مشکلات اور آزمایشوں کے ذریعے بچوں کی پرورِش کرنا
17/03/2026
قناعت کی تلاش کے پانچ طریقے
24/03/2026
مشکلات اور آزمایشوں کے ذریعے بچوں کی پرورِش کرنا
17/03/2026
قناعت کی تلاش کے پانچ طریقے
24/03/2026

کسی عزیز کے بچھڑنے کا غم

یہ حقیقت ہے کہ کسی پیارے کے بچھڑنے کا دُکھ سب سے زیادہ گہرا اور جان لیوا محسوس ہوتا ہے۔  اِنسان کبھی بھی اِس جدائی کے لیے تخلیق نہیں کیا گیا تھا، کیوں کہ ہم اُس رفاقت کے لیے بنائے گئے تھے جو دائمی اور اَبدی ہو۔  موت دراصل گناہ کا نتیجہ ہے اور یہ تخلیق کی اصل  ترتیب کا حصہ نہیں تھی (رومیوں12:5)   اِسی لیے جب ہم اپنے عزیز کو کھو دیتے ہیں تو یہ جدائی ناقابلِ بیان اَذّیت کا باعث بنتی ہے۔   ہماری رُوحیں تڑپتی ہیں کہ ایک بار پھر اپنے پیاروں کی آواز سنیں، اُن کے بازوؤں کا لمس محسوس کریں،  اُن کی آنکھوں میں جھانکیں اور ایک لمحے کو اُن کی رُوح میں ڈوب جائیں۔ یہ جدائی کا درد وسیع، گہرا اور اکثر بیان سے باہر ہوتا ہے۔یہ غم ایک طوفان کی مانند ہے جس میں دُکھ، خوف، اُداسی اور غصہ یکجا ہو جاتے ہیں، اور اگر اِحتیاط نہ کی جائے تو یہ پورا وجود اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک اِیمان دار کس طرح اپنے پیارے کی جدائی کے اِس کڑے وقت کو بخوبی  برداشت کر سکتا ہے؟

سب سے پہلے یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ غم کے وقت آپ کو کِن حالات کا سامنا ہو سکتا ہے۔  صدیوں سے مختلف تشبیہوں کے ذریعے غم کے عمل کو بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے،  مگر میرے نزدیک طوفان کی تمثیل نہایت مددگار ثابت ہوتی ہے۔  یہ ایک بائبلی تصویر بھی ہے،  خواہ وہ حقیقی معنوں میں ہو (یوناہ 3:2)  یا علامتی طور پر (زبور 7:42؛ 7:88) ۔  جب ہم فطری طور پر غم کے بوجھ تلے دبنے کی کیفیت بیان کرتے ہیں  تو اکثر اِسے ڈوبنے یا غرق ہونے کے احساس سے تعبیر کرتے ہیں۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اپنے کسی پیارے کی جدائی کے غم سے گزرنا  ایسا ہے جیسے ایک طوفانی سمندر سے گزرنا ہو۔ بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ موجوں کا دباؤ حد سے بڑھ گیا ہے اور ہم کبھی اُس اجنبی ساحل کی قبولیت تک نہیں پہنچ سکیں گے۔  تاہم یہی وہ مقام ہے جہاں پولُس کی تھِسلُنیکے  کو دی گئی نصیحت نہایت کارآمد ثابت ہوتی ہے:  ” اَے بھائِیو! ہم نہِیں چاہتے کہ جو سوتے ہیں اُن کی بابت تُم ناواقِف رہو تاکہ اَوروں کی مانِند جو نااُمِید ہیں غم نہ کرو۔  کیوں کہ  جب ہمیں یہ یقِین ہے کہ یِسُوع مر گیا اور جی اُٹھا تو اُسی طرح خُدا اُن کو بھی جو سو گئے ہیں یِسُوع کے وسِیلہ سے اُسی کے ساتھ لے آئے گا “(1۔تھسلُنیکیوں 13:4-14)۔ 

ایک نہ ڈوبنے والی  زندگی بخش  کشتی کی مانند ، خواہ غم کی لہریں پہاڑوں کی طرح بلند کیوں نہ ہوں، مسیح ہمیں ڈوبنے نہیں دیتا۔ اُس نے موت پر فتح پالی ہے (1۔کرنتھیوں 55:15)  اور اگرچہ جدائی اور کمی کا درد ہمیشہ کے لئے پھیلا ہوا محسوس ہوتا ہے، مگر مسیح اپنی ہی موت کے وسیلے ہمیں یہ یقین دِہانی کراتا ہے کہ یہ صرف ایک محدود  مُدت تک ہے، کیوں کہ ایک دِن آنے والا ہے جب نہ موت رہے گی نہ آنسو (مکاشفہ 4:21)۔  

یہ حقیقت ہے کہ اگر موت عارضی ہے اور مسیح نے فتح کا دعویٰ کر لیا ہے  تو پھر یہ اِتنا تکلیف دہ کیوں ہے؟ طوفان اتنا شدید اور ہولناک کیوں محسوس ہوتا ہے؟  اصل میں یہ ہماری رُوح کی فطرت کے بالکل خلاف ہے کہ موت کے وسیلہ سے ہم اُن سے جُدا ہوں جن سے ہم محبت کرتے ہیں۔  ہمارا غم دراصل ہماری رُوح کی وہ فریاد ہے جب اُس کا ایک حصہ ہم سے جدا سا ہو جاتا ہے۔  یہاں تک کہ خود مسیح نے بھی اُس وقت آنسو بہائے جب موت نے اُس کے دوست لعزر کو اپنے قبضہ میں لے لیا تھا (یوحنا 35:11)۔  اگر مسیح نے، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ وہ لعزر کو زندہ کرنے والا ہے (یوحنا 23:11)، موت کو ایک  اپنے عزیز پر نازل ہوتے دیکھ کر آنسو بہائے، تو ہم کیسے نہ روئیں؟  ہماری رُوحیں اِس ٹوٹی پھوٹی دُنیا کی حالتِ زار پر کس طرح فریاد نہ کریں جہاں ہمیں کچھ عرصے کے لئے اپنے پیاروں سے جُدا ہونا پڑتا ہے؟

اب اگرچہ  طوفان کی ظاہری صورت ایک جیسی ہو سکتی ہے (بارش، موجیں، ہوا، بجلی اور گرج)   لیکن جب اِس کی تفصیلات کا جائزہ لیا جائے  تو ہر طوفان اپنی نوعیت میں منفرد ہوتا ہے۔ اِسی طرح ہر شخص کا غم  کو برداشت کرنے کا طریقہ بھی اُس کے ساتھ خاص اور اُس ہستی کے ساتھ جڑا ہوا ہوتا ہے جس کے لیے وہ غمگین ہے۔ مثال کے طور پر، والدین کے بچھڑنے کا غم کسی بزرگ کے بچھڑنے کے غم سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔  اور دو بہن بھائی،  چاہے وہ کتنا ہی ایک دُوسرے سے مشابہ کیوں نہ ہوں، پھر بھی کسی پیارے کے بچھڑنے پر اپنے غم کو ایک دُوسرے سے مختلف طور پر   برداشت کریں گے۔  ہر ایک کو طوفانی سمندر کو اپنے ہی انداز اور رفتار سے عبور کرنا ہوتا ہے۔  مگر سمت سب کے لیے ایک ہی ہے:  مسیح ہمارا قطب نما ہے۔ ہم اُس کی قابلیت، اُس کی شفقت اور اُس کے تسلی بخش ہونے پر اور بھی مضبوط یقین کی طرف رواں دواں ہوتے ہیں۔ جو جتنا زیادہ صلیب کو تھامے رہتا ہے،  چاہے یہ پکڑ محض اُنگلیوں کے سروں سے ہی کیوں نہ ہو،  وہ اتنی ہی زیادہ اُمید رکھتا ہے کہ طوفان کے تھم جانے پر روشنی نظر آئے گی۔ پولس رومیوں کی کلیسیا کو یاد دِلاتے ہیں کہ  مصیبت دراصل  اُمید کا سرچشمہ ہے (رومیوں 3:5-5)۔  اور کسی پیارے کے بچھڑنے کا کرب اِس سے بڑھ کر کوئی تلخ حقیقت نہیں۔ 

آخر میں، اگرچہ ہر مسیحی کی راہ اپنی نوعیت میں منفرد ہے،  لیکن اِیمان دار کبھی تنہا نہیں ہوتے۔  خدا جانتا ہے کہ کسی پیارے کی موت کا سامنا کرتے دیکھنا کیسا ہوتا ہے۔  تمام کائنات گویا باپ کے ساتھ فریاد کرتی ہوئی دِکھائی دی جب مسیح صلیب پر موت کے روبرو تھے۔  لوقا بیان کرتا ہے کہ جب مسیح مصلوب کیے جا رہے تھے تو تین گھنٹوں تک سورج کی روشنی بھی گویا ماند پڑ گئی (لوقا 44:23-45)۔  اگرچہ طوفان سے گزرنے میں لگنے والا وقت ایک ابدیت کی مانند محسوس ہو سکتا ہے،لیکن پتوار پر ایک مضبوط ہاتھ قائم ہے۔ وہ ہاتھ جو میخوں کے نشانات لیے ہوئے ، آپ کو اُس پار پہنچائے گا(یوحنا 27:20)۔  اِسی دوران وہ یہ وعدہ کرتا ہے کہ وہ نہ تو آپ کو چھوڑے گا اور نہ ہی ترک کرے گا (عبرانیوں 5:13)  خواہ آپ اپنے آپ کو تنہا اور ترک شدہ ہی کیوں نہ محسوس کریں۔  وہ آپ کے اُس  درد سے ناواقف نہیں جو آپ محسوس کرتے ہیں،  کیوں کہ وہ خود بھی اِس طوفان سے گزر چکا ہے، اور وہ بخوبی جانتا ہے کہ اِس میں سے راہ کس طرح نکالی جاتی ہے۔

 کسی پیارے کے بچھڑنے کا غم ایک کٹھن عمل ہے جو وقت لیتا ہے۔  یہ دُکھ ناگزیر ہے کیوں کہ رُوح اُس کی غیر موجودگی کو محسوس کرتے ہوئے اُس کے غم سے دوچار ہوتی  ہے۔  اور یہ اَذّیت ایک سمندری طوفان کی مانند اِتنی شدید لگ سکتی ہے کہ گویا ہمیں تباہ کر ڈالے گی۔ لیکن خدا کا کلام ہمیں بتاتا ہے کہ جب ہم اپنی پستی پر ہوتے ہیں  تو ہم اُس کو پکاریں اور اُس کے کلام سے قوت پائیں (زبور 28:119)۔  وہ کلام ہمیں یقین دلاتا ہے کہ موت عارضی ہے اور مسیح فاتح ہے۔ اِسی دوران ہم اپنے آپ کو اُس کے سپرد کر سکتے ہیں، اور وہ ہمیں راہ دکھائے گا،  ہماری رہنمائی کرے گا اور ہمیں آرام بھی بخشے گا (متی 28:11-30)۔ ۔ 

یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔

جوش سکوائرز
جوش سکوائرز
ریورنڈ جوشوا اے۔ سکوائرز، فرسٹ پریسبیٹیرین چرچ، کولمبیا (ساؤتھ کیرولائنا) میں مشاورت کے ایسوسی ایٹ پاسبان ہیں۔