
یسُوع اچھا چرواہا کیسے ہے؟
30/12/2025
یسُوع راہ ، حق اور زِندگی کیسے ہے ؟
27/01/2026یسُوع قیامت اور زِندگی کیسے ہے؟
واعظِ سُلیمان کا دانش مند مُعلّم ایک ایسی جگہ کی بات کرتا ہے جو خُدا ترسی کو جنم دیتی ہے—اور یہ مَقام شاید آپ کو حیران کر دے۔ وہ کہتا ہے:
’’ماتم کے گھر میں جانا ضِیافت کے گھر میں داخِل ہونے سے بِہتر ہے ‘‘(واعِظ ۲:۷)۔
اور پھر دوبارہ یاد دِلاتا ہے: ’’دانا کا دِل ماتم کے گھر میں ہے ‘‘(واعِظ ۴:۷)۔
شاید آپ جانتے ہوں کہ اُس کیا مطلب ہے۔ کسی جنازے میں شرکت کرنا یا قبرستان جانا رُوح کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ وہاں اَبدی حقیقتیں اِنسان کے دِل کے قریب تر ہو جاتی ہیں۔
یوحنا ۱۱ باب قاری ایک ایسے ہی غم کے گھر کی طرف لے جاتا ہے۔ رُوح القدس ہمیں یہاں اس لیے لاتا ہے تاکہ ہم مَوت کے دِرد، مایوسی اور اُس کی شکست کے بارے میں کچھ سیکھیں۔
جیسے کہ مشہور مفسر جے۔ سی۔ رائل(J.C. Ryle) لکھتے ہیں: ’’یوحنا کا گیارہواں باب نئے عہد نامے کا سب سے زیادہ قابل ِ ذکر باب ہے۔‘‘ جے۔ سی ۔ رائل پھر لکھتے ہیں کہ ’’عظمت اور سادگی، دِرد اور جلال، سنجیدگی اور تسلی— ایسا کچھ پہلے کبھی نہیں لکھا گیا۔‘‘
صورتِ حال
یوحنا ۱۱ باب کا آغاز یسُوع کو ایک اِطلاع ملنے سے ہوتا ہے کہ اُس کا عزیز دوست لعزر بیمار ہے (یوحنا ۳:۱۱)۔ مریمؔ اور مرؔتھا یقیناً یسُوع کی بیماری پر قدرت کے بارے میں سُن چکا تھا اور شاید خُود بھی اُس کے معجزات دیکھے ہوں۔ وہ پُر یقین تھیں کہ اگر یسُوع فوراً آ جائے تو وہ لعزر کو شفا دے سکتا ہے۔
لیکن یسوع کا ردِ عمل وہ نہیں تھا جس کی کوئی بھی توقع نہیں کر سکتا تھا۔
یوحنا لکھتا ہے:’’ اور یِسُوعؔ مرؔتھا اور اُس کی بہن اور لعزر سے مُحبّت رکھتا تھا۔ پس جب اُس نے سُنا کہ وہ بِیمار ہے تو جِس جگہ تھا وہِیں دو دِن اَور رہا‘‘(یُوحنّا :۵:۱۱- ۶)۔
یہاں ایک چھوٹا سا لفظ ’’پس‘‘ (so)، جسے میں اصل میں ’’لہٰذا‘‘ (therefore) کے طور پر اِستعمال ہوا ہے۔ گویا متن زیادہ لفظی طور پر کہتا ہے:
’’یسُوع مرؔتھا ، مریمؔ اور لعزرؔ سے محبت رکھتا تھا، لہٰذا۔۔۔ جِس جگہ تھا وہِیں دو دِن اَور رہا۔‘‘ یہ حیران کُن بات ہے کہ محبت نے اُسے رُکنے پر مجبور کِیا۔ اپنے شاگردوں سے محبت میں اُس نے تاخیر کی۔ اُس نے اِس لیے رُکنے کا فیصلہ کِیا تاکہ بیماری اور دُکھ اپنی پوری شدت کے ساتھ ظاہر ہوں۔
ہم مسیح کے اسکول میں ہمیشہ عظیم سبق سیکھتے ہیں۔ کتنی بار ہم نے خُداوند سے کچھ مانگا، لیکن اُس نے فوری جواب نہیں دیا؟ یا ’’وقت پر‘‘ جواب نہیں دیا؟ لیکن ہو سکتا ہے کہ اُس کی عمل میں کمی دراصل اُس کی محبت کا مظہر ہو— ایک ایسا منصوبہ ہو جو ہماری توقعات سے کہیں بڑھ کر کچھ کرنا چاہتا ہو۔
دعویٰ
چار دِن بعد، آخر کار جب یسُوع لعزرؔ کے سوگوار خاندان میں پہنچا ۔ مرؔتھا دوڑتی ہوئی یسُوع کے پاس آتی ہے اور اُس سے کہتی ہے: ’’ اَے خُداوند! اگر تُو یہاں ہوتا تو میرا بھائی نہ مَرتا۔ اور اب بھی مَیں جانتی ہُوں کہ جو کُچھ تُو خُدا سے مانگے گا وہ تُجھے دے گا‘‘(یُوحنّا ۲۱:۱۱- ۲۲)۔ مرؔتھا کے اَلفاظ میں اِیمان کا بیج صاف نظر آتا ہے۔ غم، اَفسوس اور اُلجھن کے باوجود اُس کا دِل یسوع پر یقین رکھتا ہے۔ یسوع اُسے یقین دِلاتا ہے:’’ تیرا بھائی جی اُٹھے گا‘‘(یُوحنّا ۲۳:۱۱)۔
بے اعتقادی کے چیتھڑے ہمیں جکڑے رکھتے ہیں اور گناہ کے جامے ہمیں ڈھانپ لیتے ہیں۔ ہم اپنے زور سے زِندہ نہیں ہو سکتے اور نہ ہی کچھ کر سکتے ہیں ۔ جیسے لعزرؔ ساتھ تھا کہ وہ قبر سے خُود باہر نہیں آ سکتا تھا اور نہ ہی اپنے آپ کو زِندہ کر سکتا تھا ۔
مرؔتھا نے جواب دیا: ’’ مَیں جانتی ہُوں کہ قِیامت میں آخِری دِن جی اُٹھے گا‘‘(یُوحنّا ۲۴:۱۱)۔
یسوع کے زمانے میں فریسیوں اور صدوقیوں کے درمیان قیامت کے مسئلے پر ایک شدید بحث پائی جاتی تھی —سوال یہ تھا کہ کیا تاریخ کے اختتام پر مردوں کی قیامت ہو گی یا نہیں؟ مرؔتھا اس عقیدے میں فریسیوں کی ہم نوا تھی۔ وہ اِیمان رکھتی تھی کہ لعزرؔ اُس دن، زمانے کے آخر میں، دوبارہ جی اُٹھے گا۔ لیکن یسوع اُس آخری دِن کی بات نہیں کر رہا تھا —وہ ’’اب‘‘ کی بات کر رہا تھا۔
چُنانچہ یسُوع نے فرمایا: ’’ قِیامت اور زِندگی تو مَیں ہُوں۔ جو مُجھ پر اِیمان لاتا ہے گو وہ مَر جائے تَو بھی زِندہ رہے گا۔ اور جو کوئی زِندہ ہے اور مُجھ پر اِیمان لاتا ہے وہ اَبد تک کبھی نہ مَرے گا۔ کیا تُو اِس پر اِیمان رکھتی ہے؟ ‘‘ (یُوحنّا ۲۵:۱۱- ۲۶ )۔
یہ یوحنا کی اِنجیل میں یسُوع کا پانچواں ’’مَیں ہوں‘‘ کا دعویٰ ہے—اور یہ ایک حیران کُن اِعلان ہے۔ یسوع فرما رہے ہیں: ’’مَیں صرف قیامت کی تعلیم نہیں دیتا؛ مَیں خُود قیامت ہوں۔ مَیں صرف زِندگی کے لیے خُدا کی قدرت کی مُنادی نہیں کرتا؛ مَیں خُود زِندگی کے لیے خُدا کی قدرت ہوں۔ تم صرف اس حقیقت پر اِیمان نہ لاؤ، بلکہ مجھ پر اِیمان لاؤ۔‘‘
سچا اِیمان محض معلومات یا یسوع کے بارے میں حقائق پر بھروسا نہیں ہوتا ہے ۔ بلکہ، سچا اِیمان خُود اُس ہستی پر اِیمان ہے—جو سچائی کا سر چشمہ اور زِندگی کا منبع ہے۔
یقین کی پختگی
جب یسُوع نے بلند آواز سے پُکارا: ’’اے لعزر نکل آ!‘‘ تو وہ مردہ جو زِندہ ہو چکا تھا، نجات کی ایک زِندہ تمثیل بن گیا۔ وہ یسوع کا جیتا جاگتا ثبوت تھا—وہ قیامت ہے اور زِندگی ہے۔ لعزر کے قبر سے نکلنے کے بعد، یسوع نے حکم دیا: ’’اُسے کھول کر جانے دو‘‘ (یوحنا ۴۳:۱۱- ۴۴)۔
کیا خُوب صورت اِنجیل کی تصویر ہے! بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ ہم گناہوں کے وسیلہ سے مردہ ہیں۔ بے اعتقادی کے چیتھڑے ہمیں جکڑے ہوئے ہیں اور گناہ کے کپڑوں ہمیں ڈھانپے ہوئے ہیں۔ ہم اپنی قوت سے بالکل زِندہ نہیں ہو سکتے، بالکل جیسے لعزرؔ کے ساتھ تھا ۔ مگر خُدا اُن گناہ گاروں کو جو یسُوع پر اِیمان لاتے ہیں اُنھیں زِندہ کر تا ہے۔ نجات دہندہ نے گناہ گاروں کی جگہ موت سہی، دوبارہ زِندہ ہوا اور اب مَوت اور عالمِ ارواح کی کُنجیاں اُس کے پاس ہیں ۔
وہ ہمیں پُکار کر کہتا ہے: ’’باہر آؤ۔ اپنے گناہ سے توبہ کرو اور مجھ پر اِیمان لاؤ۔ مَیں تمھیں گناہ کی زنجیروں سے آزاد کر دوں گا۔‘‘
خُدا کرے کہ ہم اُس نشان کو دیکھیں، اُس دعویٰ کو سُنیں اور مرؔتھا کی طرح پانچویں ’’مَیں ہوں‘‘ کے دعویٰ کا اِیمان سے جواب دیں: ’’ اُس سے کہا ہاں اَے خُداوند مَیں اِیمان لا چُکی ہُوں کہ خُدا کا بیٹا مسیح جو دُنیا میں آنے والا تھا تُو ہی ہے ‘‘(یُوحنّا ۲۷:۱۱)۔
یہ مضمون کتاب مقدس کی ہر کتاب میں سے جاننے کے لئے تین اہم نکات کا مجموعہ ہے۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔


