اپنی کلیسیا میں تیمارداروں کی پرورِش اور دست گیری
02/04/2026
مَیں اپنے نافرمان بچے کے ساتھ کس طرح پیش آؤں؟
09/04/2026
اپنی کلیسیا میں تیمارداروں کی پرورِش اور دست گیری
02/04/2026
مَیں اپنے نافرمان بچے کے ساتھ کس طرح پیش آؤں؟
09/04/2026

اپنے بچوں کو معافی کے بارے میں تعلیم دینا

والدین  اپنے بچوں کے لئے ایک مثال ہوتے ہیں۔   ہماری زندگیاں ہمارے بچوں کے لئے بہترین کہانیاں ہوتی ہیں۔  وہ عظیم خوش خبری جس کی کہانی ہم چاہتے ہیں کہ ہماری زندگیاں بیان کریں، معافی کی کہانی ہے۔ خدا ہمیں مسیح میں معاف کرتا ہے،  اور خُدا کی معافی کی زندہ گواہی ہمارے اندر ایک ایسا دِل ہے جو معاف کرنے والا ہے، ایک ایسا دِل جو صرف معافی پاتا ہی نہیں بلکہ معاف کرتا  بھی ہے ۔  ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے  بچوں کو معافی کے بارے میں  اِنجیل  سے تعلیم دینا شروع کریں،   لیکن ساتھ ہی  یہ بھی لازم ہے کہ  اپنی زندگیوں کے وسیلے اُن کے لئے  معافی کی ایک زندہ مثال بھی بنیں۔

 معافی کے بارے میں سب سے مؤثر تمثیلوں میں سے ایک  تمثیل منفی  پہلو  سے بیان کی گئی ہے:   یعنی اُس خادِم کی تمثیل جو معاف نہ کر سکا۔  اِس تمثیل میں ایک خادِم کو، جس پر بہت بڑا قرض تھا، مکمل طور پر معاف کر دیا گیا،  مگر وہ خود آگے بڑھ کر اپنے ہم خدمت ساتھی سے وہ معمولی سا قرض سختی سے طلب کرنے لگا جو اُس پر واجب الادا تھا(متی 21:18-35)۔  یہ تمثیل اِس حقیقت پر زور دیتی ہے کہ جسے معاف کیا گیا ہو اُس کا دُوسروں کو معاف نہ کرنا  اِنتہائی نامناسب عمل ہے۔  لیکن یہ حقیقت کہ یسوع نے اِس عدمِ مطابقت پر زور دیا، ہمیں بالواسطہ یہ تعلیم دیتی ہے کہ ہم خود اُس وقت معاف کرنے والے بنتے ہیں جب پہلے معاف کیے جاتے ہیں۔  اِسی لئے  ہم اپنے بچوں کو معافی کی تعلیم اِس   خوش خبری سے دینا شروع کرتے ہیں کہ ہمیں معافی ملی ہے،    اور یہ معافی مسیح کے مجسم ہونے، اُس کی موت، قیامت اور  آسمان پر صعود فرمانے کی بدولت ملی ہے۔ 

ہائڈل برگ  کیٹی کیزم، رسولوں کے عقیدہ کی توضیح کرتے ہوئے، ہمیں اِس حقیقت کی گہرائی سمجھاتا ہے کہ خوش خبری میں ہماری معافی کس حد تک کامل اور وسیع ہے: 

سوال: گنا ہوں کی  معافی کے بارے میں آپ کا کیا عقیدہ ہے؟

جواب:  مَیں ایمان رکھتا ہوں کہ خُدا، مسیح کی کفّارہ بخش قربانی کے سبب سے، میرے کسی بھی گناہ یا اُس گناہ آلود فطرت کو، جس کے خلاف مجھے ساری عمر جدوجہد کرنا ہے، پھر یاد نہ کرے گا۔ بلکہ اپنے فضل سے خُدا مجھے مسیح کی راست بازی بخشتا ہے تاکہ مَیں کبھی عدالت میں مجرم ٹھہرایا نہ جاؤں (سوال و جواب 56)۔ 

جیسا  کہ مذکورہ بالا بیان کیا گیا ہے کہ ہماری معافی بے اِنتہا فیاض ہے،  جو مسیح میں اَبدی طور پر قائم ہے۔ ہمارے  بچوں کے لئے  اگلا سبق یہ ہے کہ  اگر  خوش خبری کے وسیلہ سے ہمیں ایسی معافی ملی ہے  تو پھر دُوسروں کو معاف کرنے کے معاملے میں بھی ہماری معافی اِسی طرح ہونی چاہیے۔ 

ہم اپنے بچوں کو یہ سکھاتے ہیں کہ دُوسروں کو معاف کرنے کا اُن کا رویّہ اُسی طرح کا ہونا چاہیے جیسی معافی اُنہیں خود ملی ہے: 

  • ہماری معافی مسیح کی خاطر اور اُس کی عزت  و جلال کے لئے  ہونی چاہیے،  جیسے خدا ہمیں   ”مسیح کی کفارہ بخش قربانی“ کے وسیلہ سے  معاف کرتا ہے۔ 
  • ہماری معافی  بھول جانے والی معافی ہونی چاہئے،    جب ہم ماضی کے گناہوں کو دِل و ذہن سے نکال دیں، جیسے خُدا نے فرمایا کہ وہ ہمارے گناہوں کو  ”پھر یاد نہ کرے گا “۔
  •   ہماری معافی پائیدار ہونی چاہیے، جیسے خُدا ” میری گناہ آلود فطرت کو معاف کرتا ہے جس کے خلاف مجھے تمام عمر جدوجہد کرنی ہے “۔
  • ہماری معافی فضل پر مبنی ہونی چاہئے،   جب ہم اپنی تمام شرائط کو ترک کر دیں،  جیسے خدا ”اپنے فضل کی بدولت“  ہمیں مسیح کی راست بازی بخشتا ہے۔ 
  • ہماری معافی دُوسروں کو ہمارے اِنصاف کے خوف سے آزاد کرنے والی ہونی چاہیے،  جب ہم اُن کے گزرے ہوئے گناہوں کو اُن پر مسلط کرنا چھوڑ دیں، جیسے ہم ” خُدا کے حضور پھر کبھی عدالت میں مجرم نہ ٹھہرائے جائیں گے “۔ 

والدین کے لئے  باعثِ خوف اَمر یہ ہے کہ جب ہمارے بچے خوش خبری کو جان لیتے ہیں اور معافی کے مفہوم کو سمجھنے لگتے ہیں، تو وہ ہماری زندگیوں میں اُس  بے  جواز تضاد کو پہچاننے کے قابل ہو جاتے ہیں  جو اُس وقت ظاہر ہوتا ہے جب ہم معاف نہ کرنے والے خادم کی مانند رویّہ اِختیار کرتے ہیں۔  بحیثیتِ والدین  ہماری ناکامی کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ ہم اپنے بچوں کے ساتھ ماضی کی باتیں بار بار دُہراتے ہیں۔  ہم یوں کہتے ہیں: ”تم ہمیشہ ایسا ہی کرتے  ہو ۔۔۔“ تاکہ اُنہیں قصوروار ٹھہرائیں، اپنی جھنجھلاہٹ کا اِظہار کریں یا اُن سے زبردستی فرماں برداری حاصل کریں۔  جب ہم اِس طرح بولتے ہیں تو اَنجانے میں ہم خود معاف نہ کرنے والے خادِم کی تمثیل بن جاتے ہیں۔

تاہم ہمیں کبھی بھی نااُمید نہیں ہونا چاہیے۔  کیوں کہ ہم  معافی کی مثبت تمثیلیں بننے کے لئے  بُلائے گئے ہیں۔  وہ والدین جو معاف کرنے والے خادِموں کی تمثیل بنتے ہیں، معافی کے معاملے میں کُشادہ دِل  ہوتے ہیں،  اور ہمارے بچے معافی کا گہرا سبق اُسی وقت سیکھتے ہیں جب وہ ہمیں ایک دُوسرے کو معاف کرتے دیکھتے ہیں۔  

والدین کے لئے  لازم ہے کہ اپنے بچوں سے بار بار معافی طلب کریں،  کیوں کہ اُن کے دِل بھی گناہ اور ناراستی پر  اُسی طرح تڑپ اُٹھتے ہیں  جیسے آپ کے دِل تڑپتے ہیں۔  اپنے اور اُن کے درمیان ناقابلِ اعتراف گناہوں کو حائل نہ ہونے دیں ،  اور جب آپ کے بچے آپ کے خلاف گناہ  کریں تو اُنہیں بھی ترغیب دیں کہ وہ معافی مانگیں۔  یہ اِس بات کو شامل کرتا ہے کہ والدین بچوں کے ساتھ سختی نہ برتیں  تاکہ وہ بدلے میں اپنے گناہوں کے بارے میں بلا جھجک بات کرنے کے قابل ہوں۔  جب وہ کم عمر ہوں تو اُن کے گناہ کو اُنہیں نام لے کر بتائیں اور یہ سکھائیں کہ معافی مانگنے کا مطلب  محض یہ کہنا نہیں ہے کہ ’’مجھے  معاف کر  دیں‘‘۔  گناہ اور صلح کے بارے میں کہیں زیادہ مؤثر پیغام اُس وقت پہنچتا ہے جب ہم اُنہیں یہ سکھاتے ہیں کہ وہ کہیں: ’’کیا آپ مجھے معاف کریں گے؟‘‘ ۔ 

جب آپ کے بچے کسی کو معاف کرنے میں تردُّد یا جدوجہد کریں تو اُن کے ساتھ مِل کر دُعا کرو۔ حتیٰ کہ جب وہ بہت چھوٹے ہوں اور شاید ابھی کسی کے خلاف دِل میں رنج رکھنے سے واقف نہ ہوں، تب بھی اُن کے ساتھ روزانہ یہ دُعا کریں کہ اُن کے دِل معافی کے روِیے میں پروان چڑھیں۔  دُعا اُن کے دِلوں سے بلاواسطہ بات کرنے کے بہترین ذرائع میں سے ایک ہے۔ یہ بالخصوص اُس وقت زیادہ مددگار ثابت ہوتی ہے جب وہ  آپ کی براہِ راست نصیحت کو سننے کے خواہاں نہ ہوں۔ دُعا کو ایک بالواسطہ راستہ بنائیں تاکہ اُن کے دِل رُوح کی نرمی سے ملائم  ہو سکیں۔

خاندان خدا کی ایک عظیم نعمت ہے،  لیکن یہ بعض اوقات بےثباتی اور کشمکش کا شکار بھی ہو سکتا ہے۔ اِسی لئے  ضروری ہے کہ خاندان کے طور پر دُعا کا ایک باقاعدہ معمول قائم کیا جائے۔ یہ معمول اِتنا سادہ بھی ہو سکتا ہے کہ محض کھانے کے اوقات میں دُعا کی جائے۔ یہ باقاعدگی، چاہے دِن میں صرف ایک کھانے پر ہی کیوں نہ ہو،  ہمیں یہ موقع عطا کرتی ہے کہ جب بھی ناگزیر تناؤ پیدا ہو، ہم خداوند کے حضور حاضر ہو سکیں۔ جب جھگڑا ابھی ابھی بھڑکا ہو تو یسوع ہمیں صلح کی طرف بلاتا ہے۔  دِلوں کی گرہ کھولنے کا ایک بہترین طریقہ یہ ہے کہ دُعا میں مدد طلب کی جائے۔  کھانے کے وقت شکرگزاری کی عام سی دُعا میں جب ایسی درخواست شامل کی جاتی ہے تو اُس کی سادگی اُسے حیران کن بھی بناتی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اُسے معمول کا حصہ بنا دیتی ہے۔

ہمیں اپنے بچوں کے ساتھ معافی کے بارے میں کھلے دِل سے بات کرنی چاہیے، اور جب گھروں میں ایسا کشادہ ماحول قائم ہو جائے تو پھر ضروری ہے کہ ہم  میل جول سے آنے والے سکون کی دلجمعی کے ساتھ حفاظت کریں اور دوبارہ ایک دُوسرے کے خلاف گناہ نہ کریں۔  لیکن جب کبھی ہم سے  گناہ سرزد ہو جائے، تو ہمیں معافی مانگ لینی چاہیے۔

یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔