
یسُوع قیامت اور زِندگی کیسے ہے؟
22/01/2026
یسُوع انگور کا حقیقی درخت کیسے ہے ؟
29/01/2026یسُوع راہ ، حق اور زِندگی کیسے ہے ؟
کئی سال پہلے، مَیں نے ایک معروف علمی شخصیت کو سُنا، جو اپنی تاریخی درس گاہ میں رواداری کے ماحول کے لیے اپنے کیس پر بحث و دفاع کر رہا تھا۔ اُس نے اپنی بات پر زور دے کر کہا کہ اُن کی یونیورسٹی ’’عدمِ رواداری‘‘ کو ہرگز برداشت نہیں کرے گی۔ اُس بیان کی ستم ظریفی کو نظر انداز نہ کیجیئے! جتنا یہ بیان تضاد سے بھر پور ہے، اُتنا ہی یہ ہمارے دَور کی عکاسی کرتا ہے—ہم ایک ایسے زمانے میں جی رہے ہیں جو خُود کو ’’روادار‘‘ کہنے پر فخر کرتا ہے۔ لیکن اسی رواداری کے نعروں کے ساتھ، ہر وہ دعویٰ جو کسی بھی قسم کی انفرادیت یا حتمیت رکھتا ہے ، فوراً رد ّکر دیا جاتا ہے۔ خاص طور پر جب مسیحی لوگ یسُوع اور نجات کے بارے میں کوئی انوکھا یا قطعی دعویٰ کرتے ہیں، تو وہ اکثر سخت تنقید کا نشانہ بنتے ہیں۔
بائبل مُقدس میں انفرادی اور خصوصی دعوے جا بجا موجود ہیں۔ زِندگی اور مَوت کا تضاد ایک بنیادی نکتہ ہے جو پوری مسیحی تعلیم میں نمایاں نظر آتا ہے۔ بائبل کی کہانی میں دو راستے بارہا دکھائے گئے ہیں: زِندگی کا راستہ اور مَوت کا راستہ۔ مثال کے طور پر، قائن کی قُربانی بے اِعتقادی کی علامت تھی، اس کے برعکس ہابل کی قُربانی اِیمان سے کی گئی؛ یا عیسو اور یعقوب کا تقابل، جہاں خُدا کے چناؤ اور فضل کی حقیقت اُجاگر ہوتی ہے۔
یسُوع مسیح نے خُود ان دو راستوں کو ’’تنگ راستہ‘‘ اور ’’کشادہ راستہ‘‘ کہہ کر بیان دیا (متی۱۳:۷- ۱۴)۔ ایک راستہ زِندگی کی طرف لے جاتا ہے اور دوسرا ہلاکت کی طرف۔ ’’تنگ راستہ‘‘ اصل میں یسوع مسیح کی ذات کو ظاہر کرتا ہے، جب اُنھوں نے فرمایا:’’ راہ اور حق اور زِندگی مَیں ہوں ‘‘ (یوحنا۶:۱۴)۔
یہ خصوصی دعویٰ صرف اُس وقت کے لیے نہیں تھا، بلکہ یہ مسیحی اِیمان کے ہر دَور میں بنیادی سچائی رہا ہے۔ دوسرے صدی عیسوی کی کتاب دیداخے (بارہ رسولوں کی تعلیمات کا خلاصہ)سے لے کر تاریخی عقائد اور اعترافاتِ اِیمان تک اور آج تک، یہ سچائی کلیسیا میں قائم رہی ہے اور بائبل مُقدس کے ادب میں موجود ہے ۔
لیکن یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے: یسُوع ’’راہ، حق اور زندگی‘‘ کیسے ہے ؟ اس سوال کے دو جواب ہیں ، جو لازم وملزوم ہیں ۔ مگر یہ دونوں پہلو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیے جا سکتے۔ ایک پہلو خارجی ہے اور دوسرا داخلی۔ خارجی طور پر، وہ بلا شرکت وہ خاص طور پر راہ، حق اور زِندگی ہے کیوں کہ وہ مجسم خُدا ہے ۔ اور داخلی طور پر، اُن کی نجات افراد کے لیے اِیمان کے ذریعے مختص کی گئی ہے کہ وہ کون ہے اور اُس نے کیا کِیا ہے ۔
خارجی لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو یسُوع اپنی ذات اور اپنے کام میں ’’راہ‘‘ ہے کیوں کہ وہ خُدا ہے ۔ اپنے زمانے کے یہودی قائدین کے لیے یہ ایک اشتعال انگیز دعویٰ تھا۔ ’’مَیں ہوں‘‘ کا دعویٰ اُن کے نزدیک الوہیت کا دعویٰ تھا، اور وہ اسے بخوبی جانتے تھے (یوحنا 10:10–33)۔ وہ راہ ہے کیوں کہ وہ خُدا ہے ، لیکن اس لیے بھی کہ وہ اِنسان ہے ۔ اُنھوں نے جسم اِختیار کِیا تاکہ آدم کی خطا کے باعث پیدا ہونے والی خرابی سے راہِ نجات مہیا کرے (رُومیوں 5 باب)۔ راست بازی اور پاکیزگی کی وہ راہ جس کی پیروی آدم نہ کر سکا، یسُوع نے اُس راہ کو کامل طور پر اِختیار کِیا۔ وہ آدم کی جگہ لے سکتا تھا کیونکہ وہ ایک کنواری عورت سے پیدا ہوا (گلتیوں 4:4)۔ اُس کی کامل قربانی بہتوں کے گناہوں کو اُٹھا سکتی تھی، کیونکہ وہ خُدا ہے (یسعیاہ ۱۲:۵۳؛ 1 ۔پطرس ۲۴:۱)۔ اُس میں اِنسان خُدا سے میل ملاپ کرسکتا ہے (رُومیوں۱۱:۵؛ ۱۔کرنتھیوں ۱۸:۵- ۲۱)۔ صرف وہی جو خُدا اور اِنسان ہے ، ’’راہ‘‘ بن سکتا تھا۔
خارجی طور پر، وہ ’’حق ‘‘ ہے ۔ اسی اِنجیل میں ہم یسُوع کو یہ کہتے ہوئے سنتے ہیں کہ اُن کا کلام حق کا سر چشمہ ہے (یوحنا۳۱:۸- ۳۲)۔ یہی سچائی اِنسان کو گناہ کی غلامی سے آزاد کرتی ہے (یوحنا۳۴:۸- ۳۵)۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں: ’’پس اگر بیٹا تمہیں آزاد کرے تو تم واقعی آزاد ہو گے‘‘ (یوحنا ۳۶:۸)۔
کوئی یہ سوال کر سکتا ہے: کیا واقعی کلام ہی اِنسان کو آزاد کرتا ہے؟ ہاں، مگر یہاں ایک نہایت اہم نکتہ ہے—آپ کلام اور حق کو زِندہ کلام یعنی خُود یسوع، جو سچائی کا عطا کرنے والا ہے، سے جدا نہیں کر سکتے۔ عبرانیوں ۱۲:۴- ۱۳ میں بھی ہمیں تحریری کلام کا ایسا ہی تمثل نگاری ملتی ہے۔ یسوع سچائی ہے کیوں کہ وہ زِندہ اور حقیقی خُدا ہے (یرمیاہ 10:10)۔
ہم ایک ایسے زمانے میں رہتے ہیں جہاں راستے کے تعین، سچائی کی حقیقت اور زِندگی کے مفہوم کے بارے میں شدید شک اور بے یقینی پائی جاتی ہے۔ لیکن کلیسیا اُمید کے ساتھ جواب دیتی ہے۔
یہی حقیقت ہمیں مسیح کے اس منفرد اور قطعی دعوے تک لے جاتی ہے کہ وہ ’’زِندگی‘‘ ہے ۔ بائبل کے اِبتدائی صفحات ہمیں اُس خُدا کے بارے میں بتاتے ہیں جو بولا اور زِندگی عمل میں آ گئی۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ مسیح کے بارے میں ہم پڑھتے ہیں: ’’ کیونکہ اُسی میں سب چِیزیں پَیدا کی گئِیں۔۔۔۔ سب چِیزیں اُسی کے وسِیلہ سے اور اُسی کے واسطے پَیدا ہُوئی ہیں‘‘ (کلسیوں ۱۶:۱- ۱۷ )۔ وہ خالق ہے ۔ لیکن وہ نہ صرف تخلیق کرنے والے ہے بلکہ اپنی قوم کے لیے نئی تخلیق کو حاصل کرنے والا بھی ہے —یعنی وہ گناہ گاروں کا نجات دہندہ ہے ۔ اگر مسیح اپنے کلام سے سب چیزیں پیدا کر سکتا ہے ، تو وہ خُود ’’کلام‘‘ ہو کر عبدی زِندگی بھی عطا کر سکتا ہے ۔
زبُور کی کتاب میں ہم ان ہی عظیم سچائیوں کو پاتے ہیں۔ زِندگی کا راستہ یا راہ اُس کی حضوری میں ہے: ’’ تُو مُجھے زِندگی کی راہ دِکھائے گا۔ تیرے حضُور میں کامِل شادمانی ہے‘‘(زبُور۱۱:۱۶)۔ اسی زبُور میں سچائی کو ’’نصیحت ‘‘ کہا گیا ہے، جو ایک مُقدس کے لیے ہدایت ہے: ’’ مَیں خُداوند کی حمد کرُوں گا جِس نے مُجھے نصِیحت دی ہے‘‘(زبُور ۷:۱۶)۔ اور زِندگی کو خُداوند میں پناہ کے طور پر بیان کِیا گیا ہے، جو محفوظ رکھتا ہے:’’ اَے خُدا! میری حِفاظت کر کیونکہ مَیں تُجھ ہی میں پناہ لیتا ہُوں‘‘(زبُور ۱:۱۶)۔ زبُور 119 میں، خُداوند نہ صرف وہ رُوشنی ہے جو راہ کو منور کرتا ہے بلکہ وہ کلام بھی ہے جو زِندگی کے سفر کو سچی معنویت عطا کرتا ہے۔ در حقیقت، وہی راستہ ہے—وہی راہ، حق اور زِندگی۔
خارجی طور پر، مسیح یسوع ’’راہ ، حق اور زِندگی‘‘ اس لیے ہے کیونکہ وہ مجسم خُدا ہے ۔ مگر سوال یہ ہے کہ وہ ہمارے لیے—آپ اور میرے لیے—یہ سب کچھ کیسے ہیں؟ ’’راہ ، حق اور زِندگی‘‘ کا یہ دعویٰ ہمارے لیے معنی خیز اور زِندگی کو بدل دینے والا کیسے بنتا ہے؟ یہ صرف ایک تاریخی حقیقت نہیں، بلکہ ذاتی تجربہ کیسے بنتی ہے؟
اس کا جواب یہ ہے: فضل سے، اِیمان کے وسیلہ سے، صرف مسیح کی بدولت ہے ۔ وہ اِیمان کے وسیلہ سے باپ تک پہنچنے کا راہ بنتا ہے ۔ اس کی سچائی اِیمان کے ذریعے ہماری سچائی بن جاتی ہے۔ زِندگی اور وہ بھی کثرت کی زِندگی (یوحنا 10:10) اِیمان کے وسیلہ سے ہماری ہو جاتی ہے۔ ایک گناہ گار کے لیے، مسیح سب کچھ داخلی طور پر اِیمان کے ذریعہ بنتا ہے: ’’ خُداوند یِسُوع پر اِیمان لا تو تُو نجات پائے گا‘‘(اَعمال ۳۱:۱۶)۔ وہ کوئی دُور کا خُدا نہیں، بلکہ ’’عمانوایل‘‘ یعنی ’’خُدا ہمارے ساتھ‘‘ ہے—اِیمان کے وسیلہ سے۔
ہم ایک ایسے زمانے میں زِندہ ہیں جہاں راہ ، حق اور زِندگی کے معنی پر مکمل بے یقینی اور شک و شُبہ غالب ہیں۔ مگر کلیسیا اُمید کے ساتھ جواب دیتی ہے۔
خارجی طور پر، یسوع ہی راہ ، حق اور زِندگی ہے ، کیوں کہ وہ مجسم خُدا ہے ۔ صرف خُدا ہی یہ سب کچھ ہو سکتا ہے۔ اور داخلی طور پر، یسُوع راہ ، حق اور زِندگی اور اِیمان کے مہربان تحفہ کے ذریعے زندگی ہے ۔ یہی اِیمان ہمیں مسیح کے ساتھ اتحاد میں لاتا ہے، جو ہمارا باپ سے ملاپ کراتا ہے۔ یہی وہ قطعی سچائی ہے جس میں مسیح میں شامل ہر شخص پُر یقین ہو کر خُوشی منا تا ہے۔
یہ مضمون کتاب مقدس کی ہر کتاب میں سے جاننے کے لئے تین اہم نکات کا مجموعہ ہے۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔


