
کیا مسیحیوں کے لیے غم کرنا روا ہے؟
12/03/2026
کسی عزیز کے بچھڑنے کا غم
19/03/2026مشکلات اور آزمایشوں کے ذریعے بچوں کی پرورِش کرنا
اپنے بچوں کو آزمایشوں کے دوران تکلیف میں دیکھنا اِنتہائی دُشوار ہو سکتا ہے۔ حتیٰ کہ وہ والدین جو اپنے مسائل سے نمٹنے کے لیے بخوبی تیار ہوتے ہیں، اکثر جب اُن کا بھی بچہ تکلیف میں ہو تو وہ خود کو بے بس محسوس کرتے ہیں ۔ ہم کس طرح اپنے بچوں کی پرورِش ایسے کر سکتے ہیں کہ وہ مشکلات میں بھی صحت مند اور خدا کی مرضی پر قائم رہیں؟ جب مشکلات ہمارے بچوں تک پہنچتی ہیں، تو ذیل میں تین طریقے بیان کئے گئےہیں جن سے ہم اُنہیں سہارا دے سکتے ہیں:
1۔ایک وفادار موجودگی فراہم کرنا
بطور والدین اور سرپرست، جب ہم اپنے بچوں کو تکلیف میں دیکھتے ہیں تو ہمارا فوری رُجحان یہ ہوتا ہے کہ ہم فوراً عمل کے مرحلے میں کود جائیں۔ بعض اوقات فوری مداخلت کرنا دُرُست اور لازم کام ہوتا ہے۔ لیکن اکثر یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ بچے جو آزمائشوں کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں، ہماری مسئلہ حل کرنے کی مہارت سے کہیں زیادہ ہماری وفادار موجودگی کے محتاج ہوتے ہیں۔ ہمیں اپنے تجربے کی بِنا پر یہ معلوم ہے کہ مصیبتوں کے ایام میں ، کبھی کبھار ہم صرف اِس بات کا اِطمینان چاہتے ہیں کہ کوئی محبت کرنے والا شخص ہمارے پاس موجود ہو، کوئی ایسا جو صبر کے ساتھ ہمارے ساتھ رہے ، بجائے اِس کے کہ ہمیں فوراً ٹھیک کرنے کی کوشش کرے، یعنی کوئی ایسا شخص جس کے ساتھ ہم محفوظ محسوس کریں۔ ہمارے بچے بھی اِسی قِسم کی پناہ کے آرزُو مند ہوتے ہیں، اور والدین ہونے کی سب سے بڑی خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ ہمیں اپنے گھروں میں خدا کے اچھے کردار کے اِس پہلو کی عکاسی کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اگر والدین کی پرورش کو گلہ بانی کرنے کے عمل سے موازنہ کیا جائے، تو اِس کردار کا یہ وہی حصہ ہے جس میں چرواہا اپنے بھیڑوں کو اِتنا جان لیتا ہے کہ اُس کی محض موجودگی ریوڑ کے لیے تسکین کا سبب بنتی ہے۔ اِسی طرح، ایک طریقہ یہ بھی ہے جس کے ذریعے ہم خدا کے اِطمینان کی عملی عکاسی کر سکتے اور اپنے بچوں کو اُس کی طرف رہنمائی کر سکتے ہیں جو ہماری چٹان اور ہمارا قلعہ ہے (زبور 2:18)۔ جب کوئی مصیبت ہمارے بچوں کی زندگیوں میں اچانک سے داخل ہوتی ہے تو ہمارے پاس یہ موقع ہوتا ہے کہ ہم اُن کے لئے ایسی موجودگی اِختیار کریں جو اُن کی تکلیف کے وقت میں اِطمینان بخش یقین دِہانی فراہم کرے۔ اِس سے پہلے کہ ہم اُن کی مصیبت کو حل کرنے کے لئے کوئی قدم اُٹھائیں، ہماری موجودگی اور روِیہ اپنے بچوں کو یہ دِکھا سکتے ہیں کہ ہم اُن کے ساتھ ہیں اور اُن کے لیے ہیں، اور اِس سے بھی بڑھ کر یہ بات ہے کہ خدا بھی ایسا ہی ہے۔ ضرورت کے وقت میں ہم اپنے بچوں کو یہ یاد دِلا سکتے ہیں کہ خداوند اُن سب کے قریب ہے جو اُس سے دُعا کرتے ہیں (زبور 18:145)۔
2۔ دانش مندانہ گلہ بانی کی عملی مشق
ہمارے بچوں کی زندگیوں میں وفادار موجودگی کے عمل کی عادت اپنانے کا ایک اِضافی فائدہ یہ ہے کہ یہ ہمیں تیار کرتی ہے کہ مناسب وقت پر کس طرح مداخلت کی جائے۔ جتنا بہتر گلہ بان اپنی بھیڑوں کو جانتا ہے، اُتنا ہی بہتر وہ اُن کی دیکھ بھال اور پرورش کے لیے تیار ہوتا ہے۔ یہ تعلقاتی حکمت تب انمول ثابت ہوگی جب آپ اپنے بچوں کی رہنمائی کریں گے تاکہ وہ زندگی کی طرف سے بھیجے جانے والی متعدد رکاوٹوں کو عبور کر سکیں۔
اپنے فلپیوں کے نام لکھے جانے والے خط میں، پولس رسول ہمیں اِطمینان بخش موجودگی ، باخبر اور موثر دیکھ بھال کے درمیان توازن کی ایک جھلک دِکھاتا ہے ۔ وہ اِس یاد دِہانی کے ذرِیعے دِلوں میں اِطمینان ڈالتا ہے کہ ” خُداوند قرِیب ہے۔ کِسی بات کی فِکر نہ کرو “ اور ساتھ ہی وہ فلپیوں کی اِس بات میں تعریف کرتا ہے کہ اُنہوں نے اُس کی مشکلات میں حصہ لیا: ” تَو بھی تُم نے اچھّا کِیا جو میری مُصِیبت میں شرِیک ہُوئے “(فلپیوں 5:4-6 ، 14)۔ پولُس کے لئے فلپیوں کا وہ اِطمینان جو اُنہوں نے اُس کے ساتھ بانٹا، وقت پر نیک دِلی اور ہمدردی کے اَعمال کے لیے راہ ہموار کرتا ہے۔
ایک دانا گلہ بان جانتا ہے کہ کب وفادار موجودگی کو عملی مدد میں تبدیل ہونا چاہیے۔ بعض اوقات اِس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم سہارا بن کر اُن کے پیچھے کھڑے رہیں، مگر ساتھ ہی اپنے بچوں کو یہ موقع بھی دیں کہ وہ اپنی مشکلات کا سامنا خود کریں، اور کبھی کبھار اِس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم آگے بڑھ کر عملی مدد فراہم کریں۔ صورتِ حال خواہ کچھ بھی ہو، جب ہمارے بچے مشکلات اور آزمائشوں سے دبے ہوں، تو ہم ایسے طریقوں کی تلاش میں کر سکتے ہیں جن سے ہم اُن کے ساتھ کھڑے ہو کر اُن کا بوجھ اُٹھا سکیں (گلتیوں 2:6)۔ یہ چیزبھی حکمت کا تقاضا کرتی ہے، کیوں کہ ہر صورتِ حال اور ہر بچہ مختلف ہوتا ہے۔ یہاں کوئی ایک ایسا ضابطہ نہیں جو سب پر یکساں لاگو ہو، اِس لیے ہر بچے تک اُس کی حالت کے مطابق پہنچنے کے لیے خدائی حکمت درکار ہے۔ جب ہم آزمایش کی سنگینی اور کسی خاص بچے کی برداشت کی صلاحیت کو پرکھتے ہیں، تو حکمت کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنی شمولیت کو صورتِ حال کے مطابق ڈھالیں۔
3۔ پُر اُمید بلندی کی طرف اُن کی راہ نمائی کریں
آزمایش خواہ کوئی بھی ہو، اور ہم اپنے بچوں کی جتنی بھی سوچ سمجھ کے ساتھ مدد کر رہے ہوں، ایک ممکنہ خطرہ یہ رہتا ہے کہ ہم ناقص بصیرت کا شکار ہو جائیں۔ جب ہم اپنے بچوں کے ساتھ مشکل حالات میں چلتے ہیں، تو یہ عین ممکن ہے کہ ہم مسئلے میں اِس قدر اُلجھ جائیں کہ نجات دینے والے پر اپنی نگاہیں اُوپر اُٹھانا بھول جائیں۔ ہم میں سے بعض لوگ دانستہ طور پر ایسا ہی کرتے ہیں، زیادہ تر ایسا اِس لیے ہوتا ہے کہ ہمارے بوجھ ہم پر اِتنے شدید دباؤ ڈال رہے ہوتے ہیں، بالخصوص اُس وقت جب ہمارے بچے متاثر ہوں، تو اُس وقت ہمیں سانس لینا بھی دُشوار محسوس ہوتا ہے۔ جب ہم زندہ رہنے کی کیفیت میں داخل ہوتے ہیں، تو ہماری توجہ اپنے گرد و پیش کے حالات پر مرکوز ہو جاتی ہے اور ہم بہت بڑے منظر کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہمارے بچے بھی مشکل کے وقت یہی ردِعمل ظاہر کر سکتے ہیں، اور اِس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے پاس یہ موقع ہوتا ہے کہ ہم اُنہیں یاد دِلائیں کہ ہماری حقیقی اُمید کہاں پائی جاتی ہے۔ جس طرح گلہ بان اپنے ریوڑ کو محفوظ چراگاہ کی طرف لے جاتا ہے، ہم جو اپنے بچوں کے ساتھ موت کے سایہ کی وادی میں چلنے کے لئے بلائے گئے ہیں ، اُن کی نگاہوں کو بلندی کی جانب اُوپر اُٹھانے کا اِستحقاق رکھتے ہیں، یعنی اُس اُمید کی طرف جو ہمیں مسیح میں حاصل ہے۔ اُن کے چاروں طرف چاہے کتنا ہی اندھیرا کیوں نہ ہو، ہم اُن کی مدد کر سکتے ہیں کہ وہ یسوع کی طرف دیکھیں، جو دُنیا کا نور ہے (یوحنا 12:8) جس کی راست بازی کی راہ ” دوپہر تک بڑھتی ہی جاتی ہے“(اَمثال 18:4)۔ کیا ہی بڑا اطمینان ہے کہ جب ہم اپنے بچوں کو اندھیرے سے آگے، وادی سے باہر اُوپر کی طرف، اُس اَٹل اُمید کی طرف دیکھنے میں مدد دیتے ہیں جو ہمیں یسوع کے شاندار اور جلالی نور میں حاصل ہے۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔


