بپتسمہ کیوں ضروری ہے؟
19/02/2026
مَیں کس طرح ایک راست باز ماں بن سکتی ہوں؟
03/03/2026
بپتسمہ کیوں ضروری ہے؟
19/02/2026
مَیں کس طرح ایک راست باز ماں بن سکتی ہوں؟
03/03/2026

منادی فضل کا وسیلہ کیوں کر ہے؟

اگر آپ میری بات نہ سنیں تو کیسے جان سکیں گے کہ مَیں کیسا ہوں؟   اگر آپ مجھے بولنے نہ دیں تو آپ کیسے سمجھ سکیں گے کہ مَیں کون ہوں؟  ایسا  بیان  ہم دو اِنسانوں کے باہمی رِشتے میں با آسانی تصوّر کر سکتے ہیں  ۔  کسی دُوسرے اِنسان کو جاننے کےلئے لازم ہے کہ دونوں کے مابین  گفت و شنید کی جائے،  کیوں کہ یہی تو رابطے کا بنیادی طریقہ ہے۔

 بائبل کے مرکز میں ایک ایسا خدا ہے جو کلام کرتا اور جو اپنے آپ کو ظاہر کرتا ہے۔  خدا اور بتوں کے درمیان یہی  سب سے بڑا تضاد ہے کہ : خدا کلام کرتا ہے۔  فرانسس شیفر اپنے اَلفاظ میں یوں بیان کرتا ہے:  ” وہ موجود ہے اور وہ خاموش نہیں “۔وہ اپنی مخلوقات میں اپنے آپ کو ظاہر کرتا ہے،  اور ہم اُس کی بنائی ہوئی چیزوں میں اُس کے جلال، شوکت اور جمال کی جھلک دیکھتے ہیں۔ وہ اِس دُنیا میں اپنی ناقابلِ مزاحمت قدرت کو ظاہر کرتا ہے،  لیکن مخلوقات کے  ذریعےہم اِس سے زیادہ کچھ نہیں جان سکتے۔  آپ آسمان کی طرف پکار سکتے ہیں:  ’’آپ کون ہیں؟ آپ کیسے ہیں؟ ‘‘۔مگر آپ کو کوئی جواب نہیں ملے گا۔ 

لیکن جب ہم بائبل کے صفحات کی ورق گردانی کرتے ہیں    تو  ہم دیکھتے ہیں کہ  وہ اپنے آپ کو ہم پر ظاہر کرتا اور ہم سے ہمکلام ہوتا ہے۔  خدا منادی کرنے والا خدا ہے۔  بائبل کے پہلے ہی صفحے پر یہ جملہ بار بار دُہرایا جاتا ہے:  ’’اور خدا نے کہا کہ ہو جا … اور ایسا ہی ہو گیا ‘‘۔اُس کا کلام اُس کے مقصد کو پورا کرتا ہے۔  اِبتدا ہی سے ہم خدا کے کلام کی قدرت اور اِختیار کو دیکھتے ہیں۔ وہ اپنے کلام اور اپنے  اَعمال کے وسیلے سے اپنے آپ کو تمام دُوسرے معبودوں سے جُدا کرتا ہے۔  یسعیاہ  11:55 اِس کی یوں ترجمانی کرتا ہے:  ” اِسی طرح میرا کلام جو میرے منہ سے نکلتا ہے ہو گا۔وہ بے اَنجام میرے پاس واپس نہ آئے گابلکہ جو کچھ میری خواہش ہو گی وہ اُسےپورا کرے گا اور اُس کام  میں جس کے لئے مَیں نے اُسے  بھیجاموثر ہو گا “۔ 

کتابِ مقدس کے آغاز ہی میں ہم دیکھتے ہیں کہ  خدا کلام کرتا ہے اور اُس کا کلام وہی کچھ پورا کرتا ہے جس کے لیے وہ صادِر کیا جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے:  ’’روشنی ہوجا‘‘  ا ور روشنی ہو جاتی ہے ۔  وہ اپنے لئے ایک قوم کو بُلاتا ہے۔ وہ اُنہیں مخلصی بخشتا ہے۔ وہ اپنے کلام کے وسیلے اُن کی رہنمائی کرتا ہے۔  وہ اپنی شریعت اور اپنے نبیوں کے ذریعے اُن پر حکمرانی کرتا ہے، جو خدا کی طرف سے بھیجے جاتے ہیں تاکہ اُس کا پیغام اُس کی اُمت کو سنا سکیں،  تاکہ وہ خدا کی آواز کو اُس کے لوگوں تک منتقل کریں۔ وہ نجات اور عدالت کا پیغام لے کر آتے ہیں۔

مقررہ وقت پر خدا نے اپنے بیٹے کو دُنیا میں بھیجا، وہ بیٹا جو خدا کا مجسم کلام ہے،   وہ کلام جو خدا کے ساتھ تھا اور خود خدا تھا اور جو اِبتدا ہی سے خدا کے ساتھ تھا،  جس کے وسیلے سب چیزیں پیدا کی گئیں۔ اُس میں زندگی تھی  اور کلام مجسم ہوا اور فضل اور سچائی سے معمور ہو کر ہمارے درمیان رہا  (یوحنا 1:1-4، 14)۔خداوند یسوع سب سے بڑا مناد ہے ۔  وہ اُس زمانے کے مذہبی پیشواؤں کی طرح نہیں بلکہ صاحبِ اِختیار کی مانند تعلیم دیتا ہے۔  وہ نہایت سادگی، وضاحت اور گہرائی کے ساتھ منادی کرتا ہے۔ جب وہ کلام کرتا ہے تو ہجوم محو ہو جاتے ہیں۔  اُس کی آواز مُردوں کو زندہ کرتی ، طوفان کو تھما دیتی ، بدرُوحوں کو نکال دیتی اور بیماری کو پیچھے ہٹا دیتی ہے۔  وہی ہے جو خدا کو ظاہر کرتا ہے۔ یسوع منادی کرنے والوں کو بھیجتا ہے تاکہ وہ خوش خبری کی منادی کریں،  اور وہ اُس کے دیئے ہوئے اِختیار کے ساتھ کلام کرتے ہیں۔  جب لوگ خوش خبری کا پیغام قبول کرتے ہیں تو وہ اُسے قبول کرتے ہیں۔  وہ موت سے زندگی میں، اور تاریکی سے نور میں داخل ہوتے ہیں۔ خدا کے کلام کی منادی کے وسیلے ہی برگزیدہ لوگ جمع کیے جاتے ہیں اور اُس کی کلیسیا تعمیر ہوتی ہے۔

خدا کے کلام کی منادی وہ وسیلہ ہے جس کے ذریعے ہم اُس کی اُس  شفقت تک رسائی حاصل کرتے ہیں  جس کے ہم مستحق نہیں ہیں۔  جب  بزرگ پولس رسول  اپنی زندگی کے بعد کے زمانے اور کلیسیا کے بعد رسولی دَور کے لیے ترجیحات مرتب کرتا ہے تو وہ تیمتھیس  کو ایک  فیصلہ کُن  حکم دیتا ہے :  ” کہ تُو کلام کی منادی کر۔ وقت اور بے وقت مُستعِد رہ۔ ہر طرح کے تحمل اور تعلِیم کے ساتھ سمجھا دے اور ملامت اور نصیحت کر “(2۔تیمتھیس 2:4)۔   یہ وہ کلامِ اِلٰہی ہے  جو منادی کے لائق ہے، جو زِندہ  ہے اور مؤثر بھی اور دو دھاری تلوار سے بھی زیادہ تیز ہے۔  خدا خاموش نہیں ہے۔  وہ کلام کرنے والا خدا ہے،   اور وہ آج بھی اپنے کلام کی منادی کے ذریعے ہم سے ہمکلام ہوتا ہے۔  ہمارا عِلمِ الٰہی اور  ہماری منادی   اِس حقیقت میں پیوست اور مستحکم ہونی  چاہئے کہ خدائے ثالوث اپنی ذات میں  کون ہے۔ 

اکثر ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اپنے آپ سے یہ سوال کریں کہ منادی ہے کیا؟ منادی وہ عمل ہے جس میں خدا کا خادِم، خدا کے کلام کو خدا کے رُوح کی قدرت  کے وسیلہ سے  سناتا ہے۔  خدا اپنے کلام کی منادی کے وسیلہ سے اپنے لوگوں کو برکت بخشتا ہے۔  اُس نے بعض آدمیوں کو خاص طور پر  یہ بخشش دی اور الگ کیا تاکہ وہ منادی کریں اور  یہ بیان کریں کہ اُس کا کلام کیا  بیان کرتا ہے۔ بلاشبہ خدا براہِ راست بھی کلام کر سکتا ہے،  لیکن اُس نے یہ پسند فرمایا ہے کہ وہ کمزور اور ناتواں اِنسانوں کو وسیلہ بنائے تاکہ وہ اُس کے کلام کو پیش کریں۔  ایسے خدام  کی یہ ذِمے داری ہے کہ وہ خدا کے کلام ہی کو سنائیں،  نہ کہ اپنا پیغام اور نہ ہی سامعین کی خواہش کے مطابق کوئی بات۔  وہ دراصل خدا کے ترجمان ہیں۔ اُن  کے لئے لازم ہے کہ وہ محنت اور جاں فشانی سے خدا  کے کلام کا مطالعہ کریں اور  اُس کے مکاشفہ کی تفہیم حاصل کریں۔  خدا اُن سے اپنے کلام  کے ذریعے ہمکلام ہوتا ہے اور اُن کے ذریعے اپنی قوم سے کلام کرتا ہے۔ جب ہم منادی کے ذریعے خدا کے کلام کو سُنتے ہیں تو یہ اُس کے فضل کا  ایک وسیلہ ہے۔ یہ بڑی برکت اور اِعزاز  کی بات ہے کہ آسمان و زمین کا قادرِ مطلق خدا ہم سے ہمکلام ہوتا ہے۔ رومیوں 10 میں پولس رسول واعظین کی اِسی ناگزیر اہمیت پر زور دیتا ہے:   ” مگر جِس پر وہ اِیمان نہِیں لائے اُس سے کیونکر دُعا کریں؟ اور جِس کا ذِکر اُنہوں نے سُنا نہِیں اُس پر اِیمان کیونکر لائیں؟ اور بغَیر منادی کرنے والے کے کیونکر سُنیں؟۔ اور جب تک وہ بھیجے نہ جائیں منادی کیونکر کریں؟ چُناں چہ لِکھا ہے کہ کیا ہی خُوشنما ہیں اُن کے قدم جو اچھّی چیزوں کی خُوش خبری دیتے ہیں “(رومیوں 14:10-15)۔ 

جب خدا کا کلام، خدا کے خادم کے ذریعے، خدا کے رُوح کی قدرت میں سنایا جاتا ہے اور اِیمان کے ساتھ قبول کیا جاتا ہے تو یہ زندگی بخشتا ہے۔بائبل کا خدا وہ خدا ہے جو کلام کرتا ہے اور مناد اُس کا ترجمان ہوتا ہے۔   خدا کے کلام کی منادی وہ وسیلہ ہے جس کے ذریعے ہم خدا کے ناحق فضل اور اُس کی شفقت کو پاتے ہیں۔  خدا نے اپنے کلام کو برکت دینے کا وعدہ کیا ہے۔ یہی نکتہ ویسٹ منسٹر کے مصنفین نے مختصر سوال و جواب کی کتاب میں سوال نمبر 89 کے جواب میں یوں بیان کیا ہے: ”خدا کا رُوح، کلام کے مطالعہ  اور خاص طور پر اُس کی منادی میں  اِیمان کے ذریعے سے لوگوں کو قائل کرتا  اور خدا کی طرف واپس پھیر کر  اور پاکیزگی اور تسلی میں تعمیر کرتا  اور نجات کے لئے موثر وسیلہ بنا دیتا ہے “۔ 

لہٰذا جب ہم ہر اِتوار کو  خدا کے کلام کو سُننے کے لئے  آتے ہیں  تو اُمید اور شادمانی کے ساتھ آتے ہیں  تاکہ  ہم اُس کے کلام کو سنیں اور اُس سے برکت پائیں۔  لیکن ساتھ ہی ہم زبور 95 کی یہ صدا بھی اپنے کانوں میں گونجتی ہوئی لے کر آتے ہیں: ” کیوں کہ  وہ ہمارا خدا ہے اور ہم اُس کی چراگاہ کے لوگ اور اُس کے ہاتھ کی بھیڑیں۔کاشکہ آج کے دِن تُم اُس کی آواز سُنتے!تُم اپنے دِل کو سخت نہ کرو جَیسا مرِیؔبہ میں جَیسا مسّؔاہ کے دِن بیابان میں کیا تھا “(زبور 7:95-8)۔

*یہ مضمون ’’مسیحی شاگردیت کی بُنیادی تعلیمات‘‘ کے مجموعہ کا حصّہ

یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔