
مَیں اپنے اِیمان میں کس طرح بڑھ سکتا ہوں؟
05/02/2026
عشائے ربانی فضل کا وسیلہ کیوں ہے؟
12/02/2026خاندان میں شاگردیت
شاگردیت کے بارے میں بائبل مقدس کا کوئی بھی متن اِس سے زیادہ توجہ کا مستحق نہیں، جتنا کہ اِرشادِ اعظم ہے۔ یہ فرمان یا حکم شاگردوں کو دِیا گیا ہے (متی 16:28) تاکہ وہ شاگرد بنائیں (متی 19:28-20)۔ اور یسوع نے طریقہ بھی بتایا کہ کیسے: مسیحی بپتسمہ اور بائبلی تعلیم کے ذریعے۔ اِس سے پہلے کہ کوئی والدین اپنے بچے کو کسی قسم کی تربیت دے، بہتر یہی ہے کہ وہ مسیح کے اُس منصوبے پر دھیان دیں جو شاگرد بنانے کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔ مسیح کی تربیت ہمارے گھروں کی پہچان ہونی چاہئے۔ اِس میں بلاشبہ بچوں کی وہ تربیت بھی شامل ہے جسے ہم عام طور پر سمجھتے ہیں (امثال 20:13؛ 18:19؛ 15:22؛ 13:23-14؛ 15:29-17) لیکن اِس کے ساتھ ساتھ یہ والدین سے کہیں زیادہ کا تقاضا بھی کرتی ہے۔
اگر اَمثال کی کتاب کو پوری بائبل کے سیاق و سباق میں غور و فکر کے ساتھ نہ پڑھا جائے، تو ہم اکثر محض (سلوکیت)روِیہ پرستی میں گر جاتے ہیں، جو ایک لادینی نفسیاتی نظریہ ہے اور اِنسانی تعلیم کو صرف ردِعمل کی مشروط عادات تک محدود سمجھتا ہے۔ لیکن مسیح ہمیں سکھاتے ہیں کہ ہم اور ہمارے بچے اِس سے کہیں بڑھ کر ہیں۔ ہمارے پاس دِل ہے ، جو ہمارے وجود کا رُوحانی مرکز ہے اور جہاں سے ہمارے اَعمال جنم لیتے ہیں (اَمثال 23:4؛ متی 33:12-35؛ 10:15-20؛ لوقا 43:6-45) ۔بائبل ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہمارے دِل گناہ آلود فطرت میں پیدا ہوتے ہیں (زبور 5:51؛ رومیوں 12:5) اِس لئے خاندان کا ہر رُکن، والدین اور بچے دونوں کو بالآخر اپنی مشکلات کا حل اندرونی تبدیلی سے ڈھونڈنا ضروری ہے۔
یہ والدین کو پھر سے اِرشادِ اعظم کی طرف لے آتا ہے۔ شاگردیت کی بنیادی ضرورت ایک نیا دِل ہے جو گناہ سے پاک ہو۔ یہ کام صرف مسیح ہی پورا کر سکتا ہے۔ خداوند حزقی ایل نبی کے وسیلہ سے کلام کرتا ہے : ” تب تم پر صاف پانی چھڑکوں گا۔۔۔اور مَیں تم کو نیا دِل بخشو ں گا اور نئی روح تمہارے باطن میں ڈالوں گا اور تمہارے جسم میں سنگین دِل کو نکال ڈالوں گا اور گوشتین دِل تم کو عنایت کروں گا ۔ اور مَیں اپنی رُوح تمہارے باطن میں ڈالوں گا اور تم سے اپنے آئین کی پیروی کراؤں گا اور تم میرے احکام پر عمل کرو گے اور اُن کو بجا لاؤ گے “(حزقی ایل 25:36-27)۔ اِرشادِ اعظم میں بپتسمہ کا تعلق نہایت واضح اور بنیادی ہے۔ چاہے کو ئی بالغ اِیمان دار کے بپتسمہ کا حامی ہو یا بچوں کے بپتسمہ کا قائل، سب اِس بات پر متفق ہیں کہ بپتسمہ وہ عمل ہے جو کسی اَور کی طرف سے تم پر اَنجام دیا جاتا ہے،نہ کہ یہ تمہاری اپنی کوشش یا مرضی سے ہوتا ہے ۔ یہ ایک ظاہری نشان ہے جو رُوح کے کام کی ضرورت کی طرف اِشارہ کرتا ہے۔ مسیحی والدین کو لازمی طور پر یہ جاننا چاہئے کہ حقیقی شاگردیت دِل کی تبدیلی کے بغیر ممکن نہیں۔ ہمارے بچوں کے لئے شاگردیت کا آغاز بپتسمہ سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
شاگردیت کا حکم اِجتماعی طور پر صادِر کیا گیا ہے، اور یہ سب سے بہتر کلیسیائی سیاق میں ہی پایہ تکمیل کو پہنچتا ہے۔ جب والدین یہ اُمید رکھتے ہیں کہ خُداوند اُن کی اولاد کے دِلوں کو بدلنے کا کام کرے گا، تو پھر وہ اُس خدمت کی طرف بڑھ سکتے ہیں : ” اور اُن کو یہ تعلِیم دو کہ اُن سب باتوں پر عمل کریں جِن کا مَیں نے تم کو حکم دِیا“(متی 20:28)۔ یہ بات محض چھوٹے بچوں میں رویے کی تقلید یا مطابقت تک محدود نہیں ہے۔ والدین اپنے بچوں کو مناسب نتائج کے ساتھ تربیت دیتے ہیں، جیسے کہ بے اَدبی، نااِنصافی، جنسی بے حیائی، چوری، جھوٹ، یا ناخوش رہنے پر سزا دینا، اور اِس میں نصیحت و اِصلاح کا کلام بھی شامل ہوگا (اَمثال 15:29)۔ تاہم شریعت ہمیشہ سے ہی خُدا کا مرکز رہی ہے، اور پہلا حصہ یعنی اِبتدائی چار احکام کا مجموعہ، اِسی مرکزیت کی نمائندگی کرتا ہے (خروج 2:20-11)۔
والدین کو ”جن کا مَیں نے تم کو حکم دیا“کو دِل و جان سے قبول کرنا چاہئے۔ اِس میں مسیح کی غیر متزلزل وفاداری کی بلاہٹ شامل ہے (یوحنا 6:14؛ لوقا 27:10) ساتھ ہی خود پر قابو پانا اور دُوسروں سے محبت کرنا (متی 24:16؛ 39:22) مبارک حالی کے اُصول (متی 3:5-12) رُوحانیت کو مادّیت پرستی پر ترجیح دینا (1۔تیمتھیس 17:6-18) اور کلیسیائی مرکزیت اِختیار کرنا (1۔پطرس 8:4؛ 1۔یوحنا 7:4؛ 2۔تیمتھیس 22:2)۔ اِن تمام معاملات میں شاگردیت محض لاٹھی اور نصیحت تک محدود نہیں ، بلکہ خود پر قابو پانے کی تربیت دینا، حکمت کی افزایش کرنا، خدمت کے مواقع تلاش کرنا، خطرہ مول لینے کی حوصلہ افزائی کرنا، مایوسی میں تسلی دینا، گمراہ ہونے پر دُرُست سمت دِکھانا اور آرام فراہم کرنا بھی شامل ہے۔ بارہ شاگردوں کی تربیت میں ، یسوع نے اپنے تربیتی منصوبے میں اِن سب کو بنیادی ستونوں کے طور پر شامل کیا۔ اُن سب کے لیے یکساں طریقہ کار نہیں تھا، بلکہ ہر صورتِ حال اور ہر موقع کی نزاکت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اُن کی صلاحیتوں، گناہ کی رُجحانات، وعدوں اور تبدیلی کے مراحل کے مطابق اُن کو تربیت دی گئی تاکہ وہ جس راستے پر چلیں، دُرُست راہ نمائی حاصل کریں۔
یہ والدین سے بہت کچھ طلب کرتا ہے۔درحقیقت ، یہ اُن کی اپنی طاقت سے کہیں زیادہ ہے۔ لیکن خُدا نے فضل کی بدولت اُن کی کمی کو اپنی کلیسیا میں پورا کرنے کا اِنتظام کیا ہے۔ مکمل خاندانی شاگردیت کا مطلب ہے، ایک گہری کلیسیائی مرکزیت جو فضل کے عام وسائل کو اوّلین ترجیح دیتی ہے: کلام کی منادی، دُعا اور مقدس رسُومات کو اوّلین ترجیح دیتی ہے (نیز اِس میں کلیسیا کی اِصلاح بھی شامل ہے)۔ جو باپ اپنے گھرانے کے لیے کلیسیا کو اوّلین ترجیح نہیں دیتا، وہ اپنی دیکھ بھال میں موجود اَفراد کو زِندگی بخش کلام اور تقدیس کے لیے بابرکت مقام سے محروم کر رہا ہے۔ وہ نئے عہدنامے میں کلیسیاؤں کے نام خطوط میں مندرج تمام احکام ”ایک دُوسرے کے ساتھ“ کا تمسخر اُڑاتا ہے۔ چاہے وہ یہ سب کچھ اِس لئے کر رہا کہ وہ بہت سُست ہے یا بہت عقل مند۔ اُسے اِس بات کا اِدراک ہونا چاہیئے کہ اگر اُس نے خود کو کلیسیا سے الگ کر لیا ہے تو اُس کو کوئی حق نہیں کہ وہ اپنی یا اپنے خاندان کی برکت کی اُمید رکھے ۔ اپنے اِس اِنتخاب کے ذریعے، وہ ایسے کاموں کو سرزد کر رہا ہے جو مسیح کی شاگردیت کے معیار پر پورے نہیں اُترتے، جس نے کلیسیا سے محبت کی اور اپنی جان اُس کے لئے قربان کر دی (اِفسیوں 2:5، 25)۔
یقیناً، کوئی بھی کلیسیا کامل نہیں ہے، لیکن بعض کلیسیائیں دُوسروں کے مقابلے میں بہتر ہوتی ہیں (مکاشفہ 2-3)۔ ایک مناسب طور پر منتخب مقامی کلیسیا، جو خُداوند کے دِن پر اِجتماعی پرستش کرتی ہے، نہ صرف بپتسمہ اور کلام کی منادی فراہم کرتی ہے، بلکہ خدا اور اپنے ہمسائے کی خدمت، اپنے نفس پر قابو پانے اور ترجیحات کی اِصلاح کے بے شمار مواقع بھی مہیا کرتی ہے۔ مسیحی تعلیم کے ذریعے، پورا گھرانا متعدد ہدایت دینے والی آوازوں کے ذریعے سچائی سنے گا جو کہتی ہیں: ”راہ یہی ہے۔ اِس پر چل“ (یسعیاہ 21:30)۔ اِتوار کی عبادت اُن لوگوں کے لیے مددگار ثابت ہوتی ہے جو اِس دُنیا میں مسیح کے ساتھ چلنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ وہ اپنی راہ میں کم اُلجھن اور اِضطراب محسوس کریں اور شاگردیت اُن کو ایک فطری چیز معلوم ہو۔ شاگردیت اِجتماعی صورت میں ایک حکم کے طور پر دی گئی اور یہ سب سے بہتر طریقے سے اِجتماعی سیاق و سباق میں ہی پوری ہوتی ہے۔ کلیسیا میں رُوحانی زندگی کا نظم و ضبط خاندانی شاگردیت کا واحد جزو نہیں ہے، لیکن یہ سب سے بنیادی اور لازم حصہ ہے۔
یہ مضمون کتاب مقدس کی ہر کتاب میں سے جاننے کے لئے تین اہم نکات کا مجموعہ ہے۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔


