مسیحی شاگردیت کیا ہے؟
17/02/2026
منادی فضل کا وسیلہ کیوں کر ہے؟
26/02/2026
مسیحی شاگردیت کیا ہے؟
17/02/2026
منادی فضل کا وسیلہ کیوں کر ہے؟
26/02/2026

بپتسمہ کیوں ضروری ہے؟

بپتسمہ ہمیشہ سے ہی مسیحی اِیمان کا مرکزی حصہ رہا ہے، تاہم بپتسمہ کی جڑیں صرف نئے عہد کی کلیسیا کے قیام تک محدود نہیں، بلکہ وہ پرانے عہدنامے اور اُس عہد کے تعلق تک گہری ہیں جو خُدا نے اپنے قوم کے ساتھ قائم کیا۔ درحقیقت، اگر ہمارے پاس پرانے عہدنامے کے  نشانات اور مہر کی مکمل معرفت نہ ہو تو ہم نئے عہد کے بپتسمہ کو صحیح طور پر نہیں سمجھ سکتے۔  دُوسرے اَلفاظ میں، عہد قائم کرنےوالے خُدا نے اپنی قوم کو اِبتدا ہی سے  ظاہری علامات اور نشانات عطا  کئے ، جو کہ اُس وقت سے شروع ہوتے ہیں جب باغِ عدن میں دو درخت موجود تھے۔  بدقسمتی سے، ہم ایسے دَور میں زندگی گزار رہے ہیں جس میں بائبل کی تعلیمات سے لاعلمی عام ہے۔   خُدا کی فطرت سے لے کر اِنسان کی بائبلی تفہیم تک،  اور ہاں، حتیٰ کے بپتسمہ کے بارے میں، یعنی ہر معاملے میں بہت سی  اُلجھنیں پائی جاتی ہیں۔ اِ ن تمام اُلجھنوں کے باوجود  ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ بپتسمہ کیا ہے  ،تاکہ ہم سمجھ سکیں کہ یہ کیوں اہمیت رکھتا ہے اور ایک  مسیحی کے لئے کس طرح لازم اور ضروری ہے۔  

1۔ایک نشان اور ایک مہر 

سب سے پہلے، بپتسمہ اُس عہد کا نشان اور مہر ہے جو خُدا نے اپنے قوم کے ساتھ قائم کیا ہے۔ یہ ایک  واضح اِشارہ ہے جو ایک عظیم حقیقت کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ اِبتدا میں، خُدا نے  اَبرہام کو عہد کے  نشان کے طور پر ختنہ دیا، جیسا کہ پیدایش 17 میں ذِکر ہے۔  گوشت کے ٹکڑے کا کاٹا جانا خدا کے لوگوں کے لئے اُس کے عہد کا نشان تھا ، اور اُنہیں اُن وعدوں کو یاد دِلاتا تھا  جو خدانے اُن   سے کئے تھے۔  اور پھر  پیدایش 10:17 میں خدا   ختنہ  کو  ”میرا عہد“ کہتا ہے۔  ہم اِس بارے میں غوروفکر کر سکتے ہیں کہ  جب خداوند یسوع نے  فسح  منانے کا اِنتظام کیا  تو اُس نے مَے کا پیالہ اُٹھا کر کہا ”کیوں کہ یہ میرا وہ عہد کا  خون ہے “ (متی 28:26)  تاہم نہ ختنہ اور نہ  ہی مَے عہد کی اصل حقیقت ہے، بلکہ  یہ عہد کی حقیقت کی طرف اِشارہ کرتے ہیں۔  نشان اور  اُس کے مفہوم کے درمیان اِس قدر قریبی تعلق ہے (جسے ویسٹ  اِقرار الایمان  : ۲۷باب ۲ جُز) ”پاک رسوماتی اِتحاد “  کہتا ہے)    کہ ہم ایک کی طرف اِشارہ کر کے دُوسرے کو مراد لے سکتے ہیں۔ 

ایک شادی کی انگوٹھی کی مثال پر غور کیجیے۔  شادی کی انگوٹھی بذاتِ خود نکاح نہیں ہوتی، بلکہ ایک علامت ہے کہ پہننے والا نکاح کے بندھن میں بندھا ہے۔  یہ انگوٹھی اِس حقیقت کی ظاہری یاد دِہانی ہے کہ شادی شُدہ شخص اپنی مرضی کا مالک نہیں رہا،  بلکہ وہ کسی دُوسرے کا ہو چکا ہے۔  بپتسمہ بھی اِسی طرح ہے۔  بپتسمہ میں ہمیں نئے عہد کے لوگ ہونے کا نشان  دیا جاتا ہے  جو ہمارے اُس عہد کے تعلق کی طرف اِشارہ کرتا ہے جو ہمیں  خدائے ثالوث سے  حاصل ہے،  جس کے ہم ہیں۔  مسیحی  براہِ راست خدائے ثالوث سے تعلق رکھتے ہیں،  اور جو اُس کے ہیں  اُن کے لئے لازم ہے کہ وہ اِس نشان کو اپنے اُوپرلیں۔  

2۔ ایک نیا نام 

وہ لوگ جو  بپتسمہ میں  عہد کے نشان کو پاتے ہیں ، ایک نیا نام بھی پاتے ہیں  جو اُن کی نئی شناخت سے وابستہ ہوتا ہے۔  بپتسمہ میں دیا گیا نام اُس ذات سے مطابقت رکھتا ہے جس میں ہم بپتسمہ لیتے ہیں۔  غور کریں کہ  یسوع نے حکم دیا کہ ”  پس تم جا کرسب قوموں  شاگرد بناؤ اور اُن کو باپ اور بیٹے اور رُوحُ القدُس کے نام  سے بپتسمہ دو  “  (متی 19:28)۔  پولس رسول  اِسی خیال کو آگے بڑھاتے ہوئے کہتا ہے کہ  ”کیا تم نہیں  جانتے کہ ہم جتنوں نے مسیح یسوع میں شامل  ہونے کا بپتسمہ لیا  تو اُس کی موت میں شامل ہونے  کا بپتسمہ لیا “ (رومیوں 3:6) ۔ وہ اِسی طرح کی زبان گلتیوں 27:3 میں بھی اِستعمال کرتا ہے ۔  عہدِ عتیق کے زمانے میں ،جیسے  قوم بنی اِسرائیل نے  خروجِ مصر کے بعد  موسیٰ کا بپتسمہ  لیا  (1۔کرنتھیوں 2:10)  ویسے ہی ہم نئے خروج میں ”مسیح کا بپتسمہ“ لیتے ہیں۔  

 اپنے عہد کو قائم رکھنے والے خُدا نے اِبتدا سے ہی اپنی قوم کو ظاہری  علامات اور نشانات بخشے ہیں، یہاں تک کہ اُن کا سلسلہ  آدم کے باغِ عدن میں موجود دو درختوں تک جا پہنچتا ہے۔ 

اِیمان دار کے لئے اِس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری زندگی کی سب سے اہم حقیقت ہماری  مسیح کے ساتھ یگانگت ہے۔ ہم مسیح میں ہوتے ہوئے اُس کے ساتھ اِس قدر گہرے تعلق میں پیوست ہیں  کہ کہا جا سکتا ہے کہ  جب  وہ  مصلوب ہوا تو ہم بھی اُس کے ساتھ مصلوب ہوئے (گلتیوں 20:2)  اور جب وہ مُردوں میں سے  جی اُٹھا اور باپ کے دہنی طرف بیٹھنے کو اُٹھایا گیا تو ہم بھی اُس کے ساتھ اُٹھائے گئے (اِفسیوں 6:2)۔   موجودہ دَور میں بہت سے لوگ اپنی شناخت کے بارے میں اُلجھن کا شکار ہیں۔  اِس چیز نے بے شمار دِلوں کو اِنتشار، مایوسی اور نااُمیدی میں مبتلا کر دیا ہے۔  لیکن اے عزیز اِیمان دار!   تُو خدائے ثالوث کے نام سے منسوب ہے۔   تیری اصل شناخت یہ ہے کہ تُو خُداوند یسوع مسیح کے ساتھ ایک ہے،   ایک نیا مخلوق جو اُس کے ساتھ بپتسمہ میں دفن ہوا اور اُس کے ساتھ نئی زندگی میں چلنے کے لئے زندہ کیا گیا  (رومیوں  4:6-5)۔  ہم نے اِس طرف دھیان نہیں دینا کہ  یہ دُنیا اور یہاں تک کہ ہماری اپنی نفسانی فطرت  ہمارے بارے میں کیا کہتی ہے ، بلکہ اِس کے برعکس  یہ سُننا ہے کہ خُدا اپنے بپتسمہ کے وسیلے سے ہمارے بارے میں کیا فرماتا ہے ۔ 

3۔فضل کے وسائل

آخرکار، بپتسمہ اِس لئے اہم ہے کہ یہ فضل کا وسیلہ ہے۔  ہم آسمانی صیّون کی طرف جاتے ہوئے کمزور اور تھکے ہوئے مسافر ہیں اور ہمیں اپنے اِس سفر کے لئے تقویت کے سرچشموں کی ضرورت ہے۔    بپتسمہ اُنہی تقویت بخش سرچشموں میں سے ایک ہے۔  خدا نے اپنے لوگوں  کو تقویت دینے اور اُن کی نشونما کرنے کے لئے کلیسیا کو  یہ مقدس ضابطہ عطا کیا ہے۔  اِس بات کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ بپتسمہ اپنے  آپ میں کوئی ذاتی قوت رکھتا ہے،   بلکہ حقیقت یہ ہے کہ رُوح‌القدس بپتسمہ کے عمل کو اِستعمال کرتا ہے ،تاکہ جب یہ نشان اِیمان کے ساتھ قبول کیا جائے تو خدا کے لوگوں پر فضل کی بخشش جاری ہو۔  بپتسمہ ہمارے دِل کو مسیح کی محبت میں مضبوط کرتا ہے، کیوں کہ جیسے پانی اِنسان کو پاک کرتا ہے، ویسے ہی مسیح نے اپنے خون کے وسیلے سے ہمیں پاک کر کے نیا بنایا ہے۔  جب ہم دیکھتے ہیں کہ پانی کسی پر اُنڈیلا جا رہا ہے تو ہمارا اِیمان اِس حقیقت میں تقویت پاتا ہے کہ رُوح‌القدس بھی ہم پر انڈیلا گیا ہے اور وہ ہم میں سکونت کرتا ہے۔  آزمایش اور وہم و گمان کے لمحات میں،  جب اِبلیس ہماری کمزوری پر حملہ آور ہو کر یہ کہتا ہے کہ ہم کبھی نجات نہیں پا سکتے اور خدا کبھی ہم سے محبت نہیں کر سکتا، تو ہم پُر اعتماد ہو کر مارٹن لوتھر کے یہ اَلفاظ دُہرا سکتے ہیں:  ’’مَیں بپتسمہ پا چکا ہوں! مَیں بپتسمہ پا چکا ہوں ‘‘! ۔ 

*یہ مضمون مسیحی شاگردیت کی بنیادی تعلیمات کے مجموعے کا حصہ ہے*

یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔