھلائی کے لئے کر رہا ہے (رومیوں 28:8)۔  لیکن جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ  ”دیکھو باپ نے ہم سے کیسی محبت کی ہے کہ ہم  خدا کے فرزند کہلائے “(1۔یوحنا 1:3)  اور یہ یقین رکھتے ہیں کہ ” سب چِیزیں مِل کر خُدا سے محبّت رکھنے والوں کے لِئے بھلائی پَیدا کرتی ہیں “ (رومیوں 28:8)    تو ہم اپنی زندگی کے لیے اُس کے منصوبوں پر  قناعت کر  سکتے ہیں۔ کیوں کہ  ” اُس نے ایک ہی اصل سے آدمِیوں کی ہر ایک قَوم تمام رُوی زمِین پر رہنے کے لئِے پَیدا کی اور اُن کی مِیعادیں اور سکوُنت کی حدیں مُقرر کِیں “(اعمال 26:17)۔  اِس لیے ہمیں یہ فکر کرنے کی ضرورت نہیں کہ ہم کون ہیں اور ہمارے پاس کیا ہے، کیوں  کہ  ہم اِس حقیقت پر مطمئن ہو سکتے ہیں کہ خداوند ہر چیز پر حکمران ہے، یہاں تک کہ ہماری زندگیوں پر بھی: 

” خُداوند پر تُوکل کر اور نیکی کر۔ مُلک میں آباد رہ اور اُس کی وفاداری سے پرورِش پا۔ خُداوند میں مسرور رہ اور وہ تیرے دِل کی مرادیں پُوری کرے گا “(زبور 3:37-4)۔ 

3۔  ہمیشہ اَبدیت پر اپنی نظریں مرکوز رکھیں

 اگر ہم اِس دُنیا کی چیزوں کے لئے زندگی بسر کر رہے ہیں  تو ہم کبھی بھی   اِطمینان حاصل نہیں کر سکتے۔ یسوع نے اپنے شاگردوں کو نصیحت کی کہ  ” اپنے لِئے آسمان پر مال جمع کرو جہاں نہ کِیڑا خراب کرتا ہے نہ زنگ اور نہ وہاں چور نقب لگاتے اور چُراتے ہیں۔  کیوں کہ جہاں تیرا مال ہے وَہیں تیرا دِل بھی لگا رہے گا “(متی 20:6-21)۔  پولُس نے تِیمتھیس کو سکھایا: ”  ہاں دِین داری قناعت کے ساتھ بڑے نفع کا ذرِیعہ ہے۔  کیوں کہ نہ ہم دُنیا میں کُچھ لائے اور نہ کُچھ اُس میں سے لے جا سکتے ہیں “(1۔تیمتھیس 6:6-7)۔    اِس دُنیا کی لذتوں کے پیچھے دوڑنے کے بجائے ہمیں   ” راست بازی۔ دِین داری۔ اِیمان۔ محبّت۔ صبر اور حِلم  “کا پیچھا کرنا ہے اور اُس اَبدی زندگی کو مضبوطی سے تھامنا ہے جس کے لئے ہم بلائے گئے ہیں (1۔تیمتھیس 11:6-12)۔ 

4۔  اپنی کمزوریوں کے ذریعے مسیح کی قدرت اور اُس کے جلال کو ظاہر ہونے دیں 

. اگر ہم سچ بولیں تو ہمیں کمزور ہونا پسند نہیں۔ ہم میں سے  بہتوں کو یہ سکھایا گیا ہے کہ اپنی کمزوریوں کو چھپائیں اور اپنی قوت کو نمایاں کریں۔ لیکن  بائبل یہ سکھاتی ہے کہ : ”  کیوں کہ  جب مَیں کمزور ہوتا ہُوں اُسی وقت زورآور ہوتا ہُوں “(2۔کرنتھیوں 10:12)۔  کیوں کہ ہماری کمزوریاں مسیح کے فضل کی کفایت کو ظاہر کرتی ہیں، اور یہی مسیح کی قدرت ہے جو ” میری قُدرت کمزوری میں پُوری ہوتی ہے “(2۔کرنتھیوں 9:12)۔لہٰذا،   ” ہم  کمزوریوں کے ساتھ مطمئن رہ سکتے ہیں “ (2۔کرنتھیوں 10:12)۔ 

5۔ دُوسروں کی چیز وں کا  لالچ نہ کریں 

یہ بڑا ہی آزمایش  کا وقت ہوتا ہے جب ہم اپنے گھر والوں، دوستوں، کلیسیائی ارکان ، پڑوسیوں یا ساتھی کارکنوں کو دیکھ کر وہی کچھ چاہنے لگتے ہیں جو اُن کے پاس  ہوتا ہے۔  اکثر ہم یہ سوچتے ہیں کہ خُدا نے ہم سے وہ چیزیں کیوں روک رکھی ہیں جن کے لیے ہم نے دُعا بھی کی تھی،  خاص طور پر جب وہ چیزیں اچھی اور دُرُست معلوم ہوتی ہیں،  جیسے کہ شریکِ حیات یا اَولاد۔  لیکن بائبل ہمیں  سکھاتی ہے کہ  ” اور اُس نے ایک ہی اصل سے آدمیوں کی ہر قوم تمام رویِ زمین پر  رہنے کے لئے پیدا کی اور اُن کی میعادیں  اور سکونت کی حدیں مقرر کیں“ (اَعمال  26:17)۔  اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اُنہی وقتوں اور مقامات میں جو ہمارے لیے مقرر کیے گئے ہیں،خُدا چاہتا ہےکہ ”ہم   اُسے ڈھونڈیں۔ شاید کہ ٹٹول کر اُسے پائیں ہر چند وہ ہم میں سے کسِی سے دُور نہِیں “ (اعمال 27:17-28)۔

یہ بھی ایک آزمایش ہو سکتی ہے کہ ہم دُوسروں کی  نعمتوں کو دیکھ کر اُن  سے حسد کریں،  لیکن ” اور ہم میں سے ہر ایک پر مسیح کی بخشش کے اندازہ کے مُوافِق فضل ہُؤا ہے “ اور وہی ہے جس نے  ” آدمیوں کو اِنعام دیئے “  تاکہ  ”مسیح کا بَدَن ترقّی پائے “(اِفسیوں 7:4-  8، 12)۔  پس ہم یقینِ کامل  رکھ سکتے ہیں کہ ہمیں وہی نعمتیں ملی ہیں جو مسیح نے ہمارے لیے مقرر کیں،  لہٰذا ہمیں دُوسروں کی نعمتوں  کا لالچ نہیں کرنا چاہیے،  بلکہ ہمیں دُوسروں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے کہ وہ اپنی پائی ہوئی نعمتوں کے اچھے نگہبان بنیں،  تاکہ ’’یسوع مسیح کے وسیلہ سے خدا کا جلال ظاہر ہو‘‘(1۔پطرس 10:4-11)۔ 

بالآخر،  ہماری بے اِطمینانی دراصل خدا کی طرف سے مقرر کی ہوئی حالت کے ساتھ ہے،  جس نے ہماری حالات کو مقرر کیا ہے۔ اگر آج آپ اِس گناہ سے جدوجہد کر رہے ہیں تو یاد رکھیں کہ خداوند میں خوش رہیں اور اُس پر بھروسا رکھیں، ہمیشہ اَبدی نقطۂ نظر کو اپنے سامنے رکھیں، اپنی کمزوریوں کے وسیلہ سے مسیح کی قدرت کو ظاہر ہونے دیں،  اور دُوسروں کو بخشی گئی نعمتوں سے حسد نہ کریں۔  تب خدا کے فضل سے آپ یہ گواہی دے سکیں گے کہ  ” مَیں نے یہ سِیکھا ہے کہ جِس حالت میں ہُوں اُسی میں راضی رہُوں۔۔۔ جو مُجھے طاقت بخشتا ہے اُس میں مَیں سب کُچھ کر سکتا ہُوں “(فلپیوں 11:4-13)۔ 

یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔